سال تھا ۱۹۴۹۔ ۱۴ سالہ جیبن کرشنا پودّار اپنے والدین اور دادی کے ساتھ بریسل ضلع میں واقع اپنے گھر سے مغربی بنگال بھاگ گئے۔ ۱۹۴۶ کے نواکھالی فسادات نے لوگوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا، جو اگلے کئی برسوں تک جاری رہنے والا تھا۔ ان کی ہجرت کے دو سال بعد، اس فیملی نے سندربن کا رخ کیا۔

اب ۸۰ سال کی عمر ہو چکے اور بارش کی ایک شام کو اپنے گھر کے دالان میں بیٹھے ہوئے، وہ اس سفر کو یاد کرتے ہیں، جو انھیں پاتھر پرتیما بلاک کے کرشنا داس پور لے آیا تھا، اس جگہ کو وہ اپنا گھر کہتے ہیں: ’’تشدد برپا تھا، اس لیے ہمیں وہاں سے بھاگنا پڑا۔ میری ماں، اوشا رانی پودار نے ہمارے تمام سامانوں کو ۱۴ تھیلوں میں بھرا۔ ہم کشتی سے کھُلنا شہر (تب مشرقی بنگال میں تھا) پہنچے۔ ایک ٹرین نے ہمیں بیناپول پہنچایا۔ ہم نے اپنے پیسے اور زیورات کو کپڑوں میں چھپا دیا۔‘‘

جیبن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ فیملی کو مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک پناہ گزیں کیمپ لے جایا گیا، جہاں انھوں نے ۲۰ ہزار دیگر لوگوں کے ساتھ ۱۱ مہینے گزارے۔ پناہ گزینوں سے کہا گیا کہ وہ ڈنڈا کرنیا (وسطی ہندوستان کا جنگلات سے بھرا بستر کا علاقہ)، انڈمان جزائر یا مغربی بنگال کے سندربن میں رہائش اختیار کرلیں۔

’’میرے والد، سرت چندر پودار نے سندر بن کو چُنا،‘‘ جیبن بتاتے ہیں۔ ’’وہ زمین لے کر اس پر کھیتی کرنا چاہتے تھے۔ ماچ اور چاش (مچھلی اور زراعت کے لیے بنگالی) دو وجہیں تھیں۔ انھوں نے سوچا کہ ڈنڈاکرنیا اور انڈمان غیر رہائشی جنگلات ہیں جہاں پر زندگی بسر کرنا مشکل ہوگا۔‘‘

جیبن کی فیملی ان ۱۵۰ فیملیز میں سے ایک تھی جو کشتی سے ہوڑہ سے سندربن پہنچی تھی۔ وہ متھراپور بلاک آئے جہاں ہندوستانی حکومت نے ان سے کہا کہ وہ کھیتی کے لیے جنگلات کو صاف کریں۔ ’’ہم نے جب کھیتی شروع کی، تو یہ مشکل تھا۔ یہ علاقہ ۶۰ فیصد پانی اور ۴۰ فیصد جنگلات پر مشتمل تھا۔ پینے کا پانی صاف نہیں تھا، لہٰذا بہت سے لوگ کالرا کی وجہ سے مر گئے۔ تب ڈاکٹر ۱۵ دنوں میں ایک بار آتے تھے۔ قحط بھی پڑا تھا، جس کی وجہ سے ہمیں بھوکے بھی رہنا پڑا۔‘‘

جیبن کے والد کو ایک سرکاری دفتر میں نوکری مل گئی، جہاں پر ان کا کام دیگر ملازمین کے لیے ہاتھ سے چلنے والے پنکھے کو چلانا تھا۔ ان کی ماں نے بھینسیں پالیں اور دودھ اور انڈے بیچنا شروع کیا۔

بعد میں فیملی کو کرشنا داس پور گاؤں میں ۱۰ بیگھہ زمین الاٹ کر دی گئی (مغربی بنگال میں ایک بیگھہ تقریباً ایک تہائی ایکڑ کے برابر ہوتا ہے)، جہاں انھوں نے چاول پیدا کرنا شروع کیا۔ کچھ پیسے بچانے کے بعد، انھوں نے کچھ اور زمینیں خریدیں اور گاؤں میں ایک گھر بنایا، اس گاؤں کی آبادی اب ۲۶۵۳ ہے (سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق)۔

جیبن اپنی بیوی اور ۱۱ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں، وہ ۲۰۱۰ کے آس پاس گاؤں کے پوسٹ آفس سے پوسٹ ماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ گاؤں کے ڈاکخانہ سے چپراسی کے طور پر ریٹائر ہونے والے ۶۴ سالہ پریہ رنجن داس بھی خود کو مشرقی بنگال کا بتاتے ہیں۔ وہ نواکھالی سے اپنے والدین کے ساتھ ۱۹۵۰ کی دہائی میں پہنچے، جب ان کی عمر دو سال تھی۔ ’’ہم جڑوں کو اُبال کر کھاتے تھے، کیوں کہ تب وہاں کھانا نہیں تھا۔ کالرا کی بیماری چاروں طرف پھیل چکی تھی، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ وہاں سے چلے گئے۔ لیکن ہم لوگ وہیں رکے رہے،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔

دیگر کنبے ۱۷۶۵ کے بعد مغربی بنگال، چھوٹا ناگپور پٹھار اور اڑیسہ کے مختلف علاقوں سے سندر بن پہنچے، جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال میں سول انتظامیہ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ امتیش مکھوپادھیائے (تباہیوں کے ساتھ زندگی: ہندوستانی سندربن کی برادریاں اور ترقیات) اور انو جلائس (عوام اور چیتے: مغربی بنگال، ہندوستان کے سندر کی اینتھروپولوجیکل اسٹڈی) لکھتے ہیں کہ نوآبادیاتی حکمراں، جو اپنی مالیات کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتے تھے، نے زمینوں کو اپنے قبضے میں لے کر ان پر کھیتی کرنے کے لیے برصغیر کے مختلف علاقوں سے مزدوروں کو نوکری پر رکھا۔

غیر سرکاری تنظیم، ٹیگور سوسائٹی فار رورل ڈیولپمنٹ، جو سندر بن میں کام کرتی ہے، کے روبی مونڈل کہتے ہیں: ’’میدنی پور کا سیلاب اور قحط، ۱۹۴۷ کی بنگال کی تقسیم اور ۱۹۷۱ کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا، اور ان میں سے بہت سے لوگ سندر بن آ گئے۔‘‘

ہجرت کا دوسرا سلسلہ تقریباً ۱۹۰۵ میں شروع ہوا، جب اسکاٹ لینڈ کے تاجر، ڈینئل ہیملٹن گوسابا بلاک کے جزیروں میں کوآپریٹو تحریک کے ذریعے دیہی باز آبادکاری کے لیے کام کر رہے تھے۔ انھوں نے کاشت کاری کے لیے مزدوروں کو زمین پٹّے پر دے دی۔ مہاجرین کے بہت سے جانشین اب بھی گوسابا میں ہی رہتے ہیں، اور سندربن کی ترقیات میں ان کی حصہ داری کو یاد کرتے ہیں۔

۸۰ سالہ ریوتی سنگھ، جو جوتی رامپور گاؤں میں رہتے ہیں، بنیادی طور سے رانچی کے رہنے والے ہیں۔ ان کے دادا، آنند مائی سنگھ ۱۹۰۷ میں گوسابا آئے، ہیملٹن کی کوآپریٹو تحریک کے دوران۔ ’’وہ ٹرام سے کیننگ بلاک پہنچے۔ وہ وہاں سے شاید پیدل چل کر گوسابا پہنچے، جہاں تک کی پیدل دوری اس وقت ۱۲ گھنٹے کی ہے۔ بعد میں، ہیملٹن نے چھوٹی کشتی بنوائی، انھیں وہاں لانے کے لیے۔‘‘

ریوتی نے سنا کہ وہاں کی آبادی چھوٹی ہے، اور چیتے اور مگرمچھوں کے حملے لگاتار ہو رہے ہیں، اور پینے کا کوئی صاف پانی بھی نہیں ہے۔ کیا اب حالات بدل چکے ہیں؟ ’’اب کچھ ہی چیتے حملہ کرتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’تب یہاں کوئی نوکری بھی نہیں تھی، اور اب بھی کام پانا مشکل ہے۔ پہلے میں چاول کی کھیتی کرتا تھا، لیکن اب میں نے بند کر دیا ہے، کیوں کہ ندی کا پانی بہہ کر کھیتوں میں آ جاتا ہے۔‘‘ ریوتی کے تین بیٹے روایتی نوکری کرتے ہیں۔

لاکھن سردار، جن کے دادا بھاگل سردار بھی کوآپریٹو تحریک کا حصہ بننے کے لیے رانچی سے ہی ہجرت کرکے آئے تھے، یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہیملٹن کی دعوت پر، مشہور و معروف شاعر اور مصنف رابندر ناتھ ٹیگور نے ۱۹۳۲ میں گوسابا کا دورہ کیا تھا۔


02-IMG_2147-US-'Maach and chaash brought us to Sundarbans%22.jpg

لاکھن اور سندھیا سردار: لاکھن کے دادا ۱۹۰۰ کی دہائی کے شروع میں رانچی سے ہجرت کرکے گوسابا پہنچے تھے


سندر بن کی آبادی کا بڑا حصہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو مغربی بنگال کے میدنی پور علاقے سے ہجرت کرکے یہاں پہنچے ہیں۔ میدنی پور میں بار بار سیلاب اور قحط کی وجہ سے وہاں کے رہائشی سندربن کی طرف کام کرنے یا زمین پر کھیتی کرنے کے لیے ہجرت کرنے لگے۔ جوتی رامپور گاؤں کے جیوترموئے مونڈل یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے دادا دادی ہیملٹن کی کوآپریٹو تحریک شروع ہونے سے پہلے میدنی پور سے سندربن آ گئے تھے۔ ’’دادا رات میں چوکیداری کا کام کرنے لگے اور بعد میں بخار سے ان کی موت ہو گئی۔ میری دادی، دیگامبری مونڈل، گزر بسر کے لیے لوگوں کی بھینسوں کی رکھوالی کرتیں، چاول پیدا کرتیں اور گھی بیچا کرتی تھیں۔‘‘

محمد مولہور شیخ گزر بسر کے لیے گوسابا کے آرامپور گاؤں میں لکڑیاں کاٹتے ہیں۔ ان کے پردادا اپنے دو بھائیوں کے ساتھ ۱۵۰ سال قبل میدنی پور سے سندربن آئے تھے۔ ’’ہم نے کہانیاں سنی ہیں کہ کیسے وہ لوہے کی چھڑوں پر لگی مشعل سے چیتوں کا پیچھا کیا کرتے تھے۔ ہم نے یہ بھی سنا کہ وہ کیسے اکثر سیلاب اور قحط کا سامنا کرتے تھے اور کس طرح ان کے چاول کے کھیت برباد ہوجاتے تھے۔‘‘ 


03-IMG_2154-US-'Maach and chaash brought us to Sundarbans%22.jpg

محمد مولہور شیخ کے پردادا میدنی پور سے سندربن تقریباً ۱۵۰ سال پہلے آئے تھے


میدنی پور سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہجرت کا دوسرا سلسلہ ۱۹۴۳ میں مغربی بنگال میں آئے شدید قحط کے دوران شروع ہوا۔ ۷۱ سالہ ہری پریہ کر کے شوہر کی فیملی اسی دوران گوسابا پہنچی تھی۔ جوتی رامپور گاؤں، جہاں وہ رہتی ہیں، کا نام ان کے سسر، جوتی رام کر کے نام پر پڑا ہے۔ ’’جوتی رام اور کھیترا موہن دو بھائی تھے، جو میدنی پور سے گوسابا آلے تھے اور اپنے ساتھ ۲۷ کنبوں کو بھی لائے تھے۔ ان کنبوں نے آس پاس کے جنگلات کو صاف کیا اور یہی سکونت پذیر ہوگئے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

ہری پریہ جس وقت بات کر رہی ہیں، ان کا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ چند گھنٹے قبل بجلی کٹ گئی تھی۔ یہاں پر گزربسر کے مواقع بہت کم ہیں، طبی مدد حاصل کرنا مشکل ہے، اور سڑکوں اور ٹرانسپورٹ سے رابطہ سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ پھر بھی، سندربن کے ابتدائی باشندوں کے وارثین کو اتنی پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے، جتنا کہ ان کے آباء و اجداد کو کرنا پڑا۔ بہتر زندگی کی جدوجہد جاری ہے، حالانکہ وہ پرانے دنوں کی تکلیفوں اور پریشانیوں کو اب بھی یاد کرتے ہیں۔

فوٹو: اُروشی سرکار

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Urvashi Sarkar
[email protected]

اُروَشی سرکار ایک آزاد صحافی اور ۲۰۱۶ کی پاری فیلو ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @storyandworse

Other stories by Urvashi Sarkar