’’ہم اپنے گھوڑوں کو فیملی ممبر کی طرح مانتے ہیں۔ میں ان کا ڈاکٹر بن جاتا ہوں اور ضرورت پڑنے پر ممبئی سے ان کے لیے دوائیں خریدتا ہوں۔ جب وہ بیمار ہوتے ہیں، تو میں ان دواؤں کا انجیکشن ان مویشیوں کو لگا دیتا ہوں۔ میں انھیں نہلاتا ہوں اور صاف ستھرا رکھتا ہوں۔‘‘ منوج کسُنڈے اپنے گھوڑوں سے پیار کرتے ہیں، اور یہ ان چند لائسنس رکھنے والوں میں سے ایک ہیں جو سیاحوں کو گھوڑے سے سیر و تفریح کراکر روزی روٹی کماتے ہیں۔ گھوڑوں کے رکھوالے یا انھیں کنٹرول کرنے والے خود ان کے ساتھ پیدل چلتے ہیں، ماتھیران کے ڈھلانوں سے اوپر نیچے۔

دنیا کے کسُنڈے نظر نہ آنے والے لوگ ہیں، ہم ان کے بارے میں مشکل سے ہی کچھ جان پائے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہم اس بابت ان سے کچھ پوچھتے نہیں ہیں۔ ممبئی سے تقریباً ۹۰ کلومیٹر جنوب کی طرف مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع میں واقع اس مشہور ہل اسٹیشن پر کل ۴۶۰ گھوڑے کام کر رہے ہیں۔ ان کے رکھوالے (جو سبھی مالک نہیں ہیں) ہمیں بتاتے ہیں کہ انھیں ’’روزانہ پہاڑیوں کے اوپر ۲۰ سے ۲۵ کلومیٹر چلنا‘‘ پڑتا ہے۔ آپ کو حیرانی ہوگی کہ بوجھ کس پر لدا ہوا ہے، گھوڑے پر یا اس کے رکھوالے پر، یا پھر دونوں پر۔

02-Manoj-Kasunde-SM-Holding your horses in Matheran.jpg

’ہم اپنے گھوڑوں کے ساتھ فیملی ممبر جیسا برتاؤ کرتے ہیں،‘ منوج کسُنڈے بتاتے ہیں

ہل اسٹیشن کے مرکز میں گاڑیوں پر پابندی عائد ہے، اور دستوری جہاں تک گاڑیوں کو آنے کی اجازت ہے، وہاں سے ماتھیران کے اہم بازار تک کی دوری تین کلومیٹر ہے۔ نیرال، جو کہ یہاں سے تقریباً ۱۱ کلومیٹر دور سب سے قریبی اسٹیشن ہے، اور بازار کے درمیان پہلے ’ٹوائے ٹرین‘ (ریل کی چھوٹی لائن) چلا کرتی تھی۔ لیکن دو بار ٹرین کے پٹریوں سے اتر جانے کی وجہ سے اس سروِس کو مئی ۲۰۱۶ میں بند کر دیا گیا۔ لہٰذا، اب دستوری سے یا تو آپ ٹریکنگ کیجئے، یا پھر ہاتھ سے کھینچے جانے والے رکشے سے اوپر جائیے یا پھر گھوڑے پر بیٹھ کر۔ اسی لیے یہاں پر آپ کو ہر جگہ گھوڑے، ان کے رکھوالے، رکشے اور پورٹر کام کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔

شیوا جی کوکرے کے گھوڑے، راجا، جے پال اور چیتک کے اپنے اپنے شناختی کارڈ ہیں، ان کے فوٹو ان کے مالک کے لائسنس پر موجود ہیں۔ مقامی پولس گھوڑے کے مالکوں کو یہ لائسنس جاری کرتی ہے۔ کارڈ کے پیچھے ان کے رجسٹرڈ گھوڑے کی تصویر موجود ہے۔ جس مالک کے پاس تین گھوڑے ہوں، اس کے لائسنس پر بھی ان تینوں گھوڑوں کی تصویریں لگائی جاتی ہیں۔

’’یہ ہمارا فیملی بزنس ہے،‘‘ کوکرے کہتے ہیں۔ ’’راجا، جے پال اور چیتک میرے بھائی گنیش کی ملکیت ہیں، جو ماتھیران میں رہتے ہیں۔‘‘

03-_IMG_1431-2_Shivaji-SM-Holding your horses in Matheran.jpg

راجا، جے پال اور چیتک کے ساتھ شیواجی کوکرے

کوکرے، جو اپنی عمر کے ۲۰ویں سال میں چل رہے ہیں، سیاحوں کو گھوڑا پیش کرنے کے لیے نیرال کے ڈھانگر واڑہ سے دستوری کے پارکنگ ایریا تک خود بھی روزانہ سفر کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ یہ کام گزشتہ پانچ برسوں سے کر رہے ہیں۔ صارفین کی تعداد کے حساب سے، کوکرے اپنے بھائی کے گھوڑوں میں سے کسی ایک یا سبھی کو ڈھلان سے اوپر نیچے لاتے لے جاتے ہیں۔ بعض دفعہ وہ ’’گھوڑوں کے ساتھ پہاڑیوں پر دوڑتے ہیں‘‘ سیاحوں کو مختلف مقامات کی سیر کرانے کے لیے، اور سارا دن ہل اسٹیشن کے دھول بھرے راستوں پر گزارتے ہیں، جو مانسون کے موسم میں کیچڑ سے بھر جاتے ہیں۔

کوکرے پیک سیزن یا ہفتہ کے اخیر میں عام طور سے ایک دن میں ۳ سے ۴ چکّر لگاتے ہیں سیاحوں کو لے کر۔ ہفتہ کے باقی دنوں میں کم لوگ آتے ہیں۔ دستوری میں ریٹ چارٹ لگا ہوا ہے، اور گھڑسواری کی قیمت دوری، وقت اور ٹھہرنے کی تعداد پر منحصر ہے۔  اچھے دنوں میں ایک گھوڑے سے ۱۵۰۰ روپے تک یا بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ کی کمائی ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ مالک، رکھوالا اور گھوڑے کی دیکھ بھال میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ 

ویڈیو دیکھیں: کسُنڈے، کوکرے اور کاولے ماتھیران میں گھوڑے کی رکھوالی کے بارے میں بتا رہے ہیں

۴۶ سال کی عمر کے منوج کسُنڈے گھوڑوں کے ساتھ ۳۰ سال گزار چکے ہیں۔ ان کے پاس دو گھوڑے ہیں، اسنوبوائے، جو کہ سفید رنگ کا ہے، اور فلفی، جو بھورا ہے۔ بالکل سفید یا کالے گھوڑے مہنگے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی قیمت ’’تقریباً ایک لاکھ سے ایک لاکھ ۲۰ ہزار تک‘‘ ہوتی ہے، وہ بتاتے ہیں۔ کسُنڈے ہر گھوڑے سے روزانہ تقریباً ایک ہزار روپے کماتے ہیں۔ لیکن جب بھی اسنو بوائے یا فلفی میں سے کوئی ایک بھی بیمار پڑ گیا اور کام نہیں کرسکتا، تو انھیں ان کے علاج اور صحت یابی پر ۵۰۰۰ سے ۱۵۰۰۰ روپے تک خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اور ان کے دونوں گھوڑوں کی دیکھ ریکھ پر ماہانہ تقریباً ۱۲۰۰۰ سے ۱۵۰۰۰ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

کسُنڈے کے دن کی شروعات ماتھیران کے پنچ وٹی نگر میں صبح سویرے ہوتی ہے۔ یہ ۴۰ سے ۵۰ گھروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی آبادی ہے، جہاں وہ اپنی بیوی منیشا، والدین، ۲۱ سالہ بیٹی جس نے ابھی ابھی اسکول مکمل کیا ہے، اور بارہویں کلاس میں پڑھنے والے ۱۹ سالہ بیٹے کے ساتھ رہتے ہیں۔ صبح کے ۷ بجے وہ اسنوبوائے اور فلفی کو گھاس یا باجرا کی روٹی یا گیہوں کھلانے کے بعد مین مارکیٹ لاتے ہیں۔ شام کے ۷ بجے وہ ان گھوڑوں کو واپس اصطبل لے آتے ہیں۔ ’’شام کو وہ روٹیاں یا بسکٹ یا گاجر کھاتے ہیں، اور پھر سونے چلے جاتے ہیں۔‘‘

گھوڑوں کے یہ رکھوالے اپنے مویشیوں کے لیے چارہ اور دیگر چیزیں ماتھیران کے سنڈے مارکیٹ سے خریدتے ہیں، جہاں پر مقامی آدیواسی متعدد قسم کے کھانے کے سامان بیچتے ہیں، جس میں پاس کی پہاڑیوں سے جمع کی گئی گھاس میں شامل ہوتی ہے۔ نیرال کے دکاندار بھی گھوڑوں کے چارے بیچتے ہیں۔

’’۱۵ سال قبل ماتھیران زیادہ خوبصورت ہوا کرتا تھا،‘‘ کسُنڈے کہتے ہیں۔ ’’اُن دنوں، گھوڑوں سے ہر چکر میں ہماری ۱۰۰ روپے کی کمائی ہوتی تھی، لیکن یہ بہتر تھا۔‘‘

ماتھیران کے ہوٹلوں سے باہر نکلنے کا وقت صبح کے ۹ بجے سے لے کر دوپہر تک چلتا ہے۔ یہ کچھ حد تک گھوڑے کے رکھوالوں کے ساتھ ساتھ بوجھ ڈھونے والے پورٹرس اور رکشہ چلانے والوں کے وقتوں کا تعین کرتا ہے۔ ہوٹل سے نکلنے کے عین قبل یہ لوگ ہوٹلوں کے دروازے پر جمع ہو جاتے ہیں اور دستوری لوٹنے والے گاہکوں کا انتظار کرتے ہیں۔

04-Shantaram-and-Raja-2-SM-Holding your horses in Matheran.jpg راجا کے ساتھ شانتا رام کاولے: ’گھر پر بیکار بیٹھ کر کوئی بھی پیسے نہیں کماتا،‘ وہ کہتے ہیں۔ نیچے: ان کا شناختی کارڈ، اور پیچھے راجا کا شناختی کارڈ

05-Shantaram's ID front and back-SM-Holding your horses in Matheran.jpg

انہی میں سے ایک ۳۸ سالہ شانتا رام کاولے بھی ہیں، جو گھوڑے کے رکھوالے ہیں اور پُنے ضلع کے کلاکرائی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ان کے گھوڑے کا نام راجا ہے۔ راجا کو کھلانے کے لیے کاولے صبح میں ساڑھے تین بجے جگتے ہیں۔ اگر ان کی بکنگ پہلے کی ہو، تو وہ صبح کے ۵ بجے ہوٹل پہنچ جاتے ہیں۔ ورنہ وہ اور راجا بازار میں صبح ۷ بجے موجود ہوتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں کے لیے ۱۲ گھنٹے کی دن کی ڈیوٹی شروع ہوجاتی ہے۔ ’’کوئی بھی گھر پر بیکار بیٹھ کر پیسے نہیں کماتا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اگر آپ باہر نکلیں گے، تو آپ کو بزنس ملے گا۔‘‘

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Sinchita Maji & Suman Parbat

سنچیتا ماجی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی ویڈیو کو آرڈی نیٹر، اور ایک فری لانس فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں۔ سُمن پربت کولکاتا کے ایک آن شور پائپ لائن انجینئر ہیں، جو فی الحال ممبئی میں مقیم ہیں۔ ان کے پاس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، دُرگاپور، مغربی بنگال سے سول انجینئرنگ میں بی ٹیک کی ڈگری ہے۔ وہ بھی ایک فری لانس فوٹوگرافر ہیں۔

Other Stories by Sinchita Maji & Suman Parbat