/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/The last battle of Laxmi Panda/dsc01711.jpg

ایک بھُلائی جا چکی مجاہدِ آزادی کوراپٹ، اڈیشہ کے اپنے خستہ حال گھر میں


لکشمی ’اندرا‘ پانڈا نے بھوبنیشور کی یومِ جمہوریہ تقریب اور اس کے بعد راج بھون میں چائے پینے کی اڈیشہ کے گورنر کی طرف سے بھیجی گئی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اس دعوت نامہ میں ان کی کار کے لیے ’پارکنگ پاس‘ بھی منسلک تھا۔ لیکن، لکشمی نے جواب دینا بھی گوارہ نہیں کیا۔ نہ ہی وہ ان کی یومِ جمہوریہ کی تقریب میں شریک ہوئیں۔

لکشمی پانڈا کے پاس کار نہیں ہے۔ وہ کوراپٹ ضلع کے جیپور قصبہ کی ایک چال (جھگی) میں بنے ایک چھوٹے سے کمرہ میں رہتی ہیں۔ یہ ایک بدصورت جھگیوں والی آبادی تھی، جس میں تھوڑی بہت بہتری آئی ہے، لکشمی تقریباً دو دہائیوں سے یہیں اپنی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ پچھلے سال وہ یومِ آزادی کی تقریب میں شریک ہوئی تھیں، کیوں کہ تب ان کے بہی خواہوں نے ان کے لیے ٹرین ٹکٹ کا انتظام کر دیا تھا۔ اس سال، ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ وہاں جا سکیں۔ وہ ہمیں اپنا دعوت نامہ اور پارکنگ پاس دکھاتے ہوئے ہنستی ہیں۔ کار سے ان کا واسطہ صرف ایک بار پڑا تھا: ’’میرے آنجہانی شوہر چار دہائیوں پہلے ایک ڈرائیور تھے۔‘‘ انڈین نیشنل آرمی (آئی این اے) کی اس سپاہی کے پاس اب بھی ان کی شائع شدہ وہ تصویر فخریہ انداز میں موجود ہے، جس میں وہ اپنے ہاتھوں میں رائفل پکڑے ہوئی ہیں۔

لکشمی ان بے شمار دیہی ہندوستانیوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے ملک کو آزاد کرانے کی لڑائی لڑی۔ وہ عام لوگ جو مشہور ہونے کے لیے قائد، وزیر یا گورنر بننے نہیں گئے۔ یہ ایماندار لوگ تھے، جنہوں نے بڑی قربانیاں دیں اور جب ملک آزاد ہو گیا تو اپنی روزمرہ کی زندگی کی طرف واپس لوٹ گئے۔ ملک جب آزادی کی ۶۰ویں سالگرہ منا رہا ہے، اُس نسل کے زیادہ تر لوگ اِس دنیا سے جا چکے ہیں۔ بقیہ جو بچے ہیں، وہ ۸۰ یا ۹۰ سال کی عمر کو پار کر چکے ہیں اور زیادہ تر یا تو بیمار ہیں یا پھر خستہ حالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ (عمر کے معاملے میں لکشمی ان سب سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ ۱۳ سال کی عمر کے آس پاس ہی آئی این اے میں شامل ہو گئی تھیں، اور اب جاکر وہ ۸۰ سال کی ہونے والی ہیں۔) مجاہدینِ آزادی کی تعداد تیزی سے گھٹتی جا رہی ہے۔

اڈیشہ کی ریاستی حکومت لکشمی پانڈا کو ایک مجاہدِ آزادی کے طور پر تسلیم کرتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں ہر مہینہ معمولی ۷۰۰ روپے پنشن ملتی ہے۔ پچھلے سال اس میں ۳۰۰ روپے کا مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ کئی برسوں تک، کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا پیسہ کہاں بھیجا جائے۔ تاہم، مرکز کی سطح پر انھیں اب بھی مجاہدِ آزادی تسلیم نہیں کیا جاتا، حالانکہ آئی این اے کے کئی ممبران ان کے دعوے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ’’دہلی میں انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں جیل نہیں گئی تھی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’اور یہ صحیح ہے، کہ میں جیل نہیں گئی۔ لیکن آئی این اے کے اور بھی بہت سے سپاہی جیل نہیں گئے تھے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آزادی کی لڑائی نہیں لڑی؟ پنشن کے لیے میں جھوٹ کیوں بولوں گی؟‘‘


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/The last battle of Laxmi Panda/dsc01722.jpg

’آئی این اے میں ہم میں سے بہت سے لوگ جیل نہیں گئے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے آزادی کی لڑائی نہیں لڑی؟‘


لکشمی نیتاجی بوس کی انڈین نیشنل آرمی کے سب سے کم عمر ممبران میں سے ایک تھیں۔ اڈیشہ کی شاید واحد خاتون، جنھوں نے آئی این اے میں اپنا نام لکھوایا اور اُس وقت کے برما میں واقع کیمپ میں شامل ہوئیں۔ ظاہر ہے وہ واحد باحیات ایسی خاتون ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بوس نے خود انھیں ’اندرا‘ نام دیا تھا، تاکہ اُس وقت ان سے زیادہ مشہور (کیپٹن) لکشمی سہگل کو لے کر کوئی کنفیوژن نہ ہو۔ ’’انھوں نے مجھ سے کہا تھا، ’اس کیمپ میں، تم اندرا ہو‘۔ میری سمجھ اس وقت اتنی نہیں تھی۔ لیکن اس کے بعد، مجھے لوگ اندرا کے نام سے ہی پکارنے لگے۔‘‘

لکشمی کے والدین برما میں ریلویز میں کام کرنے کے دوران انگریزوں کی طرف سے کی گئی اچانک بمباری میں مارے گئے۔ اس کے بعد ’’میں انگریزوں سے لڑنا چاہتی تھی۔ آئی این اے میں میرے سینئر اڑیہ دوست مجھے کسی بھی چیز میں شامل کرنے سے کافی ہچکچاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں بہت چھوٹی ہوں۔ میں ان سے ہاتھ جوڑ کر کہتی تھی کہ مجھے کوئی بھی کام دے دو، چاہے وہ چھوٹے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ میرے بھائی نکل رتھ بھی ایک ممبر تھے، وہ جنگ کے دوران کہیں غائب ہو گئے۔ کئی سالوں کے بعد، کسی نے مجھے بتایا کہ وہ واپس آ چکے ہیں اور انھوں نے انڈین آرمی جوائن کرلی ہے اور اب وہ کشمیر میں ہیں، لیکن میں اس کی تصدیق کیسے کروں؟ بہرحال، یہ نصف صدی پہلے کی بات تھی۔

’’کیمپ میں میری ملاقات لیفٹیننٹ جانکی سے ہوئی، اس کے علاوہ میں نے وہاں لکشمی سہگل، گووری اور آئی این اے کی دیگر مشہور لڑاکوؤں کو دیکھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ جنگ کے آخری دنوں میں ہم سنگاپور گئے،‘‘ وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’میرے خیال سے، بہادر گروپ کے ساتھ۔‘‘ وہاں پر وہ آئی این اے کے تمل دوستوں کے ساتھ ٹھہریں اور اس زبان کے چند الفاظ بھی سیکھے۔

اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ہمیں تمل میں اپنا نام ’’اندرا‘‘ لکھ کر دکھاتی ہیں۔ اور فخر کے ساتھ آئی این اے کے ترانہ کی پہلی لائن: ’’قدم قدم بڑھائے جا، خوشی کے گیت گائے جا۔ یہ زندگی ہے قوم کی، تو قوم پہ لُٹائے جا‘‘ گنگناتی ہیں۔

آئی این اے یونیفارم میں رائفل کے ساتھ اپنی تصویر کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ یہ ’’جنگ کے بعد کھینچی گئی تھی، جب ہم دوبارہ ایک دوسرے سے ملے اور جب ہم اسے (فوج کو) ختم کر رہے تھے۔‘‘ جلد ہی، ’’میں نے برہم پور میں ۱۹۵۱ میں کگیشور پانڈا سے شادی کر لی اور بڑی تعداد میں اڑیہ آئی این اے ممبران میری شادی میں شریک ہوئے۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/The last battle of Laxmi Panda/dsc01738.jpg

لکشمی پانڈا آئی این اے یونیفارم میں رائفل کے ساتھ اپنی تصویر ہمیں دکھاتی ہیں


آئی این اے کے پرانے ساتھیوں کی یاد انھیں بہت ستاتی ہے۔ ’’مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے۔ ان کی بھی، جنہیں میں بہت زیادہ نہیں جانتی، میری خواہش ہے کہ میں ان سے دوبارہ ملوں۔ ایک بار میں نے سنا کہ لکشمی سہگل کٹک میں تقریر کر رہی ہیں، لیکن میرے پاس وہاں جانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ میری خواہش تھی کہ کم از کم ایک بار اور ان سے ضرور ملوں۔ کانپور میں تب مجھے صرف ایک بار جانے کا موقع نصیب ہوا تھا، لیکن تب میں بیمار پڑ گئی تھی۔ اب ویسا موقع دوبارہ کہاں ملے گا؟‘‘

۱۹۵۰ کی دہائی میں، ان کے شوہر کو ڈرائیور کا لائیسنس ملا ’’اور ہم نے ہیراکنڈ کے پاس کچھ سالوں تک کام کیا۔ اس وقت میں خوش تھی، اور مجھے خود کے گزر بسر کے لیے مزدوری نہیں کرنی پڑتی تھی۔ لیکن ۱۹۷۶ میں ان کی موت ہو گئی اور میری پریشانیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔‘‘

لکشمی نے کئی طرح کے کام کیے، مثلاً اسٹور ہیلپر، مزدور، اور گھریلو ملازمہ کا بھی کام کیا۔ ان کاموں کے بدلے انھیں ہمیشہ بہت کم اجرت ملی۔ ان کے بیٹے کو شراب کی لت لگ گئی۔ اس بیٹے کے کئی بچے ہیں، اور سب کی صحت خراب رہتی ہے۔

’’میں نے کچھ نہیں مانگا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں نے اپنے ملک کے لیے لڑائی لڑی، انعام کے لیے نہیں۔ میں نے اپنی فیملی کے لیے بھی کچھ نہیں مانگا۔ لیکن اب، اس باب کے خاتمہ پر، مجھے امید ہے کہ کم از کم میری قربانیوں کو تسلیم کیا جائے گا۔‘‘

خراب صحت اور غریبی نے چند سال پہلے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ لوگوں کو اس کے بارے میں تب پتہ چلا، جب جیپور کی ایک نوجوان صحافی، پریش رتھ نے پہلی بار یہ اسٹوری لکھی۔ رتھ انھیں ان کی جھونپڑی سے اٹھا کر اپنے ایک کمرہ والی رہائش گاہ میں لے آئیں، اور وہ بھی اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرکے، ساتھ ہی انھوں نے ان کا علاج بھی کرایا۔ مرض کی وجہ سے حال ہی میں پانڈا کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ فی الحال وہ اپنے بیٹے کے گھر پر ہیں، حالانکہ اس کی شراب کی لت ابھی چھوٹی نہیں ہے۔ رتھ کے بعد کئی اور لوگوں نے اسٹوری لکھی۔ ایک بار لکشمی پر ایک قومی میگزین میں کور اسٹوری بھی چھپی۔

’’ہم نے جب پہلی اسٹوری کی، تو ان کے لیے کچھ مدد آنے لگی،‘‘ رتھ بتاتی ہیں۔ ’’اس وقت کی کوراپٹ کی کلکٹر، اوشا پاڑھی نے ہمدردی دکھائی۔ ریڈ کراس فنڈ سے انھوں نے علاج کے لیے لکشمی کو ۱۰ ہزار روپے دلوائے۔ ساتھ ہی انھوں نے لکشمی کو سرکاری زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کرانے کا وعدہ کیا۔ لیکن پاڑھی کا بعد میں کہیں اور ٹرانسفر ہو گیا۔ بنگال کے بھی کچھ لوگوں نے انھیں پیسے بھیجے۔‘‘ تاہم، کچھ دنوں بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا اور وہ دوبارہ خستہ حالی کی زندگی جینے پر مجبور ہو گئیں۔ ’’اور تب بھی یہ صرف پیسے کا معاملے نہیں ہے،‘‘ رتھ کہتی ہیں۔ ’’اگر انھیں مرکزی پنشن بھی ملنے لگے، تو وہ کتنے سال تک اس کا مزہ لے پائیں گی؟ یہ تو ان کے لیے افتخار و اعزاز کا معاملہ ہے۔ لیکن، مرکزی سرکار نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘‘

کافی جدوجہد کے بعد پچھلے سال کے اخیر میں لکشمی کو پنجیا گڈا گاؤں میں سرکاری زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کیا گیا۔ لیکن وہ اب بھی اس بات کا انتظار کر رہی ہیں کہ سرکاری اسکیم کے تحت اس زمین پر انھیں ایک گھر بناکر دیا جائے گا اور وہ امید لگائے بیٹھی ہیں۔ فی الحال، رتھ نے ان کی پرانی جھونپڑی کے بغل میں ایک اچھا کمرہ بنانے میں مالی مدد فراہم کی ہے، جس میں انھیں جلد منتقل ہونے کی امید ہے۔

مقامی سطح پر بھی اب بہت کم لوگ انھیں جانتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں ان کے کیس کو آگے بڑھانے کے لیے آگے آئی ہیں۔ ’’کل،‘‘ انھوں نے مجھے ۱۴ اگست کو بتایا، ’’میں یہاں کے دیپتی اسکول میں جھنڈا پھہراؤں گی۔ انھوں نے مجھ سے درخواست کی ہے۔‘‘ انھیں اس پر فخر ہے، لیکن وہ اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ ان کے پاس ’’تقریب میں پہن کر جانے کے لیے اچھی ساڑی نہیں ہے‘‘۔

دریں اثنا، عمر رسیدہ آئی این اے کی سپاہی اپنی اگلی لڑائی کی تیاری کر رہی ہیں۔ ’’نیتا جی نے کہا تھا ’دلّی چلو‘۔ میں ۱۵ اگست کے بعد ایسا ہی کروں گی، اگر مرکزی حکومت نے تب تک مجھے مجاہدِ آزادی کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے پر بیٹھ جاؤں گی،‘‘ بزرگ خاتون کہتی ہیں۔ ’’دِلّی چلو، میں بھی یہی کروں گی۔‘‘

اور وہ ایسا کریں گی، شاید چھ دہائیوں بعد۔ لیکن دل میں امید لیے۔ جیسا کہ وہ گاتی ہیں: ’’قدم، قدم بڑھائے جا۔۔۔۔۔‘‘


یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو  میں ۱۵ اگست، ۲۰۰۷ کو شائع ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath