’پہاڑ کے دیوتا کو ہم نے شاید ناراض کر دیا‘

لداخ کے اونچے چراگاہوں میں خانہ بدوش چانگپا مویشی پروروں کی یاک سے متعلق اقتصادیات پر بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں، جس کی وجہ ہے ان کے نازک کوہستانی ماحولیاتی نظام میں موسمیاتی تبدیلی

۴ اگست، ۲۰۱۹ | رِتاین مکھرجی

پشمینہ شال کی کہانی بُنتے ہوئے

تبتی پٹھار میں چنگ تھانگی بکریوں سے لے کر سری نگر کے رٹیل اسٹور تک، پشمینہ شال بنانے میں کئی لوگ شامل ہیں – چرواہے، ہول سیلرز، کتائی کرنے والے، خریدار، ڈیزائنر، کشیدہ کاری کرنے والے اور صنعت کار

۲۳ جون، ۲۰۱۹ | پربیرمترا

توسہ میدان: بندوقیں، چراگاہ، تصادم

بڈگام ضلع میں فوج کے فائرنگ رینج کے سبب کئی گاؤں والوں کی موت اور ساتھ ہی پہاڑی چراگاہوں میں ماحولیاتی نقصان کے بعد، مقامی لوگوں نے یہ یقینی بنانے کے لیے لڑائی لڑی کہ ۲۰۱۴ میں فوج کے پٹّہ کی تجدید نہ ہو۔ لیکن مسائل اب بھی برقرار ہیں

۲ اپریل، ۲۰۱۹ | فرینی مانک شا

یادوں کا ایک میوزیم – اور میزائلیں

کرگل میں ایل او سی پر واقع ایک دور افتادہ گاؤں، ہُندرمن، جو کہ دو دشمن ملکوں کی لڑائی کے درمیان پھنسا ہوا ہے، نے اپنی تاریخ اور دل کو دنیا کے لیے کھول دیا ہے – اس کے ویران مکانات اب ماضی کو تحفظ فراہم کرنے والے ہیریٹیج سائٹ ہیں

۱۰ مئی، ۲۰۱۸ | اسٹینزِن سیلڈون

غریبوں کے ذریعہ تعمیر کردہ پہاڑی سڑک

لداخ میں پہاڑی راستوں کو بنانے والے زیادہ تر مزدور بہار، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے رہنے والے ہیں – وہ اپنے گھر پر ذریعہ معاش کی کمی کے سبب یہاں سخت موسم اور خطرناک کام کرنے پر مجبور ہیں

۲۴ مارچ، ۲۰۱۸ | رِتاین مکھرجی

کرگل کی بلند اقتصادیات

کرگل، لداخ کے کمانڈر بازار – جہاں کی تین کے علاوہ سبھی دکانیں عورتیں چلاتی ہیں – کی ابتدا اور کامیابی سے متعلق کہانیاں سبق آموز ہیں

۱۸ نومبر، ۲۰۱۷ | اسٹینزِن سیلڈون

کشمیرہ بنانے والے چانگپا

لداخ کی ہنلے وادی کے خانہ بدوش چانگپا پشمینہ بکریوں کی گلہ بانی کرتے ہیں، بلند و بالا چراگاہوں والے علاقوں میں رہتے ہیں، اور پرانے بارٹر نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن ان کا طریقہ زندگی بدل رہا ہے۔ اس تصویری مضمون میں چانگپا کرما رنچین کی کمیونٹی کو پیش کیا گیا ہے

۲۳ مارچ، ۲۰۱۷ | رِتاین مکھرجی

بے یقینی کے بادل
• Leh, Jammu and Kashmir

بے یقینی کے بادل

ایل او سی کے قریب اونچائی پر واقع نوبرا وادی کے ترتوک گاؤں کی بالتی کمیونٹی کے لوگ موسم میں ہونے والے بڑے اُلٹ پھیر کے اثرات، اور اپنی مقامی اقتصادیات و ثقافت میں ہونے والی تبدیلیوں کا سامنا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

۲۷ ستمبر، ۲۰۱۶ | شویتا ڈاگا

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here: