کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب مغربی بنگال کے ندیا ضلع میں تیہٹہ گاؤں کے چتور پاڑہ کی مستقل سبزی منڈی کو بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد وہاں کے لوگوں نے اس گاؤں کے دتہ پاڑہ علاقے میں، ایک کھلے میدان میں عارضی بازار بنا لیا ہے، جو صبح ۶ بجے سے ۱۰ بجے تک کھلا رہتا ہے۔ تیہٹہ  بلاک ۱ میں واقع اس گاؤں کو مغربی بنگال حکومت کے ذریعے اپریل میں ’ہاٹ اسپاٹ‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ بازار کے دن کی کچھ تصویریں:

Prosanto Mondal, 48, used to sell dal-puri in the mornings and potato bondas in the evening. But with lockdown restrictions on cooked street food, he began selling vegetables. From daily earnings of around Rs. 400, he now barely makes Rs. 150. "I am not very familiar with the vegetable trade,” he says.
PHOTO • Soumyabrata Roy

۴۸ سالہ پروشانتو مونڈل صبح میں دال پوڑی اور شام کو آلو بونڈا بیچتے تھے۔ لیکن لاک ڈاؤن میں پکے ہوئے اسٹریٹ فوڈ پر پابندی لگ جانے کے سبب، انہوں نے سبزیاں بیچنی شروع کر دیں۔ پہلے جہاں وہ روزانہ ۴۰۰ روپے کمایا کرتے تھے، آج وہ آمدنی گھٹ کر مشکل سے ۱۵۰ روپے رہ گئی ہے۔ ’’میں سبزی کے کاروبار سے بہت زیادہ شناسا نہیں ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

Ram Dutta, a 56-year-old vegetable seller, buying lemon tea from Santi Halder. His income has dropped to half his daily earnings of Rs. 300. He says, “I didn't have a lot of sales before, now it's even worse.” Santi Halder, 48, has been selling jhal muri (a popular street food in West Bengal) for 20 years, but with lockdown restrictions on cooked food, is selling tea. His income too has dropped from Rs. 250-300 to Rs. 100-120 a day.
PHOTO • Soumyabrata Roy

۵۶ سالہ سبزی فروش رام دتہ، شانتی ہلدر سے لیموں کی چائے خرید رہے ہیں۔ ان کی آمدنی پہلے ۳۰۰ روپے یومیہ ہوا کرتی تھی، جو اب گھٹ کر آدھی رہ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’پہلے میری سبزیاں بہت زیادہ فروخت نہیں ہوتی تھیں، اب حالت مزید خراب ہے۔‘‘ ۴۸ سالہ شانتی ہلدر ۲۰ سال سے جھال موڑھی (مغربی بنگال کا ایک مقبول اسٹریٹ فوڈ) بیچ رہے تھے، لیکن لاک ڈاؤن میں پکے ہوئے اسٹریٹ فوڈ پر پابندی لگ جانے کے سبب، وہ چائے بیچ رہے ہیں۔ ان کی آمدنی بھی ۲۵۰-۳۰۰ روپے سے گھٹ کر ۱۰۰-۱۲۰ روپے یومیہ رہ گئی ہے۔

Sukhen (left) and Prosenjit Halder (right) are brothers. Sukhen used to cook in a restaurant, earning Rs. 10,000 a month, but now barely makes Rs. 200 a day – and that too is uncertain. Prosenjit worked at a fish farm and as a part-time mason's helper. His earnings were more modest – around Rs. 250 a day from both sources – but he got to take some fish home from the fish farm. That too has stopped during the lockdown.
PHOTO • Soumyabrata Roy

سکھین (بائیں) اور پروسین جیت ہلدر (دائیں) آپس میں بھائی ہیں۔ سکھین ایک ریستراں میں کھانا بناتے تھے اور ۱۰ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پاتے تھے، لیکن اب مشکل سے ایک دن میں ۲۰۰ روپے کماتے ہیں – اور وہ بھی غیر یقینی ہے۔ پروسین جیت ماہی پروری کے تالاب میں اور راج مستری کے عارضی ہیلپر کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ ان کی کمائی بہت معمولی تھی – دونوں ذرائع سے تقریباً ۲۵۰ روپے روزانہ – لیکن وہ ماہی پروری کے تالاب سے کچھ مچھلی گھر لے آتے تھے۔ لاک ڈاؤن کے دوران اب وہ بھی بند ہو گیا ہے۔

Left: For 23 years, 47-year-old Prafulla Debnath has been doing odd jobs at the regular Samabay Krishi Unnayan Samity Market (now closed for the lockdown). He carries sacks to be delivered to the houses of customers, and carries goods from vehicles to shops. And he sweeps the whole market – picking up Rs. 2 per day from each vegetable vendor and Re. 1 per day from the other shopkeepers. But now, with the market shifted to the field in Dutta Para, even his bare earnings have halved, though some of the vegetable vendors arrange for breakfast and lunch for Debnath. “If I do not clean, the market will be dirty,” he says. “If I clean the market then everyone will know my name. Nobody will work like me!” Right: Since the market is open for only a few hours, many buy at the last minute, hoping for low prices. Khoka Roy, 50, was a carpenter, then he ran a small grocery shop from home, and is now out selling in the market due to the lockdown. From Rs. 400-500 per day, his income has dropped to Rs. 200-250. “With the police patrolling, people are not leaving their houses,” he says. “You tell me, how we can sell vegetables?"
PHOTO • Soumyabrata Roy
Left: For 23 years, 47-year-old Prafulla Debnath has been doing odd jobs at the regular Samabay Krishi Unnayan Samity Market (now closed for the lockdown). He carries sacks to be delivered to the houses of customers, and carries goods from vehicles to shops. And he sweeps the whole market – picking up Rs. 2 per day from each vegetable vendor and Re. 1 per day from the other shopkeepers. But now, with the market shifted to the field in Dutta Para, even his bare earnings have halved, though some of the vegetable vendors arrange for breakfast and lunch for Debnath. “If I do not clean, the market will be dirty,” he says. “If I clean the market then everyone will know my name. Nobody will work like me!” Right: Since the market is open for only a few hours, many buy at the last minute, hoping for low prices. Khoka Roy, 50, was a carpenter, then he ran a small grocery shop from home, and is now out selling in the market due to the lockdown. From Rs. 400-500 per day, his income has dropped to Rs. 200-250. “With the police patrolling, people are not leaving their houses,” he says. “You tell me, how we can sell vegetables?"
PHOTO • Soumyabrata Roy

بائیں: ۴۷ سالہ پرفل دیب ناتھ، ۲۳ سال سے سمبے کرشی اُنَّین سمیتی مارکیٹ (اب لاک ڈاؤن کے سبب بند ہے) میں چھوٹے موٹے کام کرتے رہے ہیں۔ وہ گاہکوں کے گھروں تک پہنچائی جانے والی بوریاں لاتے ہیں، اور گاڑیوں سے سامان اتار کر دکانوں میں پہنچاتے ہیں۔ اور وہ پورے بازار میں جھاڑو لگاتے ہیں – بدلے میں ہر ایک سبزی فروش سے روزانہ ۲ روپے اور دیگر دکانداروں سے ۱ روپیہ لیتے ہیں۔ لیکن اب، چونکہ بازار دتہ پاڑہ میں منتقل ہو گیا ہے، ان کی معمولی کمائی بھی آدھی رہ گئی ہے، حالانکہ کچھ سبزی فروش دیب ناتھ کے لیے ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کا انتظام کر دیتے ہیں۔ ’’اگر میں صفائی نہ کروں، تو بازار گندا رہے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اگر میں بازار کی صفائی کروں گا تو سبھی لوگ میرا نام جان جائیں گے۔ کوئی بھی میری طرح کام نہیں کرے گا!‘‘ دائیں: چونکہ بازار کچھ گھنٹوں کے لیے ہی کھلتا ہے، اس لیے کئی لوگ قیمتیں کم ہونے کی امید میں آخری وقت میں خریداری کرتے ہیں۔ ۵۰ سالہ کھوکا رائے ایک بڑھئی تھے، پھر انہوں نے گھر سے ایک چھوٹی سی کیرانے کی دکان چلائی، اور اب لاک ڈاؤن کے سبب بازار میں سامان بیچ رہے ہیں۔ ان کی یومیہ آمدنی ۴۰۰-۵۰۰ روپے سے گھٹ کر اب صرف ۲۰۰-۲۵۰ روپے رہ گئی ہے۔ ’’پولس گشت لگا رہی ہے، اس لیے لوگ اپنے گھروں سے نہیں نکل رہے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’آپ ہی بتائیے، ہم سبزیاں کیسے بیچ سکتے ہیں؟‘‘

Customers picking up vegetable from Parimal Dalal’s stall. After 30 years of doing this work, 51-year-old Parimal, is more confident than the others, and says, "My business hasn't changed much. Customers I am acquainted with are coming here too."
PHOTO • Soumyabrata Roy

پریمل دلال کے اسٹال سے سبزی اٹھاتے گاہک۔ ۳۰ سال سے یہ کام کر رہے ۵۱ سالہ پریمل، دوسروں کے مقابلے زیادہ خود اعتمادی سے بھرے ہوئے ہیں، اور کہتے ہیں، ’’میرے کاروبار میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ میں جن گاہکوں کو جانتا ہوں، وہ یہاں بھی آ رہے ہیں۔‘‘

Kartik Debnath sells eggs, ginger, onion, chili, garlic, and others vegetables. He is 47, and has been doing this work for three decades. "My business is doing well,” he says, “and even some new buyers have been added."
PHOTO • Soumyabrata Roy

کارتک دیب ناتھ انڈے، ادرک، پیاز، مرچ، لہسن، اور دیگر سبزیاں بیچتے ہیں۔ وہ ۴۷ سال کے ہیں، اور تین دہائیوں سے یہ کام کر رہے ہیں۔ ’’میرا کاروبار اچھا چل رہا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’اور کچھ نئے خریدار بھی جڑ گئے ہیں۔‘‘

Many are using improvised masks, as is 37-year-old Bablu Shaikh, a farmer and part-time vegetable seller, who is using a gamchha.
PHOTO • Soumyabrata Roy

کئی لوگ کام چلاؤ ماسک کا استعمال کر رہے ہیں، جیسے کہ ۳۷ سالہ کسان اور عارضی سبزی فروش ببلو شیخ اپنا رومال استعمال کر رہے ہیں۔

Left: Khakon Pramanick, 45, who sells chickens and sometimes migrates to other states to work at construction sites, is now struggling with a drop from both sources of income. Right: Bharat Halder, 62, was a mason’s helper before he started selling fish around three years ago, hoping to earn more. During the lockdown, his earnings have dropped from around Rs. 250 a day to less that Rs. 200, he says. The supply of fish is also uncertain. “Fish is no longer coming from Andhra Pradesh due to the lockdown,” he says. “So the local pond and river fish [in smaller quantities] are now sold here.”
PHOTO • Soumyabrata Roy
Left: Khakon Pramanick, 45, who sells chickens and sometimes migrates to other states to work at construction sites, is now struggling with a drop from both sources of income. Right: Bharat Halder, 62, was a mason’s helper before he started selling fish around three years ago, hoping to earn more. During the lockdown, his earnings have dropped from around Rs. 250 a day to less that Rs. 200, he says. The supply of fish is also uncertain. “Fish is no longer coming from Andhra Pradesh due to the lockdown,” he says. “So the local pond and river fish [in smaller quantities] are now sold here.”
PHOTO • Soumyabrata Roy

بائیں: ۴۵ سالہ کھاکون پرمانک، جو مرغیاں بیچتے ہیں اور کبھی کبھی تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے لیے دوسری ریاستوں میں چلے جاتے ہیں، اب دونوں ذرائع سے ہونے والی آمدنی کے کم ہو جانے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دائیں: ۶۲ سالہ بھرت ہلدر راج مستری کے معاون ہوا کرتے تھے، لیکن زیادہ کمائی کی امید میں تین سال پہلے انہوں نے مچھلیاں بیچنی شروع کر دیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران ان کی کمائی ۲۵۰ روپے سے گھٹ کر ۲۰۰ روپے یومیہ رہ گئی ہے۔ مچھلی کی سپلائی کے بارے میں بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ ’’لاک ڈاؤن کے سبب آندھرا پردیش سے مچھلی نہیں آ رہی ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’اس لیے اب یہاں مقامی تالاب اور ندی کی مچھلیاں [کم مقدار میں] فروخت ہو رہی ہیں۔‘‘

Sridam Mondal, 62, mainly sells bananas and, at times, also a few vegetables. “The sales are very low [during the lockdown],” he says.
PHOTO • Soumyabrata Roy

۶۲ سالہ شری دم مونڈل، بنیادی طور پر کیلے اور کبھی کبھی سبزیاں بھی بیچتے ہیں۔ ’’[لاک ڈاؤن کے دوران] فروخت کم ہو رہی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

Sadhu Shaikh, 56, has found a spot just off the filed, away from where the other vendors are sitting. He is selling mangoes and vegetables from his own small farmland.
PHOTO • Soumyabrata Roy

۵۶ سالہ سادھو شیخ کو میدان کے ٹھیک باہر، دوسرے سبزی فروش جہاں بیٹھے ہیں وہاں سے دور، ایک جگہ مل گئی ہے۔ وہ اپنے چھوٹے سے کھیت کے آم اور سبزیاں بیچ رہے ہیں۔

Without a plastic sheet to use as a temporary shade from the sun, Sadananda Roy, 58, sits in middle of the field with a few vegetables holding an umbrella. He was a domestic worker in Delhi, but came home before the lockdown. His only income now is from selling a few vegetables, which fetches him Rs 50-100 a day. "I didn't come here regularly because some days I don't have vegetables to sell,” he says. “I don't know what will happen in the future.”
PHOTO • Soumyabrata Roy

۵۸ سالہ سدانند رائے، سورج سے عارضی سایہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے پلاسٹک کی چادر کے بغیر، ایک چھاتا پکڑے سبزیوں کے ساتھ میدان کے بیچ میں بیٹھے ہیں۔ وہ دہلی میں گھریلو ملازم تھے، لیکن لاک ڈاؤن سے پہلے گھر آ گئے۔ ان کی واحد آمدنی اب کچھ سبزیاں بیچنے سے ہوتی ہے، جس سے انہیں روزانہ ۵۰-۱۰۰ روپے مل جاتے ہیں۔ ’’میں یہاں باقاعدگی کے ساتھ نہیں آ پایا کیوں کہ کبھی کبھی میرے پاس بیچنے کے لیے سبزیاں نہیں ہوتی ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’مجھے نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Soumyabrata Roy

سومیہ برت رائے مغربی بنگال کے تیہٹہ میں واقع ایک آزاد فوٹو جرنلسٹ ہیں۔ انہوں نے رام کرشن مشن ودیا مندر، بیلور مٹھ (کلکتہ یونیورسٹی) سے فوٹوگرافی میں ڈپلومہ (۲۰۱۹) کیا ہے۔

Other stories by Soumyabrata Roy