’’کیا آپ فن پر کرفیو لگا سکتے ہیں؟‘‘ منی مارن نے سوال کیا اور پھر تھوڑا وقفہ کے بعد کہا، ’’ہم اس وقت بنگلہ دیش میں ہوتے اور ہم ۱۲ لوگوں کے لیے یہ بہت ہی بڑا موقع ہوتا۔ بجائے اس کے، مارچ اور اپریل میں ہونے والے ہمارے سارے پروگرام ملتوی ہو گئے ہیں۔‘‘ لیکن، ان ۴۵ سال کے پرئی فنکار اور استاد – تمل ناڈو کے بہترین فنکاروں میں سے ایک – کے لیے خالی بیٹھنا ناممکن ہے۔

اس لیے منی مارن اور ان کی بیوی ماگیژینی اس لاک ڈاؤن کے دوران بھی روزانہ فیس بک لائیو سے، یا یو ٹیوب پر ریکارڈ شدہ ویڈیو کے توسط سے فنی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کووِڈ۔ ۱۹ نے ان کے گروپ کے آنے والے پروگراموں پر دو مہینے کے لیے روک بھلے ہی لگا دی ہو، لیکن جیسا کہ منی مارن ہمیشہ کرتے ہیں، وہ اس بار بھی اس وائرس کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے گیت لے کر آئے ہیں۔ منی مارن کے ذریعے لکھا اور ان کی بیوی ماگیژینی کے ذریعے گایا گیا، اور ساتھی گلوکار سبرامنیم اور آنند کی آوازوں سے لیس، اس گیت کی کافی تعریف ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’دبئی کے ایک ریڈیو اسٹیشن نے اسے بجایا اور اپنے یو ٹیوب چینل پر ڈالا بھی ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: کورونا گیت

تمل ناڈو کے سب سے کامیاب فوک آرٹ گروپ میں سے ایک – بدّھار کلائی کوژو (بدھار آرٹ گروپ، جس کا قیام ۲۰۰۷ میں عمل میں آیا تھا) – کے منتظم، منی مارن ہر سال سو سے زیادہ طالب علموں کو پرئی بجانے کی ٹریننگ یتے ہیں۔ پرئی، ایک قسم کا ڈھول ہے جو کبھی صرف دلتوں کے ذریعے کسی کی وفات کے ماتم کے موقع پر ہی بجایا جاتا تھا۔ منی مارن جیسے فنکاروں کی کوششوں کے سبب اس فن کے سیاسی معنی دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ آج، پرئی نجات کا ایک ذریعہ اور فن کی قسم ہے۔

’’حالانکہ، آج بھی کئی لوگ ہیں جو پرئی صرف ماتمی مجلس میں ہی بجاتے ہیں، لیکن ایسے لوگوں کو فنکار نہیں مانا جاتا۔ فوک آرٹ کے لیے [ریاستی حکومت کے ذریعے] دیے جانے والے کلائی مامنی انعامات میں بھی پرئی کو فن کے طور پر منظوری نہیں دی جاتی،‘‘ فنکار شکایت کرتے ہیں۔ لیکن منی مارن پرئی بجانے کے اس فن کو سماج پر چڑھی چھواچھوت اور افسردگی کی موٹی چادر سے دور لے جانے میں مصروف ہیں، اور اسی لگن کے ساتھ وہ ہر ہفتے پرئی سکھاتے ہیں اور سالانہ ٹریننگ کیمپ بھی چلاتے ہیں، جس نے متعدد شعبوں سے کئی طالب علموں کو متوجہ کیا ہے – جو اس جوش اور حوصلے سے بھرے ڈھول بجانے کو سیکھنے کے لیے بے قرار ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے دوران یہ کیمپ ردّ کر دیے گئے ہیں۔

منی مارن کہتے ہیں کہ انہوں نے وائرس کے بارے میں گیت اس لیے لکھا، کیوں کہ انہوں نے کچھ گانا (چنئی کے ایک فوک آرٹ کی قسم) کو سنا جو غلط جانکاری دے رہے ہیں، ’’کچھ فنکار سنی سنائی باتوں کو مان کر گمراہ ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ غلط فہمی کہ کورونا [وائرس] گوشت وغیرہ کھانے سے پھیلتا ہے۔ لیکن جب گوشت خوری کے خلاف ویسے ہی اتنی مضبوط سیاسی حمایت ہو، تب کورونا کا استعمال کرکے اس ایجنڈے کو پھیلانا غلط ہے۔ اس لیے ہمیں یہ گیت لکھنا پڑا۔‘‘

اس کے علاوہ بھی، منی مارن اُن لوگوں میں سے ہیں جو آفت کے وقت سب سے پہلے سامنے آتے ہیں۔ ’’میرا ماننا ہے کہ فن سیاسی ہے۔ فنکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشرہ میں ہونے والے واقعات پر ردِ عمل دیں۔ فوک اور گانا فنکاروں نے ایسا ہی کیا ہے، انہوں نے آفت کے وقت فنی پیشکش کی شکل میں تعاون دیا ہے۔ غلط جانکاری کو مٹانے سے زیادہ ہمارا گیت بیداری پھیلاتا ہے۔‘‘

سال ۲۰۰۴ کی سونامی کے دوران ہوئی تباہی، اور ۲۰۱۸ میں غازہ سائیکلون کے بعد، جس نے تمل ناڈو کے کئی ضلعوں کو تباہ کر دیا تھا، متاثرین کو دلاسہ دینے کے لیے منی مارن نے کئی گیت لکھے۔ اپنے نئے گیت، کورونا گیت کے بارے میں بتاتے ہوئے ماگیژینی کہتی ہیں، ’’فوک آرٹ درحقیقت لوگوں کے فن کی ایک شکل ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی آفت کے وقت ہم لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم پیسے دینے کی حالت میں نہیں ہیں، اس لیے ہم اپنے فن کے توسط سے لوگوں میں بیداری پھیلاتے ہیں۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

فائل فوٹو: ۲۰۱۸ میں تمل ناڈو کے غازہ سائیکلون سے متاثر خطوں میں فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدھار کلائی کوژو۔ ان گیتوں اور مظاہروں نے متاثرین کی ہمت بندھائی

یہ ویسا ہی جیسا انہوں نے غازہ کے وقت کیا تھا۔ منی مارن اور ان کے گروپ ایک ایک کرکے غازہ سے متاثرہ علاقوں میں گئے اور انہوں نے پرئی کے توسط سے بھیڑ جمع کی۔ پھر انہوں نے پرئی بجانا جاری رکھا اور ہمت بندھانے والے گیت گائے۔ منی مارن بتاتے ہیں، ’’میں اس بات کو کبھی نہیں بھولوں گا جب ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا: ’ہمیں تمام قسم کی راحت اشیاء دی گئی ہیں، بسکٹ وغیرہ۔ لیکن جو آپ نے ہمیں دیا ہے، اس نے ہمارے دل کی گہرائیوں میں بیٹھے ڈر کو ختم کر دیا ہے۔‘ اس سے زیادہ کسی فنکار کو کیا چاہیے؟‘‘

یہ جوڑا ابھی پیرم بلور ضلع کے الاتھور بلاک میں تھینور گاؤں میں رہ رہا ہے اور روزانہ فیس بک لائیو کے ذریعے کووِڈ- ۱۹ اور اس سے جڑے موضوعات کے بارے میں گیتوں اور بات چیت کے ذریعے بیداری پھیلا رہا ہے۔ ’’ہمارے پروگرام کا نام کورونا کومبیڈو [کورونا نمستے] ہے۔ ہم نے یہ پروگرام لاک ڈاؤن کے دو دن پہلے شروع کیا تھا اور ہم اسے لاک ڈاؤن ختم ہونے تک جاری رکھیں گے۔‘‘

اس پروگرام کے پہلے دن، نئے گیت کے علاوہ، منی مارن نے اس کورونا وائرس کے دور میں سڑک پر رہنے والے لوگوں کی حالت کے بارے میں بات کی۔ دوسرے دن انہوں نے بتایا کہ بزرگ اس وائرس کی چپیٹ میں کتنی آسانی سے آ سکتے ہیں۔ تیسرے دن جب انہوں نے بچوں کے بارے میں بات کی، تو انہوں نے مشورہ دیا کہ بچوں کو مصروف رکھنے میں روایتی کھیل کیسے مدد کر سکتے ہیں۔ چوتھے دن، انہوں نے مخنثوں کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ اس لاک ڈاؤن کے وقت وہ کیسی مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

منی مارن نے کہا، ’’ہمیں ان لوگوں کے بارے میں اس آفت کے دور میں ہی نہیں، بلکہ عام دنوں میں بھی سوچنا چاہیے۔ میں یہ اپنے فیس بک لائیو میں بھی بولتا ہوں۔ لیکن جب ہم اس وقت ایسا کہتے ہیں، تب ہم اس نفسیاتی بحران کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس میں وہ کورونا کی وجہ سے ہیں، اور اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ایسے وقت میں اس پیغام کو اور بھی زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar

اوپر بائیں: کلاسیکی شاعر تھیروولّوور کے مجسمہ کے ساتھ بیٹھے منی مارن اور ماگیژینی۔ ان کا گروپ پرئی کے توسط سے تھیروکّورَل شاعری پر سیریز بنا رہا ہے۔ اوپر دائیں: پرئی سیکھنے والوں کے ساتھ منی مارن اور ماگیژینی۔ نیچے والی لائن: منی مارن اور ان کا گروپ رات میں پرئی پیش کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

پایِر – ایک تنظیم ہے جو پیرم بلور کے کچھ گاؤوں میں ترقیاتی کام کر رہا ہے – کے ساتھ مل کر منی مارن کو امید ہے کہ وہ بچوں کے لیے کچھ ایسے نئے کھیل بنا سکتے ہیں، جو سماجی دوری قائم برقرار رکھتے ہوئے بچوں میں مضبوط سماجی قدروں کو سکھانے میں کام آئیں گے۔ پایِر کی نگہباں، پریتی زیویئر بتاتی ہیں، ’’ہم نے اس پر پہلے سے ہی کام کرنا شروع کر دیا ہے، لیکن اس وت ہم اپنے گاؤوں میں کووِڈ- ۱۹ کے بارے میں بیداری پھیلانے پر زیادہ دھیان دے رہے ہیں کیوں کہ یہ نئی چیز ہے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ ہم جلد ہی منی مارن اور ماگیژینی کے ساتھ بچوں کے کھیلوں پر کام کرنا شروع کریں گے۔‘‘

منی مارن مانتے ہیں کہ یہ فنکاروں کے لیے بہت ہی مشکل کا وقت ہے۔ ’’مقامی فنکاروں کے لیے کسی بھی آفت کے وقت لوگوں کے ساتھ موجود ہونا عام بات ہے۔ اس لیے، اس وقت سماجی دوری بناکر رکھنا، الگ رہنا، تھوڑا پریشان کرتا ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت، جن فنکاروں کی روزی روٹی جا سکتی ہے، سرکار کو ان فنکاروں کے لیے کچھ راحت فراہم کرنا چاہیے۔ وہ اپیل کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اس کے بدلے میں ہم سوشل میڈیا پر اپنے فن کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اقتصادی طور پر مقامی فنکاروں کو بہت نقصان ہوا ہے، اس لیے اس سرکار کو ایسا کچھ کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘‘

کوئی راحت چاہے ملے یا نہ ملے، منی مارن اور ماگیژینی آپ کے دل سے کورونا وائرس کا ڈر نکالنے کے لیے اسی طرح سے گاتے اور بجاتے رہیں گے۔ ’’ہم کوشش کریں گے کہ لوگ بیدار رہیں اور ہم وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی لگاتار کوشش کرتے رہیں گے۔ اور آخر میں جب ہمیں وائرس سے چھٹکارہ ملے گا، تب ہم پرئی بجاکر جشن منائیں گے۔‘‘

کورونا گیت کا ترجمہ

تانا تن تانا

کورونا کا ننگا ناچ جاری ہے

 

ایسے کئی لوگ ہیں

جو افواہ پھیلا رہے ہیں

 

ایسی افواہوں پر دھیان نہ دیں

کسی کو نیچا نہ دکھائیں

 

افسردگی کا کوئی فائدہ نہیں

ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں

 

طریقے ڈھونڈیں

کورونا کے حملے کو روکنے کے

 

کورونا کو پاس آنے سے روکنے کے لیے

اپنی ناک کو ڈھکیں

 

صرف بیداری ہی

کورونا کو روکے گی

 

جب ہم جسمانی دوری اپنائیں گے

تو کورونا بھی بھاگ جائے گا

 

تانا تن تانا

کورونا کا ننگا ناچ جاری ہے

 

فالتو افواہ نہ پھیلائیں، اسے روکیں!

 

کورونا نہیں پھیلتا ہے

گوشت مچھلی کھانے سے

 

کورونا نہیں چھوڑتا

سبزی خوروں کو بھی

 

تمام ملک ہیں

دہشت کی حالت میں

 

کھوج میں لگے ہیں سبھی

اس کی جڑ کھوجنے میں

 

ایسا کھانا کھائیں، جو آپ کو مضبوط بنائے

 

اپنے آپ کو بچائیں

اور جھوٹ کو پھینک ہٹائیں

 

جو کھانسیں ان سے دور رہیں

جو چھینکیں ان سے دوری بنائیں

 

لمبے چلتے بخار سے ہوشیار رہیں

سانس کی تکلیف سے محتاط رہیں

 

اگر سب آٹھ دنوں تک چلے تو

کورونا ہو سکتا ہے

 

فوراً ڈاکٹر کے پاس جائیں

کورونا کو گھٹائیں

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Kavitha Muralidharan

کویتا مرلی دھرن چنئی میں مقیم ایک آزادی صحافی اور ترجمہ نگار ہیں۔ وہ پہلے ’انڈیا ٹوڈے‘ (تمل) کی ایڈیٹر تھیں اور اس سے پہلے ’دی ہندو‘ (تمل) کے رپورٹنگ سیکشن کی قیادت کرتی تھیں۔ وہ پاری کی رضاکار (PARI volunteer) ہیں۔

Other stories by Kavitha Muralidharan