مجھے یہ گیت لکھنا پڑا کیوں کہ دنیا اس وقت بہت ہی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ جب ہم میں سے کچھ لوگوں نے لاک ڈاؤن کو نافذ کیا اور خود کو اپنے گھروں میں بند کر لیا، تب ہمیں شاید ہی اس بات کی توقع تھی کہ سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں لوگ اپنے دور دراز کے گھروں کی جانب چلنا شروع کر دیں گے۔ اس سے مجھے کافی تکلیف ہوئی اور میں تڑپ اٹھا۔ ہمارے اعلی ترقی یافتہ ملک میں، ایک انتہائی عظیم ملک، جس ملک میں ہم کئی شعبوں میں سب سے آگے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کروڑوں لوگ لمبی دوری طے کر رہے تھے – بس ایک قیام گاہ کے لیے، اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر پر رہنے کے لیے۔ اس نے مجھے غمگین کر دیا۔

’گھر پر رہیں‘؟ کتنے لوگوں کے پاس اپنا گھر ہے؟ اتنے کلومیٹر چلنے کے بعد، کچھ لوگوں کی راستے میں ہی موت ہو گئی۔ وہ پیر، وہ بچے، میں نے جب ان تصویروں کو دیکھا، تو میں اس درد، اس تکلیف کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارے ملک تک ہی محدود ہے؛ پوری دنیا اس بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ میں مہاجرین کے دکھ کے بارے میں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والوں کے بارے میں بولنا چاہتا تھا – جب کہ بہت سے لوگ کورونا وائرس کے بارے میں تو سوچ رہے ہیں، لیکن دیگر انسانوں کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔ اسی تکلیف نے مجھے یہ گیت بنانے پر مجبور کیا۔

میں اس من کا مسافر ہوں، جو دنیا کو دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے پار جانا چاہتا ہے۔ میرے دل میں دوسرے انسانوں کے لیے بے انتہا محبت ہے، جن کی زندگی کا میں تصور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ گیت ان دونوں جذبات کا بھی نتیجہ ہے۔

ویڈیو دیکھیں: لاک ڈاؤن میں مہاجرین کا لمبا مارچ

PHOTO • Nityanand Jayaraman

گیت کے الفاظ یہ ہیں:

نہ جانے گھر پر ننھے منے کیسے ہیں؟
نہ جانے میری بوڑھی ماں انہیں کیا اور کیسے کھلاتی ہے؟

زندہ رہنے کے لیے ہم روز محنت کرتے ہیں 
ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کر دیے گئے ہجرت پر مجبور

یہ ملک ہو سکتا ہے عظیم
لیکن ہماری زندگی ہے خستہ حال

اس فاسد بیماری نے ہمارے اوپر حملہ کیا
اور ہماری زندگیاں کر دیں برباد

یہ کیسی زندگی ہے؟ یہ کیسی زندگی ہے؟
منحوس زندگی، بے رحم زندگی
نفرت آمیز زندگی، بکھری ہوئی زندگی

کیا کوئی بیماری غریبی سے بھی بدتر ہے؟
کیا اپنی فیملی کے ساتھ رہنے سے بھی بڑی کوئی تسلی ہے؟

اس مشکل گھڑی میں بس اپنے گھر پر ہونا ہی کافی ہوتا
کچھ ساگ سبزی کھاکر ہم کم از کم ایک ساتھ تو جی رہے ہوتے

بچوں کی اچھل کود ہر وقت میری نظروں میں رہتی ہے
میری بیوی کی آہ وزاری ہر وقت میرا پیچھا کرتی ہے

کیا کروں، میں کیا کروں؟ میں کیا کرنے والا ہوں؟
کیا کروں؟ میں کیا کر سکتا ہوں؟

بسوں یا ٹرینوں کی کوئی ضرورت نہیں، اے سارو
بس مجھے جانے دو، صاحب! میں پیدل ہی گھر چلا جاؤں گا

بسوں یا ٹرینوں کی کوئی ضرورت نہیں، اے سارو
بس مجھے جانے دو، صاحب! میں پیدل ہی گھر چلا جاؤں گا

نہ جانے گھر پر ننھے منے کیسے ہیں؟
نہ جانے میری بوڑھی ماں انہیں کیا اور کیسے کھلاتی ہے؟

نہ جانے گھر پر ننھے منے کیسے ہیں
نہ جانے میری بوڑھی ماں انہیں کیا اور کیسے کھلاتی ہے؟

مجھے جانے دو، اے سارو! میں پیدل ہی گھر چلا جاؤں گا!
مجھے جانے دو، صاحب! میں اپنے گھر چلا جاؤں گا!


موسیقار، نغمہ نگار اور گلوکار: آدیش روی

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Aadesh Ravi

آدیش روی حیدرآباد کے ایک موسیقار، نغمہ نگار، تیلگو فلم صنعت کے گلوکار ہیں۔

Other stories by Aadesh Ravi