’’مقدس دھواں!‘‘ صبح کی فلٹر کافی کا کپ نیچے رکھتے ہوئے اس نے کہا۔ اب وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا فون پکڑے ہوئے، اسے اپنے شوہر کے لیے اونچی آواز میں پڑھتی ہے، جو اپنے دفتر کے ای میل میں مصروف تھا: ’’مہاراشٹر میں اورنگ آباد کے پاس مال گاڑی کے ذریعے ۱۶ مہاجر مزدور کچل دیے گئے – تم نے یہ دیکھا؟ کیا تماشہ چل رہا ہے؟‘‘ خاموشی چھا جانے سے ایک منٹ پہلے کافی اتنی ٹھنڈی ہو چکی تھی کہ اس کی چسکیاں لیتے ہوئے آگے کی باقی اسٹوری پڑھی جا سکے۔ ’’ہے بھگوان! اتنے سارے لوگ – اور وہ سبھی کہاں سے آئے تھے؟‘‘ پہلے کے مقابلے اس بار اس کی آواز میں حیرت زیادہ تھی۔

’’وہ بتا رہے ہیں کہ اس گروپ کے کچھ لوگ امریا کے تھے۔ منو، کیا ہم پچھلے دسمبر میں اس جگہ پر نہیں گئے تھے؟‘‘ اس چھٹی کے ذکر نے کم بخت ای میل میں دوبارہ مصروف ہونے سے پہلے اسے تھوڑی دیر کے لیے اوپر دیکھنے اور اس کا دل رکھنے کے لیے مجبور کیا۔ ’’ہاں،‘‘ اس نے کہا۔ ’’باندھو گڑھ نیشنل پارک۔ مدھیہ پردیش کے سب سے پس ماندہ ضلعوں میں سے ایک میں۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ یہ لوگ کام کی تلاش میں اتنا دور چل کر جالنہ آئے ہوں گے۔ لیکن پٹریوں پر سونا؟ وہ اتنے بیوقوف بھی ہو سکتے ہیں؟‘‘

’’اوہ، کافی خوبصورت تھا،‘‘ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور سیارے پر پہنچ گئی ہے، ‘‘شیش شیا یاد ہے؟ وشنو کی وہ عظیم مورتی اور سال کے سرسبز جنگلات سے گھرے ہوئے جھرنے... لاک ڈاؤن ختم ہونے پر ہمیں وہاں دوبارہ جانا چاہیے...‘‘

سدھنوا دیش پانڈے کی آواز میں یہ نظم سنیں

Paintings by Labani Jangi, a 2020 PARI Fellow and a self-taught painter doing her PhD on labour migrations at the Centre for Studies in Social Sciences, Kolkata
PHOTO • Labani Jangi

پینٹنگ لبنی جنگی کی ہے، جو ۲۰۲۰ کے لیے پاری فیلو اور خود ساختہ مصور ہیں، اور کولکاتا کے سنٹر فار اسٹڈیز ان سوشل سائنسز سے مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں

کس نے؟

کس نے انہیں جلا وطن کیا؟
کس نے ان کے لیے دروازے بند کیے؟
کس نےانہیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا؟
کس نے ان کا معاش چھینا؟
کس نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں؟
کس نے انہیں گھروں میں قید کیا؟
کس نے ان کے بھولے ہوئے خواب
انہیں دوبارہ لوٹائے؟
کس نے ان کے پیٹ کی بھوکی آگ میں
ٹھنڈی آہیں بھر دیں؟

کس نے نمناک یادوں کے ساتھ
ان کا خشک حلق گھونٹ دیا؟
گھر، آنگن، گاؤں،
کھیت کا کنارہ اور
چھوٹے بچوں کی میٹھی آوازیں...
کس نے؟ کس نے ان سب کو پیک کر دیا
ان سوکھی روٹیوں
اور تیز مرچ کی چٹنی کے ساتھ؟
کس نے ہر ایک خشک نوالے کے ساتھ
باسی امیدیں ملا دیں؟

قسم سے، پٹریوں کے نیچے پڑے
سال کی لکڑیوں نے ہی
یہ کام کیا ہوگا
گاؤں کے کنارے کے جنگلات کو مدعو کرکے
ورنہ کون اتنا بیوقوف ہوگا
جو انہیں ریشمی گدّے فراہم کرے گا
سجے ہوئے خوابوں کے ساتھ؟
کون بد دعا دے گا
باندھو گڑھ کے سولہ بھائیوں کو
کہ وہ پتھر کے بن جائیں؟

کس نے ایسا کیا ہوگا کہ
ایک نہیں، دو نہیں،
بلکہ سولہ وشنو سو جائیں
شیش ناگ کے اوپر؟
کس نے ایسا کیا ہوگا کہ
گہرے سرخ رنگ کی چندر گنگا
ان کے پیر کی انگلیوں سے بہنے لگے؟
کس نے ان چپلوں کو
پٹریوں پر چھوڑا ہوگا؟
دیوتا ہمیں سزا دیں گے!

کس نے چھوڑی ہوں گی
وہ آدھی کھائی ہوئی روٹیاں
ریل کی پٹریوں پر
کس نے؟

آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے جن ناٹیہ منچ کے ایک اداکار اور ہدایت کار، اور لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر ہیں۔

نوٹ: جن مزدوروں کی موت ہوئی تھی، ان کے نام مراٹھی روزنامہ، لوک مت کے مطابق درج ذیل ہیں:

۱۔      دھن سنگھ گونڈ
۲۔      نرویش سنگھ گونڈ
۳۔      بدھ راج سنگھ گونڈ
۴۔      اچھے لال سنگھ
۵۔      ربیندر سنگھ گونڈ
۶۔      سریش سنگھ کول
۷۔      راج بوہرام پارس سنگھ
۸۔      دھرمیندر سنگھ گونڈ
۹۔      ویرندر سنگھ چین سنگھ
۱۰۔     پردیپ سنگھ گونڈ
۱۱۔     سنتوش ناپت
۱۲۔     برجیش بھیا دین
۱۳۔     منیم سنگھ شیو رتن سنگھ
۱۴۔     شری دیال سنگھ
۱۵۔     نیم شاہ سنگھ
۱۶۔     دیپک سنگھ

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Pratishtha Pandya

پرتشٹھا پانڈیہ احمد آباد یونیورسٹی کی فیکلٹی ممبر ہیں۔ وہ ایک شاعرہ اور مترجم ہیں، جو گجراتی اور انگریزی دونوں زبانوں میں کام کرتی ہیں۔ وہ پاری کے لیے بھی لکھتی اور ترجمہ کرتی ہیں۔

Other stories by Pratishtha Pandya