’’مجھے یہ مضحکہ خیز لگتا ہے کہ لوگ مول بھاؤ کر رہے ہیں،‘‘ آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹّنم ضلع میں تھاٹی مُنجالو، یا تارکون (تاڑ کے پھل) بیچنے والے کُپّا پپّلا راؤ نے کہا۔ ’’کئی لوگ بڑی کاروں میں آتے ہیں، صاف ستھرے ماسک پہن کر، اور مجھ سے ایک درجن منجالو کی قیمت ۵۰ روپے سے گھٹاکر ۳۰-۴۰ روپے کر دینے کی گزارش کرتے ہیں،‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

پپّلا راؤ حیران تھے کہ لوگ اس خریداری سے ۲۰ روپے بچاکر پتہ نہیں کیا کریں گے۔ ’’شاید انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ مجھے اس پیسے کی ان سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ عام حالات میں، اتنے پیسے میں میرے گھر تک کا بس کا ٹکٹ آ جائے گا۔‘‘

منجالو بیچنے والے کئی دیگر لوگوں کی طرح، ۴۸ سالہ پپّلا راؤ – جو ’تحفظ‘ کے لیے صرف خاکی رنگ کے پرانے کپڑے کا ماسک پہنے ہوئے تھے – ۲۹ مئی کو وشاکھا پٹّنم شہر میں اندرا گاندھی زولوجیکل پارک کے پاس، قومی شاہراہ ۱۶ پر اپنا کاروبار چلا رہے تھے۔ وہ گزشتہ ۲۱ برسوں سے اپریل اور مئی کے مہینے میں تاڑ کے پھل فروخت کر رہے ہیں۔ ’’پچھلے سال، ہم نے تقریباً ۷۰۰-۸۰۰ روپے یومیہ کمائے تھے – منجالو نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا،‘‘ انہوں نے کہا۔

لیکن، اس سال منجالو فروشوں نے کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب ان اہم ہفتوں کو کھو دیا۔ انہوں نے صرف مئی کے آخری ہفتے میں پھل بیچنا شروع کیا۔ ’’ہم نہ تو پھل فروخت کر سکتے تھے اور نہ ہی کہیں اور کام کر سکتے تھے،‘‘ پپّلا راؤ کی بیوی، ۳۷ سالہ کُپّا رما نے ایک گاہک کے لیے ایک درجن تارکون پیک کرتے ہوئے کہا۔ وہ اور پپّلا راؤ منجالو بیچنے کے لیے وشاکھا پٹّنم ضلع کے آنند پورم منڈل میں واقع اپنے گھر سے ۲۰ کلومیٹر دور ایک ساتھ سفر کرتے ہیں۔

’’اس سال اچھی فروخت نہیں ہوئی۔ ہم ایک دن میں صرف ۳۰-۳۵ درجن منجالو فروخت کر سکتے ہیں،‘‘ رما نے بتایا۔ ’’دن کے آخر میں، گاڑی کا کرایہ اور کھانے کا خرچ نکالنے کے بعد ہمارے پاس صرف ۲۰۰-۳۰۰ روپے بچتے ہیں،‘‘ پپّلا راؤ نے پچھلے سال کے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا، جب انہوں نے ایک دن میں ۴۶ درجن تارکون بیچے تھے۔ اس سال، وہ اور رما ۱۶ جون تک صرف ۱۲ دن تک ہی منجالو فروخت کر سکے تھے۔ سیزن چونکہ ختم ہو رہا ہے، اس لیے جون میں ان کی فروخت گھٹ کر ایک دن میں تقریباً ۲۰ درجن رہ گئی تھی۔

PHOTO • Amrutha Kosuru

۲۹ مئی کو وشاکھا پٹّنم شہر میں این ایچ ۱۶ کے پاس گاہکوں کا انتظار کر رہے کُپّا پپّلا راؤ نے کہا، ’منجالو نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا ہے‘

اپریل اور مئی کے مہینوں میں، تھاٹی منجالو تاڑ کے درختوں پر بڑی مقدار میں پھلتے ہیں۔ یہ درخت اپنے میٹھے رس سے بنی تاڑی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے۔ پپّلا راؤ جیسے لوگ ہر موسم میں تاڑی نکالنے اور منجالو توڑنے کے لیے ۶۵ فٹ یا اس سے اونچے تاڑ کے درختوں پر چڑھتے ہیں۔

تاڑ کا پھل، جسے تارکون بھی کہتے ہیں، ناریل جیسا دکھائی دیتا ہے اور درخت پر یہ گچھوں میں پھلتا ہے۔ بیضوی شکل اور ہرے کالے رنگ کی چھال کے اندر بیج ہوتے ہیں، جن میں پانی جیسا سیال مادّہ ہوتا ہے۔ منجالو کا یہ نرم حصہ، جسے کووا بھی کہتے ہیں، جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ اس لیے گرمیوں میں اس پھل کی کافی مانگ ہوتی ہے – تاڑی سے بھی زیادہ – پپّلا راؤ نے کہا۔

منجالو کے موسم میں، پپّلا راؤ پھل توڑنے کے لیے کم از کم چار درختوں پر، دن میں دو بار چڑھتے ہیں۔ ’’اس میں وقت لگتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’ہم پھل والے تاڑ کے درختوں کو ڈھونڈنے کے لیے صبح میں ۳ بجے گھر سے نکلتے ہیں۔‘‘

سویرے نکلنے سے انہیں اور رما کو صبح ۹ بجے تک شہر پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے، ’’اگر میں نے بہت زیادہ اکٹھا کر لیا، تو ہم آٹو رکشہ پکڑتے ہیں [جو لاک ڈاؤن میں ڈھیل کے بعد چلنے لگا تھا]۔ آج کل ہمیں آنند پورم سے وشاکھا پٹّنم جانے اور پھر وہاں سے واپس آنے کے لیے آٹو رکشہ پر ۶۰۰ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ ورنہ، ہم بس پکڑتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ پچھلے سال آٹو کا کرایہ کم تھا، تقریباً ۴۰۰-۵۰۰ روپے، انہوں نے کہا۔ آنند پورم سے شہر کے لیے بسیں بہت کم چلتی ہیں، اور لاک ڈاؤن میں تو بالکل بھی نہیں چل رہی تھیں۔

’’پھل ۳-۴ دنوں میں مُدُرو ہو جاتے ہیں [بہت زیادہ پک جاتے ہیں]،‘‘ رما نے کہا ’’اور پھر ہم بنا کام کے اور بنا پیسے کے رہ جائیں گے۔‘‘ ان کا اپنا کوئی بچہ نہیں ہے، اس لیے ان کے ۱۹ سالہ بھتیجے، گورلو گنیش نے اس سال پھل بیچنے میں ان کی مدد کی۔

Inside the unhusked thaati kaaya is the munjalu fruit. It's semi-sweet and juicy, and in great demand during summers – even more than toddy – said Pappala Rao
PHOTO • Amrutha Kosuru
Inside the unhusked thaati kaaya is the munjalu fruit. It's semi-sweet and juicy, and in great demand during summers – even more than toddy – said Pappala Rao
PHOTO • Amrutha Kosuru

بنا چھیلے ہوئے تھاٹی کایا کے اندر مُنجالو پھل ہوتا ہے۔ یہ ہلکا میٹھا اور رس دار ہوتا ہے، اور گرمیوں کے دوران اس کی کافی مانگ ہوتی ہے – تاڑی سے بھی زیادہ – پپّلا راؤ نے کہا

ہر سال، جنوری سے مارچ تک، پپّلا راؤ تاڑ کے درختوں سے تاڑی بھی نکالتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اور رما اسے وشاکھا پٹّنم شہر میں کومّاڈی جنکشن کے پاس بیچتے ہیں – چھوٹا گلاس ۱۰ روپے میں اور بڑا گلاس ۲۰ روپے میں۔ کسی کسی دن وہ صرف ۳-۴ گلاس بیچتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ایک دن میں وہ ۷۰ روپے سے لیکر ۱۰۰ روپے تک بھی کماتے ہیں۔ تاڑی سے وہ ہر مہینے میں تقریباً ۱۰۰۰ روپے کماتے ہیں۔ جولائی سے دسمبر تک، وہ شہرمیں تعمیراتی مقامات پر یومیہ مزدوری کرتے ہیں۔

وشاکھا پٹّنم میں مصروف قومی شاہراہ، پپّلا راؤ اور رما کے لیے تارکون بیچنے کی ایک موزوں جگہ ہے۔ وہ یہاں پر تقریباً ۵-۶ گھنٹے گزارتے ہیں، اور دوپہر ۳ بجے تک گھر لوٹ آتے ہیں۔

شاہراہ پر پپّلا راؤ اور رما سے کچھ فٹ کی دوری پر این اپّا راؤ، گوتھلا راجو اور گنّے ملّا سورپّڈو بھی تھے – ہر کوئی کچھ میٹر کی دوری پر بیٹھا ہوا تھا، جیسے کہ وہ جسمانی دوری کے اصولوں پر عمل کر رہے ہوں۔ ان میں سے ہر کوئی تھاٹی کایا کو چھیل رہا تھا، جسے وہ آٹو رکشہ سے لائے تھے۔ وہاں سے کئی گاڑیاں گزریں، لیکن بہت کم لوگ اسے خریدنے کے لیے رکے۔

ویڈیو دیکھیں: ’منجالو کاٹنا ایک فن ہے، کام نہیں‘

منجالو بیچنے والوں میں سے ہر کوئی تھاٹی کایا (تاڑ کے پھل یا تارکون) کو چھیل رہا تھا، جسے وہ ایک آٹورکشہ میں رکھ کر لائے تھے۔ وہاں سے کئی گاڑیاں گزریں، لیکن بہت کم لوگ اسے خریدنے کے لیے رکے

’’ہم تین سال پہلے اسے لائے تھے،‘‘ سورپّڈو نے اپنے پانچ سیٹوں والے آٹو رکشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’اس میں منجالو کو لانا آسان ہے۔‘‘ اس موسم میں، ۲۹ مئی کو منجالو بیچنے کا ان کا یہ صرف دوسرا دن تھا۔ ’’ہم آمدنی کو برابر برابر تقسیم کرتے ہیں۔ کل، ہم میں سے ہر ایک کو ۳۰۰ روپے ملے تھے،‘‘ اپّا راؤ نے کہا۔

اپّا راؤ، راجو اور سورپّڈو آنند پورم کے ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بینک سے قرض لینے کے بعد آٹو خریدا تھا۔ ’’عام طور پر ہم ماہانہ قسط [۷۵۰۰ روپے] ادا کرنا نہیں بھولتے، لیکن پچھلے تین مہینوں سے ہم ای ایم آئی نہیں چکا پائے ہیں،‘‘ سورپّڈو نے کہا۔ ’’بینک سے ہمارے پاس لگاتار فون آتا ہے۔ وہ کم از کم ایک مہینہ کی قسط جمع کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ہمارے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اس بات کو وہ سمجھ نہیں رہے ہیں۔‘‘

جب وہ تاڑ کے پھل نہیں بیچ رہے ہوتے ہیں، تو تینوں باری باری آٹو سے مسافروں کو لانے لے جانے کا کام کرتے ہیں، اور اس آمدنی کو بھی آپس میں برابر برابر بانٹتے ہیں – لاک ڈاؤن سے پہلے، قرض کی اپنے حصے کی قسط نکالنے کے بعد، ۵-۷ ہزار روپے ماہانہ۔

’’پچھلے سال، ہم نے تارکون بیچنے کے لیے انہیں اپنے آٹو میں رکھ کر کئی گلیوں کے چکّر لگائے تھے۔ تب ہم نے کافی پیسے کمائے تھے،‘‘ اپّا راؤ نے کہا۔ ’’یہ سال ہمارے لیے اچھا نہیں رہا۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم زندہ رہیں گے اور یہ ہمارا آخری سال نہیں ہوگا۔‘‘

Left: N. Apparao, Guthala Raju and Gannemalla Surappadu,  sitting a couple of metres apart, as if following physical distancing norms. Right: 'We pooled in and brought this three years ago', Surappadu said. 'The bank keeps calling us, asking us to pay at least one month's instalment'
PHOTO • Amrutha Kosuru
Left: N. Apparao, Guthala Raju and Gannemalla Surappadu,  sitting a couple of metres apart, as if following physical distancing norms. Right: 'We pooled in and brought this three years ago', Surappadu said. 'The bank keeps calling us, asking us to pay at least one month's instalment'
PHOTO • Amrutha Kosuru

بائیں: این اپّا راؤ، گوتھلا راجو اور گنّے ملّا سورپّڈو، ایک دوسرے سے کچھ میٹر کی دوری پر بیٹھے ہوئے، گویا جسمانی دوری کے اصولوں پر عمل کر رہے ہوں۔ دائیں: ’ہم تین سال پہلے اسے لائے تھے،‘ سورپّڈو نے کہا۔ ’بینک سے ہمارے پاس لگاتار فون آتا ہے۔ وہ کم از کم ایک مہینہ کی قسط جمع کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں‘

اپنی موجودہ پریشانیوں کے باوجود، ۱۵ سال سے منجالو فروخت کر رہے سورپّڈو کو امید ہے کہ وہ جب تک اس کام کو کر سکتے ہیں، تب تک کرتے رہیں گے۔ ’’مجھے منجالو کاٹنا پسند ہے۔ یہ ایک طرح کی طمانیت بخشتا ہے،‘‘ زمین پر بیٹھ کر تاڑ کے پھل کو کاٹتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ یہ کام سے زیادہ ایک فن یا ہنر ہے۔‘‘

شاہراہ سے تقریباً سات کلومیٹر دور، ایم وی پی کالونی میں، ۲۳ سالہ گُنڈے بُلا ایشور راؤ ۲۹ مئی کو اپنے چچیرے بھائی، آر گوتم کے ساتھ تارکون سے بھرا اپنا آٹو چلا رہے تھے۔ ایشور آنند پورم منڈل کے کولاونی پالم گاؤں سے ہیں، اور پھل بیچنے کے لیے انہوں نے، دیگر منجالو فروشوں کی طرح، اس سال کے شروع سے مئی کے آخری ہفتہ تک، تقریباً ۳۰ کلومیٹر کا سفر کیا تھا۔

ایشور ۱۳ سال کی عمر سے تقریباً ایک دہائی تک، تاڑ کے درختوں پر چڑھنے (پاسی) کا کام کرتے تھے۔ ’’پچھلے سال اپریل میں، تاڑی نکالنے کے لیے درخت پر چڑھتے وقت، ایک کونڈا چیلوا [ہندوستانی اجگر] نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ میں نیچے گرا، جس سے میرے پیٹ میں چوٹ لگ گئی،‘‘ انہوں نے کہا۔ ان کی آنتیں زخمی ہو گئی تھیں، اور انہیں آپریشن کرانا پڑا، جس پر ایک لاکھ روپے کا خرچ آیا تھا۔

’’اس کے بعد میں تاڑ کے درخت پر نہیں چڑھا۔ اس کے بجائے، میں دوسرا کام کرنے لگا،‘‘ ایشور نے کہا۔ وہ بھیمونی پٹنم منڈل اور وشاکھا پٹنم کے روشی کونڈا علاقے میں تعمیراتی مقامات سے ملبہ اٹھانے اور گھاس پھوس کی صفائی کا کام کرنے لگے، جس کے انہیں ایک دن میں صرف ۷۰ روپے ملتے تھے۔ لیکن کئی ہفتوں تک وہ سبھی مقامات بند ہونے سے، انہوں نے کہا، ’’اس لاک ڈاؤن نے مجھے منجالو کے لیے دوبارہ درختوں پر چڑھنے پر مجبور کر دیا۔‘‘

Eeswar Rao (left) had to climb palm trees again despite an injury, to survive the lockdown. He and his cousin R. Gowtham (right) bring the munjalu to the city
PHOTO • Amrutha Kosuru
Eeswar Rao (left) had to climb palm trees again despite an injury, to survive the lockdown. He and his cousin R. Gowtham (right) bring the munjalu to the city
PHOTO • Amrutha Kosuru

ایشور راؤ (بائیں) کو، لاک ڈاؤن میں زندہ رہنے کے لیے، ایک بار زخمی ہونے کے باوجود پھر سے تاڑ کے درختوں پر چڑھنا پڑا۔ وہ اور ان کے چچیرے بھائی، آر گوتم (دائیں) منجالو لیکر شہر آتے ہیں

’’شروع میں تو میں ڈرا ہوا تھا، لیکن میں اپنی فیملی کی مدد کرنا چاہتا تھا،‘‘ انہوں نے بتایا۔ وہ دن میں تین بار ۶-۷ درختوں پر چڑھتے تھے، جب کہ ان کے والد، ۵۳ سالہ گنڈے بُلا رمنا ۳-۴ درختوں پر چڑھتے تھے۔ ایشور کا بھائی تعمیراتی مقامات پر کام کرتا ہے، اور ان کی فیملی میں ان کی ماں، جو کہ ایک خاتون خانہ ہیں، اور ایک چھوٹی بہن ہے۔

اس سال جنوری میں، یہ فیملی آٹو رکشہ خریدنے کے لیے ایشور کے نام پر، ۶۵۰۰ روپے ماہانہ قسط پر (ساڑھے تین سال کے لیے) بینک سے قرض حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ’’میں نے جنوری اور فروری میں آٹو چلاکر اچھی کمائی کی – ۳-۴ ہزار روپے ماہانہ۔ مارچ میں یہ گھٹ کر صرف ۱۵۰۰ روپے رہ گئی تھی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ مجھے دوبارہ تاڑ کے درختوں پر چڑھنے اور مزدوری کرنے کے کام پر لوٹنا ہوگا،‘‘ ایشور نے کہا، جنہوں نے اپریل سے ای ایم آئی نہیں بھرا ہے۔

کووڈ-۱۹ وبا سے پہلے، ایشور کی فیملی کی کل ماہانہ آمدنی ۷-۹ ہزار روپے تھی۔ ’’ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ اتنے پیسے سے ہمارا کام چل جائے،‘‘ انہوں نے کہا۔ پیسہ جب کم پڑتا ہے، تو وہ فیملی کے ممبران سے قرض لیتے ہیں۔ انہوں نے مارچ میں اپنے چچا سے ۱۰ ہزار روپے قرض لیے تھے۔

ایشور نے اس سال ۱۸ جون تک، ۱۵-۱۶ دن ہی مُنجالو بیچا تھا۔ ’’مجھے لگا تھا کہ یہ سال اچھا رہے گا۔ میں نے سوچا تھا کہ میں اپنی بہن کو دوبارہ اسکول بھیج پاؤں گا،‘‘ انہوں نے ۱۵ سالہ گنڈے بُلا سپرجا کے بارے میں کہا، جسے فیملی کی مالی پریشانیوں کے سبب ۲۰۱۹ میں اسکول کی تعلیم چھوڑنی پڑی تھی۔

اسی سیزن میں، ۲۹ مئی تک، مُنجالو بیچنے سے ان کی سب سے زیادہ یومیہ کمائی ۶۰۰ روپے ہوئی تھی۔ ’’لیکن مجھے بعد میں احساس ہوا کہ ۱۰۰ روپے کا نوٹ پھٹا ہوا تھا،‘‘ انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا۔ ’’کاش ایسا نہیں ہوتا۔ سچ میں۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Amrutha Kosuru

امریتا کوسورو وشاکھاپٹنم میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔ وہ ایشین کالج آف جرنلزم، چنئی سے گریجویٹ ہیں۔

Other stories by Amrutha Kosuru