uploads/Articles/Priyanka Kakodkar/PK TOI series /screen_shot_2015-04-23_at_12.48.32_pm.png


بیڈ: اپنے گاؤں میں وہ ’’بورویل مین‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ گرم اور خشک اشٹی تعلقہ میں، ایسا لگتا ہے کہ ہر کسی کو وشومبر جگتاپ کے گھر کا پتہ معلوم ہے۔ قحط سے متاثرہ بیڈ میں انار کی کھیتی کرنے والے کسان، جگتاپ ایک مقامی طور پر ایک مشہور شخص ہیں۔ ان کے کھیت میں ۴۸ بورویل ہیں۔

ان میں سے بعض ۱،۰۰۰ فٹ گہرے ہیں۔ یعنی ممبئی کی ۶۰ منزلہ بلند عمارت کی لمبائی سے بھی زیادہ۔

’’اس سال میں نے صرف ایک بورویل کھودا ہے،‘‘ جگتاپ اچھے مزاج کے ساتھ بتاتے ہیں۔ ان کا شمار یہاں کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے، ان کے پاس ۱۸ ایکڑ کا پلاٹ ہے۔

سال ۲۰۰۵ سے، جگتاپ نے بغیر بارش اور غیر سینچائی والے اس علاقے میں اپنی کھیتی کو زندہ رکھنے کے لیے تیزی سے بورویل کھودے ہیں۔ لیکن ان سب کا ذریعہ وہی زیر زمین پانی ہے، جو چند مہنیوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ ’’میرے ۴۸ بورویلس میں سے صرف ۱۵ کام کر رہے ہیں،‘‘ وہ تسلیم کرتے ہیں۔

یہ وہ کام ہے، جس پر جگتاپ لاکھوں روپے خرچ کر چکے ہیں۔ ہر بورویل، جسے زیادہ تر جنوبی ہند کے رِگ آپریٹرس نے کھودا ہے، کی لاگت ۷۵،۰۰۰ روپے آتی ہے۔ آپ جتنی گہری کھدائی کریں گے قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی، وہ بتاتے ہیں۔

جگہ کا تعین کرنے کے لیے وہ مقامی پناڑی یا پیش بین پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے تحت ایک بڑی رسم ادا کرنی پڑتی ہے، جس میں ایک ناریل سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جادوئی طریقے سے پانی کی سمت میں گھومنے لگے گا۔ ’’میں نے ایک بار اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ لیکن وہاں پانی نہیں تھا،‘‘ وہ تسلیم کرتے ہیں۔


پانی کی سطح کم ہو رہی ہے

علاقے میں پانی کے بحران نے ہزاروں لوگوں کو غیر قانونی بورویل انڈسٹری کی جانب دھکیل دیا ہے، جو زیر زمین پانی کو نکال رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ مراٹھواڑہ کے ۷۶ تعلقے میں سے ۶۱ میں گزشتہ پانچ برسوں میں پانی کی سطح نیچے جا چکی ہے۔ کم از کم ۲۵ تعلقہ میں پانی کی سطح ایک سے دو میٹر نیچے جا چکی ہے۔

گراؤنڈ واٹر سروے اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی کی سال ۲۰۱۱ کی رپورٹ کے مطابق، پوری ریاست میں ۲ لاکھ سے زیادہ سینچائی کے بورویل اور ایک اعشاریہ ۶۹ گھریلو بورویل ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Priyanka Kakodkar/PK TOI series /Borewell/rescaled/1024/dsc_2652.jpg


کسان کنگال ہو رہے ہیں

بورویل کے جنون نے بہت سے کسانوں کو قرض کے دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ انھیں بورویل کی کھدائی کرنے والی طاقتور لابی نے کنگال بنا دیا ہے، مرکزی آبی وسائل کے سابق سکریٹری مادھو چِتالے کا کہنا ہے، جنہوں نے سینچائی گھوٹالے کی جانچ کی تھی

’’اس علاقے میں سخت پتھر کی وجہ سے ۲۰۰ فٹ کے آگے پانی حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے گہرائی میں جاکر کھدائی کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے،‘‘ چِتالے نشاندہی کرتے ہیں۔ اور ایک ایسے علاقے میں متعدد بورویل لگانے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا ہے، جہاں پانی کی سطح کم ہے، وہ مزید کہتے ہیں۔ وہ اس بات کی بھی وکالت کرتے ہیں کہ مراٹھواڑہ میں بڑی مقدار میں پانی جذب والے گنّے کی کھیتی پر پابندی لگا دینی چاہیے، تاکہ پانی کی سطح کو بحال کیا جا سکے۔


/static/media/uploads/Articles/Priyanka Kakodkar/PK TOI series /screen_shot_2015-04-23_at_12.48.57_pm.png


چِتالے نے ریاست کے اندر زیر زمین پانی کو نکالنے کے لیے نیا قانون بنانے کی اپیل کی ہے، جسے سال ۲۰۱۳ میں صدر کی منظوری مل چکی ہے۔ ’’اس میں اجتماعی کوشش سے زیر زمین پانی کے قانون کی وکالت کی گئی ہے۔ ذاتی مفادات اس کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہے ہیں،‘‘ چِتالے الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں۔

اورنگ آباد ڈویژنل کمشنر اوماکانت ڈانگٹ کا کہنا ہے کہ سرکار پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے گاؤں والوں کے درمیان پانی کے بجٹ اور خواندگی کی کوشش کر رہی ہے۔ ’’ہم واٹر اسٹوریج کو ڈی سنٹرلائز اور مائکرو اِری گیشن کو فروغ دے رہے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ کھیتی کے طریقے بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں۔

واپس اشٹی میں، جگتاپ شدید گرمی والے مہینوں سے خوفزدہ ہیں۔ انھیں دو مہینوں تک پانی کے ٹینکر بھی منگانے پڑیں گے، جس کی ایک دن کی قیمت ۳،۰۰۰ روپے ہے۔ مجموعی طور پر، انھیں ہر سال پانی پر کم از کم ۱۵ لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، جو کہ ان کی آمدنی کا ایک تہائی ہے۔ ’’چلئے کسی اور موضوع پر بات کرتے ہیں۔ پانی نی بورے کیلا (پانی نے مجھے تنگ کر دیا ہے)،‘‘ بورویل مین کہتے ہیں۔

رپورٹ ۷: اس اسٹوری کا پہلا ورژن  ٹائمز آف انڈیا میں ۲۷ مارچ، ۲۰۱۵ کو شائع ہوا


اس سیریز کی مزید کہانیاں:

رپورٹ ۱: تقریباً ۸۰۰۰ بےگھر بزرگ بھوکے رہنے پر مجبور 

رپورٹ ۲:  مہاراشٹر کے ۹۰ لاکھ کسان قحط کے شکار

رپورٹ ۳: قحط کے سبب خریف فصلیں برباد، دالیں جمع ہونے لگیں

رپورٹ ۴: مہاراشٹر میں کسانوں کی خودکشی میں ۴۰ فیصد کا اضافہ 

رپورٹ ۵:  خراب پیداور ۔ جہاں گاؤں والے گھڑے کو بھرنے کے لیے گھنٹوں کھدائی کرتے ہیں

رپورٹ ۶: قحط کے سبب مہاجرت نے بزرگوں کو کھیتی کا کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے 

رپورٹ ۸:  مہاراشٹر کے قحطزدہ کسانوں کو بینک کھاتہ نہ ہونے کی وجہ سے امداد دینے سے منع کر دیا گیا 

رپورٹ ۹: اپوزیش نے جب ٹائمز آف انڈیا کی خودکشی سے متعلق رپورٹوں کا حوالہ دیا تو مہاراشٹر حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسان بیمہ پر غور کر رہی ہے 

رپورٹ ۱۰: اسٹڈی: کسان نہیں، بلکہ زرعی کارپوریٹس قرض لے رہے ہیں 

رپورٹ ۱۱: ۲۵ ہزار روپے سے کم کے کسانوں کے لیے ڈائریکٹ لون ۲۳ فیصد سے گھٹ کر ۴ اعشراریہ ۳ فیصد پر پہنچ گئے 

رپورٹ ۱۲: مہاراشٹر کے ۷۰ ہزار چھوٹے باندھوں میں سے صرف ۱۲ فیصد کا استعمال ہوا 

رپورٹ ۱۳: بے موسم بارش: مہاراشٹر میں صرف ۳ مہینوں میں ۶۰۱ کسانوں کی خودکشی 

رپورٹ ۱۴:  ’بے موسم بارش کی وجہ سے مہاراشٹر کے صرف تین کسانوں نے اپنی زندگی ختم کرلی‘

رپورٹ ۱۵: کسانوں کی خودکشی کے کم واقعات پر ریاستی حکومت کی دلیل: صرف ۳ نے بارش کو قصوروار ٹھہرایا 

رپورٹ ۱۶: بیف پر پابندی، لیکن ریاستی حکومت کے ذریعے چلائی جارہی کوئی گئوشالہ نظر نہیں آتی

 

مصنفہ: پرینکا کاکودکر

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here: