پرشوتم رانا نے اس سال کپاس کی کھیتی کرنے کی کوشش کی، لیکن کم بارش ہونے کے سبب ان کی فصل سوکھ گئی۔ وہ چاہتے ہیں کہ سرکار اڑیسہ کی مریباہل تحصیل کے ان کے گاؤں، ڈومرپاڑہ میں سینچائی کا کوئی ٹھوس انتظام کرے اور کوئیں کھدوائے۔ یہ گاؤں بولانگیر ضلع میں ہے (مردم شماری میں اسے بلانگیر لکھا گیا ہے)، جہاں لگاتار خشک سالی پڑ رہی ہے۔

’’میری [مشترکہ] فیملی کی تقسیم میں، میری فیملی کو ایک ایکڑ ملا، لیکن زمین ابھی بھی میرے دادا کے نام پر درج ہے۔ میرے چھ بیٹے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی کھیتی نہیں کرتا۔ وہ مکانوں کی تعمیر کے مقامات پر یومیہ مزدور کے طور پر کام کرنے کے لیے ممبئی اور گجرات جیسی جگہوں پر جاتے ہیں،‘‘ ۶۵ سالہ رانا نے کہا، جو کسان مکتی مارچ میں حصہ لینے کے لیے ۲۹-۳۰ نومبر کو دہلی میں تھے۔

اسی گاؤں کے، ۵۷ سالہ جُگا رانا بھی مارچ میں موجود تھے۔ پانی کی کمی سے، ان کے ڈیڑھ ایکڑ کھیت پر لگی دھان کی فصل سوکھ گئی ہے، اور جُگا کو بیمہ کے طور پر صرف ۶۰۰۰ روپے ملے۔ یہ کسی بھی طرح کافی نہیں ہے، انھوں نے شکایت کی۔

مارچ میں، میں نے ساحلی اوڈیشہ کے لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ پوری ضلع کے ڈیلنگا بلاک کے سنگھ بے رحم پور پرباباد گاؤں کی منجو بہیرا (اوپر کی کور فوٹو میں، درمیان میں) نے کہا، ’’ہمارے پاس کوئی زمین نہیں ہے، ہم کسانوں کے کھیتوں میں کام کرکے اپنا معاش کماتے ہیں۔‘‘ گاؤں میں جب بھی کہیں کام دستیاب ہوتا ہے، تو وہ ۲۰۰ روپے یومیہ مزدوری کماتی ہیں۔ تقریباً ۴۵ سال کی منجو اپنے گاؤں کے کچھ دیگر لوگوں کے ساتھ دہلی آئی تھیں، وہ سبھی دلت برادریوں کے بے زمین مزدور تھے۔

’’ہمارے گاؤں کے کچھ بااثر کنبوں کو [اندرا آواس یوجنا کے تحت، جسے اب پردھان منتری آواس یوجنا – گرامین کے نام سے جانا جاتا ہے] ۲-۳ گھر دیے گئے، جب کہ ہم میں سے کسی کو ابھی تک ایک بھی گھر نہیں دیا گیا ہے!‘‘ اوڈیشہ کے ایک کارکن، ششی داس نے کہا، جو اس ریاست سے ریلی میں آئے کئی لوگوں میں سے ایک تھے۔

بولانگیر ضلع کے ایک چھوٹے سے شہر، کنٹا بنجی کے ایک وکیل اور حقوقِ انسانی کارکن، بشنو شرما (نیچے کی دوسری تصویر میں ایک کالا سویٹر پہنے) نے کہا، ‘‘ میں اس مارچ میں ہندوستان کے کسانوں کے مسائل اور ایشوز کو سمجھنے کے لیے شریک ہو رہا ہوں اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ آخر ہے کیا۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہو رہی ہے کہ کسان ان ایشوز کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں۔ مجھے ان ایشوز کے بارے میں بہت کچھ جاننا ہے۔ میں بولانگیر سے آیا ہوں، جس نے قحط اور فصل کے نقصان کو جھیلا ہے۔ لیکن جب میں یہاں آیا، تو مجھے احساس ہوا کہ کسانوں کو کئی دیگر چیلنجوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

شرما نے آگے کہا کہ انھیں دہلی مارچ سے حل نکلنے کی امید ہے۔ ’’ہم نے اپنے علاقے کے لوگوں کو ہجرت کرتے دیکھا تھا۔ یہاں، میں کسانوں سے بات کرنے کے بعد سمجھ گیا کہ یہ سبھی مسائل کھیتی سے متعلق ہیں۔ اگر زرعی مسائل کا حل نہیں نکالا گیا، تو نقل مکانی اور دیگر مسائل جاری رہیں گے۔‘‘

PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur
PHOTO • Purusottam Thakur

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur