/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /openingimagethumbnail.jpg

/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /openingimagethumbnail.jpg


۱۵ مارچ، ۲۰۱۴: آج، سیرھمون گاؤں کے کسان، ریاستی حکومت کے ذریعہ دی گئی آخری تاریخ پر عمل کرتے ہوئے، توئی لُت کے قریب کی پہاڑیوں پر آگ لگائیں گے۔ ہم لوگ دمپرینگ پوئی میں تھے، جو مغربی میزورم کا ایک دور افتادہ گاؤں ہے، جہاں سے ہم چاہتے تھے کہ لال سانگا اپنے آٹو رکشہ پر ہمیں بیٹھا کر اونچی نیچی پہاڑی سڑک سے توئی لُت لے جائیں۔

’’کیا آپ واقعی اتنی لمبی دوری کرکے وہ سب دیکھنا چاہتے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔ یہ سب سے شور والا، سب سے زیادہ گرم، اور سب سے زیادہ دیکھنے لائق آگ تھی، جسے میں نے اپنی زندگی میں اتنے قریب سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ جان بوجھ کر لگائی گئی آگ ہے، جو چند ہفتوں قبل موجود بانس کے گھنے جنگل کو جلا کر راکھ کر دے گی۔ اس کے باوجود، اس آگ کو کو تباہی کا باعث نہیں سمجھا جاتا، کیوں کہ اس نے ایک نئی شروعات کو جنم دیا۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/01_mizoram_trsr.jpg


میزورم کے آسمانوں سے، پہاڑیاں سبز قالین جیسی دکھائی دیتی ہیں، جس میں چھوٹے چھوٹے راستے نکلے ہوئے ہیں۔ بانس کے جنگلات چمکدار سبز اور ہلکے پیلے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں، جب کہ کٹے ہوئے بانس، جن کے رنگ تنکے کے ہیں، کھیتوں میں رکھے ہوئے دھوپ میں سوکھ رہے ہیں اور ترو تازہ بانس پشتوں اور وادیوں کے کنارے اونچے درختوں کے بیچ سے نکل رہے ہیں۔

مارچ کے مہینہ میں، میزورم کی پہاڑیوں میں زرعی کھیتوں میں آگ لگا دی جاتی ہے۔ یہ آگ ان لمبے چوڑے کھیتوں میں نظر آتی ہے، جہاں کسانوں نے ہفتوں پہلے ہی بانس اور جنگلات کی دیگر لکڑیاں کاٹ لی تھیں، تاکہ انھیں دھوپ میں خشک کیا جا سکے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/02_mizoram_trsr.jpg


بانس سے بنی ہوئی جھونپڑی کی کھڑکیاں، جو توئی لُت کے قریب گہری ڈھلان کی طرف کھلتی ہیں، ان سے کھیتوں، افتادہ زمینوں، جنگلات، اور سینگ متاوک لوئی (میزو بولی توانگ میں لوئی کا مطلب ہے ندی) کی وادی کا حسین نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ چاروں طرف، جنگلات احیاء کے مختلف ادوار میں بکھرے ہوئے ہیں، جہاں ماضی، حال اور مستقبل کے بہت سے کھیت دکھائی دے رہے ہیں۔

کھیتوں کا یہ شاندار نظارہ یہاں کی کاشت کاری کے غالب نظام کی وجہ سے ہے، جو اِن پہاڑی علاقوں میں کی جاتی ہے: یعنی چکردار کھیتی، جسے مقامی سطح پر ’لو‘ کہا جاتا ہے یا پورے شمال مشرقی ہندوستان میں اسے ’جھوم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/02a_mizoram_trsr.jpg


دن میں تقریباً ڈھائی بجے، چھ کسان تیزی سے چلتے ہوئے اس جھونپڑی کے پاس سے گزرتے ہیں، جو ڈھلان کی جانب، وادی کے دوسری طرف والی ڈھلان میں خشک بانس کے بڑے کھیت میں جا رہے تھے۔ میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہم آگ کی تصویریں کھینچ سکتے ہیں؛ وہ اپنی چال کو کم کیے بغیر ہمیں اس کی منظوری دے دیتے ہیں، انھیں وہاں پہنچ کر اپنا کام کرنے کی جلدی ہے۔

وہ کھیت میں پہنچتے ہیں اور نیچے جاکر گم ہو جاتے ہیں۔ وقت بہت ہی نازک ہے، اس لیے سارے کسان زوردار آواز میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ وہ خشک گھاس پھوس میں ماچس اور مشال کی مدد سے متعدد جگہوں پر آگ لگاتے ہیں۔ آگ فوراً لگ جاتی ہے اور تیزی سے پھیل جاتی ہے۔ آگ کی لپٹیں تیزی سے آگے بڑھتی جاتی ہیں اور تمام خشک چیزوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں، جب کہ یہ سارے آدمی تیزی سے ایک محفوظ مقام پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اونچائی پر ایک دوسری تیز ڈھلان کے پاس، دوسرا اکیلا کسان دو ہیکٹیئر کے اپنے چھوٹے سے کھیت میں آگ لگاتا ہے۔

سوکھے ہوئے بانس میں جیسے ہی آگ لگتی ہے وہ دھماکے کی آواز کے ساتھ پھٹنے لگتے ہیں، اور دھویں کا غبار پہاڑیوں پر چھا جاتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /03_mizoram_trsr.jpg


ہوا کی وجہ سے دھویں کا غبار اپنے ساتھ راکھ اور جلی ہوئی پتیوں کو دور اُڑا کر لے جاتا ہے اور پورا علاقہ گرد آلود ہو جاتا ہے۔ (پاس کے گاؤوں والے گرتی ہوئی راکھ سے ’جھوم‘ کے بارے میں جان جاتے ہیں، بھلے ہی وہ آگ کو دیکھ نہ سکیں۔) آگ تیز لگ جانے کے بعد، دوسری جانب کی ڈھلان پر جاتے ہوئے ہمیں تیز ہوا اور گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے، جیسے یہ آگ اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو کھا جائے گی۔ اور اس کے بعد اچانک، یہ آگ اتنی ہی تیزی سے بجھ بھی جاتی ہے، جتنی تیزی سے لگی تھی۔ دو ہیکٹیئر کھیت پندرہ منٹ سے بھی کم وقت میں جل کر خاک ہو جاتا ہے؛ اس سے دس گنا بڑے کھیت کو پوری طرح جلنے میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔

آگ ختم ہوتے ہی، افسردہ رنگ اور گرج کے بعد ایک بھورے رنگ کی مٹی نمودار ہوتی ہے اور کھیتوں سے خاموش دھواں نکلنے لگتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/03a_mizoram_trsr.jpg


اس عارضی آگ کی وجہ سے کھیتوں کے چند اور ہیکٹیئر کھیتی کے لیے کھل جاتے ہیں اور مٹی راکھ سے زرخیز ہو جاتی ہے۔ یہ آگ، جو عام طور پر کھیتوں کو ایک مخصوص نشان سے دوسرے نشان تک جلاتی ہے یا دائرہ کار شکل میں جلتی ہے، پوری طرح اپنے حدود میں رہتی ہے۔ اگر یہ زمین پر لگی ہوئی آگ کے طور پر پھیلنے لگے، تو اس کا مطلب ہے کہ آس پاس کھیتوں کا استعمال بدل گیا ہے۔

ایک جیسی شجرکاری، جس کا رواج دو دہائیوں قبل نہیں تھا (روغن تاڑ، ربر) یا اس علاقہ تک محدود تھا جن پر (ساگوان) کا قبضہ ہو رہا تھا یا روایتی ’جھوم‘ زمینوں کے قریب تھا۔ بانس کے جنگلات اس وقت بھی سرسبز رہتے ہیں، جب خشکی کا موسم اپنے عروج پر ہوتا ہے، جب کہ اس موسم میں ساگوان کے درخت بھورے ہوجاتے ہیں اور ان کے سارے پتے جھڑ جاتے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/03b_teak_trsr.jpg


جھڑے ہوئے پتوں والے ساگوان کے درختوں کے نیچے کم نشو و نما والے پودے آدھی خشک پتیوں والے ملتے ہیں، جو زمین کی بے حرمتی کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ پوری طرح جلے ہوئے ’جھوم‘ کھیت سبز بانس کے جنگلات میں سیاہ دھبے بناتے ہیں، جب کہ کبھی کبھار لگی آگ چاروں طرف بھاگتی ہے اور ساگوان کے درختوں کے نیچے کے خشک حصے کو جلا دیتی ہے۔

آگ لگنے کے چند ہفتوں بعد، مانسون سے قبل اور بعد کی موسلا دھار بارش شروع ہونے سے پہلے، کسان اگلے موسم کی فصل بوئیں گے۔ ہر چھوٹے کھیت میں، وہ دو درجن سے زیادہ قسم کی فصل اگاتے ہیں، جن میں چاول، سبزیاں، زیر زمین کھمبی، کیلا، مرچ اور نقدی فصلیں بھی شامل ہیں۔

فصل کی کٹائی کے بعد، کھیتوں کو کچھ دن آرام کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور کسان اگلے سال کی کھیتی کے لیے نئی جگہوں کو صاف کرنے نکل پڑتے ہیں۔ چھوڑے گئے کھیتوں میں، مٹی اور شجرکاری خود بخود شروع ہو جاتی ہے، کیوں کہ بانس کے جنگل دوبارہ اُگنے لگتے ہیں۔ کسان ان کھیتوں پر دوبارہ فصل اُگانے کے لیے تب لوٹیں گے، جب جنگل کو دوبارہ اُگنے کے لیے پورا وقت مل جائے گا۔

کیمیاوی کھاد یا حشرہ کش ادویات کا استعمال نہ ہونے کی وجہ سے، جھوم اب بھی پوری طرح آرگینک کھیتی کا ایک نظام ہے، جس کے تحت متعدد فصلیں اگائی جاتی ہیں، جو کہ میزورم ریاست اور صنعتی مفادات کے مد نظر جس شدید ایک فصلی کھیتی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس کے مقابلے زمین کے استعمال کا بہتر طریقہ ہے۔ پھر بھی، ’جھوم‘ کے خلاف شکایتوں کا انبار لگا رہتا ہے، اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کھیتی کا کافی پرانا اور تباہ کن طریقہ ہے؛ کم از کم اس لیے کہ اس طریقہ میں جنگلات کو بے دردی سے کاٹا اور جلایا جاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ کھیتی کے بارے میں یہ نہایت ہی محدود سوچ ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/06_beforeafterburn_trsr.jpg


شام کے وقت جب ہم لوگ توئی لُت سے واپس جا رہے تھے، میں نے جلی ہوئی ڈھلان، سرسبز جنگلات، اور سینگا متاوک لوئی کو وادی میں بہتے ہوئے دوبارہ پلٹ کر دیکھا۔ ’جھوم‘ کی تعریف کرنے کے لیے، آپ کو جلنے سے آگے دیکھنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ کیسے آئندہ برسوں میں تیزی سے بانس کے جنگل اُگ آتے ہیں، تاکہ ان زمینوں پر دوبارہ کھیتی ہو سکے۔ اور شاید آپ کے لیے یہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اس کی وجہ سے قسم قسم کا نظارہ آپ کو دیکھنے کو مل جاتا ہے، کہیں پر جنگلات ہیں، کہیں پر کھیت ہیں، کہیں خشکی کہیں سبزی، جیسا کہ اس کسان نے بانس کی جھونپڑی میں اس نظارہ کو دیکھنے کے لیے کھڑکیاں بنا رکھی ہیں۔

چاروں طرف بانس کا نظارہ


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/04a_mizoram_trsr.jpg


میزورم کی لوسھائی پہاڑیوں میں جھوم کا منظر، غالب بانس ہے ماؤتک، یہ بانس کی وہ نسل ہے جو کچھ برسوں کے لیے بیرن چھوڑی گئی زمین پر تیزی سے اُگتی ہے اور جو جھوم سسٹم کے لیے کافی اہم ہے۔ میزورم کے تقریباً ایک تہائی حصہ، یعنی سات ہزار مربع کلومیٹر زمین پر بانس کے جنگل ہیں، جن میں سے زیادہ تر چکر دار کھیتی یا جھوم کا ہی نتیجہ ہیں۔

ماؤتک کے علاوہ، میزورم میں دیسی بانس کی درجن بھر قسمیں ہیں، بشمول راونل (دیندروکلامس لونگی اسپاتھوس)، بڑی پھل روا (ڈی ہیمل ٹونی)، اور راوتھنگ (بمبوسا تلدا)، اور جنگلی بانس جیسے سائرل (میلوکلامس کمپیکٹی فلورا) اور نرم چلتھے (شیزوستا چیم پولی مورفم)۔ کم از کم دو نئی نسلیں بمبوسا ڈیمپیانا اور بی میزورمیانا بھی حالیہ برسوں میں تلاش کی گئی ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/05_mizoram_trsr.jpg


آپ میزورم میں جدھر بھی نگاہ دوڑائیں گے، آپ کو بانس ہی بانس نظر آئیں گے۔

بانس کے بنے ہوئے گھر تیز ڈھلان پر بنے ہوئے ہیں۔ بانس سے بنی ہوئی ٹوکریاں اور بیڈ (بستر) گھروں کی آرائش کو چار چاند لگا رہے ہیں، ساتھ ہی باورچی خانے میں طرح طرح کے بانس کے بنے ہوئے سامان رکھے ہوئے ہیں، جیسے پائپ، چق، فرش، چھت پر بانس کی بنی ہوئی چٹائیوں سے آرائش۔ گویا کہ ہر چیز بانس کی بنی ہوئی ہے، چھلنی سے لے کر لنچ باکس تک اور فرنیچر سے لے کر مچھلی پکڑنے کی ٹوکریاں تک۔

یہاں پر بچوں کے پالنے (جھولے) سے لے کر جنازے کی چارپائی تک بانس کی بنی ہوئی ملے گی۔

ہاتھوں سے بنائی گئی متعدد اشیاء جہاں ایک طرف بانس کے مختلف النوع استعمال اور ہمہ گیریت کو ظاہر کرتی ہیں، وہیں ان سے انسانوں کے ہنر اور کمال کا بھی پتہ چلتا ہے: ان اشیاء میں شامل ہیں بانس کی ٹوپیاں، تختے، چادر، پھول دان، چراغ دان، پیالے، زیورات، موسیقی کے آلات، تھیلے، ٹوکریاں، بہترین انداز میں بُنے ہوئے ’تھُل‘ جو ڈھکن سے کس کر بند ہو جاتے ہیں، اور بھی بہت کچھ۔

بانس کا سرکہ بانس کے چارکول سے پیدا ہونے والی ایک شے ہے۔ عیسائیوں کی غالب آبادی والے اس علاقہ میں بانس کے بنے ہوئے تابوت کو لکڑی کے تابوت کے مقابلے زیادہ آرامدہ اور آسانی سے دستیاب ہونے والی شے کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔

رقص شروع ہوتا ہے


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/05a_mizoram_trsr.jpg


میزورم کے لوگ مارچ کے پہلے جمعہ کو موسم بہار کا تہوار ’چپچر کُٹ‘ مناتے ہیں، جس میں بانس کے ’چیراو‘ ڈانس کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ یہ تہوار اُس مدت کی نشانی ہے، جب فصل کے اگلے موسم کی شروعات سے پہلے ڈھلان علاقوں کی کیچڑ اور گیلی زمین خشک ہو جاتی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/07_mizoram_trsr.jpg


’چپچر کُٹ‘ کی صبح، آئیزول کے آسام رائفلس اسٹیڈیم میں مطلع صاف ہے اور دھوپ کھلی ہوئی ہے۔ اسٹیڈیم کے باہر جام لگا ہوا ہے، وہاں سے نکل کر لوگ جیسے ہی میدان کے اندر جمع ہوتے ہیں اور اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ جاتے ہیں، تبھی جوان میزو مرد و عورت سبز بانس کی بڑی بڑی لاٹھیاں زمین پر پیٹنے لگتے ہیں۔ ان کا لباس ویسا ہی ہے جیسا کہ سامعین میں سے بہت نے پہن رکھا ہے۔ ان کے ڈیزائن بانس کی ہی شکل کے ہیں، ان کا رنگ تیز سرخ، ہرا، کالا اور سفید ہے اور بانس کی طرح ان پر لکیریں بنی ہوئی ہیں۔ لڑکے اپنے سروں پر گہرے رنگ کے کپڑے کی پگڑی باندھتے ہیں، جن پر دھاریاں بنی ہوئی ہیں، جب کہ لڑکیاں اپنے سروں پر بانس کی ہی بُنی ہوئی پٹیاں لپیٹتی ہیں، جن میں سب سے اوپر سرخ رنگ کی دائرہ کار کلغی لگی ہوئی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/08_mizoram_trsr.jpg


کلم کو دس دس کا سیٹ بناکر زمین پر رکھ دیا جاتا ہے۔ آٹھ لڑکے رقص کی تال پر کلم کو پیٹنے کے لیے ناچنے والی آٹھ لڑکیوں کے پیر کی طرف جھکتے ہیں۔ اسٹیڈیم کے اندر جہاں ایک طرف لوگوں کا شور و غوغا ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف اسٹیڈیم کے باہر، خونچے والے پان سے لے کر کاٹن کینڈی تک بیچتے ہوئے ملتے ہیں۔ ’چیراؤ‘ کی اداکاری جیسے ہی شروع ہوتی ہے، پورا میدان زندہ ہو اٹھتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/09_mizoram_trsr.jpg


بانس کے پیٹنے، طبلے کی تھاپ اور گھنٹے کو بجانے سے جو موسیقی نکلتی ہے، اس پر لڑکیاں ناز و ادا سے رقص کرتی ہیں۔ رقص کرتی ان لڑکیوں کے پیر بانس کے بنے ہوئے کلم کے بیچ سے ادھر ادھر اٹھتے اور گرتے رہتے ہیں۔

بانس کو باندھ کر بنائے گئے کلم کے اندر باہر پیروں کو رکھ کر رقص کرنے والوں کی ’چیراو‘ اداکاری، میزورم کے پہاڑوں پر کبھی نہ ختم ہونے والے رقص، یعنی ’لو‘ کی پریکٹس کی نمائش کرتی محسوس ہوتی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/T.R. Shankar Raman /rescaled/1024/10_mizoram_trsr.jpg


مزید مطالعہ اور حوالے کے لیے

Grogan, P, Lalnunmawia, F, Tripathi, SK (2012) Shifting cultivation in steeply sloped regions: a review of management options and research priorities for Mizoram state, Northeast India. Agroforestry Systems 84: 163-177.

Raman, TRS (2000) Shifting opinions, Seminar 486: 15-18.

Raman, TRS (2014) Field and Fallow, Farm and Forest, 12 April 2014, The Telegraph. On blog with images and links:The Dance of the Bamboos

Raman, TRS (2014) Mizoram: bamboozled by land use policy, 14 May 2014, The Hindu. On blog with images and links here.

Raman, TRS (2014) Perils of Oil Palm, 20 August 2014, Newslink (Aizawl). On blog with images and links here.

Raman, TRS (2014) Bamboo bonfires and biodiversity. Blog post and article.

Singh, D (1996) The Last Frontier: People and Forests in Mizoram. TERI, New Delhi.

Srinivasan, U (2014) Oil palm expansion: Ecological Threat to North-east India. 6 September 2014, Economic and Political Weekly.

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

ٹی آر شنکر رمن وائلڈ لائف بایولوجسٹ ہیں، جو نیچر کنزرویشن فاؤنڈیشن، میسور کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @mizoraman You can contact the author here: