01RohitJain.jpg

مدھیہ پردیش کے علی راج پور ضلع کے چھوٹا اَمبا گاؤں (ریونیو ریکارڈس میں اسے اَمبا چھوٹا لکھا گیا ہے) کا ایک منظر


یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہ گاؤں پوری طرح سبزہ زار تھا۔ ’’ہم قدرت کے ساتھ رہ چکے ہیں اور اسی سے ہم نے اپنی ضروریات پوری کی ہیں،‘‘ ایک غریب کسان اور آدیواسی بزرگ، آڈیا موٹا کہتے ہیں۔ ’’لیکن بجاریا (جدید آدمیوں) کے آنے کے بعد جنگل بنجر ہو گئے اور ہم بازار پر منحصر رہنے لگے۔‘‘

آڈیا موٹا ۶۲ گھروں والے اس گاؤں میں رہنے والے ۳۱۲ بھیلوں میں سے ایک ہیں۔ گجرات کے شہروں میں صنعتی اور دیگر کاموں کے لیے لکڑیوں کی بڑے پیمانے پر ہونے والی ڈُھلائی کی وجہ سے ان کے جنگلات ویران ہو گئے۔

جل سندھی گاؤں کے ایک دوسرے آدیواسی بزرگ، باوا مہاریا کہتے ہیں: ’’ہم نے ہمیشہ جنگل کی حفاظت کی ہے اور صرف اتنا ہی استعمال کیا ہے، جتنی ہمیں ضرورت پڑی۔ ہم نے جنگلات کا استحصال کبھی نہیں کیا، کیوں کہ یہی ہمارے گھر اور زندگی ہیں۔‘‘


02-chowki-jungle(Magan-Singh-Kalesh).jpg

پُجارا کی چوکی گاؤں کے گھنٹے جنگل کا ایک خوبصورت نظارہ، جو اُن چند جنگلوں میں سے ایک ہے، جہاں اب بھی سبزہ زار بچا ہے۔ سامنے بیچ میں ایک بھیل کسان، اُرسیا پُنیا کا کھیت ہے


بھیل لوگ لمبے عرصے سے جنگل کی زمین پر کھیتی کرتے آئے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر کو ریاست کے محکمہ جنگلات نے ۱۹۵۷ کے بعد بے دخل کر دیا، جب یہ علاقے ’محفوظ جنگلات‘ بن گئے۔

انڈین فاریسٹ ایکٹ (۱۹۲۷) کہتا ہے کہ جنگل کو ریزرو علاقہ قرار دیتے وقت کسانوں کے زمین سےس متعلق دعووں کو قانونی طریقے سے نمٹایا جانا چاہیے۔ تاہم، محکمہ جنگلات، آدیواسیوں کی ان قوانین سے لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان کی زمینوں کو ہڑپ لیا، ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ نتیجہ کے طور پر، بہت سے بھیل اب اپنی موروثی زمینوں پر کھیتی نہیں کر سکتے۔

سال ۱۹۸۷ میں، انھوں نے کھیدوت مزدور چیتنا سنگٹھ کی بنیاد ڈالی، آڈیا موٹا جس کے ایک رکن ہیں، تاکہ اپنے حقوق کی لڑائی لڑ سکیں اور اپنی زمینوں پر دوبارہ کھیتی کر سکیں۔ یہ لڑائی لمبی چلی، جس کے نتیجہ میں فاریسٹ رائٹس ایکٹ ۲۰۰۶ میں نافذ ہوا۔ اس لڑائی کی وجہ سے علی راج پور کے ہزاروں آدیواسی کسانوں کو ۲۰۰۸ سے اپنی آبائی جنگلاتی زمینوں کے مالکانہ حقوق حاصل ہو چکے ہیں۔


03-09RohitJain.jpg

اَٹھّا گاؤں کی ایک آدیواسی فیملی جوار کی بھوسی الگ کرتے ہوئے 


جوار، باجرا اور مکئی وہ اناج ہیں، جنہیں آدیواسی اس علاقے میں اُگاتے ہیں۔ پیداوار اتنی ہو جاتی ہے کہ وہ سال بھر اس پر گزارہ کر سکیں؛ وہ اس میں سے کچھ بھی بیچتے نہیں ہیں۔


04-roopsingh-bajra(Magan-Singh-Kalesh).jpg

اَٹھّا میں باجرا کے اپنے کھیت میں کھڑا ایک آدیواسی کسان


یہاں پر خریف فصل کی پیداوار کافی ہوتی ہے، جس میں صرف جانوروں کے گوبر سے بنائی ہوئی کھاد استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن، لوگوں کے پاس کھیت اتنے چھوٹے چھوٹے ہیں کہ ان پر پیدا ہونے والی کل فصل سے گاؤں کے ہر آدمی کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ 


05-10RohitJain.jpg

آدیواسی لوگ موجودہ فصل سے حاصل کیے گئے بیج کو بورے میں رکھ کر درختوں پر ٹانگ دیتے ہیں۔ اگلے سال وہ اسی بیج کو بوتے ہیں اور عام طور سے بازار سے بیج نہیں خریدتے


06-goats-and-cattle(Magan-Singh-Kalesh).jpg

بھیلوں کے لیے پیسے کا سب سے بڑا ذریعہ مویشی ہیں


گھر کے تمام ممبران مویشیوں کی دیکھ بھال میں مدد کرتے ہیں۔ لیکن جنگلات سے خالی ہو چکی پہاڑیوں میں چارے کی کمی کے سبب، یہ مویشی زیادہ دودھ نہیں دیتے۔


07-working-on-gully-plug(Magan-Singh-Kalesh).jpg

یہاں پر اَٹھّا گاؤں کی عورتیں پتھروں سے بنائے گئے کھیت کے ایک باندھ کی مرمت کر رہی ہیں 


بھیل غریب مزدور ہیں، جو ایک دوسرے کے کھیتوں پر مالی اجرت بچانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس روایت کو ’ڈھاس‘ کہتے ہیں۔

 

08-_DSC5177_01.jpg

پجارا کی چوکی گاؤں کے لوگ مٹی سے چھتوں کی کھپریل بنا رہے ہیں، جسے وہ بھٹی میں پکائیں گے


بھیل لوگ اپنی بہت سی گھریلو اور زرعی ضروریات کا انتظام خود ہی کر لیتے ہیں۔


09-women-in-market(Magan-Singh-Kalesh).jpg

عورتیں علی راج پور کے والپور گاؤں کے ہاٹ (ہفتہ وار بازار) میں اپنے کھیتوں پر اُگائے شکر قند بیچ رہی ہیں 


آدیواسی لوگ ان ہاٹوں میں جوار، باجرا، مکئی، مونگ پھلی، پیاز اور آلو جیسی مقامی سطح پر پیدا کی جانے والی بہت سی چیزیں بیچتے ہیں۔ وہ یہاں سے بہت سے گھریلو اور کھیتی کے سامان بھی خریدتے ہیں، جیسے نمک، چینی، کھانا پکانے کا تیل، صابن، ہل اور کلہاڑی۔


10-08RohitJain.jpg

بھیل گھر کا ایک باورچی خانہ۔ برتنوں کو لکڑیوں سے بنے اسٹینڈ پر رکھا جاتا ہے، تاکہ انھیں کتے اور بلیوں سے بچایا جائے


11-11RohitJain(Crop).jpg

آکاڈیا گاؤں کی ایک عورت مکئی کے آٹے سے روٹی بنا رہی ہے


یہاں پر کھانے میں گیہوں کا نہیں، بلکہ جوار اور مکئی کا استعمال ہوتا ہے، جب کہ ہندوستان میں دیگر جگہوں پر گیہوں کی ہی روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ یہاں کے لوگوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ وہ بازار سے دوسرے اناج خرید سکیں۔ 


12-12RohitJain.jpg

اَٹھّا گاؤں میں ۶ سالہ اماشیا بدھا، اور اس کی بہن ریتلی پچھلے دن بنائی گئی روٹی کھا رہے ہیں


زیادہ تر گاؤں والے بچ گئی روٹیوں کو اگلے دن سرخ مرچ اور کھانے والے تیل کے ساتھ کھاتے ہیں 


13-14RohitJain.jpg

چلگاڑہ گاؤں میں تاڑ کے درخت پر چڑھا ہوا موٹلا تھونا، بھیل اسے ’تاڑ‘ ہی کہتے ہیں۔ وہ اس کی چھالوں کو چھیل رہا ہے، تاکہ اس سے ’تاڑی‘ نکالے جا سکے


تاڑی بنانے کے لیے گاؤں والے درخت کے پھولوں کے ارد گرد گھڑے لٹکا دیتے ہیں، تاکہ اس میں اس کا رس جمع ہو جائے۔ یہ کام شام میں کیا جاتا ہے، اور گھڑا رات بھر میں بھر جاتا ہے۔ صبح سویرے، یہ میٹھے جوس جیسا ہو جاتا ہے، لیکن اسے اگر دھوپ میں رکھا جائے، تو تاڑی میں خمیر ہو جاتا ہے، اور اس طرح وہ شراب بن جاتی ہے۔ 


14-15RohitJain.jpg

عورتیں اُمرالی گاؤں کے بازار میں خمیر والی تاڑی بیچ رہی ہیں


تاڑی کی فروخت آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ بہتر سیزن کے اچھے دنوں میں (جو نومبر سے فروری تک ہوتا ہے)، ان میں سے ہر ایک عورت ۳۰ روپے فی لیٹر کے حساب سے روزانہ ۲۰ لیٹر تاڑی بیچ سکتی ہے۔ اب یہ سلسلہ ختم ہو رہا ہے، کیوں کہ تاڑی اتارنے والے اب نہیں رہے، جس کی وجہ سے اس کی سپلائی کم ہونے لگی ہے۔ 


15-16RohitJain.jpg

اندرسیا چینا، وائیگل گاؤں چھوٹی گاؤں میں ٹُمری سے تاڑی پی رہے ہیں۔ ٹُمری مقامی سطح پر اُگائے جانے والے کدو کو سکھا کر اس کے بیچ کے حصے کو خالی کرکے بنائی جاتی ہے


16-22RohitJain.jpg

ایک آدیواسی کھمبے سے لٹکے ہوئے موبائل فون کو استعمال کر رہا ہے


کھودمبا اور یہاں کے بہت سے گاؤوں میں موبائل نیٹ ورک نہیں ہیں۔ فیملی کے جو لوگ کام کی تلاش میں گجرات جا چکے ہیں ان سے رابطہ رکھنے کے لیے فون نہایت ضروری ہیں۔ 


17-migrant-labour(Magan-Singh-Kalesh).jpg

بہت سے بھیل مرد اور عورتیں گجرات میں کنسٹرکشن مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں


علی راج پور میں زیادہ ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے ۸۵ فیصد آدیواسی فیملیز (کھیدوت مزدور چیتنا سنگٹھ کے ذریعے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق) ہر موسم میں گجرات کے شہروں کی طرف چلی جاتی ہیں، کبھی اپنے گھنے جنگلوں میں رہنے والے اب جدید کنکریٹ جنگلوں کی طرف کوچ کرنے پر مجبور ہیں۔


18-25RohitJain.jpg

جل سندھی گاؤں کا ایک کھیت، جسے اوپر منتقل کر دیا گیا۔ اسے اُس وقت منتقل کرنا پڑا، جب وہ پلاٹ جس پر نرمدا ندی کی زرخیز وادی میں یہ واقع تھا، سردار سروور باندھ کے ۱۹۹۸ میں بننے کے بعد یہ اس میں ڈوب گیا، جس کی وجہ سے بہت سے گاؤوں اور گاؤں والوں کو نقل مکانی کرنی پری


19-24RohitJain.jpg

علی راج پور کی ویران پہاڑیوں کے اس پار نرمدا ندی کا خوبصورت منظر


20-30RohitJain.jpg

ایک آدیواسی مرد آکاڈیا میں مچھلی کا جال کھینچ رہا ہے۔ نرمدا کے کنارے رہنے والے زیادہ تر گاؤں والوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے


21-26RohitJain.jpg

بچے اس درخت کے قریب کھیل رہے ہیں جو سردار سروور باندھ میں ڈوب چکے ان کے کھیتوں میں اب بھی کھڑا ہے


22-29RohitJain.jpg

شادی کی تقریب کے لیے تیار لڑکیاں سردار سروور باندھ کے چاروں طرف چل رہی ہیں


23-marriage-celebration(Magan-Singh-Kalesh).jpg

شادی خوشی کا ایک موقع ہوتا ہے اور جوان دولہے کو ڈانس کرنے والا اس کا ایک رشتہ دار اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے


24-_DSC6690_94_01(Photo-Rohit Jain.jpg

ایک آدیواسی دلہن شادی کی تیاری میں روایتی چاندی کا زیور پہن رہی ہے


25-dance-attire(Magan-Singh-Kalesh).jpg

فینسی ڈریس میں بدھیا کا کلوز اَپ، یہ مارچ میں ہولی کے تہوار کے فوراً بعد ہونے والے گروپ ڈانس، جسے گوتھ کہتے ہیں، کا ایک کردار ہے


26-05RohitJain.jpg

بھیلوں کا اپنی زندگی، گانوں اور ڈانس کے تئیں پیار کم نہیں ہوا ہے: بکھت گڑھ گاؤں کے آدیواسی رنگین بھگوریا تہوار کے موقع پر ڈانس کر رہے ہیں، جو موسم بہار میں ہولی سے فوراً پہلے خریف کی فصل کے دوران منایا جاتا ہے


اس مضمون کی چند تصویریں کھیدوت مزدور چیتنا سنگٹھ کے رکن، میگن سنگھ کلیش کے ذریعے کھینچی گئیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Rohit Jain

روہت جین دہلی میں مقیم فری لانس فوٹوگرافر ہیں۔ وہ ۲۰۱۲ سے ۲۰۱۵ تک ہندوستان ٹائمز میں فوٹو سب ایڈیٹر تھے۔

Other Stories by Rohit Jain