01-MISC-12 28A-PS-Sherpur-big sacrifice, short memory.jpg احتجاجیوں کا اصلی جھنڈا، جو کچھ حد تک گھِس چکا ہے، لیکن اسے اب بھی تحصیل آفس میں احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے

 

وہ اس جھنڈے کو اب بھی تحصیل آفس میں رکھے ہوئے ہیں۔ ۱۸ اگست کو وہ صرف اسی جگہ اسی پھہراتے ہیں۔ ۱۹۴۲ میں اسی دن انھوں نے اترپردیش کے غازی پور ضلع میں برطانوی حکومت سے خود کو آزاد ہونے کا اعلان کیا تھا۔ محمدآباد کے تحصیل دار نے لوگوں کے مجمع پر گولی چلا دی، جس کی وجہ سے شیرپور گاؤں کے آٹھ لوگ مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر کانگریسی تھے، جن کی قیادت اس وقت شیو پوجن رائے کر رہے تھے۔ ان لوگوں کو اس وقت گولی ماری گئی، جب وہ محمد آباد میں تحصیل کی عمارت کے اوپر ترنگا لہرانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ضلع میں انگریزوں کے خلاف پہلے ہی لاوا اُبل رہا تھا، اس واقعہ نے اسے اور بھڑکا دیا۔ انگریزوں نے ۱۰ اگست کو یہاں ۱۲۹ لیڈروں کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا تھا۔ ۱۹ اگست تک مقامی باشندوں نے تقریباً پورے غازی پور پر قبضہ کر لیا اور تین دنوں تک یہاں سرکار چلاتے رہے۔

ضلع کے گزٹ میں لکھا ہے کہ انگریزوں نے اس کے جواب میں ’’چاروں طرف دہشت کا بازار گرم کر دیا‘‘۔ جلد ہی، ’’گاؤں کے گاؤں تباہ کر دیے گئے، لوٹ اور آگ زنی مچائی گئی‘‘۔ ملٹری اور گھوڑ سوار فوج نے ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کے احتجاجیوں کو کچل کر رکھ دیا۔ انھوں نے اگلے چند دنوں میں ضلع بھر میں تقریباً ۱۵۰ لوگوں کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ ریکارڈس کے مطابق، سرکاری اہل کاروں اور پولس نے یہاں کے شہریوں سے ۳۵ لاکھ روپے لوٹے۔ تقریباً ۷۴ گاؤوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ غازی پور کے لوگوں کو مجموعی طور پر ساڑھے چار لاکھ روپے جرمانے کے طور پر ادا کرنے پڑے، جو کہ اُس زمانہ میں ایک بڑی رقم تھی۔

سرکاری اہل کاروں نے شیرپور کو سزا دینے کے لیے منتخب کیا۔ یہاں کے سب سے بزرگ دلت، ہری شرن رام اُس دن کو یاد کرتے ہیں: ’’انسانوں کو تو چھوڑ دیجیے، اس دن گاؤں میں ایک چڑیا تک نہیں بچی۔ جو لوگ بھاگ سکتے تھے، بھاگے۔ لوٹ مار کا سلسلہ لگاتار چلتا رہا۔‘‘ لیکن، غازی پور کو مجموعی طور پر سبق تو سکھانا ہی تھا۔ ضلع میں ۱۸۵۰ کی دہائی کے دوران انگریزوں کے خلاف ہونے والی بغاوت کا ریکارڈ موجود تھا، جب مقامی باشندوں نے نیل پیدا کرنے والوں پر حملہ کر دیا تھا۔ چونکہ پرانا حساب بھی چکانا تھا، اس لیے اس بار انگریزوں نے انھیں گولیوں اور لاٹھی ڈنڈیوں سے سبق سکھایا۔

محمد آباد کا تحصیل آفس آج بھی سیاسی زائرین کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ یہاں آنے والوں کی فہرست میں اُن چار لوگوں کے نام بھی شامل ہیں، جو یا تو ہندوستان کے وزیر اعظم تھے، یا بعد میں جاکر اس عہدہ پر فائز ہوئے۔ اتر پردیش کے تقریباً سبھی وزرائے اعلیٰ بھی یہاں آچکے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر یہاں ۱۸ اگست کو آتے ہیں۔ یہ بات ہمیں لکشمن رائے نے بتائی، جو شہید اسمارک سمیتی کے سربراہ ہیں۔ یہ سمیتی تحصیل کے دفتر میں آٹھ شہیدوں کے میموریل (یادگار) کو چلاتی ہے۔ وہ ہمیں احتجاجیوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والا جھنڈا دکھاتے ہیں، جو کچھ حد تک گھِس چکا ہے، لیکن پھر بھی اسے یہاں حفاظت سے رکھا گیا ہے۔ وہ فخر کے ساتھ بتاتے ہیں، ’’وی آئی پیز یہاں آتے ہیں اور جھنڈے کی پوجا کرتے ہیں۔ جو بھی وی آئی پی یہاں آتا ہے، وہ اس کی پوجا ضرور کرتا ہے۔‘‘

اس پوجا سے شیرپور کو بہت زیادہ فائدہ نہیں ہوا ہے۔ اور یہاں کے مجاہدینِ آزادی کی عظیم قربانیوں پر اب طبقہ، ذات، وقت اور کاروبار کا رنگ چڑھ چکا ہے۔ ’’کل آٹھ شہداء تھے،‘‘ یہاں کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے کارکن بتاتے ہیں۔ ’’لیکن شہیدوں کے لیے ۱۰ میموریل کمیٹیاں ہو سکتی تھیں۔‘‘ ان میں سے کچھ تو سرکاری عطیوں سے مختلف ادارے چلاتی ہیں۔ شہیدوں کے بیٹے، جو یہاں پر ’شہید پُتر‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، وہ ان میں سے چند کمیٹیوں کو چلاتے ہیں۔


02-MISC-12 00A-PS-Sherpur-big scarifice, short memory.jpg

شہیدوں کی کچھ کمیٹیوں پر ’شہید پُتر‘ کا قبضہ ہے


پوجا کے ساتھ وعدے بھی کیے جاتے ہیں۔ ایک ایسا ہی وعدہ یہ کیا گیا تھا کہ ۲۱ ہزار لوگوں کی آبادی والے اس بڑے گاؤں، شیرپور میں لڑکیوں کا ایک ڈگری کالج بنایا جائے گا۔ لیکن، چونکہ یہاں کی ہر پانچ میں سے چار عورتیں اَن پڑھ ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ مقامی باشندے اس آئڈیا سے بہت زیادہ پرجوش نہیں ہوئے ہوں گے۔

شیرپور کی قربانیاں کس بات کو لے کر تھیں؟ یہاں کے لوگوں کا مطالبہ کیا تھا؟ آپ ان سوالوں کا جواب کس طرح دیں گے، یہ آپ کے سماجی و اقتصادی رتبہ پر مبنی ہے۔ سرکاری طور پر تسلیم شدہ آٹھوں شہداء بھومیہار تھے۔ انگریزی دہشت کے خلاف ان کی بہادری قابل تعریف تھی۔ لیکن، وہ لوگ جو کم طاقتور برادریوں سے تھے اور جنھوں نے مختلف ادوار میں اپنی جانیں قربان کیں، انھیں اس طرح نہیں یاد کیا جاتا۔ بہت سی لڑائیاں ۱۸ اگست سے پہلے اور اس کے بعد بھی لڑی گئیں۔ مثال کے طور پر، پولس نے اُن ۵۰ لوگوں کو گولی مار دی تھی، جنھوں نے ۱۴ اگست کو نندگنج ریلوے اسٹیشن پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے علاوہ پولس نے ۱۹ سے ۲۱ اگست کے درمیان اس سے تین گنا زیادہ لوگوں کو قتل کیا۔


03-MISC-12 35A & 36A-PS-Sherpur-big sacrifice, short memory.jpg

شیرپور میں ایک شہید کی یادگار (بائیں)، شیرپور میں شہید کی یادگار کے دروازہ پر لگا ہوا پتھر (دائیں)


لوگ آخر کس لیے مرے؟ ’’آزادی کے علاوہ ان کی کوئی مانگ نہیں تھی،‘‘ محمد آباد انٹرکالج کے پرنسپل، کرشن دیو رائے کہتے ہیں۔ شیرپور یا دوسری جگہوں کے زیادہ تر بھومیہار زمیندار بھی یہی مانتے ہیں۔ یہ معاملہ ۱۹۴۷ میں انگریزوں کے جانے کے بعد ختم ہو گیا۔

لیکن، شیرپور کے رہنے والے ایک دلت، بال مُکُند اسے دوسری طرح دیکھتے ہیں۔ بغاوت کے وقت نوجوان مکند اور ان کے دلت ساتھیوں کے ذہن میں کچھ اور ہی ایجنڈہ تھا۔ ’’ہم جوش سے بھرے ہوئے تھے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہم نے سوچا کہ ہمارے لیے زمین ہوگی۔‘‘ ۱۹۳۰ کی دہائی میں اور پھر بعد میں دوبارہ شروع ہونے والی کسان سبھا تحریک نے یہ امیدیں جگائی تھیں۔ یہ جوش ۱۹۵۲ میں اس وقت دوبارہ تازہ ہو گیا، جب اترپردیش میں زمینداری کے خاتمہ اور اصلاحاتِ اراضی قانون نافذ ہو گیا۔

لیکن، جوش زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہ پایا۔


04-MISC-12 12A-PS-Sherpur-big sacrifice, short memory.jpg

ہم نے سوچا کہ ہمارے لیے کچھ زمین ہوگی،‘‘ شیرپور میں رہنے والے ایک دلت، بال مکند کہتے ہیں۔ لیکن ان کی امید زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہ سکی۔


گاؤں کے سبھی ۳،۵۰۰ دلت بے زمین ہیں۔ ’’کھیتی کے لیے زمین؟‘‘ مقامی دلت سمیتی کے رادھے شیام سوال کرتے ہیں۔ ’’ہمارے گھر بھی ہمارے ناموں پر نہیں ہیں۔‘‘ زمین کی اصلاح سے متعلق قانون کے مکمل نفاذ کے ۳۵ سالوں بعد کی یہ صورتِ حال ہے۔ آزادی الگ فائدے لے کر آئی۔ کچھ لوگوں کے لیے۔ بھومیہاروں کو ان زمینوں کے مالکانہ حق مل گئے، جنھیں وہ جوتتے تھے۔ بے زمین چھوٹی ذات کے لوگوں وہیں رہے، جہاں وہ پہلے تھے۔ ’’ہم نے سوچا تھا کہ ہم بھی دوسروں کی طرح ہو جائیں گے، ہمارا مقام بھی دوسروں جیسا ہو جائے گا،‘‘ ہری شرن رام کہتے ہیں۔

اپریل ۱۹۷۵ میں، انھیں ان کی اوقات بتا دی گئی۔ انگریزوں نے جب ان کے گاؤں کو جلایا تھا، اس کے صرف ۳۳ سالوں بعد دلت بستی کو دوبارہ جلا دیا گیا۔ اس بار بھومیہاروں کے ذریعہ۔ ’’اجرت کی مقدار کو لے کر جھگڑا چل رہا تھا،‘‘ رادھے شیام بتاتے ہیں۔ ان کی بستی میں ایک سانحہ ہوا، جس کا الزام انھوں نے ہم پر لگا دیا۔ یقین کیجیے، ہم جب ان کے گھروں میں اور ان کے کھیتوں پر کام کر رہے تھے، وہ ہمارے گھروں کو جلانے میں لگے ہوئے تھے!‘‘ تقریباً ۱۰۰ گھروں کو پوری طرح تباہ کر دیا گیا۔ لیکن، وہ یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ اس میں شہید پُتر ملوث نہیں تھے۔


05-MISC-12 04A-PS-Sherpur-big sacrifice, short memory.jpg

آزادی کے پچاس سال گزر چکے ہیں، لیکن شیر پور غریبی، محرومی اور ذات پات کے بھید بھاو سے جوجھ رہا ہے


’’پنڈت بہو گنا وزیر اعلیٰ تھے،‘‘ شیو رام بتاتے ہیں، جو کہ دلت سمیتی کے سربراہ ہیں۔ ’’وہ یہاں آئے اور بولے: ’ہم آپ لوگوں کے لیے یہاں نئی دہلی کی تعمیر کریں گے‘۔ ہماری نئی دہلی کو اچھی طرح دیکھ لیجیے۔ اس خستہ جھونپڑی پٹی میں بھی ہمارے پاس ایسا کوئی کاغذ نہیں ہے، جس پر یہ لکھا ہو کہ ہم اس کے مالک ہیں۔ اجرت یا مزدوری کا جھگڑا اب بھی چل رہا ہے۔ کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو اتنی کم مزدوری ملتی ہے کہ ہمیں کام کے لیے بہار جانا پڑتا ہے؟‘‘

اونچی ذاتوں یا اتھارٹیز سے لڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، پولس والے دلتوں سے جس قسم کا برتاؤ کرتے ہیں، وہ پچھلے ۵۰ سالوں میں نہیں بدلا ہے۔ کرکَٹ پور گاؤں کے موسہر دلت، دینا ناتھ ونواسی یہ سب جھیل چکے ہیں۔ ’’کیا آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی سیاسی پارٹی جیل بھرو تحریک چلاتی ہے، تو ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ سینکڑوں کارکن گرفتاری دیتے ہیں۔ غازی پور جیل پوری طرح بھر جاتی ہے۔ پھر پولس کیا کرتی ہے؟ وہ چند موسہروں کو پکڑ لیتے ہیں، جنھیں وہ پکڑ سکتے ہیں۔ ، عام طور پر ان پر ’ڈکیتی کا منصوبہ بنانے‘ کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ان موسہروں کو جیل لے جایا جاتا ہے، جہاں انھیں جیل بھرو تحریک والوں کے پیشاب پاخانے، الٹی قے اور کوڑے کچرے صاف کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں آزاد کر دیا جاتا ہے۔‘‘

’’ہم ۵۰ سال پہلے کی بات نہیں کر رہے ہیں،‘‘ گاگرن گاؤں کے دسورام ونواسی کہتے ہیں۔ ’’یہ اب بھی ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے تو اسے دو سال پہلے برداشت کیا ہے۔‘‘ ہراساں کرنے کے دوسرے طریقے بھی موجود ہیں۔ داسورام نے دسویں کلاس فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا، ایسا موسہروں میں سے اب تک چند لوگ ہی کر پائے ہیں۔ لیکن انھوں نے اونچی ذات کے ٹیچروں اور طلبہ کی فقرے بازیوں سے تنگ آکر کالج چھوڑ دیا۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس انٹرکالج کا نام بابو جگجیون رام ہے۔ شیرپور سے واپسی کے وقت راستہ میں ہمارے پیر کیچڑ میں دھنس گئے۔ ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے تھے۔ ایسے میں دلت بستی سے باہر نکلنا یا اس کے اندر آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ بارش نے مین راستے کو خراب کر دیا ہے۔ یہاں کی سڑکوں اور گلیوں میں جگہ جگہ گندگی کا ڈھیر ہے۔ ’’ہماری نئی دہلی کا ہائی وے،‘‘ شیو جگن رام کہتے ہیں۔

’’یہاں کے دلت آزاد نہیں ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’کوئی آزادی نہیں، کوئی زمین نہیں، کوئی تعلیم نہیں، کوئی مال و دولت نہیں، کوئی نوکری نہیں، کوئی صحت نہیں، کوئی امید نہیں۔ ہماری آزادی غلامی ہے۔‘‘

دریں اثنا، تحصیل آفس میں، پوجا جاری ہے۔

یہ اسٹوری سب سے پہلے ٹائمز آف انڈیا کے ۲۵ اگست، ۱۹۹۷ کے شمارہ میں شائع ہوئی۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath