شکھا مونڈل نے نومبر ۲۰۱۵ میں اپنے شوہر، اسِت کو کھو دیا تھا۔ ’’وہ دو لوگوں کے ساتھ بگان باڑی جنگل میں، گرال ندی سے کیکڑے پکڑنے گئے تھے۔ دونوں ہی دیگر لوگ لوٹ آئے اور آکر مجھے بتایا کہ ایک شیر میرے شوہر کو لے کر دور چلا گیا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ است مونڈل ۳۲ سال کی تھیں جب ان کے شوہر کی موت ہوئی، وہ فیملی میں واحد کمانے والے تھے اور اسکول جانے والے دو بیٹوں کے والد بھی۔

مغربی بنگال کے گوسابہ بلاک کے جہر کالونی گاؤں کی باشندہ، شکھا نے معاوضہ کا دعویٰ کرنے کا ارادہ کیا اور اپنی مدد کے لیے ایک وکیل کو ۱۰ ہزار روپے دیے۔ ’’اس کے لیے کئی دستاویز جمع کرنے تھے – جیسے کہ پولس اور محکمہ جنگلات سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی)، بیمہ کارڈ، گاؤں کے پردھان سے ایک خط، اور موت کا سرٹیفکیٹ۔‘‘

وکیل نے بیمہ کمپنی سے ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دلوایا۔ لیکن محکمہ جنگلات نے شکھا کو این او سی دینے سے منع کر دیا، کیوں کہ ان کے شوہر کی موت کور علاقہ میں ہوئی تھی۔ بیمہ کمپنی نے ابھی تک ان کے دستاویز نہیں لوٹائے ہیں۔

شکھا اب کیکڑے اور جھینگے پکڑتی ہیں، چھوٹا موٹا کام اور زرعی مزدوری کرتی ہیں، اور کسی طرح اپنے بیٹوں کو اسکول بھیجنے کا انتظام کرتی ہیں۔ خود اپنا گھر چلا پانے میں ناکام ہونے کی وجہ سے، وہ اور ان کے بچے چچا کے گھر میں رہتے ہیں۔

سندر بن میں ہزاروں عورتوں نے اسی طرح اپنے شوہروں کو شیر کے حملوں میں کھو دیا ہے۔ یہ ڈیلٹا علاقہ، جو مشرقی ہندوستان میں تقریباً ۴۲۰۰ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے سدا بہار جنگلوں میں سے ایک ہے، شیروں کا مترادف بن چکا ہے۔

صورتحال تب اور بھی خراب ہو جاتی ہے جب مردوں کی موت کور علاقہ میں ہو جائے، جہاں گاؤں والوں کو داخلہ کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے، چاہے ان کے پاس پرمِٹ ہو یا نہ ہو

ویڈیو دیکھیں: شکھا مونڈل بتا رہی ہیں کہ ۲۰۱۵ میں شوہر کی موت کے بعد انھیں معاوضہ پانے کے لیے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

ہِنگل گنج، گوسابہ، کُلٹی، پاتھر پرتیما اور بسنتی بلاک کے جنگلوں میں موجود شیر گاؤں والوں کے لیے خطرہ ہیں، جو اپنی روزمرہ کی ضرورتوں اور معاش کے لیے جنگلوں پر منحصر ہیں۔ یہ بلاک سندر بن قومی پارک (اور شیروں کے لیے محفوظ علاقہ) کے قریب ہے، جس میں تقریباً ۱۷۰۰ مربع کلومیٹر کا کور علاقہ اور تقریباً ۹۰۰ مربع کلومیٹر کا بفر علاقہ شامل ہے، جہاں معاش سے متعلق کچھ سرگرمیوں کی اجازت ہے۔ عام طور پر، گاؤوں کے مرد یہاں کے جنگلوں میں مچھلی اور کیکڑا پکڑنے، یا پھر شہد اور لکڑی اکٹھا کرنے کے لیے گھومتے رہتے ہیں۔ شیر کے ساتھ لڑائی میں، اکثر آدمی ہی مرتے ہیں۔

سندر بن میں اس طرح بیوہ ہونے والی عورتوں کی صحیح تعداد کیا ہے، نہیں معلوم۔ لیکن مقامی لوگوں، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد تین دہائیوں میں کم از کم ۳۰۰۰ ہے – یا ایک سال میں تقریباً ۱۰۰ ہے۔

’’گوسابہ کے لاہری پور گرام پنچایت علاقہ [جس میں کل ۲۲ گاؤوں ہیں] میں ۲۰۱۱ سے اب تک، تقریباً ۲۵۰ خواتین کے شوہر شیر کے حملے میں مارے گئے ہیں، لیکن ان میں سے ایک کو بھی معاوضہ نہیں ملا ہے،‘‘ ارجن مونڈل بتاتے ہیں، جو سندر بن دیہی ترقیاتی سوسائٹی چلاتے ہیں، یہ ایک این جی او ہے جو شیر کے سبب بیوہ ہونے والی خواتین کی فلاح کے لیے کام کرتی ہے۔

یہ عورتیں مغربی بنگال حکومت کے محکمہ جنگلات، محکمہ ماہی پروری اور ریاست کی گروپ پرسنل ایکسیڈنٹ انشورینس اسکیم، تینوں ہی سے کل ملا کر تقریباً ۴-۵ لاکھ روپے کے معاوضے کی حقدار ہیں۔ حالانکہ، اس کے لیے کئی شرطیں ہیں؛ ارجن ان میں سے کچھ کے بارے میں یوں بتاتے ہیں: ’’شوہر کی موت کور علاقہ میں نہیں ہونی چاہیے، اس کے پاس کشتی کا لائسنس سرٹیفکیٹ (بی ایل سی) اور محکمہ جنگلات کا پرمٹ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، معاوضہ پانے کے لیے شوہر کو مختلف محکموں میں کئی دستاویز بھی جمع کرانے پڑتے ہیں۔‘‘

گاؤوں کے لوگ ہمیشہ کور علاقہ میں گھومتے رہتے ہیں۔ ارجن خود ایک مچھوارے ہیں، وہ کہتے ہیں، ’’ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ بفر ژون کہاں ختم ہو رہا ہے اور کہاں سے کور علاقہ شروع ہوتا ہے۔ سرکار بہت کم بی ایل سی جاری کرتی ہے، اور ہر کوئی اتنا خرچ بھی نہیں کر سکتا۔ پرمٹ جاری کرنا بھی محکمہ جنگلات کی خواہش پر منحصر ہے۔‘‘

اس لیے، اُن مردوں کی بیویاں پریشانیوں میں گھر جاتی ہیں جن کے پاس بی ایل سی یا پرمٹ نہیں ہوتا۔ صورتحال تب اور بھی خراب ہو جاتی ہے جب مردوں کی موت کور علاقہ میں ہو جائے، جہاں گاؤوں والوں کو داخلہ کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے، چاہے ان کے پاس پرمٹ ہو یا نہ ہو۔

جیسا کہ گوسابہ بلاک کے پاتھر پاڑہ گاؤں کی ۴۰ سالہ نمیتا بشواس کے ساتھ ہوا۔ فروری ۲۰۱۵ میں، ایک شیر نے ان کے شوہر، منورنجن پر کور علاقہ میں حملہ کر دیا۔ اس حملے میں وہ بچ گئے تھے، جس کے بعد انھیں ایک اسپتال میں بھرتی کرایا گیا۔ لیکن، اسپتال سے چھٹی ملنے کے کچھ دنوں بعد ہی ان کی موت ہو گئی۔ نمیتا بتاتی ہیں، ’’ان کے سر کے زخم سے انفیکشن ٹھیک نہیں ہوا تھا۔ میرے شوہر کے پاس بی ایل سی تھا، لیکن پولس نے میرا بیان لینے سے منع کر دیا۔ ہم نے محکمہ جنگلات کو معاوضہ کے لیے اپنے سبھی دستاویز اور میڈیکل بل دیے۔ پیسہ آنا ابھی باقی ہے۔ میری جیسی بہت سی بیوائیں ہیں۔ سرکار کو کم از کم ہمیں ماہانہ پنشن دینا چاہیے۔‘‘

Purmila Burman’s documents have been taken away by a middleman who has disappeared
PHOTO • Urvashi Sarkar

پُرمیلا برمن کو ایک ’ایجنٹ‘ نے یہ کہتے ہوئے دھوکہ دیا کہ وہ ان کے شوہر کی موت کا معاوضہ دلوا سکتا ہے

شکھا اور نمیتا تو ابھی بھی معاوضہ کا انتظار کر رہی ہیں، لیکن پاتھر پاڑہ کی ۵۵ سالہ پُرمیلا برمن کو ایسی کوئی امید نہیں ہے۔ مارچ ۲۰۱۶ میں، ان کے ماہی گیر شوہر شوبھیندو کو ایک شیر نے کور علاقہ میں مار دیا تھا۔ ’’شوبھیندو کی موت کے بعد ایک ثالث نے میری مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ میں نے اپنے سبھی دستاویز جمع کیے اور اسے سونپ دیا، یہ بھروسہ کرتے ہوئے کہ وہ میری مدد کرے گا،‘‘ پُرمیلا بتاتی ہیں۔ لیکن وہ ایجنٹ ان کے دستاویز کے ساتھ تبھی سے غائب ہے، اور انھیں آج تک کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔

سندر بن اس طرح کی کہانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ کچھ کنبوں میں تو، لگاتار کئی نسلوں سے فیملی کے مرد شیر کے حملے میں مارے جاتے رہے ہیں۔ اس قسم کے واقعات والے زیادہ تر گاؤوں میں وِدھوبا پاڑہ یا ’بیوہ علاقے‘ بھی ہیں۔ ایسے زیادہ تر گھروں میں، عورتوں کی زندگی تکلیف اور غریبی سے بھری ہوئی ہے۔ ان کے لیے دوبارہ شادی کرنا بھی مشکل ہے، کیوں کہ اس کا چلن ختم ہو چکا ہے۔

جولائی ۲۰۱۶ میں، اس مضمون نگار نے مغربی بنگال حکومت کے محکمہ ماہی پروری، محکمہ جنگلات اور سندربن معاملوں کے محکمہ میں، شیر کے حملے میں ہوئی بیواؤں کے معاوضہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے، حق اطلاع قانون (آر ٹی آئی) کے تحت تین الگ الگ درخواستیں ڈالیں۔

صرف محکمہ ماہی پروری نے جواب دیا: گزشتہ چھ برسوں میں، صرف پانچ عورتوں – اندازاً ۱۰۰ خواتین کا ایک چھوٹا سا حصہ جن کے شوہر ہر سال شیروں کے ذریعہ مار دیے جاتے ہیں – نے اس محکمہ میں معاوضہ کے لیے درخواست دی ہے۔ ان میں سے صرف تین کو، ایک لاکھ روپے فی بیوہ معاوضہ ملا۔ باقی دو کو معاوضہ دینے سے اس لیے منع کر دیا گیا، کیوں کہ ان کے شوہروں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دستیاب نہیں تھی۔

لیکن محکمہ ماہی پروری کے اعداد و شمار کے برعکس، میں نے جن عورتوں سے بات کی، ان میں سے زیادہ تر نے یہی بتایا کہ انھوں نے معاوضہ کے لیے درخواست دی تھی – اس لیے ہو سکتا ہے کہ پورے دستاویز جمع نہ کرنے یا دیگر شرطوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے کے سبب ان کی دعویداری قبول نہ کی گئی ہو۔

’’یہ پورا عمل چیلنج بھرا ہے، بہت سارے دستاویز جمع کرنے ہوتے ہیں اور کافی چکر لگانے پڑتے ہیں۔ خواتین کو گمراہ کیا جا سکتا ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں جانتے ہی نہ ہوں،‘‘ دکشن بنگ متسیہ  جیبی فورم کے پردیپ چٹرجی کہتے ہیں (جنوبی بنگال کے مچھواروں کی یہ تنظیم، شیر کے حملے سے ہوئی بیواؤں کو معاوضہ دلانے اور کام کھوجنے میں ان کی مدد کرنے کے لیے کوشاں ہے)۔ ’’دریں اثنا، شیروں کے ذریعے تازہ مارے گئے لوگوں کی رپورٹ ہر سال کی جاتی ہے، جس سے ان بیوہ خواتین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

چٹرجی یہ بھی بتاتے ہیں کہ محکمہ جنگلات کے ذریعے پوچھ گچھ کیے جانے کے خوف سے، کچھ عورتیں تو اپنے شوہر کی موت کی خبر کو ہی ’دبا‘ دیتی ہیں، خاص کر اگر ان کی موت کور علاقہ میں ہوئی ہو – وہ اسے سرکاری اہلکاروں کے پاس رجسٹر بھی نہیں کراتیں، اور نہ ہی معاوضے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

لیکن پاتھر پاڑہ گاؤں کی رنبی بالا مونڈل نے معاوضہ پانے کی کوشش ضرور کی تھی۔ ان کے شوہر پر ایک شیر نے کئی سال پہلے حملہ کر دیا تھا۔ ’’اتنے سال گزرنے کے بعد بھی، سرکار نے مجھے کچھ نہیں دیا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’کیا آپ کچھ کر سکتی ہیں؟‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

اُروَشی سرکار ایک آزاد صحافی اور ۲۰۱۶ کی پاری فیلو ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @storyandworse

Other stories by Urvashi Sarkar