کھیت کے بیچ میں اینٹ اور سیمنٹ سے بنے پانچ بائی دس فیٹ کے چبوترے پر لکھا ہے: ’چیتن داداراؤ کھوبراگڑے۔ پیدائش: 1995/8/8۔ موت: 18/5/13‘۔ ان کے والدین نے اس اسمارک کی تعمیر اس جگہ پر کی ہے، جہاں ان کے بیٹے کو شیر نے ہلاک کر دیا تھا۔

چیتن (۲۳) اپنی بڑی بہن پایل کی شادی کا انتظار کر رہے تھے، پھر خود اپنی شادی کرنا چاہتے تھے۔ ’’ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں ایک شیر ہے،‘‘ ۲۵ سالہ پایل کہتی ہیں۔ ’’ہم خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ ایک شیر کے ذریعے مارا جائے گا، وہ بھی ہمارے اپنے ہی کھیت پر۔‘‘

مئی کی گرمی میں اُس دن شام کے ۶ بجے تھے۔ چیتن اپنی گایوں کے لیے سبز چارہ لانے آمگاؤں میں اپنے کھیت پر گئے تھے۔ شام کے ۷ بجے تک جب وہ گھر نہیں لوٹے، تو ان کے سب سے چھوٹے بھائی ساحل (۱۷) اور چچیرے بھائی وجے انھیں ڈھونڈنے نکلے۔ انھوں نے چیتن کا ہنسیا زمین پر پڑا دیکھا۔ فیملی کا پانچ ایکڑ کھیت ان کے گھر سے سڑک پار کرکے، مشکل سے ۵۰۰ میٹر کی دوری پر ہے، جس کے آگے صنوبر اور بانس کے خشک اور پت جھڑ جنگل ہیں۔

دونوں چیخے، ’’واگھ، واگھ [شیر، شیر]‘‘، اور دوسروں کو مدد کے لیے پکارنے لگے۔ کچھ ہی دوری پر، سبز کڈیالو چارے کے درمیان چیتن کی مسخ شدہ لاش پڑی تھی۔ وہ اس شیر کے ذریعے مار دیے گئے تھے، جس کے بارے میں پورا گاؤں جانتا تھا کہ وہ آس پاس کے علاقے میں ہی ہے۔

’’ہم نے شیر کو جنگل میں جاتے ہوئے دیکھا تھا،‘‘ وجے کھیت سے سٹے جنگلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ وہ پوری طرح بڑا ہو چکا شیر تھا جو شاید بھوکا اور پیاسا تھا، وہ یاد کرتے ہیں۔

عوامی زمین کا سکڑنا

اس چھوٹی سی برادری کے سیاسی اور سماجی کاموں کی قیادت کرنے والے ایک نوجوان کی موت نے آمگاؤں (مقامی لوگ اسے آمگاؤں جنگلی کہتے ہیں) کو ایک خوفناک اور سیاہ خاموشی میں مبتلا کر دیا۔ بارش ہونے پر بھی کھیت بنجر ہی رہے، کیوں کہ لوگ کھیتوں میں جانے کی ہمت نہیں جُٹا پا رہے تھے۔

وردھا ضلع کے سیلو تعلقہ کا گاؤں، بور ٹائیگر ریزرو کے بفر ژون میں واقع ہے۔ بفر میں، وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت، چراگاہ یا عوامی زمین کے استعمال، تعمیر اور جانوروں کے چرانے پر پابندی ہے۔ یہ محفوظ جنگلات کے کور ایریا جہاں انسانی داخلہ کو محکمہ جنگلات کے ذریعے ریگولرائز کیا جاتا ہے، اور مقامی جنگلات یا بفر سے باہر کے علاقوں کے درمیان کا ایک علاقہ ہے جن میں گاؤں موجود ہیں۔

بور ریزرو، ملک کے جدید اور سب سے چھوٹے ریزرو میں سے ایک ہے جو ناگپور سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسے جولائی ۲۰۱۴ میں ٹائیگر ریزرو بنایا گیا، جو صرف ۱۳۸ مربع کلومیٹر کے علاقے کو کور کرتا ہے۔

PHOTO • Jaideep Hardikar
PHOTO • Jaideep Hardikar

بائیں: آمگاؤں میں چیتن کھوبراگڑے کا اسمارک۔ دائیں: داداراؤ کھوبراگھڑے وردھا ضلع میں اپنے کھیت پر اس جگہ کھڑے ہیں، جہاں ان کے بیٹے کو ایک شیر نے ہلاک کر دیا تھا

بفر اور ماتحت علاقوں کے کئی گاؤوں کی طرح، تقریباً ۳۹۵ لوگوں کی آبادی والا آمگاؤں (مردم شماری ۲۰۱۱)، مہاراشٹر کے دور دراز کے مغربی علاقہ، ودربھ میں انسانوں اور شیر کے درمیان ٹکراؤ کا ایک مرکز بن گیا ہے۔ یہاں ۲۲۵۰۸ مربع کلومیٹر کے علاقہ میں جنگل (۲۰۱۴ کے فاریسٹ سروے آف انڈیا کے ڈیٹا کے مطابق)، چھ ٹائیگر ریزرو اور تین اہم سینکچوری ہیں۔

’’لیکن ماضی میں کبھی بھی ہم نے ایسی آفت نہیں دیکھی تھی،‘‘ آمگاؤں کے سابق سرپنچ، ۶۵ سالہ ببن راؤ ییولے کہتے ہیں۔ ان کا تعلق خانہ بدوش مویشی پرور گوولی (وہ خود کو نند گوولی کہتے ہیں) برادری سے ہے، جو گولاؤ نسل کی دیسی گائے پالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی برادری برسوں سے اپنی گایوں کو چرنے کے لیے جنگلوں میں چھوڑ دیتی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ گوشت خور جانور ان میں سے کچھ کو مار دیں گے۔ ’’شیروں کے لیے کچھ بچھڑے چھوڑ دینے کی ہماری روایت رہی ہے...‘‘ وہ کہتے ہیں۔

نند گوولی سال میں چھ مہینے، گرمیوں سے لے کر دیوالی کے بعد تک، اپنے مویشیوں کو چرنے کے لیے جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں اور روزانہ انھیں دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔ انھیں سردیوں میں واپس گھر تب لایا جاتا ہے، جب گاؤں میں ان کے لیے چارہ اور پانی دستیاب رہتا ہے۔

لیکن بور، جسے پہلے بار جون ۱۹۷۰ میں وائلڈ لائف سینکچوری کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا، جولائی ۲۰۱۴ میں ہندوستان کے ۴۷ویں اور مہاراشٹر کے ۶ویں ٹائیگر ریزرو ہونے کا اعلان کرنے کے بعد اس میں انسانوں کی رہائش اور آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی۔ آمگاؤں چونکہ بفر ژون میں ہے، اس لیے محکمہ جنگلات نے لوگوں کے لیے سخت قانون بنا دیے ہیں، جس میں مویشیوں کی آمد و رفت اور چرنے پر پابندی شامل ہے۔

’’ہمارے اور جنگلوں کے درمیان بقائے باہمی کا رشتہ ہے،‘‘ ییولے کہتے ہیں۔ ’’بور کو ٹائیگر ریزرو ہونے کا اعلان کرنے کے بعد یہ رشتہ ٹوٹ گیا۔‘‘ ہمیں لگتا ہے کہ جنگل اور وائلڈ لائف ہماری ماحولیات کا حصہ نہیں ہیں۔‘‘

شیروں کی بڑھتی آبادی

۲۰۱۴ کے آل انڈیا ٹائیگر ایسٹمیشن سروے (جسے شیروں کی مردم شماری بھی کہا جاتا ہے) سے پتہ چلا کہ ملک میں شیروں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے، ۲۰۱۰ میں یہ تعداد ۱۷۰۶ تھی جو ۲۰۱۴ میں بڑھ کر ۲۲۲۶ ہو گئی۔ شیروں کی تعداد ۲۰۰۶ میں صرف ۱۴۱۱ تھی۔ اس ڈیٹا میں غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والے شیر شامل نہیں ہیں، جیسے کہ بور ریزرو کے ارد گرد رہنے والے شیر، جن کی تعداد ۲۰۱۴ میں آٹھ تھی۔

وزارتِ ماحولیات و جنگلات کے ذریعے ۲۰۱۱ کی ٹائیگر اسٹیمیشن رپورٹ نے وارننگ دی کہ انسانوں اور شیروں کے درمیان ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے، اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ہندوستان بھر میں شیروں کے کل جتنے بھی علاقے ہیں، ان میں سے صرف ۱۰ فیصد علاقے میں ہی افزائش کرنے والے شیر محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ شیروں کی ۲۰۱۸ کی گنتی ابھی جاری ہے اور افسروں کو امید ہے کہ ان کی تعداد اور بڑھی ہوگی، جو انسانوں اور شیروں کے درمیان ٹکراؤ میں اضافہ کا بھی اشارہ ہے۔

شیروں کی بڑھتی آبادی اپنے علاقوں سے نکل کر گاؤوں میں پھیلنے لگی ہے۔ مارچ سے جون ۲۰۱۸ کی ابتدا تک، شیروں کے حملوں میں تیزی آئی – پورے ودربھ میں اسے کم از کم ۲۰ حملے ہوئے۔ یہ سبھی واقعات محفوظ جنگلات کے باہر ہوئے۔ یہ مسئلہ پہلے ناگپور سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر دور، چندرپور ضلع کے تاڈوبا اندھاری ٹائیگر ریزرو (ٹی اے ٹی آر) کے ارد گرد کے علاقوں تک ہی محدود تھے، جو اَب وِدربھ کے دیگر حصوں میں بھی پھیل چکا محسوس ہوتا ہے۔

ٹی اے ٹی آر کے آس پاس کے گاؤوں کے علاوہ، ناگپور ضلع کے شمالی خطے میں واقع جنگلات؛ یوتمال کے گھنے جنگلوں؛ اور وردھا کے بور ٹائیگر ریزرو کے ارد گرد سے شیر کے حملوں کی اطلاع ملی ہے۔ آخری اطلاع حال ہی میں وسط نومبر میں ملی تھی، جب شیر نے برہم پوری شہر کے پاس کے ایک گاؤوں میں ایک ۶۰ سالہ خاتون کو ہلاک کر دیا تھا۔

یہ سبھی حملے کھیتوں میں یا گاؤوں سے سٹے جنگل میں اچانک، حیرت انگیز طریقے سے، چھپ کر کیے گئے تھے۔

PHOTO • Jaideep Hardikar
PHOTO • Jaideep Hardikar

مئی ۲۰۱۸ میں شیر کے حملے کے بعد ہیورا بارسا گاؤں کے کولام آدیواسی کسان، دامو اترام کو سر میں آٹھ اور گردن پر پانچ ٹانکے لگے تھے

مغربی ودربھ میں، یوتمال ضلع کے زری جامنی تعلقہ کے ہیورا گاؤں میں رہنے والے کولام آدیواسی، دامو اترام مئی ۲۰۱۸ میں اپنے کھیت پر کام کر رہے تھے، تبھی ایک شیر نے اُن پر حملہ کر دیا۔ گاؤں کے لوگوں کی مدد سے وہ اس حملے میں بچ گئے اور صرف ان کے سر اور گردن پر چوٹ آئی تھی۔ انھیں وقت پر مدد مل گئی – ان کے سر میں آٹھ اور گردن پر پانچ ٹانکے لگے – اور وہ شیر کی کہانی سننے کے لیے بچ گئے۔ ’’مجھے چکر آتا ہے اور سر بھاری رہتا ہے،‘‘ اترام مجھ سے کہتے ہیں۔ ’’جب میں صبح اپنے کھیت پر کام کر رہا تھا تو وہ پیچھے سے آیا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آس پاس شیر ہے۔ وہ مجھ پر حاوی ہو گیا، لیکن جب میں چیخا تو وہ جھاڑیوں میں بھاگ گیا۔‘‘

یہاں سے کچھ کلومیٹر دور، ناگپور ضلع کے رام ٹیک تعلقہ کے پنڈک پار گاؤں میں ۲۵ سالہ گونڈ آدیواسی کسان، بیرسنگھ بریلال کودوتے ابھی تک شیر کے حملے کو بھول نہیں پائے ہیں۔ مئی کی شروعات میں ایک دن کودوتے اپنے تین سالہ بیٹے ویہان کے ساتھ، موٹر سائیکل سے تیندو کے پتے جمع کرنے کے لیے لمبے سفر پر نکلے، اسے وہ بعد میں سکھا کر بیڑی کے ٹھیکہ داروں کو بیچ دیتے۔ کودوتے بانس اور صنوبر کے گھنے جنگلوں سے گھرے باون تھڈی آبی ذخیرہ کے قریب اپنے کھیت پر رہتے ہیں۔ لیکن انھوں نے کبھی شیر کا سامنا نہیں کیا تھا۔ یہ علاقہ پینچ ٹائیگر ریزرو کے ارد گرد، اور گونڈیا میں نویگاؤں-ناگاجھرا ٹائیگر ریزرو تک پھیلے گلیارے میں ہے۔

’’شیر جنگل میں سڑک کے کنارے ایک پُلیا میں چھپا ہوا تھا۔ جب ہم وہاں سے گزرے، تو وہ ہماری بائک پر کودا اور ہمیں اپنے پنجوں سے مارا۔ ہم خوش قسمت تھے کہ اس کے جبڑے سے بچ گئے،‘‘ بیرسنگھ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’میں حیران رہ گیا، وہ ایک بڑا شیر تھا۔‘‘ دونوں ہی زمین پر گر گئے تھے۔ سنگین طور سے زخمی ہونے کے باوجود وہ کسی طرح اٹھے، اپنی بائک کو پھر سے اسٹارٹ کیا اور اپنے بیٹے کے ساتھ گھر واپس آ گئے۔

باپ بیٹے نے ناگپور کے سرکاری اسپتال میں ایک ہفتہ گزارا۔ جب میں بیرسنگھ سے ملا، تو ان کے زخم تازہ تھے – آنکھیں سوجی ہوئیں اور شیر کے ناخنوں سے ان کا کان چھلا ہوا تھا۔ ان کے چہرے کے بائیں طرف اور سر میں گہرے زخم آئے تھے۔ ویہان کو، اس کی ماں سلوچنا نے بتایا، ’’سر میں آٹھ ٹانکے لگے تھے۔ وہ بچ گیا۔‘‘

شدت اختیار کرتی لڑائی

چندر پور ضلع میں ٹی اے ٹی آر کے آس پاس سندیواہی اور چیمور تعلقہ میں، جنوری ۲۰۱۸ سے ابھی تک شیر کے حملوں میں کم از کم ۲۰ لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جب کہ دیگر کئی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ۲۰۰۴-۲۰۰۵ میں ہونے والی اموات کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ حال کے زیادہ تر حملے جنگلوں کے ارد گرد کے گاؤوں یا ان سے سٹے کھیتوں پر ہوئے ہیں۔

گونڈ آدیواسی کسان مہادیو گوڈام (۶۵)، ۴ جون کو جب اپنے کھیت سے ایندھن کی لکڑی لانے گئے تھے، تو ایک شیر نے ان پر حملہ کر دیا۔ ان کا کھیت جنگل کے ایک حصہ سے سٹا ہوا ہے۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ گوڈام نے شاید درخت پر چڑھنے کی کوشش کی تھی، لیکن ہو سکتا ہے کہ جانور نے انھیں کھینچ کر مار دیا ہو۔

سندیواہی تعلقہ کے مرماڈی گاؤں میں، پانچ مہینے کے اندر یہ دوسری موت تھی۔ جنوری ۲۰۱۸ کو اسی طرح کے ایک حملے میں، ۶۰ سالہ ایک دیگر گونڈ آدیواسی خاتون گیتا بائی پونڈام کی موت ہو گئی تھی، جب وہ ایندھن کی لکڑی جمع کرنے کے لیے جنگل میں گئی تھیں۔

PHOTO • Jaideep Hardikar

مُرماڈی، چندرپور میں رمابائی گوڈام (بیچ میں)۔ ان کے شوہر مہادیو اس گاؤں میں دو مہینے کے اندر ہونے والے شیر کے حملے میں دوسرے شکار تھے

جائے حادثہ گاؤں سے بمشکل ۵۰۰-۸۰۰ میٹر کی دوری پر، سڑک کے اُس پار جنگل کے گھنے حصے میں ہے، جو شیروں کا ایک پتلا گلیارہ فراہم کرتا ہے۔

گوڈام کی موت سے دو ہفتے پہلے، پڑوسی گاؤں کنہی کے جنگل میں شیر کے ذریعے ہلاک کیے گئے ۲۰ سالہ مُکُندا بھینڈارے کی لاش ملی تھی۔ ۶ جون کو، ٹی اے ٹی آر کے شمالی حصہ میں، چیمور تعلقہ میں ایک شیر نے کھیت پر کام کر رہی چار خواتین کے ایک گروپ پر حملہ کر دیا، جس میں سے ایک کی موت ہو گئی اور باقی تین زخمی ہو گئی تھیں۔

’’میرے علاقے میں جنگل کا وہ حصہ جہاں حال کے زیادہ تر حملے ہوئے ہیں، وہاں ۲-۳ نوجوان شیر رہتے ہیں،‘‘ ایک نوجوان فاریسٹ گارڈ، سوپنِل بڈوائک نے مرماڈی کے سفر کے دوران ہمیں بتایا۔ ’’ہم نہیں جانتے کہ انسانوں پر حملہ کرنے والا یہ وہی شیر ہے یا الگ الگ ہیں۔‘‘

یہ تصدیق کرنے کے لیے کہ حملوں میں کتنے شیر شامل تھے، ان کی رال (انسانی جسم سے لی گئی) اور دیگر نمونوں کو سنٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر بایولوجی، حیدرآباد بھیجا گیا ہے، جو انڈین سائٹفک ریسرچ کونسل کا ایک بنیادی ادارہ ہے۔ اگر شیر مسئلہ بنا، تو محکمہ جنگلات عام طور پر اسے مارنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سال سوکھے نے صورتحال مزید بگاڑ دی ہے۔ گرمیوں میں عام طور پر لوگ تیندو کے پتے جمع کرنے جنگل میں جاتے ہیں۔ یہ تب بھی ہوتا ہے جب شیر پانی اور شکار کی تلاش میں گھوم رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ دونوں چیزیں محفوظ علاقے کے باہر نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ اور بڑی تعداد میں نوجوان شیر (جو ابھی تین سال سے کم عمر کے ہیں) اپنا علاقہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

PHOTO • Jaideep Hardikar
PHOTO • Jaideep Hardikar

ناگپور ضلع کے پنڈک پار گاؤں میں اپنے گھر پر بیرسنگھ کودوتے اور ان کا بیٹا، ویہان۔ دونوں ہی شیر کے اچانک حملے کو ابھی تک بھول نہیں پائے ہیں

ٹی اے ٹی آر اب سیاحوں کی توجہ کا مرکز نہیں رہا۔ اپنے علاقے میں انسانوں کی بڑھتی آبادی کے درمیان، جنگلی جانوروں کے وجود کی یہ لڑائی ہر گزرتے سال کے ساتھ ڈرامائی اور خون رنگ اختیار کرتی جا رہی ہے۔

مہاراشٹر میں ۲۰۱۰ سے جولائی ۲۰۱۸ تک، جنگلی جانوروں کے حملوں میں تقریباً ۳۳۰ لوگ مارے گئے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر شیر اور تیندوے کے ذریعے کیے گئے۔ مہاراشٹر کے محکمہ جنگلات کی وائلڈ لائف شاخ کے ذریعے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ۱۲۳۴ لوگ بری طرح زخمی ہوئے اور ۲۷۷۶ لوگوں کو معمولی چوٹ آئی۔ یہ ڈیٹا پوری ریاست سے جمع کیا گیا ہے، لیکن ان میں سے زیادہ تر واقعات ودربھ کے ٹائیگر ریزرو اور سینکچوری کے آس پاس ہوئے ہیں۔

ودربھ میں، اسی مدت میں، منظم گروہوں کے ذریعے کم از کم ۴۰ شیروں کا شکار کیا گیا۔ گزشتہ ۱۰ برسوں میں محکمہ جنگلات کے ذریعے چار ’مسئلہ‘ بن چکے شیروں کو مار دیا گیا، کئی دیگر کو پکڑ کر ناگپور اور چندرپور کے چڑیاگھروں یا حفاظتی مراکز میں بھیج دیا گیا، اور کئی دیگر کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

بکھرتے جنگل، بڑھتا غصہ

اس ٹکراؤ کی دو بنیادی وجہیں ہیں، مہاراشٹر کے پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (وائلڈ لائف) اشوک کمار مشرا کہتے ہیں: ’’ایک طرف، شیروں کی آبادی حال کی تحفظاتی کوششوں کے سبب بڑھ رہی ہے، جس میں منظم شکار پر کڑی نظر رکھنا بھی شامل ہے۔ دوسری طرف، انسانوں کے ذریعے پیدا کردہ اعلیٰ دباؤ ہے، جس میں جنگلات پر بڑھتی انحصاریت اور بڑھتی انسانی آبادی شامل ہے۔‘‘

’’میرے پاس ایسی کوئی جانکاری نہیں ہے کہ شکاریوں کا کوئی منظم گروہ موجود ہے، خاص کر ۲۰۱۳ کے بعد [جب محکمہ جنگلات نے شکاریوں کے خلاف گشت کو تیز کر دیا تھا]،‘‘ ناگپور میں شیروں کے ایک ماہر، نتن دیسائی کہتے ہیں، جو وائلڈ لائف پروٹیکشن سوسائٹی آف انڈیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں پانچ سالوں کے اندر شیروں کو بڑے پیمانے پر غلط طریقے سے نہیں مارا گیا ہے، وہ آگے کہتے ہیں۔ اس سے شیروں کی آبادی کے قدرتی فروغ میں مدد ملی ہے۔

’’ان علاقوں میں پہلے اگر ۶۰ شیر ہوتے تھے، تو اسی علاقے میں آج ۱۰۰ ہوں گے۔ وہ آخر کہاں جائیں گے؟ ہم اسی علاقے میں شیروں کی بڑھتی آبادی کا نظم کیسے کریں گے؟ ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے،‘‘ دیسائی بتاتے ہیں۔

اور انسانوں کے ساتھ شیروں کے ٹکراؤ کو سرحد کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے: ودربھ کے جنگل، بلکہ وسطی ہندوستان کے سبھی جنگل، سڑکوں سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کے سبب تیزی سے منقسم ہو رہے ہیں۔

PHOTO • Jaideep Hardikar
PHOTO • Jaideep Hardikar

بیرسنگھ کے سسر بابولال اترام اور بڑا بیٹا وویک، پنڈک پار گاؤں میں۔ یہ گاؤں ناگپور ضلع کے باون تھڈی باندھ کے قریب ہے، جس کے ارد گرد پینچ ٹائیگر ریزرو سے سٹے جنگل ہیں

مشرا کہتے ہیں کہ شیروں کے علاقے سکڑ گئے ہیں یا بکھر گئے ہیں، جانوروں کے روایتی گلیارے ٹوٹ گئے ہیں، جس سے انھیں گھومنے پھرنے کی کوئی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ ایسے میں آپ ٹکراؤ کے علاوہ اور کیا امید کرتے ہیں؟ مشرا سوال کرتے ہیں۔ ’’اگر ہم نے اپنی کوششوں پر لگام نہیں لگایا، تو یہ اور بھی شدت اختیار کرتا چلا جائے گا۔‘‘

ان کی دلیل، مشرقی ودربھ کے شیروں کے علاقوں میں جنگلات کی تقسیم کو سمجھنے کے لیے، ان کے دفتر کے ذریعہ دہرہ دون کے انڈین وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ سے کرائے گئے مطالعہ پر مبنی ہے۔ یہ پچھلے مطالعوں کی توسیع تھی، جس میں جنگلات کی تقسیم کو شیروں اور وائلڈ لائف پروٹیکشن کے لیے ایک بڑی چنوتی بتایا گیا ہے۔

فاریسٹ فریگمینٹس اِن ایسٹرن ودربھ لینڈاسکیپ، مہاراشٹر – دی ٹِگ-سا پژل نامی رپورٹ جولائی ۲۰۱۸ میں جاری کی گئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس پورے علاقے میں جنگلوں کے صرف چھ حصے ہیں – ہر ایک ۵۰۰ مربع کلومیٹر سے زیادہ – جنہیں شیروں کے رہنے کے لیے موزوں کہا جا سکتا ہے۔ ان میں سے چار گڑھ چرولی میں ہیں، جہاں اب شیروں کی آبادی نہیں ہے، جب کہ پہلے یہ ضلع ٹکراؤ کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

جنگلات کے دیگر زیادہ تر حصے ۵ مربع کلومیٹر سے بھی چھوٹے ہیں اور شیروں کے رہنے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

ہندوستانی برصغیر کے ماحولیاتی علاقے میں، جس میں نیپال اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں، پچھلے مطالعوں نے ۵۹ ’ٹائیگر کنزرویشن یونٹ‘ (ٹی سی یو) کی پہچان کی تھی، جو ۳۲۵۵۷۵ مربع کلومیٹر کے علاقے کا احاطہ کرتی ہے، جن میں سے صرف ۵۴۹۴۵ مربع کلومیٹر (۸۷ء۱۶ فیصد) ہی محفوظ ہیں، ڈبلیو آئی آئی رپورٹ کہتی ہے۔ سینٹرل انڈین لینڈ اسکیپ (سی آئی ایل) میں ٹی سی یو کے ۱۰۷۴۴۰ مربع کلومیٹر شامل ہیں، جن میں سے ۵۹۴۶۵ مربع کلومیٹر اول اور دوئم درجے کے ٹی سی یو ہیں – جو حفاظتی نقطہ نظر سے ترجیحی پناہ گاہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

سی آئی ایل اور مشرقی گھاٹوں کی پہچان، شیروں کے تحفظ کے لیے عالمی ترجیحات والے علاقوں کے طور پر کی گئی ہے، ڈبلیو آئی آئی کی رپورٹ کہتی ہے۔ اس علاقے میں شیروں کی عالمی آبادی کا تقریباً ۱۸ فیصد حصہ رہتا ہے۔ ۲۰۱۶ کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق، ۳۹۰۰ شیر جنگلات میں (اور نامعلوم تعداد قید میں) بچے ہیں۔ وسط ہندوستان میں شیروں کی آبادی زیادہ تر منقسم گلیاروں اور زراعت کے سبب کم ہوئی ہے، ایسا رپورٹ میں کہا گیا ہے۔

ڈبلیو آئی آئی کی رپورٹ کہتی ہے: ’’مشرقی ودربھ میں جنگلات کا کل علاقہ ۲۲۵۰۸ مربع کلومیٹر ہے، جو کہ کل جغرافیائی علاقے کا تقریباً ۳۵ فیصد ہے، جہاں محفوظ علاقے کے اندر اور باہر شیروں کی آبادی تقریباً ۲۰۰ یا اس سے زیادہ ہے۔‘‘ اس علاقے کو ۴۵۷۹۰ لمبی سڑک نے (مارچ ۲۰۱۶ تک) تقسیم کر دیا ہے، جس میں قومی شاہراہ، ریاستی شاہراہ، ضلع کی سڑکیں اور گاؤں کی سڑکیں شامل ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ سڑکوں کے سبب ہوئی تقسیم نے جنگلات کے ۵۱۷ نئے چھوٹے حصے بنائے ہیں جو ایک مربع کلومیٹر سے بھی کم ہیں اور کل ۳۸ء۲۴۶ مربع کلومیٹر علاقے کا احاطہ کرتے ہیں۔‘‘

چندر پور ضلع میں خاص طور سے، بنیادی ڈھانچے میں ترقی دیکھی جا رہی ہے – ودربھ کے باقی حصوں میں بھی یہی ہو رہا ہے۔

PHOTO • Jaideep Hardikar
PHOTO • Jaideep Hardikar

چیتن کھوبراگڑے کے بھائی بہن، چچیرے بھائی اور والدین۔ ان کی موت نے آمگاؤں کے لوگوں کو ایک خوفناک اور سیاہ خاموشی میں مبتلا کر دیا

اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ ودربھ میں سڑکوں کی تعمیر سمیت بنیادی ڈھانچہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے: مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر پھڑنویس ناگپور سے ہیں؛ وزیر برائے مالیات و جنگلات منگنٹی وار چندرپور سے ہیں؛ توانائی کے وزیر چندرشیکھر باون کُلے ناگپور دیہات سے ہیں؛ ٹرانسپورٹ اور جہاز رانی کے مرکزی وزیر نتن گڈکری بھی ناگپور سے ہیں۔

لیکن ان لیڈروں میں سے کسی کو بھی یہ احساس نہیں ہے کہ ترقی سے جنگلی جانوروں کا کتنا نقصان ہو رہا ہے، خاص کر شیروں کو، جنہیں نئے علاقوں کی تلاش میں محفوظ جنگلوں سے باہر نکلنے کے لیے نزدیکی گلیاروں کی ضرورت ہے۔

چار لین والی سیمنٹ کی دو سڑکیں – ایسٹ-ویسٹ چار-لین ہائی وے (این ایچ- ۴۲) اور نارتھ-ساؤتھ گلیارہ (این ایچ- ۴۷) جو ناگپور سے گزرتا ہے، نے ودربھ کے جنگلاتی علاقے کو تقسیم کر دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، مہاراشٹر حکومت چندرپور ضلع میں ٹی اے ٹی آر کے آر پار جانے والی ریاستی شاہراہوں کو چوڑا کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ، گزشتہ ایک دہائی میں بھنڈارا ضلع کے گوسے خورد کے بڑے باندھ سے دائیں جانب کو لگتی ہوئی ۸۰ کلومیٹر لمبی نہر بنائی گئی ہے، جو ٹی اے ٹی آر سے نکلنے والے ایسٹ-ویسٹ گلیاروں کے درمیان سے گزرتی ہوئی مغرب میں نویگاؤں-ناگجھرا ٹائیگر ریزرو تک پھیلی ہوئی ہے۔

’’انسانوں سے زیادہ، ترقیاتی منصوبوں نے ودربھ میں شیر کے قدرتی گلیاروں اور پھیلاؤ والے راستوں کو چھینا ہے،‘‘ چندرپور میں ایکو-پرو نامی ایک این جی او چلانے والے تحفظاتی کارکن، بنڈو دھوترے کہتے ہیں۔

انسانوں کی موت، مویشیوں کی موت اور شیروں کے ساتھ تصادم کی تعداد ویسے تو کاغذ پر تقریباً مستحکم ہے، لیکن زمینی صورتحال بالکل الگ ہے۔ اور عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

مثال کے طور پر، شیر کے حیران کن حملے میں چیتن کھوبراگڑے کی موت کے بعد، ٹائیگر ریزرو کے ارد گرد کے تقریباً ۵۰ گاؤوں میں، محکمہ جنگلات کے خلاف پورے مئی احتجاجی مظاہرہ چلتا رہا۔ سڑکوں پر مظاہرہ ہوا، گاؤوں کے ارد گرد ریلیاں نکالی گئیں اور وردھا شہر میں ڈسٹرکٹ کنزرویٹر کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ گاؤوں والوں کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ انھیں ٹائیگر ریزرو سے دور، کہیں اور بسایا جائے۔

تاڈوبا اندھاری ٹائیگر ریزرو کے ارد گرد بھی لمبے عرصے سے اسی طرح کا احتجاجی مظاہرہ چل رہا ہے۔ انسانوں اور شیروں کی یہ لڑائی جاری ہے، جس کا کوئی خاتمہ نہیں دکھائی دے رہا ہے۔

اس مضمون کے دیگر ایڈیشن بنیادی طور پر مونگابے اور بی بی سی مراٹھی پر جولائی ۲۰۱۸ میں شائع کیے گئے تھے۔

اس سیریز کے دیگر مضامین:

ٹی- ۱ شیرنی کے علاقے میں: ہلاکت کی سرگزشت

’میں جب انھیں گھر واپس دیکھتی ہوں، تو شیر کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘

شیرنی ٹی- ۱ کے حملوں اور دہشت کے نشان

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar