’’میں نے کموت کو اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تھا۔ آپ اس کے دانتوں کے نشان کو اب بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ نیتائی جودّار، جو کہ ایک مَولی (شہد جمع کرنے والے) ہیں، اس دن کو صحیح صحیح یاد کرتے ہیں، جب ایک کموت (مگرمچھ) نے انھیں کولہے سے لے کر ٹانگ تک کاٹ لیا تھا۔ وہ تاریخ ۲۳ مارچ، ۱۹۸۰ تھی، جب وہ مچھلی پکڑنے کے لیے رائے منگل ندی گئے ہوئے تھے۔

نیتائی مغربی بنگال کے شمالی ۲۴ پرگنہ ضلع کے ہیم نگر گاؤں کے رہنے والے ہیں اور ۴۱ سال کے ہو چکے ہیں۔ وہ جب ۱۰ سال کے تھے، تبھی سے ان کے والد، جو خود بھی شہد جمع کیا کرتے تھے، جنگل میں کام کرنے جاتے وقت انھیں اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ کموت نے جب کاٹ لیا، تو اس کے بعد نیتائی نے حفاظت کے طور پر ایک تعویذ باندھنا شروع کر دیا۔ سُندر بن میں کئی جگہوں پر ندیوں کے کنارے اکثر و بیشتر مگرمچھوں سے سامنا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ، خاص طور پر مچھلی پکڑنے والے، یا تو زخمی ہوئے ہیں یا پھر ہلاک ہوئے ہیں۔


02-one(Crop)-US-The Sting of Bees and the Tyranny of Tigers.jpg

نیتائی جودّار نے یہ تعویذ تب سے باندھنی شروع کردی جب ایک مگرمچھ نے انھیں کاٹ لیا تھا، انھیں اس پر پورا اعتماد ہے کہ یہ تعویذ انھیں سُندر بن کے جنگلوں میں آفات سے بچائے گی


سُندر بن کے جنگلوں میں فروخت کرنے کے لیے شہد جمع کرنا لوگوں کا ایک عام پیشہ ہے، اور یہ کافی خطرناک ہو سکتا ہے۔ نیتائی اور دیگر افراد کے لیے، ٹھیک ویسا ہی جیسے مگرمچھ نے اصلی حملہ کر دیا تھا، مچھلی مارتے وقت یا پھر گھنے جنگلوں میں شہد جمع کرتے وقت چیتوں کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ ڈپارٹمنٹ آف سُندربن افیئرس کی ویب سائٹ کے مطابق، ۔۔۔ سندربن میں لوگوں پر جنگلی جانور حملہ کر دیتے ہیں، جیسے شارک، مگرمچھ، یا چیتے۔۔۔۔ خاص کر تب، جب ماہی گیر یا شہد جمع کرنے والے گھنے اور سبز جنگلوں میں داخل ہوتے ہیں۔۔۔‘‘ ظاہر ہے، عورتوں پر بھی اس قسم کے خطروں کا اتنا ہی خطرہ بنا رہا تہے، حالانکہ عام طور پر وہاں کی کمیونٹی عورتوں کو لمبے دنوں تک شہد جمع کرنے کے سفر پر انھیں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔

سُندربن میں شہد عام طور پر اپریل سے جون تک جمع کیا جاتا ہے۔ ان مہینوں میں، حکومت مچھلی پکڑنے پر پابندی عائد کر دیتی ہے، تاکہ مچھلیاں خود کو کھا پی کر موٹی کر سکیں۔ یہی وہ دور ہوتا ہے، جب ماہی گیر شہید جمع کرنے والے بن جاتے ہیں اور جنگلوں کے لمبے سفر پر نکل جاتے ہیں، بعض دفعہ ۱۵ دنوں کے لیے یا اس سے بھی زیادہ۔ مغربی بنگال وہ ریاست ہے، جہاں شہد بڑی مقدار میں ملتا ہے اور اس سے بنی ہوئی اشیاء بھاری مقدار میں ایکسپورٹ بھی کی جاتی ہیں۔

شہد جمع کرنے سے پہلے کافی تیاریاں کرنی پڑتی ہیں۔ شہد جمع کرنے والے محکمہ جنگلات کو اس کی اطلاع دیتے ہیں، ایسی کشتی کرایے پر لیتے ہیں جس کے مالک کے پاس بی ایل سی (بوٹ لائسنس سرٹیفکیٹ) ہو اور مہاجن سے قرض لیتے ہیں۔ نیتالی کا بیٹا، ۲۳ سالہ سنجیت جودّار اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’اگر پانچ یا چھ لوگ ایک ساتھ شہد جمع کرنے کے لیے جاتے ہیں، تو ہم اس کے لیے ۱۰ سے ۱۵ ہزار روپے کا قرض لیتے ہیں۔ یہ پیسہ ہمیں ۲ سے ۳ فیصد شرحِ سود پر ملتا ہے، جسے ہمیں بنیادی رقم کے ساتھ جوڑ کر ۳۰ سے ۴۵ دنوں کے اندر واپس لوٹانا پڑتا ہے۔ یہ قرض سال میں ایک بار لیا جاتا ہے۔‘‘


03-four-US-The Sting of Bees and the Tyranny of Tigers.jpg

سندر بن کے مَولی (دائیں سے بائیں): نیتائی جودّار، بِنے مونڈل اور ہریپد جودّار


قرض کی ضرورت ۱۵ دنوں کے لیے اشیاءِ ضروریہ کا انتظام کرنے کے لیے پڑتی ہے۔ شہد جمع کرنے کے موسم میں (اپریل سے جون تک کے ۶۰ دنوں کے لیے) کشتی کے لیے ۲۸۰۰ سے ۳۰۰۰ روپے تک کرایہ دینا پڑتا ہے۔ کشتی کے مالک کو کچھ شہد بھی دینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلات کو سالانہ ۱۲۰ روپے انشورنس کے طور پر ادا کرنا پڑتا ہے کہ جنگل میں کہیں کوئی ناگہانی حادثہ نہ ہو جائے۔ تمام قرض و ادائیگی کے بعد، ہر ایک مَولی کی کمائی (پورے ایک سیزن میں) ۱۵ ہزار سے ۲۵ ہزار روپے کی ہو جاتی ہے۔

بعض دفعہ مَولیوں کو دیگر اخراجات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں: مثال کے طور پر جنگل کے ڈکیت ان کے سامان کی چوری کر لیتے ہیں یا کبھی کبھار انھیں اغوا بھی کر لیتے ہیں۔ نیتائی اسی طرح کا ایک واقعہ یاد کرتے ہیں جب پچھلے سال چند آدمیوں کا اغوا کر لیا گیا تھا، جنہیں چھڑانے کے لیے ان کے گھر والوں کو ۲ سے ۳ لاکھ روپے تک جمع کرنے پڑے تھے۔

’’ہم اپنا سفر تب شروع کرتے ہیں، جب آسمان پوری طرح صاف ہو اور ندی میں پانی کا اتار چڑھاؤ کم ہو،‘‘ نیتائی بتاتے ہیں۔ ’’مدوجزر کے حساب سے، ہمیں اپنی منزل تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ہم کشتی کو چھوڑ کر جنگل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک آدمی کشتی کو کنارے لگانے کے لیے وہیں رک جاتا ہے۔ جب کچھ شہد جمع ہوجاتا ہے، تو اسے لاکر کشتی میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ہم کشتی میں کھاتے اور سوتے ہیں۔‘‘

شہد کی مکھیاں جس سمت میں اڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، اس کو دیکھ کر مَولی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ شہد کا چھتہّ کس درخت پر کہاں ہوگا۔ ’’ہم خشک پتیوں اور ہری ہیتل پتیوں کو ملا کر ایک بنڈل بناتے ہیں اور اسے ڈنڈے سے باندھ دیتے ہیں،‘‘ نیتائی بتاتے ہیں۔ ’’اس کے بعد ہمیں اس بنڈل کو جلاتے ہیں، جس کے دھوئیں سے چھتّہ پر بیٹھی مکھیاں اڑ جاتی ہیں۔ چھتّہ کو توڑنے کے لیے ہنسیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم پورے چھتّے کو کبھی نہیں توڑتے، تھوڑا سا چھوڑ دیتے ہیں، تاکہ یہ دوبارہ بن سکے۔‘‘


04-US-The Sting of Bees and the Tyranny of Tigers.jpg

ہیم نگر گاؤں میں ایک درخت پر شہد کا چھتّہ اور شہد کے چھتّہ کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جانے والا ہنسیا


بعض دفعہ شہد کی مکھیوں کو پہلے ہی اس کا علم ہو جاتا ہے اور وہ دھنواں اٹھنے سے پہلے ہی کاٹنا شروع کر دیتی ہیں۔ لیکن نیتائی اور ان کے دیگر ساتھی ان سے بچنے کے لیے کوئی تیل یا کپڑے وغیرہ کا استعمال نہیں کرتے۔ ’’ہم صرف ان مکھیوں کے ڈَنک کو ہاتھ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اگر کسی کو ۳۰۰ سے ۴۰۰ مکھیاں کاٹ لیں، تو وہ ہفتوں تک نہ تو کھڑا ہو سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کھا پی سکتا ہے!‘‘

نیتائی کا دو چیزیں میں پختہ عقیدہ ہے: اپنی تعویذ پر اور ’بون بی بی‘ پر، سُندر بن کی نہایت ہی قابل احترام دیوی، جو جنگلوں اور وہاں کے عوام کی حفاظت کرتی ہیں۔ ’’حالات کی سنگینی کے مد نظر اس دیوی کو خوش کرنے کے لیے کئی دعائیں ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ہم ان سے ایسی ہی ایک دعا (منتر) سنانے کے لیے کہتے ہیں؛ وہ ایک سانس میں بنگالی زبان میں ہمیں وہ دعا سنا دیتے ہیں، جو شہد جمع کرنے والے جنگل سے واپس اپنے گھروں کو جاتے وقت پڑھتے ہیں۔

جیسا کہ سُندر بن میں اکثر ہوتا ہے، بات چیت چیتوں کے متعلق ہونے لگتی ہے۔ اور ہر کسی کے پاس اس کے بارے میں کوئی نہ کوئی سنانے کی ضرور ہوتی ہے۔ ’’ایک بار چیتا نے میرے دوست کو گھیر لیا اور وہ خوف سے کانپنے لگا،‘‘ نیتائی یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ ’’میں نے بون بی بی کو خوش کرنے کے لیے کچھ منتر پڑھے، لیکن وہ اسے نہیں بچا سکیں اور چیتا نے میرے دوست کو مار دیا۔ میں نے اس کی لاش تلاش کی اور اسے اٹھا کر اس کے گھر لے گیا۔ کئی سال پہلے تقریباً ۱۵۰ سے ۲۰۰ لوگوں نے جنگل میں چیتا کو گھیر لیا۔ اس کے باوجود چیتا نے ایک یا دو آدمیوں کو مار دیا۔‘‘

ایک وقت تھا، جب سرکار چیتے مارنے والوں کو انعام سے نوازتی تھی، وہ بتاتے ہیں۔ ’’لیکن اب، کوئی چیتا کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، کیوں کہ یہ قانوناً منع ہے۔‘‘ نیتائی، سُندر بن میں رہنے والے دیگر لوگوں کی طرح ہی، یہ سوچتے ہیں کہ ریاست اب عوام سے زیادہ چیتوں کی حفاظت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ’’ہم جنگل میں بھی نہیں جا سکتے، اگر ہمارے جانے سے چیتوں کی نیند میں خلل پڑتا ہو،‘‘ وہ ہنسی اڑاتے ہوئے کہتے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ چیتوں کی بڑی اہمیت ہے اور وہ مقامی فاریسٹ پروٹیکشن کمیٹی کا حصہ ہیں، جو کہ حکومت کی جنگلات کے مینجمنٹ کی ایک حکمت عملی ہے۔ ’’اگر چیتے ختم ہوگئے، تو سُندربن بھی ختم ہو جائے گا۔ ویسی صورت میں کوئی بھی جنگلات میں داخل ہونے اور اسے برباد کرنے کو بچا نہیں پائے گا۔‘‘

ہم نیتائی کے چھوٹے اور خستہ گھر کو دیکھنے جاتے ہیں، جہاں وہ شہد کو المونیم کی دیغ میں جمع کرکے فرش پر رکھے ہوئے ہیں۔ ’’شہد کا رنگ اور ذائقہ اس بات پر منحصر ہے کہ کس درخت یا پھولوں ۔ کیوڑا، گوران، کھولسی ۔ سے وہ بن کر تیار ہوا ہے۔ لیکن آپ کا کاروباری شہد سال بھر ایک جیسا دکھائی دیتا ہے اور اس کا ذائقہ بھی ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔


05-three-US-The Sting of Bees and the Tyranny of Tigers.jpg

شہد کو المونیم کی ایک دیغ میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس کا رنگ اور ذائقہ درختوں، پھولوں اور موسم کے حساب سے الگ الگ ہوتا ہے، جو کہ اس شہد سے مختلف ہے جو بازار میں سال بھر ملتا ہے اور جس کا رنگ اور ذائقہ ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے


عام طور پر ۱۵ دنوں کے سفر میں ۷۔۶ لوگوں کا ایک گروپ شامل ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک تقریباً ایک سے ڈیڑھ کوئنٹل شہد جمع کر لیتا ہے۔ ان مَولیوں کو اس بات کے لیے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ سرکار کے ذریعہ طے شدہ قیمت پر اپنے ذریعہ جمع کی گئی پوری شہد محکمہ جنگلات کو فروخت کر دیں۔ سنجیت بتاتے ہیں کہ اس سال اس کی قیمت ۱۱۵ روپے فی کلو طے کی گئی ہے، جب کہ اگست ۲۰۱۶ میں محکمہ جنگلات نے شہد کو بازار میں ۳۰۰ روپے فی کلو کے حساب سے بیچا ہے۔ ویسٹ بنگال فاریسٹ ڈیولپمنٹ کوآپریشن لمیٹڈ اس شہد کو بازار میں ’موبن برانڈ‘ کے نام سے بیچتا ہے۔

اس سال، محکمہ جنگلات نے مَولیوں کے لیے ایک کوٹہ طے کر دیا ہے کہ وہ کتنی شہد اسے بیچیں گے، یعنی اب انھیں اپنے ذریعہ جمع کی گئی پوری شہد محکمہ جنگلات کو نہیں بیچنی پڑے گی۔ ’’انھوں نے ہماری فیملی سے شہد نہیں خریدا، کیوں کہ محکمہ نے شہد خریدنے کا جو کوٹہ طے کیا تھا، وہ پہلے ہی پورا ہو گیا تھا،‘‘ سنجیت بتاتے ہیں۔ اب وہ اور ان کی فیملی نے بچی ہوئی شہد کو خود ہی بیچنے کا ارادہ کیا ہے۔ ’’ہم نے ۸۰ سے ۹۰ کلو شہد جمع کی اور پڑوسی گاؤں کے علاقے میں اسے بیچنے کے لیے ۲۰۰ سے ۲۵۰ روپے فی کلو قیمت طے کی ہے۔ کولکاتا میں ہمیں اس کی اس سے بھی زیادہ قیمت مل سکتی ہے۔‘‘

سنجیت کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کے برسوں میں، ’’ہم صرف پانچ کلو شہد اپنے گھر لے جاسکتے تھے۔ باقی شہد کو ہمیں محکمہ جنگلات کے پاس جمع کرانا پڑتا تھا۔ وہ ہماری کشتی کی تلاشی لیتے تھے کہ ہم نے کہیں شہد چرا کر تو نہیں رکھ لی۔ اگر ہم بازار میں شہد بیچتے ہوئے پکڑے جاتے، تو ہماری کشتیاں ضبط کر لی جاتی تھیں۔‘‘

حالانکہ سنجیت، اپنے والد کی طرح ہی، ماہی گیری اور شہد جمع کرنے کا کام کرتے ہیں، لیکن سال میں ۳۔۲ مہینے مکانوں کی تعمیر میں مزدور کے طور پر کام کرنے کے لیے بنگلور اور چینئی کا سفر کرتے ہیں، جہاں وہ روزانہ ۳۵۰ سے ۴۰۰ روپے کما لیتے ہیں۔ ’’میرے والد اور ان کے دوستوں نے صرف سُندر بن میں کام کیا ہے۔ انھیں جنگل سے محبت ہو گئی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جنگل کے بغیر انھیں چین نہیں ملتا۔ میری نسل کے لوگ کام کی تلاش میں بدیش (باہر) جاتے ہیں۔ ہم اپنی فیملی کا پیٹ بھلا مچھلی پکڑ کر اور شہد جمع کرکے کیسے بھر سکتے ہیں؟‘‘

سنجیت کو اپنی فیملی کی کمائی میں ہاتھ بٹانے کے لیے بی اے کی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑنی پڑی۔ اب ان کے پاس ایک ۱۸ مہینے کا بیٹا ہے، جسے وہ پڑھانا چاہتے ہیں۔ ’’میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا جنگلوں میں جائے۔ بہت ہی خطرناک جگہ ہے یہ۔‘‘

لیکن نیتائی کا ماننا ہے کہ جو لوگ باہر جاتے ہیں وہ خوش نہیں ہیں، کیوں کہ بڑے شہروں میں دھوکہ کھانے اور قتل کیے جانے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ان کی نظر میں، سُندر بن میں کام کرتے وقت جو خطرات درپیش ہوتے ہیں، وہ شہروں کے مقابلے کہیں کم ہیں۔


06-seven-US-The Sting of Bees and the Tyranny of Tigers.jpg

۴۱ سالہ نیتائی جودّار، جنہوں نے اپنے والد، جو خود بھی ایک شہد جمع کرنے والے ہیں، کے ساتھ جنگلوں میں تین دہائی قبل جانا شروع کر دیا تھا


سال ۲۰۱۵ میں، ترنمول کی رکن پارلیمنٹ، پرتیما منڈل نے لوک سبھا میں ان خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے سُندر بن کے شہد جمع کرنے والوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بتایا تھا۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے حفاظتی اقدام کرنے اور ان کے لیے پیسہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ابھی یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ اس کا کوئی اثر ہوا بھی یا نہیں، لیکن پچھلے برسوں میں چند اقدامات ضرور کیے گئے ہیں۔ دکشن بنگا متسیہ جیبی فورم (جنوبی بنگال کے ماہی گیروں کا پلیٹ فارم) کے صدر، پردیپ چٹرجی بتاتے ہیں، ’’کچھ بہتری آئی ہے۔ چار سال پہلے، محکمہ جنگلات مَولیوں کو ایک کلو شہد کے صرف ۴۲ روپے دیتا تھا؛ اب یہ قیمت فی کلو ۱۰۰ روپے سے بھی زیادہ ہے، اور اب وہ بچی ہوئی شہد کو بازار میں بیچنے کے لیے بھی آزاد ہیں۔ پہلے یہ محکمہ شہد جمع کرنے کے لیے صرف ۱۵ دنوں کا ایک پاس دیا کرتا تھا، اب ایسے دو پاس دیے جاتے ہیں۔‘‘

تاہم، وہ کہتے ہیں، ان کامگاروں کی حفاظت کے لیے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ ’’ان کی انفرادی حفاظت یا گروپ کے طور پر ان کی حفاظت کا ابھی تک کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ اور اسی لیے، نیتائی جیسے لوگ بغیر کسی تحفظاتی اقدام کے گھنے اور خطرناک جنگلوں میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Urvashi Sarkar
urvashisarkar@gmail.com

اُروَشی سرکار ایک آزاد صحافی اور ۲۰۱۶ کی پاری فیلو ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @storyandworse

Other stories by Urvashi Sarkar