توتوکُڈی شہر کی سڑکوں پر جب لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی – جیسا کہ انہوں نے تمل ناڈو کے کئی حصوں میں بھی کیا – تو ایک چھوٹا سا لڑکا ان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے دوڑا ہوا آیا۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ بھی مظاہرہ کا حصہ بن گیا اور سخت گیر نعرے لگانے لگا۔ ’’آج آپ اسے نہ تو جان سکتے ہیں، نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں،‘‘ وہ ہم سے کہتے ہیں۔ ’’لیکن بھگت سنگھ کی پھانسی تمل ناڈو میں جدوجہد آزادی کے لیے ایک جذباتی موڑ ثابت ہوئی۔ لوگوں کے حوصلے پست ہو گئے تھے اور وہ آنسو بہا رہے تھے۔

’’میں صرف ۹ سال کا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

آج، وہ ۹۹ سال کے ہو چکے ہیں (۱۵ جولائی، ۲۰۲۰)، لیکن اس آگ اور جذبے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس نے انہیں مجاہد آزادی، زیر زمین انقلابی، قلم کار، مقرر اور سخت گیر دانشور بنایا۔ وہ شخص، جو ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو انگریزوں کی جیل سے باہر نکلا۔ ’’اس دن، جج سنٹرل جیل میں آئے اور ہمیں رہا کر دیا۔ ہمیں مدورئی سازش کیس میں بری کر دیا گیا تھا۔ میں مدورئی سنٹرل جیل سے باہر آیا اور جشن آزادی کے جلوس میں شامل ہو گیا۔‘‘

اپنی عمر کے ۱۰۰ویں سال میں داخل ہو چکے، این شنکریہ دانشورانہ طور پر سرگرم رہتے ہیں، ابھی بھی تقریریں اور خطاب کرتے ہیں اور، ۲۰۱۸ کے آخر میں انہوں نے تمل ناڈو کے ترقی پسند مصنفین اور فنکاروں کی محفل کو مخاطب کرنے کے لیے چنئی کے کروم پیٹ واقع اپنے گھر سے – جہاں ہم ان کا انٹرویو کر رہے ہیں – مدورئی تک کا سفر کیا تھا۔ جو شخص ہندوستان کی جنگ آزادی میں شامل ہونے کے سبب کبھی گریجویٹ نہیں بن پایا، اس نے کئی سیاسی کتابیں، کتابچے، پرچے اور صحافتی مضامین لکھے ہیں۔

نرسمہالو شنکریہ حالانکہ امیریکن کالج، مدورئی سے تاریخ میں بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن ۱۹۴۱ میں اپنے آخری امتحان سے صرف دو ہفتے پہلے غائب ہو گئے۔ ’’میں کالج کی اسٹوڈنٹ یونین کا جوائنٹ سکریٹری تھا۔‘‘ اور ایک تیز دماغ والے طالب علم جنہوں نے کیمپس میں شعری سوسائٹی قائم کی، اور فٹ بال میں کالج کی نمائندگی کی۔ وہ اس وقت کی برطانوی حکومت مخالف تحریکوں میں کافی سرگرم تھے۔ ’’اپنے کالج کے دنوں میں، میں نے بائیں محاذ کے نظریات والے کئی لوگوں کے ساتھ دوستی کی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ ہندوستان کی آزادی کے بغیر سماجی اصلاح کا کام پورا نہیں ہوگا۔‘‘ ۱۷ سال کی عمر میں، وہ ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (جس پر اس وقت پابندی لگا دی گئی تھی اور جو زیر زمین تھی) کے رکن تھے۔

وہ امیریکن کالج کے مثبت ہونے کے نظریہ کو یاد کرتے ہیں۔ ’’ڈائرکٹر اور کچھ اساتذہ امریکی تھے، باقی تمل تھے۔ ان سے غیر جانبدار رہنے کی امید کی جاتی تھی، لیکن وہ انگریزوں کے حامی نہیں تھے۔ وہاں پر طالب علموں کی سرگرمی کی اجازت تھی...‘‘ ۱۹۴۱ میں، انگریز مخالف مظاہروں میں شریک ہونے کے لیے، انا ملائی یونیورسٹی کی ایک طالبہ میناکشی کی گرفتاری کی مذمت کرنے کے لیے مدورئی میں ایک میٹنگ بلائی گئی۔ ’’اور ہم نے ایک پرچہ جاری کیا۔ ہمارے ہاسٹل کے کمروں پر چھاپہ مارا گیا، اور نارائن سوامی (میرے دوست) کو ایک پرچہ رکھنے کے سبب گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں ہم نے ان کی گرفتاری کی مخالفت کرنے کے لیے ایک احتجاجی میٹنگ بلائی...

ویڈیو دیکھیں: شنکریہ اور ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد

’’اس کے بعد، انگریزوں نے ۲۸ فروری ۱۹۴۱ کو مجھے گرفتار کر لیا۔ یہ میرے آخری امتحان سے ۱۵ دن پہلے ہوا۔ میں کبھی واپس نہیں آیا، کبھی بی اے پورا نہیں کر پایا۔‘‘ اپنی گرفتاری کے لمحات کے بارے میں بتاتے ہوئے، دہائیوں بعد وہ کہتے ہیں، ’’مجھے ہندوستان کی آزادی کے لیے جیل جانے، جدوجہد آزادی کا حصہ بننے پر فخر تھا۔ میرے دماغ میں یہی واحد خیال تھا۔‘‘ کریئر کے برباد ہو جانے کے بارے میں کچھ نہیں۔ یہ اس وقت کے سخت گیر نوجوانوں کے پسندیدہ نعروں میں سے ایک تھا: ’’ہم نوکری نہیں تلاش کر رہے؛ ہم آزادی تلاش کر رہے ہیں۔‘‘

’’مدورئی جیل میں ۱۵ دن گزارنے کے بعد، مجھے ویلور جیل بھیج دیا گیا۔ اس وقت تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالہ کے کئی لوگوں کو وہاں حراست میں رکھا گیا تھا۔

’’کامریڈ اے کے گوپالن [کیرالہ کے کمیونسٹ پارٹی کے ایک بڑے لیڈر] کو تریچی میں ایک پروگرام منعقد کرنے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی پروگرام کے دوران کیرالہ کے کامریڈ اِمبیچی باوا، وی سبّیا، جیونندم کو بھی گرفتار کیا گیا۔ وہ سبھی ویلور کی جیل میں موجود تھے۔ مدراس حکومت ہمیں دو گروہوں میں تقسیم کرنا چاہتی تھی، جن میں سے ایک کو ’سی‘ درجہ کا راشن ملتا، جو وہ صرف مجرم قرار دیے جا چکے قیدیوں کو دیتے تھے۔ ہم نے اس نظام کے خلاف ۱۹ دنوں کی بھوک ہڑتال کی۔ ۱۰ویں دن، انہوں نے ہمیں دو گروہوں میں بانٹ دیا۔ میں تب صرف ایک طالب علم تھا۔‘‘

جیل کا انسپکٹر جنرل کافی حیران ہوا جب شنکریہ کی جیل کوٹھری میں پہنچنے پر اس نے پایا کہ وہ میکسم گورکی کا ناول، ماں، پڑھ رہے ہیں۔ ’’’دسویں دن جب کہ تم بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہو، تم لٹریچر پڑھ رہے ہو – گورکی کی ماں!‘ اس نے پوچھا،‘‘ شنکریہ کہتے ہیں، اس واقعہ کو یاد کرکے ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔

اس وقت کچھ دیگر مشہور ہستیوں کو بھی گرفتار کرکے انہیں ایک الگ جیل میں رکھا گیا تھا، جن میں شامل تھے ’’کامراجر [کے کامراج، مدراس ریاست، اب تمل ناڈو، کے آنجہانی وزیر اعلیٰ – ۱۹۵۴ سے ۱۹۶۳ تک]، پٹّابھی سیتا رمیا [آزادی کے فوراً بعد کانگریس کے صدر]، اور بھی کئی لوگ۔ حالانکہ، وہ دوسرے یارڈ، دوسری جیل میں تھے۔ کانگریسیوں نے بھوک ہڑتال میں حصہ نہیں لیا۔ وہ کہتے تھے: ’ہم مہاتما گاندھی کی صلاح سے بندھے ہوئے ہیں‘۔ جو یہ تھی: ’جیل میں کوئی ہنگامہ مت کرو‘۔ حالانکہ، سرکار نے کچھ رعایتیں دیں۔ ہم نے ۱۹ویں دن اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔‘‘

PHOTO • S. Gavaskar

اوپر بائیں: شنکریہ ۱۹۹۰ کی دہائی کے وسط میں اپنی پارٹی کی ریاستی کمیٹی کے دفتر میں۔ اوپر دائیں: ۱۹۸۰ کی دہائی میں اپنے پرانے ساتھی پی رام مورتی کے ذریعے مخاطب کی جانے والی ایک مجلس میں [پہلا شخص، سامنے والے کونے میں]۔ نیچے کی قطار: ۲۰۱۱ میں چنئی میں بدعنوانی مخالف ریلی سے خطاب کرتے ہوئے

ایشوز پر اپنے مضبوط اختلافات کے باوجود، شنکریہ کہتے ہیں، ’’کامراجر کمیونسٹوں کے بہت اچھے دوست تھے۔ جیل میں کمرہ شیئر کرنے والے مدورئی اور تیرونیل ویلی کے ان کے ساتھی بھی کمیونسٹ تھے۔ میں کامراجر کے بہت قریب ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ ہو رہی بد سلوکی میں ایک سے زیادہ بار مداخلت کی اور اسے دور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ظاہر ہے، جیل میں [کانگریسیوں اور کمیونسٹوں کے درمیان] کافی بحث ہوا کرتی تھی، خاص کر جب جرمن-سوویت جنگ چھڑ گئی تھی۔

’’کچھ دنوں بعد، ہم میں سے آٹھ کو راج مُندری [اب آندھرا پردیش میں] جیل میں منتقل کر دیا گیا اور وہاں ایک الگ یارڈ میں رکھا گیا۔‘‘

’’اپریل ۱۹۴۲ میں، سرکار نے میرے علاوہ سبھی طالب علموں کو رہا کر دیا۔ ہیڈ وارڈن نے آکر پوچھا: ’شنکریہ کون ہے؟‘ اور پھر ہمیں اطلاع دی کہ سبھی کو چھوڑ دیا جائے – میرے علاوہ۔ ایک مہینہ تک، میں اکیلا جیل میں تھا اور پورے یارڈ میں تنہا تھا!‘‘

ان پر اور دیگر لوگوں پر کیا الزامات تھے؟ ’’کوئی باضابطہ الزام نہیں، صرف حراست۔ ہر چھ مہینے میں وہ تحریری نوٹس بھیجتے، جس میں درج ہوتا کہ آپ کو کس وجہ سے یہاں رکھا گیا ہے۔ اسباب یہ ہوتے تھے: ملک سے غداری، کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیاں وغیرہ۔ ہم ایک کمیٹی کو اس پر اپنا ردِ عمل پیش کرتے – اور وہ کمیٹی اسے خارج کر دیتی۔‘‘

اتفاق سے، ’’میرے دوست جو راج مندری جیل سے رہا کر دیے گئےتھے، وہ کامراجر سے راج مندری اسٹیشن پر ملے – وہ کلکتہ [کولکاتا] سے لوٹ رہے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ مجھے رہا نہیں کیا گیا ہے، تو انہوں نے مدراس کے چیف سکریٹری کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ مجھے ویلور جیل منتقل کر دیا جائے۔ انہوں نے مجھے بھی ایک خط لکھا۔ مجھے ایک مہینہ بعد ویلور جیل منتقل کر دیا گیا – جہاں میں ۲۰۰ دیگر ساتھیوں کے ساتھ رہا۔‘‘

مختلف جیلوں کے اپنے لگاتار سفر کے دوران ایک جیل میں شنکریہ کی ملاقات ہندوستان کے آئندہ ہونے والے صدر، آر وینکٹ رمن سے بھی ہوئی۔ ’’وہ جیل میں ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تھے، ۱۹۴۳ میں اس کے رکن تھے۔ بعد میں، ظاہر ہے، وہ کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئے۔ بہرحال، ہم نے کئی برسوں تک ان کے ساتھ کام کیا۔‘‘

PHOTO • M. Palani Kumar ,  Surya Art Photography

توتوکُڈی شہر کا اسکول (بائیں) جہاں سے شنکریہ نے ۵ویں کلاس تک تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے مدورئی کے سینٹ میری (درمیان میں) سے اسکولی تعلیم مکمل کی۔ اور پھر امیریکن کالج (دائیں)، مدورئی سے بی اے کرنے چلے گئے، جسے انہوں نے کبھی پورا نہیں کیا۔ آخری امتحان سے ۱۵ دن پہلے، انہیں جیل میں بند کر دیا گیا تھا

امیریکن کالج میں شنکریہ کے کئی ہم عصر – اور طلبہ کی تحریکوں میں سے کئی – گریجویشن کرنے کے بعد اہم شخص بنے۔ ایک تمل ناڈو کے چیف سکریٹری بنے، دوسرے جج، تیسرے آئی ایس افسر، جو کئی دہائی قبل ایک وزیر اعلیٰ کے سکریٹری تھی۔ شنکریہ آزادی کے بعد بھی جیلوں اور قید خانوں کے لگاتار چکر لگاتے رہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے انہوں نے جن جیلوں کو اندر سے دیکھا، ان میں شامل ہیں – مدورئی، ویلور، راج مندری، کنور، سلیم، تنجاوُر...

۱۹۴۸ میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگنے کے بعد، وہ ایک بار پھر زیر زمین ہو گئے۔ انہیں ۱۹۵۰ میں گرفتار کیا گیا اور ایک سال بعد رہا کر دیا گیا۔ ۱۹۶۲ میں، ہند-چین جنگ کے وقت، وہ جیل میں بند کئی کمیونسٹوں میں سے ایک تھے – جب انہیں ۷ مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا تھا۔ ۱۹۶۵ میں کمیونسٹ تحریک پر ایک اور چھاپہ ماری کے دوران، انہوں نے ۱۷ مہینے جیل میں گزارے۔

آزادی کے بعد جن لوگوں نے انہیں نشانہ بنایا ان کے تئیں تلخی کی زبردست کمی ہے۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے، وہ سیاسی لڑائیاں تھیں، ذاتی نہیں تھیں۔ اور ان کی لڑائی کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ زمین کو بچانے کے لیے تھی اور آج بھی ہے۔

ان کے لیے انقلابی تبدیلی، یا جنگ آزادی کے قابل ذکر لمحے کیا تھے؟

’’بھگت سنگھ کی پھانسی [۲۳ مارچ، ۱۹۳۱]، ظاہر ہے، انگریزوں کے ذریعے۔ انڈین نیشنل آرمی [آئی این اے] کی آزمائش جو ۱۹۴۵ سے شروع ہوئی، اور رائل انڈین نیوی [آر آئی این] کی ۱۹۴۶ کی بغاوت۔‘‘ یہ ان ’’اہم واقعات میں سے تھے جنہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی کو رفتار بخشی۔‘‘

ان دہائیوں میں، بایاں محاذ کے ساتھ ان کی سپردگی اور وابستگی مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ وہ ہمیشہ کے لیے، اپنی پارٹی کے کل وقتی کارکن بننے والے تھے۔

’’۱۹۴۴ میں مجھے تنجاور جیل سے رہا کیا گیا اور ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کی مدورئی ضلع کمیٹی کا سکریٹری بنا دیا گیا۔ اور میرا انتخاب، ۲۲ سالوں کے لیے پارٹی کی ریاستی کمیٹی کے سکریٹری کے طور پر کر دیا گیا۔‘‘

Left: Sankariah in his party office library in 2013 – he had just inaugurated it. Right: With his wife S. Navamani Ammal in 2014 on his 93rd birthday. Navamani Ammal passed away in 2016
PHOTO • S. Gavaskar
Left: Sankariah in his party office library in 2013 – he had just inaugurated it. Right: With his wife S. Navamani Ammal in 2014 on his 93rd birthday. Navamani Ammal passed away in 2016
PHOTO • S. Gavaskar

بائیں: ۲۰۱۳ میں شنکریہ اپنی پارٹی کے دفتر کی لائبریری میں – اس کا افتتاح انہوں نے ہی کیا تھا۔ دائیں: ۲۰۱۴ میں اپنی بیوی ایس نومنی امّل کے ساتھ اپنے ۹۳ویں یومِ پیدائش پر۔ ۲۰۱۶ میں نومنی امّل کا انتقال ہو گیا

عوام کو متحرک کرنے والے شنکریہ ایک اہم شخص ہوا کرتے تھے۔ ۱۹۴۰ کی دہائی کے وسط میں، مدورئی بایاں محاذ کا ایک بڑا مرکز تھا۔ ’’پی سی جوشی [سی پی آئی کے جنرل سکریٹری] جب ۱۹۴۶ میں مدورئی آئے تھے، تو اس وقت میٹنگ میں ۱ لاکھ لوگ شریک ہوئے تھے۔ ہماری کئی محفلوں میں بھاری بھیڑ اکٹھا ہونے لگی تھی۔‘‘

ان کی بڑھتی مقبولیت نے انگریزوں کو اس کا پتہ لگانے کے لیے آمادہ کیا جسے انہوں نے ’مدورئی سازش کیس‘ نام دیا، جس میں انہوں نے پی رام مورتی [تمل ناڈو میں کمیونسٹ پارٹی کے مشہور لیڈر] کو پہلا ملزم، شنکریہ کو دوسرا ملزم بنایا اور ان کے ساتھ ساتھ سی پی آئی کے کئی دیگر لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر ٹریڈ یونین کے دیگر لیڈروں کا قتل کرنے کی سازش رچ رہے تھے۔ اہم گواہ ایک ٹھیلہ کھینچنے والا شخص تھا جس نے، پولس کے مطابق، ان کی باتیں سن لیں اور اپنا فرض نبھاتے ہوئے افسروں کو اس کی اطلاع دی۔

جیسا کہ این رام کرشنن (شنکریہ کے چھوٹے بھائی) نے اپنی ۲۰۰۸ میں شائع سوانح عمری، پی رام مورتی – اے سینٹینری ٹربیوٹ، میں لکھا ہے: ’’پوچھ گچھ کے دوران، رام مورتی [جنہوں نے اپنے مقدمے میں خود ہی بحث کی تھی] نے ثابت کیا کہ اہم گواہ ایک دھوکہ باز اور معمولی چور تھا، جو مختلف معاملوں میں جیل کی سزا کاٹ چکا تھا۔‘‘ اس معاملے کی سماعت کرنے والے خصوصی جج ’’۱۴ اگست ۱۹۴۷ کوجیل کے احاطہ میں آئے... اس کیس میں شامل تمام لوگوں کو رہا کر دیا اور کارکنوں کے معزز لیڈروں کے خلاف اس کیس کو شروع کرنے کے لیے سرکار کی سخت مذمت کی۔‘‘

حالیہ برسوں میں اس ماضی کی گونج سننے کو ملی ہے – حالانکہ ہمارے زمانے میں اس کا امکان نہیں ہے کہ ہم خصوصی جج کو بے گناہوں کو آزاد کرنے کے لیے جیل میں جاتے ہوئے دیکھیں اور سرکار کو پھٹکار لگاتے ہوئے سنیں۔

۱۹۴۸ میں سی پی آئی پر پابندی لگنے کے بعد، رام مورتی اور دیگر کو دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا – اس بار آزاد ہندوستان میں۔ انتخابات قریب آ رہے تھے، اور مدراس ریاست میں برسر اقتدار کانگریس پارٹی کے لیے کمیونسٹوں کی مقبولیت خطرہ بنی ہوئی تھی۔

Left: DMK leader M.K. Stalin greeting Sankariah on his 98th birthday in 2019. Right: Sankariah and V.S. Achuthanandan, the last living members of the 32 who walked out of the CPI National Council meeting in 1964, being felicitated at that party’s 22nd congress in 2018 by party General Secretary Sitaram Yechury
PHOTO • S. Gavaskar
Left: DMK leader M.K. Stalin greeting Sankariah on his 98th birthday in 2019. Right: Sankariah and V.S. Achuthanandan, the last living members of the 32 who walked out of the CPI National Council meeting in 1964, being felicitated at that party’s 22nd congress in 2018 by party General Secretary Sitaram Yechury

بائیں: ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن ۲۰۱۹ میں شنکریہ کو ان کے ۹۸ویں یومِ پیدائش پر تہنیت پیش کرتے ہوئے۔ دائیں: شنکریہ اور وی ایس اچیوتا نندن، جو ۱۹۶۴ میں سی پی آئی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ سے باہر نکلنے والے ۳۲ ممبران میں سے آخری زندہ رکن ہیں، کو پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری کے ذریعے ۲۰۱۸ میں پارٹی کے ۲۲ویں اجلاس میں سرفراز کیا گیا

’’تو رام مورتی نے حراست میں رہتے ہوئے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا، سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے سامنے۔ انہوں نے مدراس اسمبلی کے لیے مدورئی شمال انتخابی حلقہ سے ۱۹۵۲ کا الیکشن لڑا۔ میں ان کی انتخابی مہم کا انچارج تھا۔ بقیہ دو امیدوار تھے چدمبرم بھارتی، ایک تجربہ کار کانگریسی، اور جسٹس پارٹی سے پی ٹی راجن۔ رام مورتی نے شاندار جیت حاصل کی، نتائج کا جب اعلان ہوا تو وہ جیل میں ہی تھے۔ بھارتی دوسرے مقام پر رہے اور راجن کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ جیت کا جشن منانے کے لیے جو میٹنگ بلائی گئی، اس میں ۳ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔‘‘ رام مورتی آزادی کے بعد تمل ناڈو اسمبلی میں اپوزیشن کے پہلے لیڈر بنے۔

۱۹۶۴ میں جب کمیونسٹ پارٹی کی تقسیم ہوئی، تو شنکریہ نو تشکیل سی پی آئی – ایم کے ساتھ چلے گئے۔ ’’۱۹۶۴ میں سی پی آئی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ سے باہر نکلنے والے ۳۲ ممبران میں سے، میں خود اور وی ایس اچیوتا نندن ہی ایسے دو رکن ہیں، جو آج بھی زندہ ہیں۔‘‘ شنکریہ اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے جنرل سکریٹری اور بعد میں صدر بنے، جو کہ ہندوستان میں کسانوں کی آج بھی سب سے بڑی تنظیم ہے، جس کے ۱۵ ملین رکن ہیں۔ وہ سات برسوں تک پی سی آئی – ایم تمل ناڈو کے ریاستی سکریٹری رہے، دو دہائی سے زیادہ عرصے تک پارٹی کی مرکزی کمیٹی میں بھی کام کیا۔

انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ’’تمل ناڈو اسمبلی میں تمل کو متعارف کرانے والے ہم پہلے شخص تھے۔ ۱۹۵۲ میں، اسمبلی میں تمل میں بولنے کا کوئی التزام نہیں تھا، صرف انگریزی ہی زبان تھی، لیکن [ہمارے ممبران اسمبلی] جیو نندم اور رام مورتی تمل میں بولتے تھے، حالانکہ اس کے لیے التزام ۶ یا ۷ سال بعد آیا۔‘‘

محنت کش طبقہ اور کسانوں کے لیے شنکریہ کی سپردگی کم نہیں ہوئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کمیونسٹ ہی ’’انتخابی سیاست کا صحیح جواب ڈھونڈیں گے‘‘ اور بڑے پیمانے پر تحریک کھڑی کریں گے۔ ڈیڑھ گھنٹے کے انٹرویو میں، ۹۹ سال کے شنکریہ ابھی بھی اسی جنون اور توانائی کے ساتھ بات کر رہے ہیں جس کے ساتھ انہوں نے شروعات کی تھی۔ ان کا جذبہ اسی ۹ سال کے لڑکے کا ہے، جو بھگت سنگھ کی قربانی سے متاثر ہوکر سڑکوں پر اتر آیا تھا۔

نوٹ: اس اسٹوری کو تیار کرنے میں بیش قیمتی معلومات فراہم کرنے کے لیے کویتا مرلی دھرن کو میری طرف سے شکریہ۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath