انڈین پریمیم لیگ اپنے عروج پر ہے، لیکن نیا گاؤں کے لوگوں کے دماغ میں کرکٹ نہیں ہے۔ پاس کے دھومس پور گاؤں میں تشدد کا اثر ابھی بھی باقی ہے۔ اس سال ۲۱ مارچ کو ہولی کے دن، کرکٹ کھیلنے کے دوران نوجوان لڑکوں کے درمیان جھگڑے کے بعد ایک مسلم فیملی پر حملہ کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی رپورٹنگ میڈیا میں بڑے پیمانے پر کی گئی تھی۔ حملہ آوروں نے لاٹھی اور راڈ کا استعمال کیا اور اس فیملی کو مبینہ طور پر ’پاکستان جانے اور کرکٹ کھیلنے‘ کے لیے کہا تھا۔ نیا گاؤں اُن پانچ لوگوں میں سے تین کا گھر ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر تشدد کی قیادت کی تھی۔

’’اس حملے کے بعد کارروائی کرنے میں پولس ویسے ہی نااہل تھی جیسے کہ وہ اس علاقے کے مسائل پر دھیان دینے میں رہتی ہے،‘‘ ۳۱ سالہ خاتونِ خانہ، راکھی چودھری کہتی ہیں۔ ’’ہم نے ۸-۱۰ خواتین کے ایک گروپ کی تشکیل کی ہے جو یہاں جھگڑا شروع ہونے پر مداخلت کرتا ہے [عام طور پر گاؤں کے لڑکوں کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال کے واقعات پر]۔ یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔ پولس یا تو ٹریفک ڈیوٹی پر ہوتی ہے یا سیاسی لیڈروں کے اس علاقے میں آنے پر مصروف رہتی ہے۔ حالانکہ، جب امیر لوگ انھیں بلاتے ہیں، تو وہ فوراً جواب دیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ کیڑے کی طرح برتاؤ کیا جاتا ہے۔‘‘

راکھی نیاگاؤں کی کرشنا کُنج کالونی میں رہتی ہیں۔ (ماروتی کالونی بھی اسی گاؤں میں ہے، جسے اس کا نام تب ملا جب ۱۹۷۰ کی دہائی میں آنجہانی کانگریس لیڈر سنجے گاندھی نے جاپانی کار بنانے والوں کو یہاں دکان کھولنے کے لیے مدعو کیا تھا اور مزدوروں کو یہاں مکان دیے گئے تھے۔)

نیاگاؤں کو جنوری ۲۰۱۶ میں ہریانہ کے گروگرا ضلع کی سوہنا تحصیل کے بھونڈسی گاؤں سے ایک الگ پنچایت کے طور پر بنایا گیا تھا۔ یہ گاؤں ۱۲ مئی کو گروگرام لوک سبھا حلقہ کے لیے ووٹنگ کرے گا۔

سال ۲۰۱۴ میں، (تقریباً ۱۸ء۴۶ لاکھ ووٹروں میں سے) تقریباً ۱۳ء۲۱ لاکھ ووٹوں کے ساتھ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے راؤ اندرجیت سنگھ نے گروگرام میں پارٹی کی پہلی جیت کی قیادت کی تھی۔ انھوں نے اپنے قریبی حریف، انڈین نیشنل لوک دَل کے ذاکر حسین کو ۲ لاکھ ۷۰ ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔ سال ۲۰۰۹ تک گروگرام میں رسوخ رکھنے والے کانگریس کے راؤ دھرم پال سنگھ کو کل ایک لاکھ ۳۳ ہزار ۷۱۳ یا ۱۰ء۱۲ فیصد ووٹ ملے تھے۔ عام آدمی پارٹی کے یوگیندر یادو نے کل ووٹوں کا ۷۹۴۵۶ یا ۶ء۰۲ فیصد حاصل کیا۔

woman
PHOTO • Shalini Singh
Women posing
PHOTO • Shalini Singh
Woman posing by the national flag
PHOTO • Shalini Singh

راکھی چودھری (بائیں)، روبی داس اور ان کی ماں پربھا (بیچ میں) اور یہاں کی دیگر خواتین کے لیے، سیکورٹی اور نقل و حمل ایسی تشویش ہے جس کی اندیکھی طویل عرصے سے کی گئی ہے، حالانکہ پوجا دیوی (دائیں) کا ماننا ہے کہ کچھ چیزوں میں بہتری آئی ہے

راؤ اندرجیت سنگھ ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن میں پھر سے میدان میں ہیں۔ دیگر دو اہم امیدوار کانگریس کے (ریٹائرڈ) کیپٹن اجے سنگھ یادو، اور پہلی بار سیاست میں قدم رکھنے والے جن نائک جنتا پارٹی- عام آدمی پارٹی کے ڈاکٹر محمود خان ہیں۔

دونوں انتخابات کے دوران، راکھی اور دیگر خواتین ووٹروں کے لیے ایشوز یکساں رہے ہیں – اور ان کی تشویشوں کی فہرست میں سیکورٹی سب سے اوپر ہے۔ کرشنا کنج میں رہنے والی ۲۰ سالہ طالبہ، روبی داس کا کہنا ہے کہ گاؤں کے آس پاس شراب کی دکانوں کی تعداد بڑھی ہے۔ ’’اب ہمارے ارد گرد اور زیادہ شرابی ہیں۔ پولس شکایتوں کا جواب نہیں دیتی ہے۔ حال ہی میں، ایک آدمی نے دکان میں ایک خاتون کی پٹائی کی جہاں پولس والے بیٹھے تھے، لیکن انھوں نے مداخلت کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔ جب ہم [مقامی بسوں یا آٹورکشہ کے ذریعے] کالج یا اسکول کے لیے نقل و حمل کرتے ہیں، تو بائک پر سوار مرد ہمیں پریشان کرتے ہیں۔ سڑکیں اتنی خراب ہیں کہ آپ جلدی سے چل بھی نہیں سکتے۔‘‘

بی جے پی کے راؤ اندرجیت سنگھ ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن میں پھر سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ دیگر دو اہم امیدوار ہیں کانگریس کے اجے سنگھ یادو، اور پہلی بار سیاست میں قدم رکھنے والے جن نائک جنتا پارٹی- عام آدمی پارٹی کے محمود خان

بھونڈسی کا صنفی تناسب ۶۹۹ ہے جو باقی ہریانہ کے پہلے سے ہی کم ہر ۱۰۰۰ مردوں پر ۸۷۹ خواتین (مردم شماری ۲۰۱۱) کے مقابلے کافی کم ہے۔ یہ گوجروں کا علاقہ ہے، اور یہاں کی دیگر اہم برادریاں راجپوت اور یادو ہیں، نیاگاؤں سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر دور، ہریانہ کی جیند تحصیل کے بیبی پور گاؤں کے سابق سرپنچ، سنیل جگلان بتاتے ہیں (انھوں نے ۲۰۱۵ میں ’بیٹی کے ساتھ سیلفی‘ مہم شروع کی تھی)۔ ’’یادووں نے گزشتہ ۷-۸ برسوں میں اپنی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی کرکے ترقی کی ہے، لیکن گوجروں نے ایسا نہیں کیا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’آٹھویں کلاس میں بھی، کئی گوجر لڑکیوں کی شادی ہو چکی ہے۔ میں نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ یہاں کی لڑکیوں کے موبائل میں کسی بھی ناگہانی حالت یا مسئلہ کی صورت میں ڈی سی پی [ڈپٹی سپرنٹنڈٹ آف پولس] کا براہِ راست نمبر ہو۔‘‘

بنیادی ڈھانچہ بھی یہاں ایک اہم ایشو ہے۔ نئے گاؤں کی واضح سرحد ابھی نشان زد کی جانی ہے، اور بنیادی ڈھانچے کے لیے جو ۲۳ کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، وہ آنا ابھی باقی ہے، نیاگاؤں کے سرپنچ سُرگیان سنگھ بتاتے ہیں۔ گاؤں کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور اوبڑ کھابڑ ہیں، اور حقیقی سیوریج کی سہولتیں نہیں ہیں۔ بجلی کے تاروں کے گچھے چھتوں پر لٹکتے ہیں، جس سے پڑوسیوں میں جھگڑا ہوتا ہے۔

’’میری کالونی کی چھ بڑی گلیوں میں سے صرف ایک میں بجلی کا ستون ہے۔ دوسری گلیوں میں، تار ایک دوسرے کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اور لوگ انھیں کاٹ دیتے ہیں، جس سے خطرناک طریقے سے ننگے تار لٹک جاتے ہیں۔ اس سے جھگڑے ہوتے ہیں، کوئی کیا کر سکتا ہے؟‘‘ ۴۶ سالہ اودھیش کمار ساہا کا کہنا ہے۔ وہ بنیادی طور سے اترپردیش کے دیوریا ضلع کے رہنے والے ہیں، میور کنج میں اکیلے رہتے ہیں، اور گاؤں میں ہومیوپیتھی دوا کی ایک چھوٹی دکان چلاتے ہیں، جہاں سے وہ روزانہ ۵۰-۱۰۰ روپے کما لیتے ہیں۔

’’بھلے ہی ہم نے [پالم وہار میں کہیں زیادہ قیمتوں کے مقابلے] یہاں ۱۷ لاکھ روپے کے اندر اپنا ۵۰ گز (۴۵۰ مربع فٹ) کا گھر بنا لیا ہو، لیکن پالم وہار میں زندگی بہتر تھی جہاں ہم پہلے کرایے کے مکان میں رہتے تھے۔ وہ محفوظ تھا، صاف ستھرا تھا... یہاں بچوں کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے، کوئی پارک یا اسپتال نہیں ہے، صرف ۸ویں کلاس تک ایک سرکاری اسکول ہے،‘‘ راکھی کہتی ہیں، جن کے شوہر مانیسر میں ایک کپڑا ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

ناکافی نقل و حمل کی سہولیات کی وجہ سے آٹورکشہ اور اسکولی گاڑیوں کے ڈرائیور من مانا کرایہ مانگتے ہیں۔ ’’اسکولی گاڑیاں عام کرایے سے زیادہ مطالبہ کرتی ہیں۔ آٹو ڈرائیور آپ سے ان سیٹوں کے اضافی پیسے مانگے گا جو خالی ہیں اور اگر آپ نے دینے سے منع کر دیا تو جائے گا نہیں۔ بہت سی لڑکیاں کالج جانا اس لیے چھوڑ دیتی ہیں کیوں کہ وہاں نقل و حمل کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ قریبی میٹرو اسٹیشن ہوڈا ہے [نیاگاؤں اور بھونڈسی سے تقریباً ۱۳-۱۵ کلومیٹر دور]۔ ایک بس [ریاستی ٹرانپسورٹ کی] یہاں سے جاتی تھی، لیکن اب وہ بھی بند ہو گئی ہے،‘‘ روبی کہتی ہیں۔

Street
PHOTO • Sunil Jaglan
Electricity post
PHOTO • Sunil Jaglan

دہلی سے جانے والی سڑک کے کنارے، گروگرام میں اور زیادہ چمکدار ڈھانچے نظر آنے لگے ہیں، ٹوٹی سڑکوں، کھلے سیور اور نیاگاؤں کے جھولتے تاروں سے زیادہ دور نہیں

وہ اپنی ۹ بجے کی کلاسز کے لیے، ایک رہائشی احاطہ میں مالی کے طور پر کام کرنے والے اپنے والد کے ساتھ صبح ۵ بجے نکلتی ہیں، حالانکہ کوچنگ سنٹر ان کے گھر سے صرف ۴۵ منٹ کی دوری پر ہے۔ وہ (میڈیکل کالج کے لیے اہلیت حاصل کرنے کے لیے) نیشنل ایلی جیبلٹی اور داخلہ جاتی امتحان (نیٹ) کی تیاری کر رہی ہیں۔ ’’ہمیں الگ الگ بسوں اور آٹو کو بدلنا ہوتا ہے تاکہ مجھے پہلے پہنچایا جا سکے، اور پھر وہ اپنے کام پر چلے جاتے ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ان کی ماں، ۳۸ سالہ پربھا داس، ۱۰-۱۵ کلومیٹر دور ایک بڑے مال کے بوٹیک میں کام کرتی ہیں، اور ہر ماہ تقریباً ۱۰ ہزار روپے کماتی ہیں۔ ان کو ہر صبح وہاں پہنچنے میں دو گھنٹے لگتے ہیں۔

گروگرام کو کچھ لوگ ’ملینیم سٹی‘ کہتے ہیں؛ یہ ہندوستان کے سرفہرست ’ٹکنالوجی ہب‘ میں سے ایک ہے اور یہاں کئی فینسی مال، مہنگے پرائیویٹ اسکول، بلند و بالا رہائشی عمارتیں، وسیع گولف کورس اور کئی فارچیون ۵۰۰ کمپنیاں ہیں۔ وسطی دہلی سے گاڑی کے ذریعہ تقریباً ۴۵ کلومیٹر کی دوری پر، اور بھی زیادہ چمکدار ڈھانچے نظر آنے لگے ہیں، جو ٹوٹی سڑکوں اور نیاگاؤں اور بھونڈسی کے کھلے سیور کے بالکل برعکس ہیں۔

کیا کچھ بہتر ہوا ہے؟ ’’بدعنوانی اور رشوت دینے کا چلن کم ہوا ہے،‘‘ ۳۰ سالہ ایک خاتون خانہ، پوجا دیوی کہتی ہیں جن کے شوہر گروگرام میں آٹو رکشہ چلاتے ہیں۔ ’’دادا دادی ہمیں بتاتے ہیں کہ انھیں اپنی پنشن مل رہی ہے۔ ہم سبھی کے پاس گیس کنیکشن ہے۔ آن لائن ادائیگی اور لین دین سمیت چلان ہمارے موبائل پر آتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مودی نے ہمیں یہ محسوس کرایا ہے کہ ہم بھی کچھ ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

سرپنچ سرگیان سنگھ، مئی کی تپتی دھوپ میں وہاں جمع گروپ سے برسراقتدار پارٹی کو ووٹ دینے کے لیے گزارش کرتے ہیں۔ انھیں ایک موقع دیجئے، وہ کہتے ہیں۔ ’’ہم بی جے پی نمائندہ سے ایک اسٹامپ پیپر پر تحریری شکل میں ہمارے مطالبات پر متفق ہونے کے لیے کہیں گے، ورنہ ہم انھیں اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں ووٹ نہیں دیں گے!‘‘ پوجا، پارلیمنٹ کے موجودہ رکن راؤ اندرجیت سنگھ کے وہاں آنے سے ایک دن پہلے کہتی ہیں۔

’’وہ اتوار [۵ مئی] کو مشکل سے پانچ منٹ کے لیے آئے تھے اور کہا تھا کہ جیتنے کے بعد ہم جو کچھ کر سکتے ہیں کریں گے،‘‘ جگلان نے مجھے اگلے دن فون پر بتایا۔ دیگر دو امیدوار، اجے سنگھ یادو اور محمود خان نے نیاگاؤں میں ابھی تک قدم نہیں رکھے ہیں۔

Group of people posing
PHOTO • Shalini Singh
Man poses in front of a dispensary
PHOTO • People's Archive of Rural India

بائیں: ’میں نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ یہاں کی لڑکیوں کے پاس کسی بھی ناگہانی حالت میں ڈی سی پی کا نمبر ہو،‘ سنیل جگلان کہتے ہیں۔ دائیں: ’میری کالونی کی چھ بڑی گلیوں میں سے صرف ایک میں بجلی کا ستون ہے،‘ اودھیش ساہا بتاتے ہیں

’’جب راؤ اندرجیت سنگھ نے گزشتہ جمعرات کو گاؤں کا دورہ کیا تھا، تو انھوں نے مودی کے نام پر ووٹ مانگے۔ زیادہ تر [بی جے پی] لیڈر مودی کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں،‘‘ اودھیش ساہا کہتے ہیں۔ ’’اس الیکشن میں، میں کہوں گا کہ یہاں تقریباً ۸۰ فیصد ووٹ بی جے پی کو جائے گا، مودی اور ملک کی سیکورٹی کے نام پر۔‘‘

ساہا کو نہیں لگتا کہ دھومس پور گاؤں میں ہولی کے دن ہجومی تشدد کوئی انتخابی ایشو ہے۔ ’’مجھے نہیں لگتا کہ اس کا پولنگ پر کوئی اثر پڑے گا کیوں کہ معاملہ دو ہفتے کے اندر ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ اب تقریباً دو مہینے گزر چکے ہیں...‘‘

دریں اثنا، اخباری رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ جس فیملی پر ہولی کے دن حملہ ہوا تھا، اس نے بھونڈسی پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کے تین ہفتے بعد، اپریل میں اپنی ایف آئی آر واپس لے لی ہے۔ دونوں فریقوں میں ایک طرح سے صلح ہو گئی ہے۔

’’اس معاملہ کو حل کر لیا گیا ہے، لوگ اب اس کے بارے میں سوچ نہیں رہے ہیں اور نہ ہی اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، وقت کس کے پاس ہے؟ ہر کسی کو اپنی زندگی اور کام پر لوٹنا ہے،‘‘ حملے کے واقعہ کے کلیدی شکایت کنندہ محمد دلشاد مجھ سے کہتے ہیں۔

’’میں ایک کام کرنے والا آدمی ہوں، میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اگر مجھے وقت ملا، تو میں اپنا ووٹ ڈالوں گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’آخر فائدہ کیا ہے؟ سیاست داں اپنے ایجنڈے کے لیے چاروں طرف ذات پات کا استعمال کرتے ہیں۔ کوئی بھی پارٹی اس بارے میں بات نہیں کرتی ہے کہ وہ اصل میں آپ کے لیے کیا کریں گے، چاہے وہ سڑک تعمیر کی بات ہو، روزگار فراہم کرنا ہو، مناسب بجلی دینی ہو یا کچھ اور۔ ہمیشہ ہندو-مسلم کا ایشو چلتا رہتا ہے۔ چاہے کوئی ہندو یا مسلمان یہ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے، عوام کے ایشوز پر توجہ دی جانی چاہیے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Shalini Singh

شالنی سنگھ دہلی میں مقیم صحافی ہیں اور پاری کی بانی ٹیم کی رکن ہیں۔

Other stories by Shalini Singh