uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/image04.jpg


راجستھان کے بارن ضلع کے ممونی گاؤں میں ہولی کی تیاری کئی دنوں پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، اور لوگوں کی کافی امیدیں اس سے بندھی ہوتی ہیں۔ خود یہ جشن مارچ میں ایک ہفتہ تک چلتا ہے، عام طور سے مکمل چاند کے وقت۔ گاؤں کے لوگ اس مذہبی تہوار پر، جو کہ فصل کی کٹائی کے موسم سے پہلے پڑتا ہے، بھگوان اور نیچر کی پوجا کرتے اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ بارن، راجستھان کے غریب ترین ضلعوں میں سے ایک ہے۔

ہولی سے قبل والی رات کو، جیسا کہ رواج چلا آ رہا ہے، آگ جلائی جاتی ہے، جو ہولیکا کی علامت ہے۔ گیہوں کے گچھے آگ پر بھونے جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں گاؤوں والے اگلے دن ایک دوسرے کے چہروں پر ’’راکھ‘‘ ملتے تھے اور مبارکباد دیتے تھے۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ لوگوں نے راکھ کی جگہ رنگوں کے پاؤڈر استعمال کرنے شروع کر دیے، جو اَب اس تہوار کو ملک بھر میں منانے کا طریقہ ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image15.jpg

ہولی کی بھلے ہی ایک مضبوط مذہبی اہمیت ہو، لیکن کاشت کار برادری کے لیے یہ تہوار موسمِ بہار اور فصل کی کٹائی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ یہ خوشیاں اور امیدیں لے کر آتا ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image05.jpg

ممونی کی ایک کسان، سیتا مہتہ نے گائے کے گوبر سے بھینسوں کی چھوٹی مورتیاں بنائی ہیں اُن دیوتاؤں کو چڑھانے کے لیے، جنہوں نے ان کو، ان کی فیملی کو اور ان کے مویشیوں کو محفوظ رکھا ہے۔ جہاں پر یہ مورتیاں لگائی گئی ہیں، وہاں ایک بڑی بھینس، اس کے چھوٹے بچوں کو تالاب سے پانی پیتے، اور گھاس کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہاں بھگوان کرشن کی ایک چھوٹی مورتی بھی ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image06.jpg

بارن میں سہاریا قبیلہ کے لوگ رہتے ہیں، جو کہ راجستھان کی سب سے پچھڑی برادریوں میں سے ایک ہے۔ سہاریا لوگ سب سے پہلے ان جنگلوں میں آباد تھے جسے اب مشرقی راجستھان کہا جاتا ہے؛ پڑوسی مدھیہ پردیش۔ کمیونٹی کے بزرگ لوگوں کو وہ زمانہ یاد ہے، جب ان کے آباء و اجداد جنگلوں میں رہا کرتے تھے۔ بقول ان کے، حالات تب بدل گئے، جب دیگر ریاستوں کے لوگ وہاں آئے اور انھوں نے ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا اور یہاں کے آبائی باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا۔ اب ان جنگلات پر حکومت کا قبضہ ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image00.jpg

سہاریا لوگوں نے کاشت کاری کبھی نہیں کی؛ وہ ہمیشہ جنگلات پر منحصر رہے اور اس کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ اس کمیونٹی کے پاس ادویاتی اور کھانے لائق پودوں کا بیش قیمتی علم ہے، اور انھوں نے اپنی ثقافتی روایات کو برقرار رکھا۔ لیکن جب سردار، جاٹ اور دیگر طاقتور فیملیز ان علاقوں میں آئیں، تو انھوں نے کاشت کاری کے اپنے علم اور رسم و رواج کو یہاں تھوپنا شروع کیا، تاکہ سہاریوں کو کمزور کیا جا سکے۔ دھیرے دھیرے حکومت نے روایتی کھیتی کو یہاں شروع کرنے کے لیے انڈین فاریسٹ ایکٹ کے تحت جنگلوں کو کاٹنا شروع کیا، جس کی وجہ سے سہاریا لوگ نئے زمین مالکوں کے ذریعہ سستے یا مفت مزدور کے طور پر استعمال کیے جانے لگے۔ اب چونکہ جنگلات تک ان کی رسائی نہیں تھی، لہٰذا ان کی بہت سی روایات اور سماجی نظام ختم ہوتے چلے گئے۔ ان کے زیادہ تر روایتی کھانے کے ذرائع بھی غائب ہونے لگے۔ کشن جنگھ تعلقہ یا بلاک جیسے علاقوں میں حالات کافی خستہ ہیں، جہاں سہاریوں کو نقدی قرض دے کر ایک طرح سے انھیں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ سال ۱۹۷۶ کا بندھوا مزدور (انسدادی) قانون اس کمیونٹی کی حفاظت کرنے سے محروم لگتا ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image01.jpg

میں نے ہولی ہارویسٹ فیسٹیول ان سہاریوں کے ساتھ منایا، جو کئی دہائیوں سے طاقتور کاشت کار زمینداروں کے لیے بندھوا مزدور کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ اس ایک ہفتہ تک منائے جانے والے جشن میں، سہاریا کمیونٹی کے لوگ ہر شام کو ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور گانا گانے کے علاوہ ناٹک وغیرہ بھی کرتے ہیں۔ تہوار کا پہلا دن کھانا، فیملی اور پوجا پاٹ کے لیے ہوتا ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image07.jpg

تہوار اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک بزرگ حضرات بھگوان ہنومان اور ایک مقامی سادھو، سدھ بابا کی یاد میں بنائے گئے پاس کے ایک چھوٹے سے مندر کی زیارت نہیں کر لیتے۔ کمیونٹی کے بزرگ لوگ اپنے گھروں کی حفاظت اور اچھی فصل کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے، گاؤں کے تمام مرد ان بزرگوں کے ساتھ جمع ہوتے ہیں اور مندر تک ساتھ جاتے ہیں، وہ راستے بھر گانا گاتے رہتے ہیں اور پوجا بھی دن بھر چلتی رہتی ہے۔ آج، انھیں اس بات کا پچھتاوا ہو رہا ہے کہ مندر میں آنے والوں کی تعداد میں گزرتے ہوئے برسوں کے ساتھ کمی آ رہی ہے، اور انھیں تشویش ہے کہ آنے والی نسلوں کے ساتھ یہ روایات ختم ہو جائیں گی۔

سہاریا کمیونٹی کے سینئر ممبر، دیوی لال سہاریا ایک کسان اور فوک میوزیشین ہیں، جو کمیونٹی کے دیگر ممبران کے ساتھ گانا گاتے اور ڈھول بجاتے ہیں۔ وہ اپنی زمین کے مالکانہ حق کو کھونے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ’’عدالتیں اور حکومت ہم سے یہ ثبوت پیش کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں کہ پچھلی تین نسلوں سے یہ زمین ہماری ہے۔ ہم تحریری دستاویز کے ساتھ یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟ کیا جنگل کا مالک بنا جا سکتا ہے؟‘‘ فاریسٹ رائٹس ایکٹ ۲۰۰۶ کا مقصصد اس نو آبادیاتی منشا کو پلٹنا تھا، جو ریاست کو جنگلات کا مالک قرار دیتا ہے۔ لیکن جنگل انتظامیہ اور نوکرشاہی کے لیے زمینی سطح پر اس پر عمل کرنا آسان نہیں ہے۔

حکومت نے دیوی لال کو ریاستی حکومت کی اسکیم کے تحت ۲۰ بیگھے (یا ۱۰ ایکڑ) زمین الاٹ کی ہے، لیکن فی الحال اس کی رسائی صرف ۱۲ بیگھوں تک ہی ہے۔ بقیہ زمین کسی اور کے قبضے میں ہے، جو کہ اونچی ذات کا ہے۔ حالانکہ حکومت نے ان کی زمین ہی انھیں الاٹ کی ہے، جیسا کہ انھوں نے بتایا، لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image13.jpg

’کلپ ورِکش‘ نامی این جی او کی رکن، مینل تتپتی کے مطابق، ’’ایف آر اے کی کوشش ان تاریخی ناانصافیوں کو دور کرنا ہے، جو سہاریا جیسی برادریوں کے ساتھ کی گئی ہیں اور اس کے تحت جنگلاتی زمین پر مقامی برادریوں کے حقوق کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ جس زمین پر دعویٰ کیا جانا ہے، یہ قانون اس پر ماضی کی کسی بھی قسم کی کارروائی یا دیگر شرائط سے آزادی دلاتا ہے، بھلے ہی اس زمین کو ریاستی یا مرکزی حکومت کے قانون کے تحت پٹے پر ہی کیوں نہ دے دیا گیا ہو۔ تاہم، راجستھان میں اس کے نفاذ کے ابتدائی برسوں میں، ان برادریوں کو اپنے دعویٰ کے حق میں فاریسٹ ڈپارٹمنٹ سمیت متعدد اہل کاروں کے دستخط لانے کے لیے کہا جاتا تھا، تاکہ انھیں قبول کیا جا سکے۔ متعلقہ اہل کار مقامی کارروائیوں سے متعلق اپنے کنٹرول کو استعمال نہیں کرتا، بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ اس ذمہ داری کو پورا کرے گا۔ جن برادریوں کو اپنی زمین پر دعویٰ کرنا ہے، اس کے بعد اس پر اپنا کنٹرول رکھنا ہے، اس کے لیے ان کے تئیں ہمدردانہ رویہ ہونا چاہیے، جس کی ان اہل کاروں میں کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ریاستی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ایف آر اے کے تحت اس کارروائی میں تیزی لائے اور ان جیسی برادریوں کو ان کا زمین دلائے، جو کہ ان کا ذریعہ معاش ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image02.jpg

دیوی لال اپنی بات جاری رکھتے ہیں، ’’ہم اپنی زمین پر جو کچھ اُگاتے ہیں، وہ ہم کھا سکتے ہیں، لیکن بقیہ کا کیا ہوتا ہے، وہ کہاں چلا جاتا ہے یا کتنا جاتا ہے، اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچوں کا مقدر بھی ہمارے جیسا ہی ہو۔‘‘ مقامی سول انتظامیہ کے لوگوں کا خیال ہے کہ سہاریوں کو کمزور اس لیے سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ زمین پر اپنے حقوق کو جتانے کے لیے وہ طاقت کا استعمال نہیں کرتے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image16.jpg

کارکنوں کی نظر سہاریا کمیونٹی پر اس وقت پڑی، جب ۲۰۰۲ کے آس پاس راجستھان میں بھوک ایک سنگین مسئلہ بن گیا تھا۔ کمیونٹی کے بچے کم غذائیت کے شکار تھے اور مر رہے تھے۔ پانچ دہائیوں سے ان گاؤوں والوں کا استحصال ہو رہا تھا اور وہ لگاتار اس خوف میں زندگی بسر کر رہے تھے کہ ان کی زمین یا گھر ان سے چھین لیے جائیں گے۔ دیوی لال نرم روی سے بتاتے ہیں کہ کیسے این جی اوز قانونی طریقے سے اس کمیونٹی کی مدد کر رہے ہیں، لیکن ان کی کوششیں ابھی بہت زیادہ رنگ نہیں لا پائی ہیں۔ کمیونٹی کے دیگر ممبران کی بھی کچھ ایسی ہی کہانیاں ہیں۔ ہماری ملاقات کے اختتام پر، دیوی لال ضد کرتے ہیں کہ اگلے دن میں ان کے گھر جا کر ہولی مناؤں۔

اگلے دن، سبھی لوگ رنگوں سے کھیلنے کو تیار ہیں۔ پوری کمیونٹی میں خوشی کا ماحول ہے اور بچے شرارت کرنے کے لیے اس موقع کو غنیمت سمجھ رہے ہیں۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image14.jpg

چہروں پر رنگ ملے جا رہے ہیں، پانی چاروں طرف پھینکا گیا ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image11.jpg

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image09.jpg

بچے نئے نئے طریقے آزما رہے ہیں اور کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image10.jpg

ڈھنگ سکھیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہولی ہی ایک ایسا دن ہوتا ہے، جب کسی کو ڈنڈے سے مارنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image12.jpg

میں نے لڑکوں سے یہ پوچھنے کی غلطی کردی کہ اپنا رنگا ہوا ہاتھ دکھائیں، اور تب انھوں نے جھپٹنا شروع کردیا!

/static/media/uploads/Articles/Sweta Daga/A Sahariya Holi/rescaled/1024/image08.jpg

بزرگوں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ جشن منانے کا طریقہ مزید جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے لیے، ہولی اب بھی فصل کے سامنے شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

دریں اثنا، سہاریوں کا مستقبل غیر یقینی بنا ہوا ہے۔ ان کے بچوں کے مستقبل کی پلاننگ روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے، کیوں کہ اپنی زمین تک رسائی نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس دکھانے کے لیے ایسا کوئی ثبوت ہے کہ یہ انھیں کی ہے۔ بارن کے لوگوں تک اچھے دن نہیں پہنچے ہیں۔

ایک چھوٹی کہانی

ہولی لفظ، ’’ہولیکا‘‘ سے آیا ہے، جو راکشسوں کے راجا ہیرنیا کشیپ کی بری بہن تھی۔ وہ بہت طاقتور تھا، ملتان کا بے تاج بادشاہ، اور بھگوان وشنو کا بھکت۔ بھگوان وشنو نے اس کی اس بھکتی کے لیے اسے ایک خاص انعام سے نوازا تھا، لیکن ان اسپیشل پاورس نے اسے جارح بنا دیا۔ وہ خود کو بھگوان سمجھنے لگا، اور اپنی سلطنت کے سبھی لوگوں کو ایسا سمجھنے پر مجبور کرنے لگا۔ لیکن اس کا اپنا بیٹا، پرہلاد، اب بھی بھگوان وشنو کا ہی بھکت بنا رہا۔ غصے میں آکر، راجا نے اپنے بیٹے کو سخت سزائیں دیں، لیکن تب بھی پرہلاد کا ذہن نہیں بدلا۔ آخرکار، جیسا کہ کہانی ہے، پرہلاد کی چچی، ہولیکا نے دھوکے سے اسے اپنے ساتھ لکڑی کی چتا پر بیٹھا لیا، جب کہ وہ خود فائر پروف شال اوڑھے ہوئی تھی۔ لیکن جب آگ جلنے لگی، تو ہولیکا کی شال اڑ کر پرہلاد کے جسم پر لپٹ گئی، اور وہ مر گئی۔ اس کے بعد بھگوان وشنو ظاہر ہوئے اور انھوں نے ہرنیا کشیپو کو ہلاک کر دیا۔ اگلی صبح، سلطنت کے لوگوں نے اس آگ کی راکھ کو اٹھا کر اپنی پیشانی پر مل لیا، اس یاد میں کہ برائی پر اچھائی کی جیت ہوئی۔

آپ سبھی کا خاص شکریہ:

سہاریا کمیونٹی

کپل جین

راجو مہتہ

وِشال سنگھ

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Sweta Daga

مضمون نگار شویتا ڈاگا بنگلور میں مقیم قلم کار اور فوٹوگرافر ہیں۔ وہ متعدد ملٹی میڈیا پروجیکٹوں پر کام کر رہی ہیں، جن میں ’پیپلز آرکائیو آف رورَل انڈیا‘ (پاری)، اور ’سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرمینٹ‘ کے ساتھ فیلوشپ بھی شامل ہیں۔

Other stories by Sweta Daga