۳۰ نومبر ۲۰۱۸ کو، میں دہلی کے نظام الدین ریلوے اسٹیشن پر اُن کسانوں سے بات کرنے گیا تھا، جو کسان مکتی مورچہ میں شریک ہونے کے لیے راجدھانی پہنچے تھے۔ میں نے دور سے کچھ مردوں، عورتوں اور بچوں کے ایک گروپ کو دیکھا، جو سر پر جوٹ کے بورے اور کندھوں سے چھوٹا تھیلا لٹکائے اسٹیشن سے باہر نکل رہے تھے۔

مجھے لگا کہ وہ کسان ہیں جو ریلی میں حصہ لینے آئے ہیں۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ وہ چھتیس گڑھ کے مزدور ہیں جو یہاں کام کی تلاش میں آئے تھے۔ ’’ہم ہریانہ کے جندل پاور بھٹہ [پلانٹ] میں کام کرنے جا رہے ہیں،‘‘ رائے گڑھ ضلع کی کھرسیا تحصیل کے چھوٹے مُڑپار گاؤں کی رہنے والی، ۲۷ سالہ اتوارہ جولہے نے کہا۔ ان کے شوہر، شنکر نے کہا کہ یہ دہلی کی سرحد کے قریب ہی کہیں ہے، لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کہاں ہے۔

اتوارہ، شنکر اور ان کے ساتھ آئے دو کنبے پاور پلانٹ یا پاس کے اینٹ بھٹوں پر کام ڈھونڈتے ہیں۔ میاں بیوی نے بتایا کہ وہ کام کرنے کے لیے دہلی- ہریانہ کی طرف تین سال سے آ رہے ہیں۔ اس مرتبہ، وہ ۲۰ نومبر کو چھتیس گڑھ اسمبلی الیکشن میں ووٹ کرنے کے بعد یہاں آئے ہیں۔

Entire families of migrants, young and old, look for work and stay on the streets
PHOTO • Purusottam Thakur
Families of migrants, young and old, look for work and stay on the streets
PHOTO • Purusottam Thakur

بائیں: رائے گڑھ ضلع کی اتوارہ جولہے اور ان کے شوہر شنکر، پاور پلانٹ میں مزدوروں کے طور پر کام پانے کی امید کر رہے تھے۔ دائیں: مہاجرین کا پورا کنبہ، نوجوان اور بزرگ، کام ڈھونڈتے اور سڑکوں پر رہتے ہیں

وہ درج فہرست ذات کی ستنامی برادری سے ہیں۔ ’’ہم بے زمین مزدور ہیں۔ ہم کسانوں کے کھیتوں میں کٹائی کے وقت تک یومیہ مزدوری کے لیے کام کرتے ہیں [ایک دن میں تقریباً ۱۵۰ روپے کماتے ہیں]۔ اس کے بعد، ہم کام کرنے کے لیے گاؤں سے باہر چلے جاتے ہیں،‘‘ شنکر نے کہا۔

اس گروپ میں رائے گڑھ ضلع کی سارنگڑھ تحصیل کے گونڈا گاؤں کے اجے اور دِویہ دھریا بھی تھے۔ اجے پچھلے کچھ برسوں سے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے کے لیے آ رہے تھے، لیکن دِویہ، جن سے انھوں نے دو سال پہلے شادی کی تھی، پہلی بار ان کے ساتھ آئی تھیں۔

Rajendra Shinde and his wife Sonali with their child in search of work
PHOTO • Purusottam Thakur
Families, who had come to Delhi due to the drought back home
PHOTO • Purusottam Thakur

بائیں: مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع کے راجندر شندے اور ان کی بیوی سونالی بے زمین مزدور ہیں۔ گھر پر خشک سالی کے سبب، وہ اپنے بچوں اور دیگر کنبوں کے ساتھ دہلی آئے تھے

بعد میں، ایک اووربرج پر، میں نے سڑک کنارے تقریباً ۵۰ کنبوں کے ایک گروپ کو دیکھا۔ چونکہ صبح کا وقت تھا، اس لیے عورتیں اپنی فیملی کے لیے روٹیاں بنانے میں مصروف تھیں۔ ’’ہمارے علاقے میں سوکھا پڑ رہا ہے اور کھیتوں میں کوئی کام نہیں ہے، اس لیے کام کی تلاش میں ہم یہاں آئے ہیں اور شہر میں تعمیراتی کام ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘

کیا آپ یہاں رہنے والی ہیں، اس اوور برج پر، میں نے پوچھا۔ ’’نہیں، ہم اُس جگہ پر رہیں گے جہاں ہمیں کام ملے گا،‘‘ انھوں نے جواب دیا۔

اس کے بعد، میں مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے مالیگاؤں تعلقہ کے سبھاش بابندور سے ملا۔ ’’ہمارے پاس دو ایکڑ زمین ہے لیکن ہمارے علاقے میں سوکھا پڑ رہا ہے۔ ہم پچھلے ۱۰-۱۲ دنوں سے فیملی کے ساتھ یہاں پر ہیں اور کام ڈھونڈ رہے ہیں،‘‘ سبھاش نے بتایا۔ کیا آپ کبھی دہلی میں رہے ہیں، میں نے پوچھا۔ ’’کبھی نہیں۔ ہم پہلی بار یہاں آئے ہیں۔‘‘

Laxmibai Kharat cooks for her family on the side of the road.
PHOTO • Purusottam Thakur
Women cook for their families on the side of the road
PHOTO • Purusottam Thakur

’اس سے پہلے ہم ممبئی ہجرت کیا کرتے تھے، لیکن بہتر متبادل کی امید لیے ہم پہلی بار دہلی آئے ہیں،‘ لکشمی بائی کھراٹ (بائیں) نے کہا، جو مہاراشٹر سے دیگر لوگوں کے ساتھ دہلی آئی تھیں

میں نے لکشمی بائی کھراٹ سے بات کرنے کی کوشش کی، جو سبھاش کے بغل میں بیٹھی تھیں۔ یہاں کے کئی مہاجر مزدوروں کی طرح، وہ بھی ہندی نہیں بول رہی تھیں، اس لیے ان کے گاؤں کے ایک آدمی نے مجھے مراٹھی میں ان کے ساتھ بات چیت کرنے میں مدد کی۔ ’’اس سے پہلے، ہم ممبئی ہجرت کرتے تھے، لیکن بہتر متبادل کی امید لیے ہم پہلی بار دہلی آئے ہیں،‘‘ لکشمی بائی نے کہا۔

میں نے مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع کے بھساول تعلقہ کے راجندر شندے سے بھی بات کی۔ راجندر اور ان کی بیوی سونالی بھی بے زمین مزدور ہیں؛ وہ گھر پر خشک سالی کے سبب دہلی آئے تھے۔ بات کرتے وقت، راجندر اپنی بیوی کو دیکھ کر مسکرائے، جواب میں سونالی بھی شرم سے اپنے شوہر کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ میں نے سوچا کہ ایک سخت اور اجنبی شہر میں، پیار کے ان اشاروں کے وقت ہی ان سے وداع ہونا بہتر ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Purusottam Thakur

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur