کاجل لتا بسواس سمندری طوفانوں کی یادوں سے ابھی بھی ڈری ہوئی ہیں۔ حالانکہ آئیلا طوفان کو سُندربن سے ٹکرائے ۱۰ سال گزر چکے ہیں، پھر بھی ۲۵ مئی، ۲۰۰۹ انھیں اچھی طرح یاد ہے۔

دوپہر سے پہلے کا وقت تھا۔ ’’[کالندی] ندی کا پانی گاؤں میں داخل ہوا اور تمام گھروں میں بھر گیا،‘‘ کاجل لتا کہتی ہیں۔ وہ اُس دن اپنے گاؤں، گوبِند کَٹی سے تقریباً سات کلومیٹر دور، کُمیر ماری گاؤں میں ایک رشتہ دار کے گھر پر تھیں۔ ’’ہم میں سے ۴۰-۵۰ لوگوں نے ایک کشتی میں پناہ لی، جس میں ہم نے پورا دن اور پوری رات گزارے۔ ہم نے درختوں، کشتیوں، مویشیوں اور دھان کو بہتے ہوئے دیکھا۔ رات میں، ہم کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ماچس کی تیلیاں تک بھیگ چکی تھیں۔ آسمان میں جب بجلی چمکتی، تبھی ہم کچھ دیکھ پاتے تھے۔‘‘

اپنے گھر کے باہر بیٹھ کر دوپہر کے کھانے کے لیے مچھلی کی صفائی کرتے ہوئے، ۴۸ سالہ ایک کسان، کاجل لتا اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے آگے کہتی ہیں، ’’اُس رات کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا ہے۔ پینے کے لیے پانی کا ایک بوند بھی نہیں تھا۔ کسی طرح، میں نے ایک پلاسٹک کی تھیلی میں بارش کی کچھ بوندیں جمع کیں، جس سے میں اپنی دونوں بیٹیوں اور بھتیجی کے ہونٹوں کو گیلا کرتی تھی، جو بہت پیاسی تھیں۔‘‘ اسے یاد کرتے ہوئے ان کی آواز کانپنے لگتی ہے۔

اگلی صبح، اپنے گاؤں تک پہنچنے کے لیے انھوں نے ایک کشتی کا سہارا لیا۔ پھر سیلاب کے پانی میں چلتے ہوئے اپنے گھر پہنچیں۔ ’’میری بڑی بیٹی تنوشری، جو اس وقت ۱۷ سال کی تھی، جہاں پانی بہت زیادہ تھا وہاں ڈوبنے سے بچی۔ خوش قسمتی سے، اس نے اپنی چاچی کی ساڑی کے دامن کو پکڑ لیا، جو کھل گیا تھا،‘‘ کاجل لتا کہتی ہیں، ان کی آنکھیں اس خوف کو بیان کر رہی ہیں جس کا انھوں نے اس وقت سامنا کیا تھا۔

مئی ۲۰۱۹ میں، ان کا خوف فانی طوفان کے ساتھ لوٹ آیا۔ اتفاق سے، ان کی چھوٹی بیٹی، ۲۵ سالہ انوشری کی شادی بھی اُنہی دنوں ہونے والی تھی۔

Kajal Lata Biswas cutting fresh fish
PHOTO • Urvashi Sarkar
PHOTO • Urvashi Sarkar

کاجل لتا بسواس، گوبندکٹی گاؤں میں اپنے گھر کے باہر مچھلی کی صفائی کرتے ہوئے، طوفان کے قریب آنے کی دہشت کو یاد کرتی ہیں؛ دھان ان کے گاؤں کی ان جھونپڑیوں (دائیں) میں رکھا ہوا ہے، جب کہ فصل کو نقصان پہنچا ہے

شادی ۶ مئی کو طے تھی۔ پنچایت کے ذریعے لاؤڈاسپیکر سے اور سرکار کے ذریعے ریڈیو پر فانی کے بارے میں اعلان کچھ دن پہلے ہی شروع ہوا تھا۔ ’’ہماری خستہ حالت اور خوف کا تصور کیجئے،‘‘ کاجل لتا کہتی ہیں۔ ’’ہم گھبرا گئے تھے کہ ہوائیں اور بارش سبھی تیاریوں کو برباد کر دیں گی۔ شادی سے پہلے کے دنوں میں کچھ بارش ہوئی تھی۔ لیکن شکر ہے کہ سمندری طوفان نے ہمارے گاؤں کو نہیں چھوا،‘‘ وہ چین کی سانس لیتے ہوئے کہتی ہیں۔

۲ مئی کو، ہندوستان کے محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش، اوڈیشہ (جو سب سے زیادہ متاثر ہوا) اور مغربی بنگال میں فانی کے آنے کے بارے میں انتباہ جاری کیا تھا۔ فانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ۸۰ سالہ کسان اور رجت جوبِلی گاؤں کے سابق استاد، پرفل مونڈل، تیز آواز میں کہتے ہیں: ’’فانی سے سندربن بال بال بچ گیا۔ ہواؤں کی تیز آواز ہمیں سنائی دے رہی تھی۔ اگر یہ (طوفان) ہمارے گاؤں سے ٹکرایا ہوتا، تو ہم اپنے گھروں اور زمین سمیت برباد ہو جاتے...‘‘

جیسا کہ مونڈل اور کاجل لتا دونوں ہی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ سندربن میں سمندری طوفان عام بات ہے۔ مغربی بنگال سرکار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور شہری تحفظ محکمہ نے جنوبی اور شمالی ۲۴ پرگنہ، دونوں ضلعوں کو طوفانوں کے سبب ’بہت زیادہ نقصان کا خطرہ والے علاقے‘ کے زمرہ میں رکھا ہے۔

مونڈل کا گاؤں جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کے گوسابا بلاک میں ہے، اور کاجل لتا کا گاؤں شمالی ۲۴ پرگنہ ضلع کے ہِنگل گنج بلاک میں ہے۔ یہ دونوں مغربی بنگال میں ہندوستان کے سندربن میں شامل ۱۹ بلاکوں کا حصہ ہیں – شمالی ۲۴ پرگنہ کے ۶ بلاک اور جنوبی ۲۴ پرگنہ کے ۱۳ بلاک۔

ہندوستان اور بنگلہ دیش میں پھیلا، سندربن ایک وسیع ڈیلٹا ہے، جس میں شاید دنیا کا سب سے بڑا ساحلی جنگل ہے – تقریباً ۱۰۲۰۰ مربع کلومیٹر میں پھیلا۔ ’’سندربن کا علاقہ دنیا کے سب سے شاندار ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک ہے...‘‘ عالمی بینک کی ’سندربن کی مستحکم ترقی کے لیے لچیلے پن کی تعمیر‘(Building Resilience for the Sustainable Development of the Sundarbans) نامی ۲۰۱۴ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ ’’ساحلی جنگل کا پورا علاقہ مختلف قسم کی غیر معمولی نباتات کے لیے جانا جاتا ہے، جس میں خاتمہ کے قریب پہنچ چکی کئی انواع شامل ہیں جیسے کہ رائل بنگال ٹائیگر، سمندری ندی میں رہنے والے مگرمچھ، ہندوستانی اجگر اور ندیوں میں رہنے والی ڈالفن کی کئی قسمیں۔ یہ ہندوستان میں پائے جانے والے ۱۰ فیصد سے زیادہ پستانیے اور ۲۵ فیصد پرندوں کی انواع کا گھر ہے۔‘‘

تقریباً ۴۲۰۰ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہندوستانی سندربن تقریباً ۴۵ لاکھ لوگوں کا گھر ہے، جن میں سے کئی غریبی میں زندگی بسر کر رہے ہیں، معمولی معاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، دشوار گزار علاقے اور سخت موسم کا سامنا کر رہے ہیں۔

حالانکہ اس علاقے میں آئیلا کے بعد کوئی بڑا طوفان نہیں آیا ہے، پھر بھی یہاں ایسے طوفانوں کا خطرہ ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ مغربی بنگال سرکار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے لیے تیار کی گئی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، کھڑگ پور کی ۲۰۰۶ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ریاست میں ۱۸۹۱ سے ۲۰۰۴ تک ۷۱ سمندری طوفان آ چکے ہیں۔ اس مدت میں، جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کا گوسابا بلاک سب سے زیادہ متاثر رہا، جس نے ۶ خطرناک طوفانوں اور ۱۹ عام طوفانوں کا سامنا کیا۔

PHOTO • Urvashi Sarkar

رجت جوبِلی گاؤں میں، ۸۰ سالہ پرفل مونڈل نے کئی طوفانوں کا سامنا کیا ہے، لیکن اب ان کی فیملی موسم کی غیر یقینی تبدیلیوں سے پریشان ہے

پرفل اس طرح آئیلا سے پہلے کے طوفانوں کو بھی یاد کر سکتے ہیں۔ ’’میں ۱۹۹۸ کے طوفان کو نہیں بھول سکتا [جسے آزادی کے بعد مغربی بنگال کا ’سب سے طاقتور طوفان‘ کہا جاتا ہے، آئیلا سے بھی طاقتور، جو کہ ایک ’خطرناک سمندری طوفان‘ تھا]، جس کی ہوائیں کافی تیز اور ہولناک تھیں۔ اس سے پہلے بھی، میں ۱۹۸۸ کے طوفان کو یاد کر سکتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

لیکن اس طوفانی ماضی کے باوجود، طوفانی دباؤ (سمندر میں حاری موسم کی گڑبڑی، ۳۱-۶۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد میں، ۶۲-۸۲ کلومیٹر کے سمندری طوفان کی حد کے نیچے) گزشتہ ۱۰ برسوں میں نچلے گنگا کے ڈیلٹا میں (جہاں سندربن واقع ہیں) ڈھائی گنا بڑھ گیا ہے، کولکاتا کے سمندری سائنس داں، ڈاکٹر ابھیجیت مترا ۲۰۱۹ میں شائع اپنی کتاب، ’ہندوستان میں ساحلی جنگل: ایکو سسٹم سروسز کی تلاش‘ (Mangrove Forests in India: Exploring Ecosystem Services) میں لکھتے ہیں۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ سمندری طوفان اب اکثر آتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

کئی دیگر مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ سندربن کے آس پاس خلیج بنگال میں طوفانوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈائیورسٹی (Diversity) میگزین میں ۲۰۱۵ میں شائع ایک مطالعہ ۱۸۸۱ اور ۲۰۰۱ کے درمیان اس اضافہ کو ۲۶ فیصد بتاتا ہے۔ اور مئی، اکتوبر اور نومبر کے دوران خلیج بنگال میں طوفانوں پر ۱۸۷۷ سے ۲۰۰۵ تک کے دستیاب اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے، ۲۰۰۷ کا مطالعہ بتایا ہے کہ گزشتہ ۱۲۹ برسوں میں ان خطرناک طوفانی مہینوں کے دوران یہاں تیز سمندری طوفانوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

اس کی وجہ ایک طرح سے سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ کو بتایا گیا ہے(Journal of Earth Science & Climate Change میں شائع ایک مضمون میں یہ بات کہی گئی ہے)۔ یہ درجہ حرارت ہندوستانی سندربن میں ۱۹۸۰ سے ۲۰۰۷ تک فی دہائی ۰ء۵ ڈگری سیلسیس بڑھا – جو کہ درجہ حرارت میں اضافہ کی عالمی سطح پر فی دہائی ۰ء۰۶ ڈگری سیلسیس کی شرح سے زیادہ ہے۔

اس کے کئی خطرناک نتائج سامنے آئے ہیں۔ ’’سندربن نے پچھلی بار ۲۰۰۹ میں ایک بڑے سمندری طوفان کا سامنا کیا تھا،‘‘ جادوپور یونیورسٹی، کولکاتا میں اسکول آف اوشنوگرافک اسٹڈیز کی پروفیسر سُگاتا ہازرا کہتی ہیں، ’’بنگال کی شمالی خلیج میں آنے والے طوفانوں سے بار بار پانی جمع ہونے اور باندھ ٹوٹنے کے سبب اس علاقے کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘‘

PHOTO • Urvashi Sarkar

سمندر کی آبی سطح میں اضافہ اور سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ، اور دیگر کئی تبدیلیاں سندربن کے لیے خطرہ پیدا کر رہی ہیں

عالمی بینک کی رپورٹ کہتی ہے، ساحلی باندھ ’’سمندری طوفانوں اور سمندر کی آبی سطح میں اضافہ کے خلاف دفاعی نظاموں کی شکل میں سندربن میں ایک اہم رول نبھاتے ہیں۔ ڈیلٹا کے دھنسنے، سمندر کی آبی سطح میں اضافہ، اور ماحولیاتی تبدیلی کی شکل میں سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ سے لوگوں اور ان کے کھیتوں کی زرخیزی کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور ۱۹ویں صدی میں بنائے گئے ۳۵۰۰ کلومیٹر کے ساحلی باندھوں کے ٹوٹنے سے انھیں کافی نقصان پہنچا ہے...‘‘

۲۰۱۱ کے ورلڈ لائف فنڈ کے ایک پیپر کا کہنا ہے کہ سندربن میں ساگر جزیرہ کی آبزرویٹری میں ناپی گئی ۲۰۰۲-۲۰۰۹ کی نسبتاً اوسط سمندری سطح ۱۲ ملی میٹر سالانہ یا ۲۵ سال کے لیے ۸ ملی میٹر سالانہ کی شرح سے بڑھی۔

وارمِنگ اور متعلقہ سمندری سطح میں اضافہ بھی ساحلی جنگلات کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ جنگل سمندری طوفانوں اور زمین کے کٹاؤ سے ساحلی علاقوں کی حفاظت کرنے میں مدد کرتے ہیں، مچھلی اور دیگر نسلوں کے لیے افزائشی علاقہ کے طور پر کام کرتے ہیں، اور بنگال ٹائیگر کی پناہ گاہ بھی ہیں۔ جادوپور یونیورسٹی کے اسکول آف اوشنوگرافی اسٹڈیز کے ذریعے ۲۰۱۰ کا ایک تحقیقی مقالہ، جس کا عنوان ہے Temporal Change Detection (2001-2008) Study of Sundarban کا کہنا ہے کہ سمندر کی آبی سطح میں اضافہ اور طوفان جنگل کے رقبہ کو کم کرکے سندربن کے ساحلی جنگلات کی صحت کو سنگین طور پر متاثر کر رہے ہیں۔

رجت جوبلی گاؤں کے ایک ماہی گیر، ارجن مونڈل، سندربن میں ساحلی جنگلات کی اہمیت کے بارے میں گہرائی سے جانتے تھے۔ انھوں نے سندربن رورل ڈیولپمنٹ سوسائٹی نام کے این جی او کے ساتھ کام کیا۔ ’’سبھی نے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں سنا ہے، لیکن یہ ہمیں کیسے متاثر کر رہا ہے؟ ہمیں اس کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے،‘‘ انھوں نے مئی ۲۰۱۹ میں مجھ سے کہا تھا۔

۲۹ جون، ۲۰۱۹ کو ایک شیر، ارجن کو اس وقت اٹھا لے گیا جب وہ پیرکھلی جنگل میں کیکڑا پکڑ رہے تھے۔ سندربن میں شیر طویل عرصے سے انسانوں پر حملہ کرتے رہے ہیں، ان حملوں کے یہ بڑھتے واقعات کم از کم جزوی طور پر،  سمندر کی آبی سطح کے بڑھنے سے جنگلاتی زمین کے دھنسنے کے سبب پیش آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ شیر انسانوں کی بستیوں کے مزید قریب آتے جا رہے ہیں۔

اس علاقے میں بار بار سمندری طوفانوں کے آنے سے پانی کی نمکینیت کی سطح میں بھی اضافہ ہوا ہے، خاص طور سے وسطی سندربن میں، جہاں گوسابا واقع ہے۔ ’’...سمندر کی آبی سطح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ڈیلٹا میں میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی کے (جزوی) سبب، نمکینیت میں حد سے زیادہ اضافہ کا ماحولیاتی نظام پر منفی اثر پڑ رہا ہے،‘‘ عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔

PHOTO • Urvashi Sarkar
PHOTO • Urvashi Sarkar

سندربنوں میں وسیع پیمانے پر باندھ، جو کھیتی اور مٹی کی نمکینیت کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہیں، سمندر کی آبی سطح میں اضافہ سے تیزی سے ٹوٹ رہے ہیں

ڈاکٹر مترا کے ذریعے مشترکہ طور پر لکھا گیا ایک تحقیقی مقالہ سندربن کو ’حد سے زیادہ کھارا‘ بتاتا ہے۔ ’’سندربن کے وسطی علاقہ میں سمندر کی آبی سطح بڑھنے کے سبب پانی کی نمکینیت بڑھ گئی ہے۔ یہ واضح طور پر ماحولیاتی تبدیلی سے جڑا ہوا ہے،‘‘ ڈاکٹر مترا کہتے ہیں۔

دیگر محققین نے لکھا ہے کہ بدھیادھری ندی کا گاد، ہمالیہ سے تازہ پانی کے بہاؤ کو وسط اور مشرقی سندربن تک آنے سے روکتا ہے۔ محققین نے زمین کا کٹاؤ، کھیتی، نالوں کی کیچڑ کا جماؤ اور ماہی پروری کے کچرے کو گاد کے لیے ذمہ دار مانا ہے۔ ۱۹۷۵ میں پھرکّا بیراج کی تعمیر بھی (مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں، گنگا پر) وسطی سندربن کی بڑھتی نمکینیت کا ایک سبب بنا۔

رجت جوبلی میں مونڈل فیملی اعلیٰ نمکینیت کے اثرات کو جانتی ہے – ان کے پاس آئیلا کے بعد تین سال تک، بیچنے کے لیے چاول نہیں تھا۔ چاول بیچنے سے ہونے والی ۱۰-۱۲ ہزار روپے کی ان کی سالانہ آمدنی کا صفایا ہو گیا تھا۔ ’’چاول کی کھیتی بند ہو جانے سے پورا گاؤں خالی ہو گیا، کیوں کہ یہاں کے مرد کام کی تلاش میں تمل ناڈو، کرناٹک، گجرات اور مہاراشٹر چلے گئے، جہاں وہ کارخانوں یا تعمیراتی مقامات پر کام کرنے لگے،‘‘ پرفل یاد کرتے ہیں۔

ریاست بھر میں، آئیلا نے ۲ لاکھ ہیکٹیئر سے زیادہ فصلی علاقے اور ۶۰ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا، ۱۳۷ لوگوں کی جانیں گئیں اور ۱۰ لاکھ سے زیادہ گھر تباہ ہوئے۔ ’’میرے گاؤں میں ایسا کوئی بھی نہیں تھا جس کا نقصان نہ ہوا ہو،‘‘ پرفل کہتے ہیں۔ ’’میرا گھر اور فصل تباہ ہو گئی۔ میں نے ۱۴ بکریوں کو کھو دیا اور تین سال تک دھان کی کھیتی نہیں کر سکا۔ سب کچھ صفر سے شروع کرنا پڑا۔ وہ سخت سال تھے۔ میں نے گزربسر کے لیے بڑھئی گیری اور چھوٹے موٹے کام کیے۔‘‘

آئیلا کے سبب نمکینیت بڑھنے کے بعد، کاجل لتا کی فیملی کو بھی اپنی ۲۳ بیگھہ زمین (۷ء۶ ایکڑ) میں سے چھ بیگھہ زمین بیچنی پڑی۔ ’’دو سال تک گھاس کا ایک پتّہ بھی نہیں اُگا، کیوں کہ مٹی کافی نمکین ہو چکی تھی۔ دھان بھی نہیں اُگ سکتا تھا۔ دھیرے دھیرے سرسوں، گوبھی، پھول گوبھی اور لوکی جیسی سبزیاں پھر سے اُگ رہی ہیں، جو ہماری کھپت کے لیے کافی ہیں، لیکن بیچنے کے لیے کافی نہیں ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہمارے پاس ایک تالاب بھی تھا جس میں الگ الگ قسم کی مچھلیاں ہوتی تھیں جیسے کہ شول، ماگُر، روہو اور ہم انھیں بیچ کر ایک سال میں ۲۵-۳۰ ہزار روپے کما سکتے تھے۔ لیکن آئیلا کے بعد، پانی پوری طرح سے نمکین ہو گیا، اس لیے اب کوئی مچھلی نہیں بچی ہے۔‘‘

PHOTO • Urvashi Sarkar
PHOTO • Ritayan Mukherjee

سندربن کے ماحولیاتی نظام کے لیے ساحلی جنگلات ضروری ہیں، لیکن وہ بھی دھیرے دھیرے کم ہوتے جا رہے ہیں

آئیلا کے سبب مٹی کھسکنے لگی – اعلیٰ نمکینیت اور زیادہ القلی سمیت – جس کے نتیجہ میں شمالی اور جنوبی ۲۴ پرگنہ کے زیادہ تر حصوں میں دھان ٹھیک سے نہیں اُگا، یہ کہنا ہے ۲۰۱۶ میں Journal of Experimental Biology and Agricultural Sciences میں شائع ایک مضمون کا۔ میگزین میں شائع ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دھان کو پھر سے اُگانے کے لیے، فاسفیٹ اور پوٹاش پر مبنی کھاد کا استعمال تجویز شدہ مقدار سے زیادہ کرنا پڑے گا۔

’’آئیلا کے بعد، کھاد کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ صرف تبھی ہم مطلوبہ پیداوار حاصل کر پائیں گے،‘‘ پرفل کے ۴۸ سالہ بیٹے، پربیر مونڈل کہتے ہیں۔ ’’یہ کھانے کے لیے صحت مند نہیں ہے، پھر بھی ہمیں اسے کھانا پڑے گا۔ بچپن میں ہم جو چاول کھاتے تھے، وہ مجھے ابھی بھی یاد ہے۔ آپ اسے ویسے ہی کھا سکتے تھے، جیسا کہ وہ ہوتا تھا۔ اب، اسے سبزیوں کے ساتھ کھانے پر بھی عجیب سا لگتا ہے۔

ان کے والد کے پاس ۱۳ بیگھہ (۴ء۲۹ ایکڑ) زمین ہے، جس میں فی بیگھا ۹ بستہ چاول پیدا ہوتا ہے – ایک بستہ ۶۰ کلو کے برابر ہوتا ہے۔ ’’دھان کی بوائی، کٹائی اور ڈھُلائی کے ساتھ ساتھ کھاد کی لاگت کا مطلب ہے ہم نے جو خرچ کیا ہے، اس پر ہماری کمائی بہت کم ہوتی ہے،‘‘ پربیر کہتے ہیں۔

۲۰۱۸ کے ایک تحقیقی مقالہ کے مطابق، آئیلا کے بعد سندربن میں دھان کی پیداوار آدھی رہ گئی -  فی کوئنٹل ۱ء۶ ہیکٹیئر پر ۶۴-۸۰ کوئنٹل سے گھٹ کر ۳۲-۴۰ کوئنٹل۔ حالانکہ دھان کی پیداوار اب آئیلا سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہے، لیکن ان کی فیملی اور گاؤں کے دیگر لوگ جون سے ستمبر تک پوری طرح سے بارش پر منحصر رہتے ہیں، پربیر کا کہنا ہے۔

اور یہ بارش غیر یقینی ہو گئی ہے۔ ’’سمندر کی آبی سطح میں تیزی سے اضافہ اور مانسون کی دیر سے آمد اور اس میں کمی، ماحولیاتی تبدیلی کے طویل مدتی اثرات ہیں،‘‘ پروفیسر ہازرا کہتی ہیں۔

کولکاتا کے اسکول آف اوشنوگرافک اسٹڈیز میں چل رہی تحقیق کا کہنا ہے کہ بنگال کی شمالی خلیج (جہاں سندربن واقع ہے) میں گزشتہ دو دہائیوں سے ایک دن میں ۱۰۰ ملی میٹر سے زیادہ بارش اب اکثر ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی، بوائی کے موسم میں، پروفیسر ہازرا کہتی ہیں، مانسون کی بارش اکثر کم ہوتی ہے، جیسا کہ اس سال ہوا – ۴ ستمبر تک، جنوبی ۲۴ پرگنہ میں تقریباً ۳۰۷ ملی میٹر کم اور شمال مشرقی پرگنہ میں تقریباً ۱۵۷ ملی میٹر کم ہوئی۔

ایسا صرف اسی سال نہیں ہوا ہے – سندربن میں کم یا زیادہ بارش پچھلے کچھ سالوں سے لگاتار ہو رہی ہے۔ جنوبی ۲۴ پرگنہ میں جون سے ستمبر تک مانسون کی عام بارش ۱۵۵۲ء۶ ملی میٹر رہی۔ ضلع کے ۲۰۱۲-۲۰۱۷ کے مانسون کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چھ میں سے چار برسوں میں بارش کم ہوئی تھی، جس میں سے سب سے کم بارش ۲۰۱۷ (۱۱۷۳ء۳ ملی میٹر) او ۲۰۱۲ میں (۱۱۳۰ء۴ ملی میٹر) ہوئی۔

PHOTO • Urvashi Sarkar

’دھان کی کھیتی پوری طرح سے بارش پر منحصر ہے۔ اگر بارش نہیں ہوئی، تو چاول نہیں اُگے گا‘

شمالی ۲۴ پرگنہ میں، اس کا اُلٹا ہوا ہے: یعنی زیادہ بارش۔ یہاں جون سے ستمبر تک ۱۱۷۲ء۸ ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ ۲۰۱۲-۲۰۱۷ کے مانسون کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان چھ برسوں میں سے چار میں بارش اوسط سے زیادہ تھی – اور ۲۰۱۵ میں سب سے زیادہ، یعنی ۱۴۲۸ ملی میٹر بارش ہوئی۔

’’بنیادی مسئلہ بے موسم کی بارش ہے،‘‘ کاجل لتا کہتی ہیں۔ ’’اس سال فروری میں بہت بارش ہوئی، مانسون کی طرح۔ یہاں تک کہ بزرگوں کا بھی کہنا تھا کہ انھیں ایسا کوئی وقت یاد نہیں ہے جب فروری میں اتنی بارش ہوئی ہو۔‘‘ ان کی فیملی دھان کی کھیتی پر منحصر ہے، جس کی بوائی جون-جولائی میں اور کٹائی نومبر-دسمبر میں ہوتی ہے۔ ’’دھان کی کھیتی پوری طرح سے بارش پر منحصر ہے۔ اگر بارش نہیں ہوئی، تو چاول نہیں اُگے گا۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ پچھلے چار یا پانچ برسوں سے، ان کے گاؤں میں مانسون کے مہینوں کے علاوہ، نومبر-دسمبر میں بھی بارش ہو رہی ہے۔ ان مہینوں کے دوران جو کچھ بارش عام طور پر یہاں ہوتی ہے، ان کی شدت دھان کی فصل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ’’یا تو ضرورت پڑنے پر بارش نہیں ہوتی یا موسم سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس سے فصل برباد ہو رہی ہے۔ ہر سال ہمیں لگتا ہے کہ اس بار حد سے زیادہ [بے موسم] بارش نہیں ہوگی۔ لیکن بہت زیادہ بارش ہو جاتی ہے اور فصل پوری طرح سے برباد ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ہمارے یہاں کہاوت ہے، ’آشائے مورے چاسا‘ [‘امید کسان کو مارتی ہے‘]۔

رجت جوبلی گاؤں میں، پربیر مونڈل بھی فکرمند ہیں۔ ’’جون اور جولائی کے دوران، [میرے گاؤں میں] کوئی بارش نہیں ہوئی۔ کچھ دھان کے پتّے سوکھ گئے۔ شکر ہے کہ [اگست میں] بارش آ گئی۔ لیکن کیا یہ کافی ہوگا؟ اگر بہت زیادہ بارش ہو جائے اور فصل ڈوب جائے تب کیا ہوگا؟‘‘

ہیلتھ کیئر ملازم کے طور پر (ان کے پاس متبادل میڈیسن میں بی اے کی ڈگری ہے)، پربیر کہتے ہیں کہ ان کے پاس آنے والے مریض بھی اکثر گرمی کی شکایت کرتے ہیں۔ ’’کئی لوگوں کو اب لو لگ جاتی ہے۔ یہ کسی بھی وقت لگ سکتی ہے اور جان لیوا ہو سکتی ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

سمندر کی سطح کے بڑھتے درجہ حرارت کے علاوہ سندربن میں زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ایک انٹریکٹو پورٹل پر ماحولیاتی اور گلوبل وارمنگ کے اعداد و شمار کے مطابق، سال ۱۹۶۰ میں یہاں ایک سال میں ۳۲ ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ درجہ حرارت والے جہاں ۱۸۰ دن ہوا کرتے تھے، وہیں ۲۰۱۷ میں ایسے دنوں کی تعداد بڑھ کر ۱۸۸ ہو گئی۔ ایسے دنوں کی تعداد صدی کے آخر تک ۲۱۳ سے ۲۵۸ تک ہو سکتی ہے۔

بڑھتی گرمی، سمندری طوفان، غیر یقینی بارش، نمکینیت، غائب ہوتے جا رہے ساحلی جنگلات وغیرہ سے بار بار لڑتے ہوئے، سندربن کے لوگ ہمیشہ غیر یقینی کی حالت میں رہتے ہیں۔ کئی طوفانوں اور سمندری طوفانوں کے گواہ، پرفل مونڈل فکرمند ہیں: ’’کون جانتا ہے کہ آگے کیا ہوگا،‘‘

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

اُروَشی سرکار ایک آزاد صحافی اور ۲۰۱۶ کی پاری فیلو ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @storyandworse

Other stories by Urvashi Sarkar