06-MISC 039 18A-PS-Sonakhan-when Veer Narayan died twice.jpg

01-MISC 039 02A-PS-Sonakhan-when Veer Narayan died twice.jpg

گاؤں کے کچھ لوگ شروع میں ویر نارائن سنگھ کو لٹیرا‘ کہتے تھے، لیکن وقت جیسے جیسے گزرتا گیا، ان کی سوچ بھی بدلنے لگی۔


’’ویر نارائن سنگھ؟‘‘ چھتیس گڑھ کے سوناکھن گاؤں کے سہس رام کَنور کہتے ہیں۔ ’’وہ ایک لٹیرا تھا، ایک ڈکیت۔ کچھ لوگ اسے عظیم انسان کہنے لگے ہیں۔ ہم نہیں۔‘‘ ان کے ارد گرد جتنے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ان میں سے دو چار نے ہی حامی بھری۔ کچھ لوگ اسی قسم کے تبصرے کرتے رہے۔

یہ بہت افسوس ناک بات تھی۔ ہم سوناکھن کی تلاش میں کافی دور سے چل کر آئے تھے۔ یہ ۱۸۵۰ کے وسط میں چھتیس گڑھ میں ہونے والی آدیواسیوں کی بغاوت کا مرکزی مقام تھا۔ ۱۸۵۷ کی عظیم بغاوت سے بھی کافی پہلے کا واقعہ۔ اور، اس بغاوت نے ایک اصلی ہیرو کو جنم دیا تھا۔

یہ وہ گاؤں ہے، جہاں ویر نارائن سنگھ نے انگریزوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔

۱۸۵۰ کی دہائی میں یہاں قحط جیسی صورتِ حال نے معاملات کو پوری طرح بگاڑ دیا تھا۔ حالات جیسے ہی خراب ہوئے، سوناکھن کے نارائن سنگھ کا علاقے کے زمینداروں سے جھگڑا شروع ہو گیا۔ ’’اس نے بھیک نہیں مانگی،‘‘ آدیواسیوں کے غلبہ والے اس گاؤں کے سب سے بزرگ آدیواسی، چرن سنگھ کہتے ہیں۔ شاید وہ اکیلے آدمی ہیں، جو نارائن سنگھ کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔


02-MISC 039 08A-PS-Sonakhan-when Veer Narayan died twice.jpg

’’اس نے بھیک نہیں مانگی،‘‘ آدیواسیوں کے غلبہ والے اس گاؤں کے سب سے بزرگ آدیواسی، چرن سنگھ کہتے ہیں۔ شاید وہ اکیلے آدمی ہیں، جو نارائن سنگھ کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔


’’اس نے سوداگروں اور مالکوں سے کہا کہ وہ اپنے گوداموں کے دروازے کھول دیں اور غریبوں کو کھانا کھانے دیں۔‘‘ جیسا کہ پہلے قحط کے دوران ہوا کرتا تھا، اناج کے گودام تب بھرے رہتے تھے۔ ’’اور اس نے کہا کہ جیسے ہی پہلی فصل تیار ہوگی، لوگ وہ اناج لوٹا دیں گے جو انھیں دیے گئے ہیں۔ لیکن جب انھوں نے منع کر دیا، تو اس نے غریبوں کو اناج پر قبضہ کرنے اور اسے تقسیم کرنے میں ان کی رہنمائی کی۔‘‘ اس کے بعد جو لڑائی شروع ہوئی، وہ پورے علاقے میں پھیل گئی، کیوں کہ تب آدیواسیوں نے استحصال کرنے والوں پر حملہ بول دیا تھا۔

’’یہ لڑائی ۱۸۵۷ کی جنگ سے کافی پہلے شروع ہوئی تھی،‘‘ برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال کے پروفیسر ہیرالال شکلا بتاتے ہیں۔ پھر بھی، بقول شکلا، ’’بعد میں یہ لڑائی ۱۸۵۷ کی بغاوتوں کے ساتھ ہی جڑ گئی۔‘‘ مطلب یہ کہ چھتیس گڑھ کے آدیواسیوں نے تبھی قربانی دینی شروع کر دی تھی، جب بامبے اور کلکتہ کا طبقۂ امراء انگریزوں کی کامیابی کے لیے دعائیہ میٹنگیں کر رہا تھا۔

۱۸۵۷ میں، انگریزوں نے رائے پور میں نارائن سنگھ کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔

سوناکھن کے لوگ اُن قربانیوں کا مذاق نہیں اڑاتے، جن کی وجہ سے آزادی حاصل ہوئی۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے خود بھی قربانیاں دی ہیں۔ جے سنگھ پیکرا نام کے ایک غریب کسان، مانتے ہیں کہ ’’انگریزوں سے لڑنا صحیح تھا۔ یہ ہمارا ملک ہے۔‘‘ وہ پچھلے ۵۰ سالوں پر نظر دوڑاتے ہوئے کہتے ہیں، اس سے ’’حالانکہ غریبوں کو بہت کم فائدہ ہوا‘‘۔


03-MISC 039 21A-PS-Sonakhan-when Veer Narayan died twice.jpg

سوناکھن کے کچھ لوگ ہمارے ساتھ سمادھی تک گئے


سوناکھن میں بھکمری اب بھی ایک مسئلہ ہے، جیسا کہ چھتیس گڑھ کے بہت سے آدیواسی اور غیر آدیواسی علاقوں کے لوگ غریبی میں مبتلا ہیں۔ ’سوناکھن‘ کا مطلب ہے سونے کی کان، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ شیام سندر کَنور بتاتی ہیں، ’’پچھلے موسم میں اس سے بھی کم لوگ یہاں تھے، جتنے کہ آج آپ یہاں دیکھ رہے ہیں۔ بعض دفعہ تو ہم سبھی کو روزی کی تلاش میں ہجرت کرنی پڑتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں خواندگی کی مہم کامیاب نہیں ہوئی۔


04-MISC 039 12A-PS-Sonakhan-when Veer Narayan died twice.jpg

بھکمری اور طبی سہولیات کی کمی سوناکھن کا اب بھی بڑا مسئلہ ہے، جیسا کہ یہ عورتیں بتا رہی ہیں


سوناکھن، باغوں کے وسط میں ہے۔ اس لیے، ماضی اور حال کے جنگل سے متعلق بہت سے مسائل اب بھی زندہ ہیں۔ اور یہ پورا علاقہ مضبوطی کے ساتھ ان طاقتوں کے قبضے میں ہے، جن کے خلاف کبھی ویر نارائن کھڑے ہوئے تھے۔ یہ ہیں سوداگر، ساہوکار، زمیندار وغیرہ۔ ’’بعض دفعہ، ہم زندہ رہنے کے لیے اپنی زمینیں رہن پر رکھ دیتے ہیں،‘‘ وجے پیکرا نام کے ایک دوسرے کسان بتاتے ہیں۔

یہ تمام مسائل آج بھی موجود ہیں، پھر ویر نارائن کی یاد ان کے ہی گاؤں میں کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟

بھوپال کے ایک اہل کار اس کے جواب میں کہتے ہیں، ’’۱۹۸۰ اور ۹۰ کی دہائیوں میں مدھیہ پردیش کی سیاست کے مقابلے اس کے جواب کا ماضی سے کم لینا دینا ہے۔‘‘

چرن سنگھ پرانی باتوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ارجن سنگھ (اپنے ہیلی کاپٹر سے) تقریباً ۱۳ سال پہلے یہاں آئے تھے۔ اور یہاں انھوں نے ایک اسپتال کھولا تھا۔ اس سال اپریل میں، کئی بڑے لوگ آئے۔ (وزراء ہروَنش سنگھ اور کانتی لال بھوریا، اور وِدیا چرن شکل بھی۔) یہ لوگ بھی ہیلی کاپٹر سے آئے تھے۔ بیچ میں اور بھی بہت سے لوگ آئے۔‘‘


05-MISC 039 05A-PS-Sonakhan-when Veer Narayan died twice.jpg

جس وقت بڑے بزرگ انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑنے والے ہیرو کا قصہ سنا رہے ہیں، دوسرے لوگ اسے غور سے سنتے ہوئے


رائے پور سے سوناکھن کی سب سے قریبی جگہ، پتھوڑا تک ۱۰۰ کلومیٹر کی دوری طے کرنے میں دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ لیکن، وہاں سے گاؤں تک کی ۳۰ کلومیٹر دوری کو طے کرنے میں دو گھنٹے سے زیادہ لگ جاتے ہیں۔ ’’اگر کوئی یہاں پر بری طرح بیمار پڑ جائے، تو ہمیں اسے علاج کے لیے جنگلوں کے راستے ۳۵ کلومیٹر تک اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے،‘‘ جے سنگھ پیکرا بتاتے ہیں۔

لیکن، ارجن سنگھ کے ذریعہ بنوائے گئے اسپتال کا کیا؟ ’’۱۳ سال پہلے جب اسے بنایا گیا تھا، تب سے لے کر اب تک یہاں کسی ڈاکٹر کو نہیں رکھا گیا،‘‘ پیکرا بتاتے ہیں۔ یہاں پر ایک کمپاؤنڈر ضرور ہے، جو ہماری پرچی لکھنے میں خوش ہے۔ لیکن، دوائیں ہمیں باہر سے خرید کر لانی پڑتی ہیں۔

پھر وہ کیا چیز ہے، جو ’’بڑے لوگوں‘‘ کو یہاں کھینچ کر لاتی ہے؟ اور ان لوگوں نے یہاں آکر کیا کیا؟

’’ہر بار وہ ایک ہی مقصد کے تحت یہاں آتے ہیں،‘‘ پیکرا بتاتے ہیں۔ ’’وہ یہاں آکر نارائن سنگھ پر تقریر کرتے ہیں اور ایک ہی فیملی کو پیسے اور تحفے دیتے ہیں: یعنی ان کے وارثین کو۔‘‘ تلاش کرنے کے باوجود ہمیں ان کے وارثین میں سے کوئی نہیں ملا۔

’’وہ یہاں کبھی نہیں آتے۔ کون جانتا ہے کہ اصلی وارث وہی لوگ ہیں،‘‘ چرن سنگھ کہتے ہیں۔ ’’وہ کہتے ہیں کہ یہی ان کے وارثین ہیں۔ لیکن، وہ تو گاؤں کے دیوتا کے مندر میں پوجا تک نہیں کرتے۔‘‘

’’پھر بھی، سب کچھ انھیں ہی ملتا ہے،‘‘ پیکر الزام لگاتے ہیں۔

مدھیہ پردیش میں ریاستی حکومت کے ذریعہ سرکاری طور پر مجاہدینِ آزادی کا جو ریکارڈ تیار کیا گیا ہے، وہ پوری طرح درست نہیں ہے۔ ہزاروں آدیواسیوں نے انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانین قربان کر دیں۔ لیکن سرکاری فہرست میں ان کے نام تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ نہ تو چھتیس گڑھ کی لسٹ ہے۔ نہ ہی بستر کی۔ البتہ میردھاؤں، شکلاؤں، اگروالوں، گپتاؤں، دوبے وغیرہ کے نام لسٹ میں بھرے پڑے ہیں۔ تاریخ، جسے فاتحین نے لکھی ہے۔

۱۹۸۰ کی دہائی کے وسط میں، اُس وقت کے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ، ارجن سنگھ، اپنے دو بڑے حریفوں کو حاشیہ پر لانا چاہتے تھے، جو کہ دو شکلا برادران تھے۔ پہلے، شیام چرن شکلا، جو اسی ریاست کے تین بار وزیر اعلیٰ بنے۔ دوسرے، وِدیا چرن شکلا، جو کئی بار مرکزی وزیر بنے۔ چھتیس گڑھ ہی ان کا مرکز و محور تھا اور کچھ حد تک اب بھی ہے۔ ریاستی کانگریس کے اندر اپنی بالا دستی قائم کرنے کی لڑائی میں، ارجن سنگھ ان کے پیچھے پڑے۔ اور ویر نارائن کی تقرری ایک حلیف کے طور پر کی گئی۔

نارائن سنگھ کا نام بھلے ہی تاریخ کی کتابوں میں درج نہ ہو، لیکن وہ اس علاقے میں اپنے لوگوں کا ایک مستند ہیرو تھا۔ تاہم اب، ریاست نے اسے تسلیم کر لیا ہے۔

ویر نارائن سنگھ کو دراصل، اس لیے اہمیت دی گئی، تاکہ وہ شکلا برادران کے اثر و رسوخ اور طاقت کو کم کر سکے۔ چھتیس گڑھ کے حقیقی ہیرو کون تھے؟ آدیواسی لیڈر؟ یا دولت مند شکلا؟ چھتیس گڑھ کی عظیم روایات کس کی ہیں؟ عصر حاضر کی جتنی سیاسی لڑائیاں ہیں، انھوں نے ماضی کو ڈھک لیا ہے۔ ویر نارائن کی پشت پناہی کرکے، ارجن سنگھ شکلاؤں کے خلاف لڑائی میں خود کو آدیواسیوں کے ساتھ کھڑا کر رہے تھے۔

جلد ہی، ریاستی مشینری نارائن سنگھ کو اوتار بنانے میں جُٹ گئی۔ اس کے کچھ مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے۔ ایک ایسا ہیرو، جس کے بارے میں لوگ کم جانتے تھے، اسے اب پوری پہچان ملنے لگی۔ اور کوئی بھی اسے غلط نہیں ٹھہرا سکتا تھا۔ لیکن، مقصد کچھ اور تھا۔ سوناکھن کی وراثت کو لے کر مقابلہ آرائی ہونے لگی اور دھڑادھڑ لیڈر یہاں پہنچنے لگے۔ اسپتالوں اور دیگر عمارتوں کا افتتاح ہونے لگا۔ حالانکہ نہ تو اسپتالوں نے کبھی کام کرنا شروع کیا اور نہ ہی دیگر عمارتوں نے۔ نوکریوں اور ’’معاوضوں‘‘ کا اعلان کیا گیا۔ ذخائر اور باغات کے نام ویر نارائن سنگھ کے نام پر پڑنے لگے۔

لیکن، گاؤں والوں کا الزام ہے کہ ان سب سے صرف ایک ہی فیملی کا فائدہ ہوا۔

نارائن سنگھ کا نام اب دوسرے علاقوں میں بھی مشہور ہونے لگا، لیکن خود ان کے گاؤں میں لوگوں کی ناراضگی بڑھتی رہی۔ سوناکھن کا غصہ شاید اس لیے ہے کہ صرف ایک فیملی کی حمایت و اعانت کی جا رہی ہے۔

ویر نارائن جس احتجاجی سیاست کی علامت تھے، وہ ختم ہو چکی ہے۔ حمایت والی  سیاست حاوی ہو چکی ہے۔ طبقۂ امراء کی مداخلت نے ایک مستند مقامی ہیرو کی شبیہ مسخ کر دی۔ جس ہمدردی کے جذبہ کو لے کر وہ کھڑے ہوئے تھے، وہ اب کہیں نظر نہیں آتی۔ ۱۹۸۰ کی دہائی لوٹ آئی ہے۔

ہمارے قیام کے آخری دنوں میں، گاؤں والے کچھ نرم پڑے۔ اور ان کی ناراضگی، جسے غلط سمجھا گیا، وہ واجب ہے۔ ’’وہ حقیقتاً ایک اچھے آدمی تھے،‘‘ وجے پیکرا کہتے ہیں۔ ’’لیکن، تب وہ ہم سب کے لیے لڑے۔ صرف اپنی فیملی کے لیے نہیں۔ وہ بے غرض تھے۔ پھر صرف ایک ہی فیملی کو سارا فائدہ کیوں؟‘‘


06-MISC 039 18A-PS-Sonakhan-when Veer Narayan died twice.jpg

ویر نارائن سنگھ کی سمادھی: جس پر کتّوں کا قبضہ ہے


سوناکھن میں، ویر نارائن سنگھ دو بار مرے۔ پہلی بار، برطانوی سرکار کے ہاتھوں۔ دوسری بار، مدھیہ پریش کی سرکار کے ہاتھوں۔ حالانکہ، انھوں نے جتنے بھی مسائل کے خلاف آواز اٹھائی، وہ سارے مسائل اب بھی موجود ہیں۔

 

یہ اسٹوری سب سے پہلے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے ۲۷ اگست، ۱۹۹۷ کے شمارہ میں شائع ہوئی۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: