uploads/Articles/P. Sainath/Wrestling /shankarrao_pujari_in__action_as_commentator_at_a_wrestling_bout_pic_amol_gavali__light_version_img_1417.jpg

/media/uploads/Articles/P. Sainath/Wrestling /shankarrao_pujari_in__action_as_commentator_at_a_wrestling_bout_pic_amol_gavali__light_version_img_1417.jpg



یہ ’رننگ کمینٹری‘ کو بالکل نیا معنی عطا کر رہے ہیں ۔ پورے ۱۲ گھنٹے تک کُشتی کے ٹورنامنٹ کو کوَر کرنے کے لیے۔ وہ بھی، عوامی خطاب کے نظام سے، کسی ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر نہیں۔ شنکر راؤ پجاری نے کُشتی کی کمینٹری کی ایجاد اس کی موجودہ شکل میں کی۔ مہاراشٹر کے ٹورنامنٹ آرگنائزرس بعض دفعہ ان کے کیلنڈر کے حساب سے اپنے پروگرام کی تاریخوں کو بدل دیتے ہیں۔ یہ صرف مجمع سے بات ہی نہیں کرتے، بلکہ انھیں میدان میں کھینچ کر لاتے بھی ہیں۔

’’شنکر راؤ پجاری کے اسٹائل نے کُشتی کو اس وقت دوبارہ زندہ کیا، جب اس کی حالت خستہ تھی،‘‘ سانگلی کے بیناپور کے ٹاپ سابق پہلوان اور ٹیچر راجندر شنڈے بتاتے ہیں۔ ان کے بیان کرنے کا انداز اور تعلیمی اسٹائل بڑی بھیڑ کو کھینچ کر لاتا ہے۔ ’’اس نے دوسرے طریقوں سے بھی بازاحیا میں مدد کی۔ لوگوں نے یومِ پیدائش پر کُشتیوں کا اہتمام کرنا شروع کردیا، زیادہ پروگرام ہوئے، تو پہلوان بھی زیادہ آنے لگے۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Wrestling /pujari's_trophy_case_at_home_dsc_1047.jpg

عام طور سے کمینٹری اُس جگہ پر موجود سامعین کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے بڑے میدانوں میں پی اے سسٹم کے ذریعے متعدد اسپیکرس لگانا۔ لیکن، ریڈیو پر کیوں نہیں؟ ’’وہ مشکل ہوتا،‘‘ پجاری کولہاپور ضلع کے کوٹھالی میں واقع اپنے گھر پر کہتے ہیں۔ ’’ہمارا سسٹم اور اسٹائل اس کے لیے نہیں بنا ہے، خاص کر گاؤں کی سطح پر۔ ہماری کمینٹری میں، ہم مقامی شخصیات کی آمد پر بار بار اس کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘ اس میں کُشتی کے سابق پہلوان ہو سکتے ہیں یا پھر وہاں کا مقامی ایم ایل اے ہوسکتا ہے۔ ’’اور یہ کئی گھنٹوں تک چلتا ہے۔‘‘


انھیں اس وقت پر فخر ہے، جب انھوں نے وارنا نگر میں ۱۲ گھنٹوں تک بڑی بھیڑ کو جمائے رکھا۔ پاکستان سے کھلاڑیوں کی آمد میں دیری نے ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج پیدا کردیا تھا۔ پجاری بریک کے وقت بیچ میں کود پڑے۔ وہ کُشتی کی تاریخ اور کلچر سے باخبر ہیں، اس کا تجزیہ کرتے ہیں اور ایک طرح سے اس کھیل کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ پجاری خود ایک پہلوان تھے اور اس کی تکنیک کے ماہر قاری ہیں۔ ’’میں نے ۸ سال کی عمر میں کُشتی لڑنا شروع کیا، لیکن ۱۹۷۲ میں اس وقت اس کھیل کو چھوڑ دیا جب قحط کی وجہ سے کھیتی کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ اگر کھیتی پر کوئی مصیبت آ جائے، تو کُشتی کا حال بھی یہی ہوگا۔‘‘

کُشتی کی کمینٹری کیسی ہوتی ہے، اس پر وہ ہمیں دو منٹ کا ’لائیو ڈیمو‘ دیتے ہیں، اور اس میں جان ڈال دیتے ہیں۔ ان کے پاس واقعی میں براڈکاسٹر کی آواز ہے۔ ’’میں نے اپنے گرو باپو صاحب راڈے سے یہ ہنر سیکھا ہے۔‘‘ لیکن اس کے اسٹائل اور مواد میں تبدیلی کرتے رہے۔ پجاری اپنی اسکول آف کمینٹری کی تلخیص کچھ یوں کرتے ہیں۔ ’’اس کا مقصد ناظرین کو اپنی جانب لانا اور کُشتی کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنا ہے۔ اس میں صرف جانکاری ہی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ کھیل کا سماجی و ثقافتی مقام اور تاریخ بھی ہونی چاہیے۔ کمینٹریٹر کو چاہیے کہ وہ سامعین کو اس کی ٹرکس اور تکنیک اور ٹیکٹکس کے بارے میں بھی بتائے۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Wrestling /shankar_poojari_as_a_young_wrestler_dsc_1046.jpg

کمینٹریٹرس کو چاہیے کہ وہ کُشتی لڑنے والوں کو بتائے کہ: ’’وہ اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں۔ اگر امیر لوگ طاقت کا استعمال کرنے لگیں، تو یہ مہلک ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، ان کے اندر دوسروں کے لیے عزت و وقار اور احترام کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔‘‘ وہ گاما پہلوان جیسے لیجنڈری پہلوانوں کی کہانیوں پر بھی زور دیتے ہیں۔ پجاری نے یہ کام ۱۹۸۵ میں شروع کیا۔ ’’مجھے ذہن میں یہ خیال کرکٹ کمینٹری سنتے وقت آیا۔ ہم لوگ کُشتی کو سامعین کی اُن بڑی تعداد کے لیے موقع پر کمینٹری کرکے کیوں نہیں مقبول بنا سکتے، جو وہاں جمع ہوتے ہیں یا ہوتے رہے ہیں؟ انھیں اس کی باریکیاں کیوں نہ بتائی جائیں، اس کے آداب، اس کی تاریخ سے کیوں نہ واقف کرایا جائے؟ اس سے وہ لوگ بڑی تعداد میں آئیں گے، جو اس کھیل کو بہت پسند کرتے ہیں اور اس کے بارے میں مزید جانکاری حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس سے مزید نوجوان کُشتی کی جانب مائل ہوں گے۔‘‘ وہ آدمی جس نے ’’۱۹۸۵ میں مفت میں اپنے ابتدائی پروگرام کیے،‘‘ وہ اب ایک سال میں ۱۵۰ ایسے پروگرام کرتا ہے۔ ’’میں اس کے ذریعے گزر بسر کرنے کے لائق بنا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ان کا پہلا ’’بڑا پروگرام سال ۲۰۰۰ میں سانگلی میں ہوا‘‘۔ پچھلے موسم میں پانی کی قلت کی وجہ سے چونکہ ٹورنامنٹ نہیں ہو پائے، اس لیے پجاری نے سیاسی لیڈروں سے خطاب کیا۔ ’’آپ نے مویشیوں کو بچانے کے لیے چارے کے ڈپو کھولے ہیں۔ بہت اچھا، ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔ کیا آپ پہلوانوں کو بچانے کے لیے بھی کچھ کیمپ کھولیں گے اور پروگرام منعقد کرائیں گے؟ ان کا انحصار بھی کھیتی اور بارش پر ہے۔‘‘


یہ مضمون سب سے پہلے یہاں شائع ہوا تھا: http://psainath.org/kushtis-voice-of-social-commentary/


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: