میوزک سندر بن کے آدیواسیوں کی زندگی میں ایک بڑا رول ادا کرتے ہیں۔ سنتال، مُنڈا، اوراؤں اور ہو جیسے گروپوں کو انگریز ۱۹ویں صدی میں اس خطے میں لے کر آئے۔ اقرارنامہ والے مزدوروں کے طور پر انھوں نے جنگلات کو صاف کیا اور ندیوں کے باندھ بنائے۔

مغربی بنگال میں کئی دہائیوں تک رہنے کے بعد ان کے وارثین اب بنگالی بولتے ہیں۔ بنوا جیسی اپنی اصلی زبان کی یاد کو بچائے رکھنے کے لیے یہ لوگ گانوں اور ڈانس کا سہارا لے رہے ہیں۔ بعض نے تبلی گھیری آدیواسی توشو سمپرادو جیسے گروپوں کی تشکیل کر لی ہے۔ گاؤوں والوں اور سیاحوں کو ان کی پرفارمنس کا انتظار رہتا ہے، جس سے آدیواسیوں کی کچھ آمدنی ہو جاتی ہے اور اس سے انھیں اپنی ثقافتی وراثت کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔


یہاں پر جو ویڈیو ہے، اس کی شوٹنگ مئی ۲۰۱۶ میں کی گئی تھی۔

کو۔ ڈائرکٹر ارجن مونڈل گوسابا بلاک کے رجت جوبیلی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ گزر بسر کے لیے وہ کیکڑوں کو پکڑتے اور انھیں بیچتے ہیں اور یہاں ایک غیر سرکاری تنظیم چلاتے ہیں۔

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

اُروَشی سرکار ایک آزاد صحافی اور ۲۰۱۶ کی پاری فیلو ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @storyandworse

Other stories by Urvashi Sarkar