09B-IMG_2866-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg


’’حکومت سندربن کے جنگلوں کو دیکھتی ہے، ان میں رہنے والے انسانوں کو نہیں،‘‘ گیتا مِردھا کہتی ہیں، جن کے شوہر، ایک ماہی گیر، کو چیتا نے فروری ۲۰۱۲ میں مار دیا تھا۔ معاوضہ کی اہل ہونے کے باوجود، گیتا کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ نہیں ملا؛ ان کے گاؤں کی اور بھی بہت سی عورتوں کی شکایت ہے کہ چیتے نے جب ان کے ماہی گیر شوہروں کو مار دیا، تو انھیں بھی کوئی معاوضہ نہیں ملا۔

’’وہ آپ کا ووٹ مانگنا کبھی نہیں بھولتے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ گیتا نے بھی ووٹ ڈالا ہے۔ ’’میں نے ایک شہری ہونے کی ذمہ داری نبھائی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ گیتا سندربن کے رجت جوبلی گاؤں کی رہنے والی ہیں۔


02-IMG_2993-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

’میں نے ایک شہری ہونے کی ذمہ داری نبھائی ہے،‘ رجت جوبلی گاؤں کی گیتا مِردھا کہتی ہیں


رجت جوبلی، جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کے گوسابا بلاک کے، لاہری پور گرام پنچایت کے ۲۲ گاؤوں میں سے ایک ہے۔ یہاں پر زیادہ تر درج فہرست ذات (ایس سی) کے لوگ آباد ہیں۔

۳۰ اپریل کو گوسابا کے گاؤوں میں رہنے والے لوگوں نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اپنے ووٹ ڈالے۔ ان میں سے بہت سے لوگ رجت جوبلی کے ارد گرد علاقوں میں رہتے ہیں، جو پولنگ بوتھ سے ڈیڑھ سے ۲ کلومیٹر دور ہے، اور ووٹ ڈالنے کے لیے انھوں نے یہ دوری پیدل طے کی۔ بعض نے اس سے بھی زیادہ دوریاں طے کیں، کولکاتا اور ریاست کے دیگر حصوں سے ٹرین، کشتی اور گاڑیوں سے چل کر یہاں تک پہنچے۔


03A-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg


03B-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

لاہری پور گرام پنچایت کے ۲۲ گاؤوں میں رہنے والے لوگ ٹرینوں، کشتیوں اور ٹریکٹروں سے پولنگ بوتھ تک پہنچے


ووٹنگ صبح ۷ بجے شروع ہوئی اور شام کے ۶ بجے تک چلی۔ دوپہر کی گرمی سے بچنے کے لیے، ۹۵ سال بوڑھی پھول بشی اور ان کی بہو کلپنا مونڈول جیسے لوگوں نے صبح میں ہی ووٹ ڈال دیے۔


04-IMG_2877-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

دوپہر کے بعد کی گرمی سے بچنے کے لیے پھول بشی (دائیں) اور ان کی بہو کلپنا مونڈول نے شروع میں ہی ووٹ ڈال دیے


رجت جوبلی گاؤں کی رہنے والی بینا مردھا نے اپنے گاؤں کی پریشانیوں کو مختصراً بتایا۔ ’’یہاں پر کوئی اسپتال نہیں ہے، صرف ایک بڑا اسپتال گوسابا میں ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو دو کشتیاں اور گاڑیاں بدلنی پڑتی ہیں۔ اس میں چیتوں اور مگرمچھوں کا خطرہ ہوتا ہے، جو ہمارے لوگوں اور مویشیوں کو لگاتار مارتے رہتے ہیں۔ ہمیں ہمارے چاول کی مناسب قیمت بھی نہیں ملتی، صرف ۶۵۰ روپے ایک کوئنٹل کے ملتے ہیں، جب کہ بازار میں ایک کوئنٹل کی قیمت ۸۰۰ روپے ہے۔ حکومت کو ہم سے اناج خریدنا تھا، لیکن اب یہ سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ فوڈ سیکورٹی کارڈ غلطیوں سے بھرے پڑے ہیں، اس لیے ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ہمارا کھانا بھی نہیں ملتا۔ ہمارے یہاں کی سڑکوں کو چوڑا اور ندی کی سطح سے اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

بینا اس بات پر بھی افسوس کرتی ہیں کہ ان کے گاؤں کے قریب اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئی ادارہ نہیں ہے۔ ’’میری بیٹی کولکاتا میں پڑھتی ہے، جہاں ہم نے اس کا داخلہ کافی پیسہ خرچ کرکے کروایا ہے۔ یہاں مچھلی پکڑنے اور شہد جمع کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی نہیں ہے۔‘‘


05A-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

05B-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

گاؤں کے ہائی اسکول میں ووٹنگ چل رہی ہے؛ کچھ نے ووٹ ڈال دیے ہیں، کچھ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں


پولنگ رجت جوبلی ہائی اسکول میں ہوئی۔ اسکول کے اندر، گوسابا اسپتال میں کام کرنے والی ہیلتھ ورکرس لوکھی ہاؤلی مونڈول اور ایلا سرکار مونڈول میڈیکل ٹیم کے طور پر الیکشن ڈیوٹی نبھا رہی ہیں۔ لوکھی نے کہا، ’’ہم سبھی ووٹروں کو او آر ایس (اورل ری ہائڈریشن سالٹس) اور بیماروں کو دوائیں دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گھر کے مریضوں کے لیے بھی دوا لے جاتے ہیں۔‘‘

دونوں ہی عورتیں اس جگہ پر صبح ۷ بجے سے شام کے ۶ بجے تک ڈیوٹی دی۔ کیا انھیں اس کام کے لیے پیسے ملے؟ لوکھی نے کہا، ’’ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہے (کہ ہمیں اس کا کتنا پیسہ ملے گا)۔ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ہمیں اس کا پتہ چلے گا۔‘‘


06-IMG_2892-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

میڈیکل ٹیم کے طور پر صبح ۷ بجے سے شام کے ۶ بجے تک ڈیوٹی دے رہیں گوسابا اسپتال کی لوکھی مونڈول اور ایلا مونڈول کو یہ معلوم نہیں ہے کہ انھیں اس کام کی اجرت کتنی ملے گی


ونود اور سبیتا سردار، جو میاں بیوی ہیں، بھی الیکشن ڈیوٹی پر تھے۔ ان کا کام پولنگ افسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا تھا۔ ونود نے کہا، ’’افسروں کو کھانا اور ناشتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم ان کے لیے چائے، کافی اور سگریٹ لے کر آتے ہیں۔ سرداروں کا تعلق درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے ہے، جن کے پاس کوئی زمین نہیں ہوتی۔ حیرانی کی بات ہے کہ ان کی الیکشن ڈیوٹی ’ٹیم کے نوکر‘ کے طور پر کام کرنا۔


07-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

ونود اور سبیتا سردار نے پولنگ افسروں کی ضروریات پوری کیں؛ دونوں کا تعلق درج فہرست ذات سے ہے اور انھیں ’ٹیم کے نوکر‘ کے طور پر الیکشن ڈیوٹی ملی


سخت گرم اور حبس والے سندر بن میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ گرمی سے تھوڑی راحت پہنچانے کے لیے متعدد پارٹیوں کے کچھ مقامی کارکنوں نے، ووٹروں کو بتاشے کے شربت پلائے۔ اس کے علاوہ انھوں نے پان اور بیڑی کا بھی انتظام کیا۔


08-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

گرمی سے راحت پہنچانے کے لیے پارٹی ورکروں نے ووٹروں کو کولڈ ڈرنکس پلائے؛ رونوجیت برمن (دائیں) ووٹ ڈالنے کے لیے تھوڑا تازہ دم ہو رہے ہیں


الیکشن لڑ رہی سیاسی پارٹیاں، جیسے ریوولوشنری سوشلسٹ پارٹی، ترنمول کانگریس، اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے چھوٹے چھوٹے خیمے لگائے، جہاں پارٹی کارکنوں نے ووٹروں کو ان کے ووٹر شناختی نمبر میل کرانے میں مدد کی اور پہلی بار ووٹ ڈالنے کے لیے یہاں پہنچے لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں مدد کی۔ یہ سارے خیمے یا ٹینٹ پولنگ بوتھ سے ۲۰۰ میٹر دور لگانے پڑتے ہیں۔


09A-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

09B-IMG_2866-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

سیاسی پارٹیاں ٹینٹ لگاکر ووٹروں کے شناختی نمبر ملوانے اور پہلی بار ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والوں کی رہنمائی کرتی ہیں


سنٹرل ریزرو پولس فورس کے جوان ہر جگہ موجود تھے، گاؤں میں گشت لگا رہے تھے اور پولنگ بوتھ پر بھی کھڑے تھے۔ انھوں نے اپنے چہرے کی تصویر لینے سے منع کر دیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’’ہم صرف چائے پینے یہاں آئے ہیں۔ اگر آپ ہماری تصویر درخت کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے ہوئے کھینچیں گی، تو لوگ سوچیں گے کہ ہم اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے رہے ہیں۔‘‘


10-IMG_2912-US-Voting in a Sundarbans Village.jpg

سی آر پی ایف کے جوان گاؤں میں اور پولنگ بوتھ پر ہر جگہ دکھائی دے رہے تھے


تصویر: اُروَشی سرکار

یہ مضمون پاری فیلوشپ کے تحت لکھا گیا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

اُروَشی سرکار ایک آزاد صحافی اور ۲۰۱۶ کی پاری فیلو ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @storyandworse You can contact the author here: