شاستی بھوئیاں نے پچھلے سال اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ سندربن خطہ کے اپنے گاؤں، سیتا رامپور سے تقریباً ۲۰۰۰ کلومیٹر دور، بنگلورو جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہو گئیں۔ ’’ہم بے حد غریب ہیں۔ میں اسکول میں مڈ ڈے میل نہیں لے سکتی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ شاستی ۱۶ سال کی ہیں اور ۹ویں کلاس میں تھیں، اور مغربی بنگال اور پورے ہندوستان میں سرکاری اسکولوں میں صرف ۸ویں کلاس تک ہی طلبہ کو مڈ ڈے میل دیا جاتا ہے۔

اس سال مارچ میں، شاستی جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کے کاک دویپ بلاک میں اپنے گاؤں لوٹ آئیں۔ بنگلورو میں لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد گھریلو ملازمہ کی ان کی نوکری چھن گئی تھی۔ اس کے ساتھ ان کی ۷ ہزار روپے کی کمائی بھی بند ہو گئی، جن میں سے کچھ پیسے وہ ہر مہینے گھر بھیجتی تھیں۔

شاستی کے والد، ۴۴ سالہ دھننجے بھوئیاں، سیتا رامپور کے ساحل سے دور، نیاچر جزیرہ پر مچھلی پکڑنے کا کام کرتے ہیں – جیسا کہ یہاں کے گاؤوں کے بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ وہ ننگے ہاتھوں اور کبھی کبھی چھوٹی جال سے مچھلیاں اور کیکڑے پکڑتے ہیں، انہیں آس پاس کے بازاروں میں فروخت کرتے ہیں اور ہر ۱۰-۱۵ دنوں میں گھر لوٹتے ہیں۔

وہاں مٹی اور پھوس کی جھونپڑی میں دھننجے کی ماں مہارانی، ان کی بیٹیاں، ۲۱ سالہ جنجلی، ۱۸ سالہ شاستی اور ۱۴ سالہ بیٹا سبرت رہتے ہیں۔ سبرت کی پیدائش کے کچھ مہینے بعد ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا۔ ’’ہمیں اس جزیرہ پر پہلے جتنی مچھلیاں اور کیکڑے نہیں ملتے ہیں [سال در سال] ہماری کمائی بہت زیادہ گھٹ گئی ہے،‘‘ دھننجے کہتے ہیں، جو ابھی ہر مہینے ۲-۳ ہزار روپے کماتے ہیں۔ ’’ہمیں زندہ رہنے کے لیے مچھلیاں اور کیکڑے پکڑنے پڑتے ہیں۔ انہیں اسکول بھیج کر ہمیں کیا مل جائے گا؟‘‘

اس لیے، جس طرح شاستی نے اسکول جانا چھوڑا ہے ویسے ہی سندربن کی کلاسوں سے دوسرے طلبہ بھی بڑی تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔ کھاری ہوتی زمین نے کھیتی کو مشکل بنا دیا ہے، چوڑی ہوتی ندیاں اور بار بار آتے سمندری طوفان، ڈیلٹا میں ان کے گھروں کو اجاڑتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً، اس خطہ کے گاؤوں کے بہت سے لوگ روزی روٹی کی تلاش میں ہجرت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بچے – جو اکثر پہلی نسل کے طلبہ ہیں – ۱۳ یا ۱۴ سال کی عمر میں روزگار کے لیے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔ وہ دوبارہ کلاس میں واپس نہیں لوٹ پاتے۔

Janjali (left) and Shasti Bhuniya. Shasti dropped out of school and went to Bengaluru for a job as a domestic worker; when she returned during the lockdown, her father got her married to Tapas Naiya (right)
PHOTO • Sovan Daniary
Janjali (left) and Shasti Bhuniya. Shasti dropped out of school and went to Bengaluru for a job as a domestic worker; when she returned during the lockdown, her father got her married to Tapas Naiya (right)
PHOTO • Sovan Daniary

جنجلی (بائیں) اور شاستی بھوئیاں۔ شاستی نے اسکول چھوڑا اور گھریلو ملازمہ کا کام کرنے کے لیے بنگلورو چلی گئیں؛ لاک ڈاؤن کے دوران جب وہ لوٹیں، تو ان کے والد نے تاپس نیّا (دائیں) سے ان کی شادی کر دی

جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع میں سرکاری امداد سے چلنے والے ۳۵۸۴ پرائمری اسکولوں میں ۷۶۸۷۵۸ طلبہ، اور ۸۰۳ اَپر پرائمری اسکولوں میں ۴۳۲۲۶۸ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ جن اسکولوں کو زیادہ تر بچے چھوڑ دیتے ہیں، ان میں اساتذہ اور دیگر ملازمین کی بھاری کمی ہے، کلاسیں ٹوٹی ہوئی ہیں – اس کی وجہ سے بھی بچے دوبارہ ان اسکولوں میں لوٹ نہیں پاتے ہیں۔

’’۲۰۰۹ کے بعد سے [سندربن خطہ میں] اسکول چھوڑنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے،‘‘ ساگر بلاک میں گھورمارا جزیرہ کے ایک پرائمری اسکول کے ٹیچر، اسوک بیرا کہتے ہیں، یہ جزیرہ سب سے زیادہ سیلاب اور پانی کے جماؤ کی چپیٹ میں ہے۔ وہ اُس سال کا ذکر کر رہے ہیں، جب اس علاقہ سے آئیلا سمندری طوفان ٹکرایا تھا، جس نے بھاری تباہی مچائی تھی اور لوگوں کو ہجرت کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ تب سے کئی طوفانوں اور سمندری طوفانوں نے زمین اور تالابوں میں کھارے پن کو بڑھایا ہے، جس سے یہاں کے کنبے اسکول جانے والے مزید نوجوانوں کو کام پر بھیجنے کے لیے مجبور ہوئے ہیں۔

’’یہاں پر ندی ہماری زمینوں، گھروں اور ٹھکانوں کو چھین لیتی ہے اور طوفان ہمارے طلبہ کو [چھین لیتا ہے]،‘‘ گوسابا بلاک کے امتلی گاؤں میں امرتا نگر ہائی اسکول کی ایک ٹیچر، امیو مونڈل کہتی ہیں، ’’ہم [ٹیچر] بیچارگی محسوس کرتے ہیں۔‘‘

یہ خالی کلاسیں، جو بھی قوانین اور عالمی اہداف میں مقرر کیے گئے ہیں، اس سے بے حد جدا زمینی حقیقت دکھاتی ہیں۔ سال ۲۰۱۵ میں، ہندوستان نے اقوام متحدہ کے ۲۰۳۰ کے لیے ۱۷ پائیدار ترقیاتی اہداف کو قبول کیا تھا؛ ان میں سے چوتھا ہدف ’’شمولیتی اور یکساں معیار کے ساتھ تعلیم کو یقینی بنانا اور سبھی کے لیے تا عمر سیکھنے کے مواقع کو بڑھانا‘‘ ہے۔ ملک کے مفت اور لازمی بچوں کی تعلیم کے حق کا قانون، ۲۰۰۹ میں، ۶ سے ۱۴ سال کے سبھی بچے شامل ہیں۔ قومی نصابی خاکہ، ۲۰۰۵، شمولیتی کلاسوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے، خاص طور پر غریب طبقوں اور جسمانی چنوتیوں کا سامنا کر رہے طلبہ پر۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں بھی بچوں کے اسکولوں کو چھوڑنے کی شرح گھٹانے کے لیے کئی طرح کے وظیفے اور انسینٹو اسکیمیں چلا رہی ہیں۔

لیکن سندربن ڈیلٹا کے اسکول اب بھی دھیرے دھیرے اپنے طلبہ کو کھو رہے ہیں۔ یہاں ایک ٹیچر کے طور پر، کلاسوں میں کھوئے ہوئے چہرے کی تلاش مجھے ایسا محسوس کراتی ہے جیسے میں لگاتار سکڑتی زمین کے بیچ کھڑا ہوں۔

PHOTO • Sovan Daniary

اسکول چھوڑنے والوں میں سے ایک، مستکین جمادر بھی ہیں۔ ’میں نے اپنے بیٹے کو کمانے اور فیملی کی مدد کرنے کے لیے پوری طرح سے مچھلی پکڑنے کے کام میں لگا دیا ہے‘، ان کے والد کہتے ہیں

’’پڑھائی کرنے سے کیا ہوگا؟ مجھے بھی اپنے والد کی طرح ندی سے مچھلیاں اور کیکڑے پکڑنے پڑیں گے،‘‘ میرے طالب علم رابن بھوئیاں نے اسی سال ۲۰ مئی کو پاتھر پرتیما بلاک کے اپنے گاؤں، برابوریر ٹاٹ سے امفن طوفان کے ٹکرانے کے فوراً بعد مجھے بتایا تھا۔ ۱۷ سال کے رابن نے مچھلی پکڑنے کے کام میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے دو سال پہلے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ امفن طوفان نے اس کے گھر کو برباد کر ڈالا تھا اور کھارے پانی کے تھپیڑوں سے اس کے گاؤں میں پانی بھر گیا تھا۔ سپت مکھی کے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا تھا: ’’یہ ندی ہم سبھی کو خانہ بدوش بنا دے گی۔‘‘

اسکول چھوڑنے والوں میں سے ایک، ۱۷ سالہ مستکین جمادر بھی ہیں، جو شاستی کے ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ دو سال پہلے جب ۹ویں کلاس میں تھے، تو اسکول جانا کیوں چھوڑ دیا تھا، اس سوال پر وہ کہتے ہیں، ’’مجھے پڑھائی کرنے میں مزہ نہیں آتا۔‘‘ ان کے والد الیاس کہتے ہیں، ’’پڑھنے سے کیا ملے گا؟ میں نے اپنے بیٹے کو کمانے اور فیملی کی مدد کرنے کے لیے پوری طرح سے مچھلی پکڑنے کے کام میں لگا دیا ہے۔ پڑھنے سے کچھ نہیں ملنے والا۔ اس سے مجھے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘ ۴۹ سالہ الیاس نے روزی روٹی کی تلاش میں کلاس ۶ کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی، اور بعد میں راج مستری کا کام کرنے کے لیے کیرالہ چلے گئے تھے۔

اسکول چھوڑنا لڑکیوں کو خاص طور سے متاثر کر رہا ہے – ان میں سے زیادہ تر یا تو گھروں میں رہتی ہیں یا پھر ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ ’’جب میں نے راکھی ہازرا [۷ویں کلاس کی ایک طالبہ] سے پوچھا تھا کہ وہ پچھلے ۱۶ دنوں سے اسکول کیوں نہیں آئی، تو وہ رونے لگی،‘‘ کاک دویپ بلاک کے شِب کالی نگر گاؤں کے آئی ایم ہائی اسکول کے پرنسپل، دلیپ بیراگی نے مجھے ۲۰۱۹ میں بتایا تھا۔ ’’اس نے کہا کہ جب اس کے والدین ہُگلی ندی میں کیکڑے پکڑنے جاتے ہیں، تب اسے اپنے بھائی [جو کلاس ۳ میں ہے] کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔‘‘

لاک ڈاؤن کے سبب اسکول چھوڑنے کے اس قسم کے معاملے بڑھ گئے ہیں۔ برابوریر ٹاٹ گاؤں کے ایک مچھیرے، امل شیت نے اپنی ۱۶ سال کی بیٹی کُم کُم، جو ۹ویں کلاس میں تھی، کو تب اسکول چھوڑنے کے لیے کہہ دیا، جب فیملی نے اپنی مالی پریشانی دور کرنے کے لیے اس کی شادی کا انتظام کر لیا۔ ’’ندی میں اب پہلے جتنی مچھلیاں نہیں ملتیں،‘‘ امل کہتے ہیں، جو اپنی چھ رکنی فیملی میں کمانے والے واحد شخص ہیں۔ ’’اسی لیے، میں نے اس کی شادی لاک ڈاؤن کے دوران کر دی، جب کہ وہ اب بھی زیر تعلیم تھی۔‘‘

یونیسیف کی ۲۰۱۹ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں ۲۲۳ ملین کم سن دلہنیں (جن کی شادی ۱۸ سال سے پہلے ہوجاتی ہے) میں سے ۲۲ ملین مغربی بنگال میں رہتی ہیں۔

PHOTO • Sovan Daniary

کُم کُم (بائیں) برابوریر ٹاٹ میں ۹ویں کلاس میں پڑھتی ہیں، جب کہ سُجن شیت کلاس ۶ میں ہے۔ ’ندی میں اب پہلے جتنی مچھلیاں نہیں ملتیں‘، ان کے والد کہتے ہیں۔ ’اس لیے، لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے اس کی [کُم کُم کی] شادی کر دی‘

’’حکومت بنگال سے [تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے] انسینٹو ملنے کے باوجود یہاں [سندربن خطہ میں] بڑی تعداد میں کم عمری کی شادیاں ہو رہی ہیں۔ زیادہ تر والدین اور سرپرست سوچتے ہیں کہ لڑکی کو پڑھانے سے فیملی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اور کھانے والا ایک آدمی گھٹنے سے پیسے کی بچت ہوگی،‘‘ پاتھر پرتیما بلاک کے شِب نگر موکشدا سندری ودیا مندر کے پرنسپل، بمان میتی کہتے ہیں۔

’’کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب، اسکول طویل عرصے سے بند ہیں اور کچھ بھی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے،‘‘ میتی آگے کہتے ہیں۔ ’’طلبہ تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس نقصان کے بعد وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ وہ غائب ہو جائیں گے، پھر کبھی نہیں ملیں گے۔‘‘

وسط جون میں، جب شاستی بھوئیاں بنگلورو سے لوٹیں، تو ان کی بھی شادی کر دی گئی۔ ۲۱ سالہ تاپس نیّا بھی شاستی کے ہی اسکول میں پڑھتے تھے اور کلاس ۸ میں اسکول جانا چھوڑ دیا تھا، جب وہ ۱۷ سال کے تھے۔ پڑھائی میں ان کا من نہیں لگ رہا تھا اور وہ اپنی فیملی کی مدد کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے کیرالہ میں راج مستری کا کام کرنا شروع کیا۔ لاک ڈاؤن کے سبب وہ مئی میں اپنے گاؤں لوٹ آئے۔ ’’وہ اب سِب کالی نگر میں مرغ کی ایک دکان پر کام کر رہے ہیں،‘‘ شاستی بتاتی ہیں۔

ان کی بڑی بہن – ۲۱ سالہ جنجلی بھوئیاں، جو دیکھ سن نہیں سکتیں، نے ۱۸ سال کی عمر میں پڑھائی چھوڑ دی تھی، جب وہ کلاس ۸ میں تھیں۔ ایک سال بعد ان کی شادی اُتپل مونڈل سے کر دی گئی، جو اب ۲۷ سال کے ہیں۔ انہوں نے کلپی بلاک کے اپنے گاؤں، نوتن تیانگ راچر کے اسکول سے پڑھائی چھوڑ دی تھی، جب وہ کلاس ۸ میں تھے۔ مونڈل کو بچپن میں ہی پولیو ہو گیا تھا اور تبھی سے انہیں چلنے پھرنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ ’’میں اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سہارے اسکول نہیں جا سکتا تھا، اور ہمارے پاس وہیل چیئر کے لیے پیسے نہیں تھے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں پڑھائی نہیں کر پایا، جب کہ میں پڑھنا چاہتا تھا۔‘‘

’’میری دونوں پوتیاں پڑھ نہیں سکیں،‘‘ شاستی اور جنجلی کی ۸۸ سالہ دادی، مہارانی کہتی ہیں، جنہوں نے ان کی پرورش کی ہے۔ اب، جب کہ کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب اسکول بند ہیں، وہ کہتی ہیں، ’’مجھے نہیں معلوم کہ میرا پوتا [سُبرت] پڑھ پائے گا یا نہیں۔‘‘

PHOTO • Sovan Daniary

۱۴ سالہ سونتنا پہر کاک دویپ بلاک کے سیتا رامپور گاؤں کے بازار بیریا ٹھاکر چک سدن ہائی اسکول میں کلاس ۸ میں ہیں۔ یونیسیف کی ۲۰۱۹ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان کی  ۲۲۳ ملین کم سن دلہنوں (جن کی شادی ۱۸ سال کی عمر سے پہلے ہو گئی) میں سے ۲۲ ملین مغربی بنگال میں رہتی ہیں

PHOTO • Sovan Daniary

۱۱ سال کا باپی مونڈل نام کھانا بلاک کے بلیارا کشور ہائی اسکول میں ۵ویں کلاس کا طالب علم ہے۔ ۲۰ مئی کو امفن طوفان آنے کے بعد سے وہ اور اس کی فیملی ایک مہینے سے زیادہ وقت تک راحت مرکز میں رہی، پھر مٹی، بانس کے ستون اور ترپال کے سہارے اپنے گھر کو دوبارہ بنایا۔ طوفان اور سمندری طوفان کے بڑھتے واقعات نے زمین اور تالابوں میں کھارے پن کو بڑھایا ہے، جس سے کنبے اسکول جانے والے مزید نوجوانوں کو کام پر بھیجنے کے لیے مجبور ہو گئے ہیں

Sujata Jana, 9, is a Class 3 student (left) and Raju Maity, 8, is in Class 2 (right); both live in Buraburir Tat village, Patharpratima block. Their fathers are fishermen, but the catch is depleting over the years and education is taking a hit as older children drop out of school to seek work
PHOTO • Sovan Daniary
Sujata Jana, 9, is a Class 3 student (left) and Raju Maity, 8, is in Class 2 (right); both live in Buraburir Tat village, Patharpratima block. Their fathers are fishermen, but the catch is depleting over the years and education is taking a hit as older children drop out of school to seek work
PHOTO • Sovan Daniary

۹ سال کی سُجاتا جانا (بائیں) کلاس ۳ کی طالبہ ہے اور ۸ سال کا راجو میتی (دائیں) کلاس ۲ میں ہے؛ دونوں پاتھر پرتیما بلاک کے برابوریر ٹاٹ گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کے والد مچھیرے ہیں، لیکن سال در سال مچھلیوں کا ملنا کم ہوتا جا رہا ہے اور کام کی تلاش میں بڑے بچوں کے اسکول چھوڑنے سے تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے

Sujata Jana, 9, is a Class 3 student (left) and Raju Maity, 8, is in Class 2 (right); both live in Buraburir Tat village, Patharpratima block. Their fathers are fishermen, but the catch is depleting over the years and education is taking a hit as older children drop out of school to seek work
PHOTO • Sovan Daniary
Sujata Jana, 9, is a Class 3 student (left) and Raju Maity, 8, is in Class 2 (right); both live in Buraburir Tat village, Patharpratima block. Their fathers are fishermen, but the catch is depleting over the years and education is taking a hit as older children drop out of school to seek work
PHOTO • Sovan Daniary

بائیں: پاتھر پرتیما بلاک کے شِب نگر موکشدا سندری ودیا مندر میں طلبہ اپنے مڈ ڈے میل کے ساتھ۔ دائیں: گھورمارا ملن ودیا پیٹھ ہائی اسکول، گھورمارا جزیرہ۔ مغربی بنگال اور پورے ہندوستان میں سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو صرف ۸ویں کلاس تک مڈ ڈے میل دیا جاتا ہے؛ بہت سے بچے اس کے بعد اسکول جانا چھوڑ دیتے ہیں

Left: Debika Bera, a Class 7 schoolgirl, in what remains of her house in Patharpratima block’s Chhoto Banashyam Nagar village, which Cyclone Amphan swept away. The wrecked television set was her family’s only electronic device; she and her five-year-old sister Purobi have no means of 'e-learning' during the lockdown. Right: Suparna Hazra, 14, a Class 8 student in Amrita Nagar High School in Amtali village, Gosaba block and her brother Raju, a Class 3 student
PHOTO • Sovan Daniary
Left: Debika Bera, a Class 7 schoolgirl, in what remains of her house in Patharpratima block’s Chhoto Banashyam Nagar village, which Cyclone Amphan swept away. The wrecked television set was her family’s only electronic device; she and her five-year-old sister Purobi have no means of 'e-learning' during the lockdown. Right: Suparna Hazra, 14, a Class 8 student in Amrita Nagar High School in Amtali village, Gosaba block and her brother Raju, a Class 3 student
PHOTO • Sovan Daniary

بائیں: ۷ویں کلاس کی طالبہ دیبکا بیرا، پاتھر پرتیما بلاک کے گاؤں، چھوٹو بن شیام نگر میں امفن طوفان کی تباہی کے بعد اپنے ٹوٹے پھوٹے گھر میں۔ بیکار ہو چکا ان کا ٹیلی ویژن سیٹ ان کی فیملی کے پاس واحد الیکٹرانک آلہ تھا؛ لاک ڈاؤن کے دوران وہ اور اس کی پانچ سال کی بہن، پُروبی کے پاس ’ای لرننگ‘ کے لیے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ دائیں: ۱۴ سالہ سپرنا ہازرا، امتلی گاؤں، گوسابا بلاک کے امرتا نگر ہائی اسکول میں ۸ویں کلاس کی طالبہ ہیں اور ان کا بھائی راجو کلاس ۳ میں پڑھتا ہے

PHOTO • Sovan Daniary

برابوریر ٹاٹ جونیئر ہائی اسکول میں کلاس ۸ کے طالب علم، کرشنیندو بیرا امفن طوفان کے بعد تباہ ہوئے اپنے گھر کے سامنے۔ اس نے اپنی ساری کتابیں، قلم کاپی اور سامان کھو دیے۔ جب یہ تصویر لی گئی تھی، تب وہ اپنے والد سوپن بیرا کی گھاس پھوس کی چھت کے ساتھ مٹی کا گھر بنانے میں مدد کر رہا تھا۔ پڑھائی پیچھے چلی گئی ہے

PHOTO • Sovan Daniary

۱۱ سالہ رومی مونڈل، گوسابا بلاک کے امرتا نگر ہائی اسکول میں کلاس ۶ کی طالبہ ہے۔ یہ تصویر امفن طوفان آنے کے فوراً بعد لی گئی تھی، جب وہ این جی او اور دیگر تنظیموں سے راحت اشیاء لینے میں اپنی ماں کی مدد کر رہی تھی۔ ’یہاں ندی ہماری زمین، گھر اور ٹھکانہ چھین لیتی ہے، اور طوفان ہمارے طلبہ کو [چھین رہا ہے]‘، ایک ٹیچر کا کہنا ہے

PHOTO • Sovan Daniary

گوسابا بلاک کی ریبتی مونڈل، امفن طوفان آنے کے بعد اپنے گھر کے سامنے کھڑی ہیں۔ اپنا گھر اور سارا سامان کھونے کے بعد ان کے بچوں – پرونوئے مونڈل (عمر ۱۶ سال، کلاس ۱۰) اور پوجا مونڈل (عمر ۱۱ سال، کلاس ۶) – کے لیے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کر پانا مشکل ہوگا

Left: Anjuman Bibi of Ghoramara island cradles her nine-month-old son Aynur Molla. Her elder son Mofizur Rahman dropped out of school in Class 8 to support the family. Right: Asmina Khatun, 18, has made it to Class 12 in Baliara village in Mousuni Island, Namkhana block. Her brother, 20-year-old Yesmin Shah, dropped out of school in Class 9 and migrated to Kerala to work as a mason
PHOTO • Sovan Daniary
Left: Anjuman Bibi of Ghoramara island cradles her nine-month-old son Aynur Molla. Her elder son Mofizur Rahman dropped out of school in Class 8 to support the family. Right: Asmina Khatun, 18, has made it to Class 12 in Baliara village in Mousuni Island, Namkhana block. Her brother, 20-year-old Yesmin Shah, dropped out of school in Class 9 and migrated to Kerala to work as a mason
PHOTO • Sovan Daniary

بائیں: گھورمارا جزیرہ کی انجمن بی بی اپنے نو مہینے کے بیٹے عین الر مولّا کو پالنے میں جھلاتی ہوئی۔ ان کے بڑے بیٹے، مفیض الرحمن نے فیملی کی مدد کرنے کے لیے کلاس ۸ میں اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ دائیں: ۱۸ سالہ اسمینہ خاتون نے نام کھانا بلاک کے موسونی جزیرہ کے بلیارا گاؤں میں ۱۲ویں کلاس تک پڑھائی کی۔ ان کے بھائی، ۲۰ سالہ یسمین شاہ نے کلاس ۹ میں اسکول جانا چھوڑ دیا تھا اور راج مستری کا کام کرنے کے لیے کیرالہ چلے گئے تھے

PHOTO • Sovan Daniary

’میری دو پوتیاں پڑھ نہیں سکیں‘، شاستی اور جنجلی کی ۸۸ سالہ دادی، مہارانی کہتی ہیں۔ اب، کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب اسکول بند ہونے پر، وہ کہتی ہیں، ’مجھے نہیں معلوم کہ میرا پوتا [سبرت] بھی پڑھ پائے گا یانہیں‘

PHOTO • Sovan Daniary

جنوبی ۲۴ پرگنہ کے پاتھرپرتیما بلاک میں سِب نگر گاؤں کی عورتیں؛ ان میں سے زیادہ اپنے شوہر کے ساتھ مچھلیاں اور کیکڑے پکڑنے کے گھریلو کام میں لگی ہوئی ہیں۔ ان کے کئی کنبوں میں، بیٹے راج مستری یا تعمیراتی مقام پر مزدوری کرنے کیرالہ اور تمل ناڈو چلے گئے ہیں

PHOTO • Sovan Daniary

طلبہ نیاچر جزیرہ پر اپنی عارضی جھونپڑی کی طرف لوٹتے ہوئے، جہاں ان کے والدین روزی روٹی کمانے کے لیے مچھلیاں اور کیکڑے پکڑتے ہیں

Left: Trying to make a living by catching fish in Bidya river in Amtali village. Right: Dhananjoy Bhuniya returning home to Sitarampur from Nayachar island
PHOTO • Sovan Daniary
Left: Trying to make a living by catching fish in Bidya river in Amtali village. Right: Dhananjoy Bhuniya returning home to Sitarampur from Nayachar island
PHOTO • Sovan Daniary

بائیں: امتلی گاؤں میں بدیا ندی میں مچھلیاں پکڑ کر گزر بسر کرنے کی کوشش۔ دائیں: دھننجے بھوئیاں نیاچر جزیرہ سے سیتا رامپور میں اپنے گھر لوٹتے ہوئے

PHOTO • Sovan Daniary

لاک ڈاؤن شروع ہونے سے پہلے، سیتا رامپور ہائی اسکول سے گھر لوٹتے طلبہ۔ لاک ڈاؤن نے پہلے سے ہی غیر یقینی مواقع والی ان کی تعلیم کو مزید نقصان پہنچایا ہے

 

سب سے اوپر کور فوٹو: ۱۴ سال کے رابن رائے نے ۲۰۱۸ میں اسکول جانا چھوڑ دیا تھا اور کولکاتا کے ایک ریستراں میں ویٹر کا کام کرنے لگے۔ لاک ڈاؤن کے سبب وہ اپنے گاؤں، نوتن تیانگ راچر لوٹ آئے۔ ان کی بہن، ۱۲ سال کی پریہ، کلپی بلاک کے ہرِن کھولا دھروبا آدی سور ہائی اسکول میں کلاس ۶ کی طالبہ ہیں

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sovan Daniary

سووَن دنیاری سندربن میں تعلیم کے شعبہ میں کام کرتے ہیں۔ وہ ایک فوٹوگرافر ہیں اور اس علاقہ میں تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، اور دونوں کے درمیان تعلق کا احاطہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Other stories by Sovan Daniary