ساٹھ سالہ کیول بائی راٹھوڑ ایک بھاری ہینڈ پمپ چلا رہی ہیں۔ پمپ کو چلاتے ہوئے ہر بار غرغراہٹ کی آواز نکلتی ہے، ان کی بانہوں کی نسیں ابھر جاتی ہیں، چہرے کی جھریاں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔ اتنی ساری محنت کے باوجود، پانی مشکل سے ہی ان کے برتن میں گرتا ہے۔ گاؤں کی دوسری ڈھیر ساری عورتیں اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ اور اس ہینڈ پمپ میں کسی بھی وقت پانی ختم ہو سکتا ہے۔

ایک گھنٹہ بعد، شام کو تقریباً ۵ بجے، کیول بائی اپنے دو گھڑوں کو بھرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ ان کے شوہر ۶۵ سالہ رامو قریب کے ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور بھیڑ کے اندر جھانک رہے ہیں۔ ’’زالا رے (ہوگیا)،‘‘ کیول بائی مراٹھی میں کہتی ہیں، اور رامو کھڑے ہوجاتے ہیں، لیکن آگے نہیں بڑھتے۔ وہ ایک گھڑا اٹھاتی ہیں اور انھیں دینے کے لیے ان کے پاس چل کر آتی ہیں۔ وہ اسے اپنے کندھے پر حفاظت سے رکھتے ہیں، جب کہ کیول بائی دوسرا گھڑا اٹھاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ہاتھ کی مدد سے اسے اپنے سر پر رکھتی ہیں اور پھر دونوں اپنے گھر کی جانب چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ’’یہ نابینا ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں، میرے حیران زدہ چہرے کو دیکھ کر۔

’یہ نابینا ہیں،‘ کیول بائی بتاتی ہیں اور اپنے شوہر رامو کے آگے آگے کاشی رام سوملا میں واقع اپنے گھر کی طرف چل پڑتی ہیں۔ گھر لوٹنے سے پہلے انھوں نے بڑی محنت سے اپنے گھڑے میں پانی بھرا ہے

ایک بورویل کے اوپر بنا ہینڈ پمپ، مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے اُدگیر تعلقہ میں کاشی رام سوملا نام کی ایک پہاڑی بستی کے نیچے ہے۔ پہاڑی کے اوپر چلتے ہوئے ایک چکر لگانے میں ۱۵ منٹ لگتے ہیں۔ ہر گھڑے میں تقریباً ۱۲ لیٹر پانی بھرا جا سکتا ہے، اور جب یہ پانی سے بھر جائے تو اس کا وزن تقریباً ۱۲ کلو ہو سکتا ہے۔ کیول بائی ایک دن میں کئی بار اپنے شوہر رامو کو لے کر پہاڑی کے اوپر نیچے جاتی ہیں۔ ’’ہماری فیملی میں سات لوگ ہیں،‘‘ پہاڑی کے کونے میں بنے اپنے گھر پہنچنے کے بعد وہ ہمیں بتاتی ہیں۔ ’’میرے تین بیٹے ہیں، جن میں سے دو شادی شدہ ہیں۔ یہ سبھی کام کی تلاش میں صبح سویرے باہر چلے جاتے ہیں (زرعی مزدور کے طور پر یا پھر اُدگیر قصبہ میں تعمیراتی مقامات پر)۔ اسی لیے پانی بھرنے کی ذمہ داری ہم دونوں پر آ جاتی ہے۔‘‘

اس فیملی کے پاس نہ تو کوئی کھیت ہے اور نہ ہی مویشی۔ ان کے بیٹے اور بہوئیں جو روزانہ کماتے ہیں، اسی سے گھر کا کام چلتا ہے۔ ’’ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دن میں دس گھڑے (جن میں سے ہر ایک میں ۱۲ سے ۱۵ لیٹر پانی ہو) بھر لیں۔ ہم دونوں روزانہ اس طرح سے پانچ چکر لگاتے ہیں،‘‘ رامو بتاتے ہیں۔ ’’ہمیں پانی کی ضرورت صرف اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے پڑتی ہے جیسے کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور نہانا۔ جو لوگ کھیتی کرتے ہیں اور مویشی پالتے ہیں انھیں اس سے بھی زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔‘‘

بائیں: کیول بائی، ۶۰، پانی بھرنے سے پہلے اپنے گھڑوں کو دھو رہی ہیں۔ دائیں: ان کے شوہر رامو، پاس میں بیٹھتے ہیں جب وہ ہینڈپمپ سے پانی بھرتی ہیں

میں نے جب صبح کے ساڑھے گیارہ بجے ۴۰ سالہ شالو بائی چوہان سے ان کے گھر پر ملاقات کی، تو وہ تب تک پانی جمع کرنے کے لیے پانچ گھنٹے لگا چکی تھیں۔ ان کا تعلق بنجارا (درج فہرست قبیلہ) فیملی سے ہے، جس میں پانچ ممبر ہیں اور جن کے پاس دو ایکڑ کھیت ہے۔ ’’ہمارا بنیادی ذریعہ معاش دودھ کی پیداوار ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’ہمارے پاس دو بیل، تین گائیں اور چار بچھڑے ہیں۔ مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے ڈھیر سارے پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمیں روزانہ ۲۰ گھڑے پانی چاہئیں۔‘‘

شالو بائی کاشی رام سوملا میں پہاڑی کے اوپر مڑی ہوئی سڑک کے ٹھیک کنارے رہتی ہیں، اور انھیں ہینڈ پمپ کی طرف نیچے اترنے سے پہلے چند منٹوں تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ’’گرمی کے شروع میں یہاں پر دو ہینڈ پمپ تھے،‘‘ وہ اپنے گھر کے باہر کپڑے دھوتے ہوئے بتاتی ہیں۔ ’’لیکن ان میں سے ایک ٹوٹ گیا۔ اب ۴۰۰ لوگوں کی یہ پوری بستی صرف ایک ہینڈ پمپ پر منحصر ہے۔ (مئی کی) اتنی گرمی میں بھی، اگر میں پانی پی لوں تو مجھے شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔ کلکٹر نے ٹینکروں کے ذریعے پانی سپلائی کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن وہ پابندی سے نہیں آتے، اسی لیے ہم ان پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔‘‘

اسی لیے طلوع آفتاب سے پہلے ہی ہینڈ پمپ پر گھڑوں کی لائن لگ جاتی ہے۔ ’’طلوع آفتاب کے بعد، جب درجہ حرارت ۴۰ ڈگری (سلسیس) ہوجاتا ہے، پانی بھرنا واقعی میں تھکا دینے والا کام ہوتا ہے،‘‘ شالو بائی بتاتی ہیں، جو روزانہ صبح کو ۴ بجے ہی اپنے چار گھڑوں کو بھرنے کے لیے وہاں لائن میں لگ جاتی ہیں۔ ’’پھر بھی، لائن کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔ میں ۱۲ سے ۱۵ گھڑے صبح میں بھرتی ہوں اور ۵ سے ۸ گھڑے شام کو ۴ بجے سے ۷ بجے کے درمیان بھرتی ہوں۔ اپنی باری کا انتظار کرنے میں مجھے تین گھنٹے لگ جاتے ہیں، اور گھر تک آنے جانے میں مزید دو گھنٹے لگتے ہیں۔ اب ۹ بج چکے ہیں اور مجھے اپنے گھر کے کام کاج کو نمٹانا ہے۔‘‘

شالو بائی اپنے دن کا ایک تہائی حصہ پانی بھرنے میں لگاتی ہیں، باقی وقت وہ گھر کے دیگر کام کاج اور فیملی کی دیکھ بھال میں لگاتی ہیں

پانچ گھنٹے صبح میں اور تین گھنٹے شامل کو، اس طرح شالو بائی فیملی کے لیے پانی کا انتظام کرنے میں روزانہ آٹھ گھنٹے صرف کرتی ہیں۔ یہ کوئی انہونی سی بات نہیں ہے: قومی کمیشن برائے خواتین کی رپورٹ بتاتی ہے کہ دیہی علاقوں کی خواتین پانی بھرنے کی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں اکثر روزانہ ۶ سے ۹ گھنٹے صرف کرتی ہیں۔ کھیت پر آٹھ گھنٹے کام کرنے سے شالو بائی ۲۰۰ روپے کماتی ہیں، جو کہ یہاں کی عام طور سے ایک دن کی مزدوری ہے۔ مارچ سے مئی تک گرمی کے تین مہینوں میں انھیں ہر سال تقریباً ۱۸ ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

آمدنی اور وقت کے علاوہ، دیہی ہندوستان میں عورتوں اور لڑکیوں کے ذریعے کیے جانے والے اس محنت بھرے کام کی وجہ سے ہونے والے نقصان میں صحت اور لڑکیوں کی تعلیم پر پڑنے والا اثر بھی شامل ہے۔ عورتیں کھیتی سے متعلق بھی بہت سے کام کرتی ہیں، اور ساتھ ہی گھروں میں پانی جمع کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر ہے۔ مرد اور لڑکے اس محنت بھرے جسمانی کام میں شاید ہی ہاتھ بٹاتے ہیں۔ نیشنل سیمپل سروے (این ایس ایس او؛ ۶۹واں راؤنڈ، ۲۰۱۲) میں درج ہے کہ کچھ دوری سے پینے کا پانی لانے کے کام میں عورتوں کی حصہ داری ۸۴ اعشاریہ ۱ فیصد تھی، جب کہ مردوں کی حصہ داری صرف ۱۴ اعشاریہ ۱ فیصد۔

بائیں: پانی اور چارے کی کمی شالو بائی کے گھر میں مویشیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ دائیں: ان کے آنگن میں پانی کی چھوٹی ٹنکی جو خشک ہو رہی ہے

شالو بائی کے شوہر راجا رام بھی تیار ہونے اور کھیت میں جانے کے لیے اسی پانی کا استعمال کرتے ہیں، جو وہ لے کر آئی ہیں۔ ’’اس موسم میں کم از کم میں آٹھ گھنٹے کے بعد پانی لے کر واپس آ جاتی ہوں،‘‘ شالو بائی کہتی ہیں۔ ’’پچھلے سال تو حالت بہت بدتر تھی، میں گھنٹوں پیدل چلتی تھی اور خالی ہاتھ گھر واپس لوٹتی تھی۔ ایک بار تو اپنے مویشیوں کے چارے کی تلاش میں مجھے ۲۰ کلومیٹر پیدا چلنا پڑا تھا۔‘‘

شالو بائی کو صبح اور شام پانی بھرنے کے درمیان کوئی آرام نہیں ملتا۔ ’’میرے دو بیٹے اسکول جاتے ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’مجھے ان کو بھی دیکھنا پڑتا ہے، اسکول کے لیے انھیں تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، میں فیملی کے لیے کھانا پکاتی ہوں، گھر کے کپڑے اور برتن دھوتی ہوں، اور گھر کے دیگر کام کاج سنبھالتی ہوں۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: ’میں اپنے گھر سے صبح میں ۴ بجے روانہ ہوتی ہوں اور لائن میں کھڑی ہو جاتی ہوں،‘ شالو بائی بتاتی ہیں کہ ان کے دن کی شروعات کیسے ہوتی ہے

اُدگیر سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر دور، عثمان آباد ضلع کے ٹاک ویکی گاؤں میں رہنے والی پریاگ بائی دولارے کی اپنی پریشانیاں ہیں۔

تقریباً ۷۰ سال کی دولارے ایک دلت خاتون ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے زیادہ تر حصے میں بھید بھاؤ کا شکار ہونا پڑا۔ ’’گزشتہ چند برسوں میں حالت بہتر رہی ہے،‘‘ کھیتوں سے ہوکر پانی لانے کے لیے جاتے ہوئے، وہ طنز کرتی ہیں۔ ’’پانی کے کئی ذرائع میرے لیے بند کر دیے جاتے تھے۔ میں اکثر لائن میں سب سے اخیر میں کھڑی ہوتی تھی۔ گاؤں میں اب بھی ایک عوامی کنواں ہے جہاں جانے کی مجھے اجازت نہیں ہے۔‘‘

ان کی فیملی میں، دولارے پر پانی بھرنے اور ساتھ ہی روزانہ کی مزدوری کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ ’’ہمارے پاس کوئی بچہ نہیں ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں، گرمی کے اثر سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے انھوں نے اپنی ساڑی اپنے سر کے چاروں طرف لپیٹ رکھی ہے۔ اس وقت درجہ حرارت ۴۵ ڈگری سلسیس ہے۔ ’’میرے شوہر جسمانی طور پر معذور ہیں۔ وہ چل نہیں سکتے، اور مزدور کے طور پر مشکل سے ہی کام کر سکتے ہیں۔‘‘

ہفتہ میں تین دن، دولارے پانی جمع کرنے میں چار سے پانچ گھنٹے لگاتی ہیں، تاکہ اسے سات دنوں تک استعمال میں لایا جا سکے۔ ’’ہم ایک ہفتہ میں ۳۰ سے ۳۵ گھڑے پانی سے کام چلا لیتے ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ پانی کا ذریعہ جو کہ ایک پرائیویٹ بورویل ہے، ان کے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہے۔ ’’میں ایک وقت میں ایک سے زیادہ گھڑا نہیں لا سکتی۔ میری عمر میں ایک گھڑا پانی لانے میں کم از کم آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔‘‘

ہفتہ کے باقی دن، دولارے زرعی مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں؛ اپنی عمر کی وجہ سے وہ ایک دن میں صرف ۱۰۰ روپے کماتی ہیں۔ ’’ہم کسی طرح اپنی گاڑی کو کھینچ رہے ہیں، لیکن جب میں کام کرنے لائق نہیں رہ جاؤں گی تب ہم کیا کریں گے؟‘‘ تین دن وہ پانی جمع کرنے میں لگاتی ہیں، تب وہ اپنی روزانہ کی مزدوری چھوڑ دیتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ہفتہ وار آمدنی آدھی رہ جاتی ہے۔

ویڈیو دیکھیں: ’میں اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتا ہوں اور پھر ہم دونوں چلتے ہیں۔ پانی کے لیے یہ برا وقت ہے۔ میں کیا کر سکتا ہوں؟‘ رامو ہینڈ پمپ تک روزانہ آنے جانے کے بارے بتاتے ہیں

مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقہ کے سبھی آٹھ ضلعوں کے زیادہ تر گاؤوں کی طرح ہی، ٹاک ویکی میں گرمیوں میں پانی کی شدید قلت ہو جاتی ہے، جب کنویں، تالاب، جھیلیں اور باندھ عام طور سے خشک ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ڈرے سہمے ہوئے کسان پانی کے پرائیویٹ ذریعہ کی تلاش میں، ہر جگہ بورویل کی کھدائی کرنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی فیملی بہت زیادہ خوش قسمت ہوئی اور اس نے صحیح جگہ پر بورویل کھود لیا، تو انھیں پانی کی پریشانی سے چھٹکارہ مل جاتا ہے، اور وہ ایک منافع بخش تجارت بھی شروع کر سکتے ہیں۔

مراٹھواڑہ میں بہت سے لوگ پانی کے بحران کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ۱۲ سے ۱۵ لیٹر پانی والے ہر ایک گھڑے کو ۲ سے ۴ روپے میں بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ دولارے ایک گھڑا پانی ۲ روپے میں خریدتی ہیں۔ ’’یعنی ایک ہفتہ میں پانی پر خرچ ہوئے ۷۰ روپے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ یہ ان کے ذریعے سات دنوں میں کمائی گئی مزدوری کا ایک چوتھائی سے تھوڑا کم ہے۔ اگر بحران مزید گہراتا ہے، تو انھیں اس سے بھی زیادہ قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

تاہم، ٹاک ویکی سے تقریباً ۲۵۰ کلومیٹر شمال کی طرف، ۳۰ لاکھ لیٹر پانی روزانہ ۴ پیسے فی لیٹر کے حساب سے اورنگ آباد کی ۱۶ بیئر فیکٹریوں اور شراب کی بھٹیوں کو دستیاب ہیں۔ مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کے اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ بیئر کمپنیوں سے ۴۲ روپے وصول کیے جاتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ پیسہ ان سے ہر ۱۰۰۰ لیٹر پانی کے بدلے لیا جاتا ہے۔

دولارے کو ۱۰۰۰ لیٹر پانی کے لیے تین گنا سے زیادہ قیمت چکانی پڑے گی اور اتنا پانی جمع کرنے کے لیے انھیں ۳۵ گھنٹے چلنا ہوگا۔

بائیں: گاؤں کی بہت سی عورتیں ہینڈ پمپ سے پانی بھرنے کے لیے کاشی رام سومالا گاؤں میں روزانہ صبح کو جمع ہو جاتی ہیں۔ دائیں: ایک نوجوان عورت اس خوف سے اپنی بالٹی میں گندا پانی بھر رہی ہے کہ ہینڈ پمپ کا پانی کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے

ایک تباہ کن قحط کے بعد، اپریل ۲۰۱۶ میں، بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے شراب کی بھٹیوں کو دیے جانے والے پانی میں ۵۰ فیصد کٹوتی کرنے کا  حکم دیا تھا، جو مجموعی طور سے روزانہ ۵۲ لاکھ ۷ ہزار لیٹر پانی جمع کرتی تھیں۔ ’’جب لوگوں نے کئی دنوں تک پانی نہیں دیکھا، تو یہ ایک غیر انسانی فعل ہے کہ شراب کی بھٹیاں قیمتی ذریعہ کو جمع کر رہی ہیں،‘‘ بنچ نے کہا تھا۔

اُدھر کاشی رام سومالا میں، کیول بائی پانی کے دو گھڑے ایک ڈرم میں ڈال رہی ہیں۔ ان کے آس پاس کے کھیت اب خالی ہیں، لیکن ہینڈ پمپ کے ارد گرد ایک ہجوم جمع ہو چکا ہے، ہمیشہ کی طرح۔ وہ رامو کو ہاتھ سے پکڑتی ہیں، دونوں خالی گھڑوں کو اٹھاتی ہیں، اور یہ دونوں پہاڑی سے نیچے دوسرا چکر لگانے پہنچ جاتے ہیں۔

تصویریں: پارتھ ایم این

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ’لاس اینجلیس ٹائمز‘ کے ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار ہیں اور کئی آن لائن پورٹل پر فری لانس کام کرتے ہیں۔ انھیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.