’’میں ایک نقلی سنگھم [شیر؛ حالانکہ یہاں پر ایک پولس والا مراد ہے] ہوں، لیکن میں اپنے بچوں کو اصلی سنگھم بناؤں گا،‘‘ سبھاش سنگھم کہتے ہیں، جو مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع کے سمدروانی گاؤں میں رہنے والے ایک بہروپیا ہیں۔ بہروپیے فوک آرٹسٹ ہوتے ہیں، روایتی طور سے داستان گو جو افسانوی کردار ادا کرتے ہیں یا، حالیہ زمانے میں اپنے پرفارمنسز میں پولس والوں، وکیلوں یا ڈاکٹروں کا رول ادا کرنے لگے ہیں۔

سبھاش (۳۲) کا تعلق خانہ بدوش قبیلہ، ناتھ پنتی دواری گوساوی برادری سے ہے، جو اپنے معاش کی تلاش میں ہزاروں کلومیٹر کی ہجرت کرتا ہے۔ سبھاش مہاراشٹر کے متعدد گاؤوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ (اور بعض دفعہ دروازے دروازے) گھوم کر مزاحیہ شاعری سناتے ہیں – گزشتہ ۲۰ برسوں سے ان کا یہی معمول رہا ہے۔ فن کی اس قسم کو زندہ رکھنے والے وہ اپنی فیملی کی چوتھی اور آخری نسل ہیں۔ ’’میں نے ۱۲ سال کی عمر سے سفر کرنا شروع کر دیا تھا۔ آج کل، بہت کم لوگ ہی ہمارا کھیل دیکھتے ہیں، کیوں کہ اب تفریح کی بہت سی شکلیں آ گئی ہیں۔ آج، آپ بڑی آسانی سے انٹرنیٹ پر کسی بہروپیے کا کھیل دیکھ سکتے ہیں – اس لیے کوئی بھی فن کی اس روایتی شکل کو دیکھنے کے لیے پیسے نہیں خرچ کرنا چاہتا۔‘‘

بچپن میں اپنی فیملی کے ساتھ لگاتار سفر کرتے رہنے کی وجہ سے، سبھاش پڑھ نہیں پائے اور اور انھوں نے کبھی بھی ’’اسکول کا دروازہ تک‘‘ نہیں دیکھا۔ یہ تصویر کولہاپور ضلع کے روئی گاؤں میں کھینچی گئی تھی، جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ پیلے پلاسٹک سے ڈھکے ایک خستہ حال ٹینٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ’’ہمارے پاس کوئی مقررہ مقام نہیں ہے اور سڑک کے کنارے ٹینٹوں میں زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہے،‘‘ وہ شکایت کے لہجہ میں کہتے ہیں۔ ’’پہلے، لوگ ہمیں اناج دیا کرتے تھے، لیکن اب وہ ۱ روپے سے ۱۰ روپے کے درمیان نقدی دیتے ہیں – جس سے روزانہ ۱۰۰ روپے سے بھی کم جمع ہو پاتا ہے۔‘‘

سبھاش کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، سبھی عثمان آباد شہر میں پڑھ رہے ہیں، اور وہیں اپنے دادا دادی کے ساتھ قیام کرتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے بھی انہی جیسے فنکاروں کی طرح غریبی کی زندگی بسر کریں، جہاں ’’اس فن کا احترام نہیں کیا جاتا‘‘۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس روایتی فن کو دکھانے کی وجہ سے لوگ اکثر ہماری بے عزتی کرتے اور ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ مجھ سے کسی صنعت میں کام کرنے اور کچھ پیسہ کمانے کے لیے کہتے ہیں، بجائے اس کے کہ مزاحیہ شاعری سنانے کے بعد بھیک مانگی جائے۔‘‘

تصویر اور خاکہ: سنکیت جین

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Sanket Jain

سنکیت جین، مہاراشٹر کے کولہا پور میں مقیم ایک آزاد دیہی صحافی اور پاری والنٹیئر ہیں۔

Other stories by Sanket Jain