رچینا ہلّی کی ایک جھگی بستی میں رہنے والی مکتُمبے ایم ڈی اس بات سے فکرمند ہیں کہ کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران وہ اپنی فیملی کو کیسے کھلائیں گی۔ ’’میرے شوہر کو ہفتہ میں ایک بار پیسہ ملتا تھا۔ تبھی ہم غذائی اشیاء خریدنے جایا کرتے تھے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے، کسی کو پیسہ نہیں ملا ہے، اسی لیے ہم راشن نہیں خرید پائے ہیں،‘‘ ۳۷ سالہ خاتونِ خانہ، مکتمبے نے بتایا جب بنگلورو شہر کو بند کیے جانے کے ۱۰ دن بعد ہم ان سے ملے تھے۔ ان کے شوہر ایک کاروباری پینٹر ہیں؛ وہ عام طور پر ہر ہفتے تقریباً ۳۵۰۰ روپے کماتے تھے، لیکن ۲۵ مارچ کو لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے انہیں کوئی کام نہیں ملا ہے۔

میاں بیوی، جن کے تین بچے ہیں، کام کی تلاش میں ۱۰ سال پہلے بنگلورو آئے تھے۔ وہ کرناٹک کے وجے پورہ (پہلے بیجا پور) ضلع کے تالی کوٹہ (جسے مقامی طور پر تالی کوٹی بھی کہا جاتا ہے) شہر سے آئے تھے۔ یہ فیملی اُس پیسے سے اپنا خرچ چلاتی تھی، جو مکتُمبے کے شوہر مولا ساب ڈوڈا منی کو ہر اتوار کو ملتے تھے۔ ’’ہم ہفتے میں ایک بار غذائی اشیاء – پانچ کلو چاول، ایک کلو تیل، دال وغیرہ – خریدتے اور اپنی زندگی کا انتظام کرتے تھے۔ اب وہ بند ہو چکا ہے۔ ہمیں کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم کھانے کے لیے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔‘‘

ہم جب ۴ اپریل کو ان سے ملنے گئے، تو شمالی بنگلورو کی مہاجر یومیہ مزدوروں کی بستی میں رہنے والوں نے اپنی مختلف پریشانیوں کے بارے میں ہمیں بتایا۔ ان میں سے کوئی بھی سرکاری سبسڈی والی غذائی اجناس حاصل کرنے کے لیے اہل نہیں ہے، جس کا وعدہ مرکزی وزیر خزانہ کے راحت پیکیج کے تحت کیا گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔ کچھ کے پاس ہیں، لیکن یہ ان کے گاؤں میں واقع ان کے گھر کے پتے پر رجسٹرڈ ہے، ۳۰ سالہ منک یمّا نے بتایا، جو بنیادی طور سے شمالی کرناٹک کے رائے چور ضلع سے ہیں۔ ’’وہ کارڈ بنگلورو میں کام نہیں کرتے،‘‘ انہوں نے کہا۔

’’اب ہم بغیر کام کے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بہت ساری پریشانیاں ہیں۔ ہمارے بچے ہیں، ہمیں کرایہ دینا پڑتا ہے۔ یہ سارا کام ہم کیسے کریں گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ منک یمّا اور ان کے شوہر ہیمنت لاک ڈاؤن سے پہلے تعمیراتی مقامات پر مزدوری کیا کرتے تھے؛ وہ تقریباً سات سال پہلے بنگلورو آئے تھے، اور ان کے چار بچے ہیں۔

رائے چور کی ہی رہنے والی، ۲۷ سالہ لکشمی این بھی تقریباً منک یمّا کے آنے کے وقت ہی یہاں آئی تھیں۔ لاک ڈاؤن شروع ہونے تک وہ شمالی بنگلورو کے تعمیراتی مقامات پر کام کر رہی تھیں۔ ’’ہم سیمنٹ بناتے ہیں اور پتھر توڑتے ہیں۔ اس کام کے لیے ہمیں روزانہ ۳۰۰ روپے ملتے ہیں،‘‘ انہوں نے مجھے بتایا تھا۔ وہ رچینا ہلّی میں ایک کمرے کی جس عارضی جھونپڑی میں اکیلی رہتی ہیں، اس کا انہیں ۵۰۰ روپے ماہانہ کرایہ دینا پڑتا ہے۔

ویڈیو دیکھیں: ’یہ ہمارے ہاتھ پیر کے ٹوٹ جانے جیسا ہے۔ ہمیں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے‘

مہاجر مزدوروں نے مختلف پریشانیوں کے بارے میں بتایا۔ ان میں سے کوئی بھی سرکاری سبسڈی والی غذائی اشیاء حاصل کرنے کے لیے اہل نہیں ہے۔ کئی لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے

کرایے کے علاوہ، یہاں ہر کوئی لاک ڈاؤن کے دوران غذائی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کو لیکر فکرمند ہے۔ ’’اور اگر ہمارے پاس پیسہ نہ ہو، تو ہمیں کچھ بھی کیسے ملے گا؟ ہم کوئی بچت نہیں کر سکتے۔ ہم جب کام کر رہے ہوتے ہیں، تو ٹھیک ہوتے ہیں، لیکن انہوں نے ہم سے وہ بھی چھین لیا،‘‘ ۳۳ سالہ سونی دیوی نے کہا۔ وہ رچینا ہلّی کے پاس اپارٹمنٹ والے ایک احاطہ میں ہاؤس کیپنگ اسٹاف کے طور پر کام کرتی ہیں۔

سونی ۹ ہزار روپے کماتی ہیں، حالانکہ انہوں نے اس مہینے (مئی) کام پھر سے شروع کر دیا، لیکن مارچ کے انہیں صرف ۵ ہزار روپے دیے گئے اور اپریل کا کچھ بھی نہیں ملا، کیوں کہ تب وہ کام پر نہیں جا سکی تھیں۔ اپریل کا مہینہ ان کی فیملی کے لیے کافی مشکل تھا۔ ان کے تین بچے ہیں اور سبھی ۱۱ سال سے کم عمر کے ہیں۔ ان کے شوہر لکھن سنگھ کبھی کبھی تعمیراتی مقامات پر کام کرتے ہیں، جو کام کے دن ۴۵۰ روپے کماتے ہیں؛ دل کی بیماری کے سبب وہ زیادہ کام نہیں کر پاتے۔ یہ فیملی بھی، مکتُمبے کی طرح ہی ایک کمرے میں رہتی ہے اور انہی کی طرح ۲۰۰۰ روپے ماہانہ کرایہ دیتی ہے۔ سونی تقریباً سات مہینے پہلے اپنی فیملی کے ساتھ جھارکھنڈ کے گریڈیہہ ضلع سے بنگلورو آئی تھیں، اور اپنی ۱۳ سالہ بیٹی کو وہیں رشتہ داروں کے پاس چھوڑ دیا تھا۔

جب ہم اپریل کے شروع میں ان سے ملے، تو سونی سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ کو لیکر فکرمند تھیں۔ ’’ایک کلو پیاز ۲۵ روپے میں ملتا تھا؛ اب یہ ۵۰ روپے میں ملتا ہے۔ جب سے یہ بیماری آئی ہے، ہم نے اپنے گھروں میں سبزیاں پکانا بند کر دیا ہے۔‘‘ کچھ دنوں کے لیے، ایک سخی آدمی بستی میں لوگوں کو کھانا بھیج رہا تھا۔ ’’ہمیں دن میں ایک بار پکا ہوا کھانا ملتا تھا،‘‘ سونی دیوی نے بتایا۔

’’ہم تو یہ بھی بھول گئے ہیں کہ سبزیاں کیا ہوتی ہیں!‘‘ مکتمبے نے کہا۔ ’’ہم تو صرف اسی چاول پر زندہ ہیں جو ہمیں [شہریوں کی جماعتوں کے ذریعے] دیے جا رہے ہیں۔‘‘ جب ایک رضاکار تنظیم نے خشک راشن کٹ سپلائی کیے، تو وہ کافی نہیں تھے۔ ’’کچھ لوگوں کو ملا، کچھ کو نہیں ملا۔ اس لیے پریشانی بڑھتی جا رہی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

’’اگر کوئی کھانا لانا چاہتا ہے، تو یہ سبھی کے لیے ہونا چاہیے، ورنہ کسی کے لیے نہیں۔ ہم یہاں پر ۱۰۰ سے زیادہ لوگ ہیں۔ اس کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے سے لڑائی نہیں کرنی چاہیے،‘‘ افسردہ منک یمّا نے کہا۔

جب میں ۱۴ اپریل کو رچینا ہلّی دوبارہ گئی، تو عورتوں نے مجھے یہاں پر ہوئے ایک حادثہ کے بارے میں بتایا، جو ۴ اپریل کو میری ان سے ملاقات کے چند گھنٹوں بعد ہوا تھا۔

ویڈیو دیکھیں: ’یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں ہے‘

’اگر کوئی کھانا لانا چاہتا ہے، تو یہ سبھی کے لیے ہونا چاہیے، ورنہ کسی کے لیے نہیں۔ اس کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے سے لڑائی نہیں کرنی چاہیے‘

اُس شام، جھگی بستی کے باشندوں کو ایک مقامی سماجی کارکن، زرین تاج کے گھر سے راشن کٹ لانے کے لیے کہا گیا، جو بستی سے دو کلومیٹر دور، امرتا ہلّی میں ہے۔ ’’انہوں نے ہم سے کہا کہ جن لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں، انہیں راشن دیا جائے گا۔ اس لیے ہم وہاں گئے اور لائن میں کھڑے ہو گئے،‘‘ لکشمی نے یاد کرتے ہوئے بتایا۔

اس کے بعد جو ہوا وہ انہیں حیران کر گیا۔ ’’ہم جب اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے، تبھی کچھ لوگ وہاں پہنچے اور چیخنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی کھانا لے گا اس کی پٹائی ہوگی۔ ہم ڈر گئے اور بنا کچھ لیے وہاں سے بھاگے،‘‘ لکشمی نے بتایا۔

زرین کا کہنا ہے کہ ۱۵-۲۰ لوگ ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئے اور ان کی بے عزتی کرنے لگے۔ ’’وہ غصے میں تھے کہ ہم کھانا کیوں بانٹ رہے ہیں۔ انہوں نے دھمکیاں دینی شروع کر دیں یہ کہتے ہوئے کہ ’یہ دہشت گرد ہیں، یہ نظام الدین سے آئے ہیں، ان کا کھانا مت لو ورنہ آپ کو انفیکشن ہو جائے گا۔‘‘

بعد میں، ۶ اپریل کو، جب زرین اور ان کی راحت ٹیم پاس کے دسرا ہلّی میں کھانا تقسیم کر رہی تھی، تو ان پر ایک گروپ نے حملہ کر دیا، انہیں بے عزت کیا اور دھمکیاں دیں۔ ’’ہمیں ان لوگوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا، ان کے ہاتھ میں کرکٹ کے بلّے تھے، اور میرا بیٹا بری طرح سے زخمی ہو گیا تھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

آخرکار، ۱۶ اپریل کو زرین کی ٹیم رچینا ہلّی کے یومیہ مزدوروں کو خشک راشن کٹ تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ’’مقامی کارپوریٹر نے کٹ تقسیم کرنے میں مدد کے لیے ایک بی بی ایم [نگر نگم] گاڑی کا انتظام کیا تھا،‘‘ زرین اور ان کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے ایک رضاکار، سوربھ کمار بتاتے ہیں۔

’’ہمارے پاس ان چیزوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو کھانا کھلانا ہے!‘‘ مکتمبے نے مجھے بعد میں بتایا۔ اس حادثہ نے انہیں فکرمند کر دیا ہے۔ ’’میں ہندو ہوں، اور وہ مسلم ہیں،‘‘ سونی دیوی نے مکتمبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا فرق پڑتا ہے؟ ہم پڑوسی کی طرح رہتے ہیں۔ ہمارے بچے ماں کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں، ہے کہ نہیں؟ ان سب [فرقہ وارانہ سیاست] میں پڑنے کی بجائے ہم بھوکے رہنا پسند کریں گے۔‘‘

’’ہمیں بیچ میں ڈال کر ہماری چٹنی بنائی جاتی ہے،‘‘ مکتمبے کہتی ہیں۔ ’’غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آخر میں ہم ہی مرتے ہیں۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sweta Daga

شویتا ڈاگا بنگلورو میں مقیم ایک قلم کار اور فوٹوگرافر، اور ۲۰۱۵ کی پاری فیلو ہیں۔ وہ مختلف ملٹی میڈیا پلیٹ فارموں کے لیے کام کرتی ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی، صنف اور سماجی نابرابری پر لکھتی ہیں۔

Other stories by Sweta Daga