روغن آرٹ کی نایاب شکل کو بچا کر رکھنے والوں تک پہنچنے کے لیے آپ کو گجرات کے کچھّ میں واقع نکھترانا ضلع کے دوردراز نیرونا گاؤں تک سفر کرنا پڑے گا۔

یہاں کے ۵۵ سالہ عبدالغفور کھتری اور ان کے ۳۶ سالہ بھائی سُمیر کھتری اس روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو کھتری فیملی میں تین صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ غفور بھائی کو اپنے اس آرٹ کے لیے ۱۹۹۷ میں نیشنل ایوارڈ ملا تھا، جب کہ سُمیر بھائی کو اس اعزاز سے ۲۰۰۳ میں نوازا گیا۔

روغن آرٹ پر فارسی کلچر کا گہرا اثر ہے۔ فارسی میں ’روغن‘ کا مطلب ہے ’تیل سے بنی ہوئی‘۔ کچھّ علاقے میں روغن آرٹ تب آیا، جب کھتری قبیلہ نے سندھ سے ہجرت کرکے اس خطہ کو اپنا مسکن بنایا۔


02-IMG-20160816-WA0009-JL-Rogan Josh.jpg

اپنے کام میں مصروف عبدالغفور کھتری


’’یہ ہنر ہمارے کنبہ میں گزشتہ ۳۰۰ برسوں سے موجود ہے، اور اب ہماری آٹھویں نسل نے اس پر کام کرنا شروع کر دیا ہے،‘‘ سُمیر بھائی بتاتے ہیں۔ ابھی فیملی کے ۹ ممبر روغن آرٹ بناتے ہیں، اور سبھی کو کوئی نہ کوئی ایوارڈ مل چکا ہے۔ فیملی اور اس کے دو اہم دست کاروں (آرٹسٹ) سے مل کر آپ کو محسوس ہوگا کہ اس آرٹ سے ان کا کتنا لگاؤ ہے، ہر رکن روغن آرٹ کو زندہ رکھنے کے لیے جی جان لگائے ہوا ہے۔

یہاں رنگوں کو تیار کرنے اور پھر ان کی مدد سے گل بوٹے بنانے کا کام نادر و نایاب ہے۔ سب سے پہلے، ارنڈی کے تیل کو ۱۲ گھنٹے تک گرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جب اسے پانی میں ڈالا جاتا ہے، تو اس سے تیل کی ایک شکل ابھر کر آتی ہے، جسے ’روغن‘ کہتے ہیں۔ اس روغن کو پھر قدرتی سبزیوں سے تیار رنگوں میں ملایا جاتا ہے اور مٹی کے برتنوں میں رکھ کر محفوظ کیا جاتا ہے۔ پھر ان برتنوں میں سے رنگ کو نکالنے کے لیے چھ انچ کی دھات کی ایک چھڑی استعمال کی جاتی ہے۔ ان رنگوں کو سوتی اور ریشمی کپڑوں پر ڈال کر گل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ دھات کی چھڑی ہاتھ میں پکڑے گئے کپڑے کو کبھی نہیں چھوتی۔


03-Rough-cut.Still003-JL-Rogan Josh.jpg

رنگوں اور گل بوٹے بنانے کا یہ طریقہ نرالا ہے


04-Rough-cut.Still002-JL-Rogan Josh.jpg


روغن ڈیزائن جیومیٹریائی اور پھولوں کی شکلوں، فارسی نقش و نگار اور مقامی دیسی آرٹ کا آمیزہ ہوتے ہیں، جن میں ’درخت کی زندگی‘ کو بھی شاندار طریقے سے دکھایا جاتا ہے۔ تیار مال اتنا بہترین ہوتا ہے کہ اکثر اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کہ یہ پرنٹ کیا گیا ہو، نہ کہ پینٹ۔


05-IMG-20160808-WA0000-JL-Rogan Josh.jpg

ڈیزائن اتنے بہترین ہوتے ہیں کہ دیکھنے سے یہ نہیں لگتا کہ پینٹنگ ہے، بلکہ پرنٹ لگتا ہے


روغن آرٹ اب بھی کچھّ علاقے تک ہی محدود کیوں ہے؟ اور کیا یہ بازار کے دباؤ کو جھیل پائے گا؟

’’روغن آرٹ کی راہ میں سب سے بڑا روڑا دستکاری کی صنعت کا کمرشیلائزیشن، اور بازار کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ضروری افراد کی کمی ہے،‘‘ سُمیر بھائی اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’اس کے علاوہ، ہمیں مختلف قسم کے نئے ڈیزائنوں کو سیکھنے اور مال کو اسی طرح تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ روغن ’وَن مین آرمی‘ کی طرح، جو اپنی بقا کی جنگ خود لڑ رہا ہے، کوئی باہری مدد نہیں، بلکہ خود ہی اپنی کوششوں سے عوام تک پہنچنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔‘‘

بازار کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے، اب روغن ڈیزائن صرف ساڑیوں پر ہی نہیں بنائے جا رہے ہیں، بلکہ چادروں اور پردوں پر بھی۔ اس کے علاوہ موبائل کور، تکیوں کے کور اور کرتے جیسی بازار میں زیادہ فروخت ہونے والی اشیاء پر بھی بنائے جا رہے ہیں۔


06-JL-Rogan Josh.jpg

روغن ڈیزائن جیومیٹریائی اور پھولوں کی شکلوں، فارسی نقش و نگار اور مقامی دیسی آرٹ کا آمیزہ ہیں


سال ۲۰۱۴ میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر براک اوباما کو غفور بھائی کے ہاتھ سے بنائی گئی خوبصورت ’لائف آف ٹری‘ (درخت کی زندگی) پینٹنگ تحفتاً پیش کی، جس کی وجہ سے ان کی فیملی اور یہ آرٹ اچانک سرخیوں میں آ گیا۔ آج، نیرونا گاؤں سیاحت کے نقشے پر آ چکا ہے، اور اب یہاں آنے والا ہر سیاح نہ صرف روغن آرٹ کی تعریف کرنے کے لیے رکتا ہے، بلکہ اسے خریدتا بھی ہے۔ جس موسم میں یہاں سیاحوں کی بھیڑ ہوتی ہے، اس وقت کھتری فیملی ایک مہینہ میں ۶۰ ہزار روپے تک کی کمائی کر سکتی ہے۔


07-IMG-20160816-WA0011(Crop)-JL-Rogan Josh.jpg

غفور بھائی کے ہاتھوں سے بنائی گئی خوبصورت ’لائف آف ٹری‘ پینٹنگ نے ان کی فیملی کو کافی شہرت عطا کی


’’المیہ یہ ہے کہ ہمیں دو نیشنل ایوارڈس اور کئی دوسرے ریاستی سطح کے انعامات ملے، لیکن آٹھ نسلوں سے اس آرٹ کو برقرار رکھنے کے باوجود آج تک ہمیں اپنے ہنر کو کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر دکھانے کا موقع نہیں ملا،‘‘ غفور بھائی کہتے ہیں۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ حکومت آدھے ادھورے سروے کی بنیاد پر فیصلہ لینے کی بجائے مکمل طور پر جائزہ لینے پر دھیان دینا شروع کرے۔ شمولیتی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ موروثی آرٹ کی شکلوں پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے، جتنی کہ آرٹ کی دیگر شکلوں پر دی جاتی ہے۔‘‘


08-35-years-back--bedsheet-JL-Rogan Josh.jpg

سُمیر کھتری: ’میری زندگی کا واحد ذریعہ روغن ہی ہے‘


کھتریوں نے اس ہنر کو دوسری کمیونٹیز میں اس وجہ سے منتقل نہیں کیا کہ وہ اسے اپنی فیملی کے اندر ہی دائم و قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس قبیلہ کے اندر، روغن آرٹ ہمیشہ سے مردوں کا پیشہ رہا ہے، عورتوں صرف رنگوں کو تیار کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ لیکن غفور بھائی ان سب چیزوں کو بدل رہے ہیں۔ دستکاری کی اس شکل کی احیاء کے لیے اب اس فیملی نے اپنے گاؤں کی ۳۰ لڑکیوں کو اس کی ٹریننگ دینی شروع کر دی ہے، جن میں کئی لڑکیاں ماہانہ ۶ ہزارے سے لے کر ۱۲ ہزار روپے تک کما بھی رہی ہیں۔

’’میری زندگی کا واحد ذریعہ روغن ہے،‘‘ سُمیر بھائی کہتے ہیں اور مجھے اپنے فن کا ایک نمونہ دکھاتے ہیں۔ ’’میں جانتا ہوں کہ میرے پاس وہ ہے جو کسی اور کے پاس نہیں اور میں اسے گنوانا نہیں چاہتا۔ زندگی کی تمام تر چنوتیوں کے باوجود، میں نے روغن کے ذریعہ جو عزت کمائی ہے، مجھے لگتا کہ کوئی اور اپنے ایئر کنڈیشنڈ آفس میں بیٹھ کر کما سکتا ہے۔‘‘

ان کے الفاظ آپ کو ہنسنے اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیں گے کہ روغن محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

تصاویر:

سُمیر کھتری: ’ٹری آف لائف، غفور بھائی، تھیلے

جیمنی لوہاریا: بقیہ تمام تصویریں

یہ مضمون دوسری شکل میں مضمون نگار کے فیلوشپ بلاگ پر ۵ ستمبر، ۲۰۱۵ کو شائع ہوا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jaimini Luharia

Jaimini Luharia is a 2015-16 India Fellow, part of a ‘social leadership programme’ of the Delhi-based I-volunteer. She works as a photographer and filmmaker, and has worked on a community radio project in Faridabad.

Other stories by Jaimini Luharia