محمد شمیم بہار کے سمستی پور ضلع کے کھراج (دِنمانپور) گاؤں میں اپنے گھر جاتے وقت فیملی کے لیے افلاطون لے جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ’’یہ ۳۶ گھنٹے کے سفر کے دوران خراب نہیں ہوتی، اور ممبئی کی سب سے اچھی مٹھائی ہے،‘‘ وہ گھی اور ماوا سے بنی اس مٹھائی کے بارے میں کہتے ہیں۔ شمیم کو کھراج گئے ہوئے چھ مہینے گزر چکے ہیں اور وہ سفر کے لیے ہفتوں پہلے سے تیاری کر رہے ہیں۔ ان کی بیوی سیما خاتون چاہتی ہیں کہ وہ ’’بمبئی اسٹائل سوٹ [شلوار قمیض]،‘‘ بالوں میں لگانے والا تیل، شیمپو، چہرے پر لگانے کی کریم اور ایک اور تحفہ لائیں جس کے بارے میں بتانے سے وہ شرما رہے  ہیں۔

فرش پر بیٹھ کر شمیم، تیزی سے پلاسٹک کی پتیوں اور پھولوں کو ایک جالیدار کپڑے میں بُن رہے ہیں، جو چاروں طرف سے لکڑی کے تختے سے بندھا ہے۔ وہ وسط ممبئی کے ماہم کی اس ورکشاپ میں – ’’ہر کوئی اسے اسلم بھائی کا کارخانہ کے طور پر جانتا ہے‘‘ – تقریباً ایک دہائی سے کام کر رہے ہیں، جب وہ پہلی بار زری کا کام کرنے ممبئی آئے تھے۔

کارخانہ میں کپڑے، بیگ اور چٹائیاں بغل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ریک پر رکھی ہوئی ہیں۔ تقریباً ۳۵ کاریگر – جن میں سے زیادہ تر مہاجر ہیں – ۴۰۰ مربع فٹ کے مین کمرے میں زری کی بُنائی کے لیے ایک ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ان میں سے کئی، رات میں اسی کمرے میں سوتے ہیں۔ گرمیوں کے دوران چھت سے لٹکا ہوا پنکھا کافی نہیں ہوتا، اس لیے شمیم مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہر کوئی کمرے میں نیچے رکھے واحد پنکھے کے قریب سونا چاہتا ہے۔‘‘

روایتی طور پر زری، سونے یا چاندی کی مرکب دھات سے بُنے دھاگوں سے بنائی جاتی تھی؛ اب تانبہ یا سستی مرکب دھات سے سلائی، یا چمکدار پلاسٹک سمیت مختلف قسم کی دیگر چیزوں کے ساتھ آرائش کو بھی زری کہتے ہیں۔ ماہم ورکشاپ میں یہ بنکر، گاہکوں کی مانگ کے مطابق، دھات کے دھاگے سے بھی کڑھائی کرتے ہیں – عام طور پر، دکانداروں اور فیشن ڈیزائنروں کے لیے۔

اب ۴۰ سال کے ہو چکے شمیم نے اس چھوٹے سے کمرے کی طرف اپنا سفر تب شروع کیا تھا، جب وہ تقریباً ۱۵ سال کے تھے۔ انھوں نے ایک اردو میڈیم اسکول سے صرف ۵ویں کلاس تک پڑھائی کی تھی۔ ان کے والد، محمد شفیق کو جب کالازار (سِکتا مکھی کے کاٹ لینے سے ہونے والی بیماری) ہو گیا اور ایک دہائی تک ان کا علاج چلتا رہا، تب دادا اور چچا نے فیملی کی دیکھ بھال کی۔ اگر انھوں نے زری کا کام نہیں پکڑا ہوتا، تو شمیم کہتے ہیں کہ وہ بھی اپنے والد کی طرح قصائی ہوتے۔

PHOTO • Urja
Zari workers
PHOTO • Urja

بائیں: محمد شمیم کام کرتے ہوئے۔ دائیں: اس ورکشاپ میں تیار کیا گیا کپڑا دکانوں اور بڑے بڑے فیشن ڈیزائنروں کے پاس جاتا ہے

’’پھر میری ماں نے میرے ماموں سے درخواست کی کہ وہ دہلی میں میرے لیے کوئی نوکری ڈھونڈیں، جہاں وہ ایک درزی تھے،‘‘ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ ’’یہ ۱۹۹۴ کی بات ہے۔ میں سمستی پور ضلع سے دہلی جانے والی ٹرین میں رویا تھا۔ ماموں نے مجھے مٹھائی دی، لیکن اس وقت مجھے اپنے گھر کے علاوہ کچھ بھی نہیں چاہیے تھا۔ زری کا کام سیکھنے کے لیے دوسرے شہر جانے سے پہلے سبھی نوعمر لڑکے روتے ہیں۔‘‘

دہلی میں، شمیم نے ریفرجریٹر فیکٹری میں ایک ہیلپر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ لیکن ان کے دائیں ہاتھ میں ایک پرانے فریکچر نے ان کے لیے بھاری سامان کو لے جانا مشکل بنا دیا۔ ’’فریکچر ٹھیک ہو گیا تھا، لیکن وزن اٹھانے پر میرا ہاتھ ابھی بھی سوج جاتا ہے،‘‘ جالیدار کپڑے پر پلاسٹک کے موتی کی کڑھائی کرتے ہوئے، وہ کہتے ہیں۔

اس لیے ان کے چچا نے انھیں اپنے ایک دوست سے ملوایا جو زری کا کام کرتے تھے اور ان سے شمیم کو سکھانے کے لیے کہا۔ دہلی میں کام کرنے کے دوران شمیم کو تنخواہ نہیں دی گئی، بلکہ کھانا اور ورکشاپ میں سونے کے لیے جگہ دی گئی تھی۔ ’’پہلے تین مہینوں میں انھوں نے مجھے ہاتھ سے آسانی سے کرنے والا کام سکھایا [زری سے سلائی کرنا]۔ مجھے اس میں اچھا بننے میں ایک سال لگ گیا،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ شمیم نے کچھ برسوں تک، دہلی کے کئی علاقوں میں زری کی بُنائی کا کام کیا۔ دھیرے دھیرے، وہ زری کے دیگر کاریگروں کی طرح ہی رفتار اور درستگی سے کام کرنے لگے اور ۶۵ روپے یومیہ کمانے لگے۔

دہلی کے رگھوبیر نگر میں زری ورکشاپ کے ایک سابق ساتھی، جو ممبئی چلے گئے تھے، نے شمیم کو بھی یہاں آنے کی صلاح دی، تو انھوں نے منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔ ۲۰۰۹ میں وہ ممبئی آ گئے۔ وہ شروع میں بڑے شہر سے گھبرا گئے تھے، وہ بتاتے ہیں۔ یہاں ان کے جاننے والوں نے انھیں بتایا تھا کہ شہر میں ’’ٹپوری گیری‘‘ (جھگڑالو برتاؤ) ہوتی ہیں، اور باہری لوگوں کو پریشان کیا جاتا ہے۔ ’’لوگ کہتے ’مارو بہاری کو، بنگالی کو، بھیا کو‘۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔‘‘

Close up of hand while doing zari work.
PHOTO • Urja
Low angle shot
PHOTO • Urja

’پہلے تین مہینوں میں انھوں نے مجھے آسانی سے ہاتھ سے کرنے والا کام سکھایا۔ مجھے اچھا بننے میں ایک سال لگ گیا‘، شمیم زری کاریگر کے طور پر اپنے ابتدائی سالوں کو یاد کرتے ہیں

ایک تجربہ کار کاریگر کے طور پر، شمیم اب ۵۵۰ روپے روزانہ کماتے ہیں۔ زری بُنائی کے کاروبار میں، کاریگروں کو پہلے چھ گھنٹے کام کرنے کے (جسے ایک نفری یا مزدوری کی شکل میں شمار کیا جاتا ہے، جو کہ کل کام کی اکائی ہے)، ۲۲۵ روپے ملتے ہیں، اس کے بعد اگلے چار گھنٹوں کے (۱۰ گھنٹے سے دو نفری بن جاتی ہے) ۲۲۵ روپے، اور دو گھنٹے اور کام کرنے (۱۲ گھنٹے سے ڈھائی نفری بنتی ہے) کے ۱۰۰ روپے ملتے ہیں۔ یعنی، ۱۲ گھنٹے کام کرنے کے زیادہ سے زیادہ ۵۵۰ روپے ملتے ہیں۔

شمیم کی ماہانہ کمائی تقریباً ۱۲۰۰۰-۱۳۰۰۰ روپے ہے۔ اس میں سے ۴۰۰۰ روپے وہ اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں۔ تقریباً ۸۰۰۰ روپے وہ سیما خاتون اور اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں۔ اس میں سے ۱۰۰۰ روپے وہ ان کے والدین کو دیتی ہیں، جو ان کے گھر کے پاس ہی رہتے ہیں۔

پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت شمیم اور سیما کو ۲۰۱۸ میں، چھوٹے سے باورچی خانہ کے ساتھ ایک کمرے کا اپنا گھر ملا۔ شمیم بتاتے ہیں کہ اس اسکیم کے تحت مالی مدد کی شکل میں انھیں جو ایک لاکھ ۲۰ ہزار روے ملنے تھے، اس میں سے ۲۰ ہزار روپے بچولیے نے رکھ لیے۔ ’’مجھے اپنے بہنوئی سے ۲۰ ہزار روپے اُدھار لینے پڑے۔‘‘ انھوں نے آدھا قرض چُکا دیا ہے اور ہر مہینے ۱۰۰۰ روپے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ بقیہ ۱۰ ہزار روپے بھی چکا سکیں۔

شادی کے وقت شمیم کی عمر ۲۰ سال اور سیما کی ۱۵ سال تھی۔ ان کا ۱۰ سالہ بیٹا، محمد عرفان اور ۸ سالہ بیٹی منتشا پروین بہار کے خانپور بلاک کے اپنے گاؤں، کھراج میں ایک سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں۔ سب سے بڑا بیٹا، ۱۶ سالہ محمد عمران ۱۰ویں کلاس کا امتحان دے رہا ہے اور آگے نہیں پڑھنا نہیں چاہتا۔ وہ اپنے دادا کے ساتھ قصائی کا کام کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

شمیم نہیں چاہتے کہ وہ زری کے کام کے لیے ممبئی آئے، کیوں کہ ان کے مطابق، کم مزدوری کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ ’’میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو زری اور ہاتھ کے کام میں لگایا، لیکن اس نے اسے سیکھنا جاری نہیں رکھا، نہ ہی میری خالہ کے بیٹے [خلیرے بھائی] نے۔‘‘ ان کا بھائی اب گروگرام کی ایک دکان میں کام کرتا ہے اور ٹھیلہ سے پارسل پہنچاتا ہے، جب کہ خلیرے بھائی نے درزی کا کام شروع کر دیا ہے۔ ’’میں نہیں چاہتا کہ میرے بیٹے کو کم تنخواہ ملے اور میری طرح بہت زیادہ کام کرنا پڑے،‘‘ شمیم کہتے ہیں۔ ’’میں چاہتا ہوں کہ یہ فن میرے ساتھ ہی ختم ہو جائے۔‘‘

Weavers working
PHOTO • Urja
workers stay in factory.
PHOTO • Urja

ماہم ورکشاپ میں، ذاتی سامان بغل کے کمرے میں ایک ریک پر رکھے جاتے ہیں، یہاں کے ۳۵ بُنکروں میں سے کئی، رات کو ۴۰۰ مربع فٹ کے مین کمرے میں سوتے ہیں

شمیم جب ۳۰ سال کے ہو گئے، تو ماہم ورکشاپ میں ۱۴ ٹیوب لائٹ ہونے کے باوجود، ان کے لیے سوئی چلانا مشکل ہو گیا اور ان کی آنکھ کی روشنی دھندلی ہو گئی۔ زری کاریگروں کی آنکھ کی روشنی عام طور پر کچھ سال کام کرنے کے بعد خراب ہو جاتی ہے۔ اپنے ساتھی عبدل کی طرف سوئی سے اشارہ کرتے ہوئے، وہ مذاقیہ لہجہ میں کہتے ہیں، ’’ان کی ایک سال پہلے شادی ہوئی ہے اور یہ چشمہ نہیں پہنتے ہیں، وہ بوڑھے آدمی کی طرح نہیں نظر آنا چاہتے، جیسا کہ میں نظر آتا ہوں۔‘‘

شمیم اور ان کے ساتھیوں کو پڑوس کی ایک خاتون سے ٹفن ملتا ہے۔ ’’لیکن مجھے دہلی زیادہ پسند ہے، وہاں سے کھراج قریب تھا اور کھانا زیادہ لذیذ اور سستا تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ چھ دنوں تک ۱۲ وقت کے کھانے کے لیے ٹفن سروِس کی قیمت ہے ۴۵۰ روپے۔ اس میں ہفتہ میں دو بار گوشت والا کھانا، عام طور پر مرغے اور کبھی کبھی بھینس کا گوشت شامل ہوتا ہے۔ شمیم کا کہنا ہے کہ ٹفن کے گوشت کے مقابلے ان کی بیوی زیادہ بہتر بیف پکاتی ہے، یہ اُنا بھُنا ہوا نہیں ہے۔

اتوار کو چھٹی رہتی ہے تب یہ کاریگر باہر کھانا کھاتے ہیں، اور کبھی کبھی شمیم ماہم میں سمندر کے کنارے ٹھنڈی ہوا کھانے، یا پاس کے بابا مخدوم شاہ کی درگاہ پر جاتے ہیں۔ کچھ ہی ہفتوں میں، وہ کھراج (دنمانپور) جانے کے لیے پون ایکسپریس کے کھچاکھچ بھرے جنرل ڈبے میں چڑھیں گے۔ ان کے گھر کی دھات کی چھت کو سیمنٹ کی چھت سے بدلنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے انھیں تقریباً ایک مہینہ وہیں رہنا پڑے گا۔ ’’جب میں چھٹی پر ہوتا ہوں، تو کھٹِک کے کام [قصائی کا کاروبار] میں اپنے والد کی مدد کرنا سب سے اچھا متبادل ہوتا ہے، اس سے پیسہ [روزانہ ۱۰۰ روپے سے ۴۰۰ روپے کے درمیان] آتا رہتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

’’میں کام کی کوئی نئی لائن نہیں پکڑ سکتا، کیوں کہ اس کا ماہر بننے میں ایک سال یا اس سے زیادہ لگے گا۔ تب تک گاؤں میں میری فیملی زندہ کیسے رہے گی؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں، تبھی پاس کی ایک درگاہ سے اذان کی آواز آنے لگتی ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Urja

اُرجا پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا (پاری) میں ویڈیو کوآرڈی نیٹر ہیں۔

Other stories by Urja