رسّی بنانے کی صنعت، جو کبھی عروج پر تھی اور جس کی وجہ سے کیرل میں کمیونسٹ تحریک پھلی پھولی، آج زوال پذیر ہے۔

پیداوار کا طریقہ لامرکزیت کا شکار ہو گیا ہے اور اب یہ منظم شعبہ سے گھٹ کر گھریلو سطح پر آ گیا ہے، جس کی وجہ سے رسیاں بنانے والے کافی غریب ہوچکے ہیں۔ نوکرشاہوں، بچولیوں، ٹھیکہ داروں اور سیاست دانوں کی ملی بھگت نے صنعت کے تمام منافع کو اپنے حق میں کر لیا ہے، جب کہ رسیاں بنانے والے مزدور نہایت مشکل حالات میں محنت و مشقت کرنے پر مجبور ہیں اور ان کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔

اس صنعت پر دھیان دینا، رسیاں بنانے والے مزدوروں کے حقوق کو یقینی بنانا، کام کرنے کے حالات کو باوقار بنانا اور روایتی صنعتی ٹکنالوجی کو محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔


02_Coir trilogy-2_VS.jpg

الپوزا میں رسیاں بنانے والے مزدور، گوکل داس کہتے ہیں: ’یہ ہم تک ہمارے ڈی این اے سے پہنچا ہے! یہ ہمارا خاندانی پیشہ ہے۔ ہمارے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔۔۔۔ اس لیے ہم اس کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں‘


وی ششی کمار تھیرووننت پورم میں واقع فلم ساز ہیں، جن کا فوکس دیہی، سماجی اور ثقافتی امور ہیں۔ اس ویڈیو ڈاکیومینٹری کو انھوں نے اپنی ۲۰۱۵ کی پاری فیلوشپ کے تحت بنایا تھا۔

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

V. Sasikumar

وی ششی کمار تھیرووننتا پورم میں مقیم فلم ساز ہیں، جن کا فوکس ہے دیہی، سماجی اور ثقافتی مسائل۔ انھوں نے یہ ویڈیو ڈاکیومینٹری اپنی ۲۰۱۵ پاری فیلوشپ کے تحت بنائی ہے۔

Other stories by V. Sasikumar