راجستھان کے پالی ضلع کے صدری گاؤں کی رائیکا کمیونٹی صدیوں سے اونٹ پالنے کا کام کر رہی ہے۔ اونٹ کو سال ۲۰۱۴ میں راجستھان کا ریاستی جانور قرار دیا گیا، اور یہ رنگ برنگے اس رییتیلے صوبہ کے لوگوں کی پہچان ہے۔ اونٹ گلّہ بانوں کے لیے بنیادی چیز ہیں، کیوں کہ یہ گرمی کو برداشت کر سکتے ہیں، انھیں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اور بدلے میں یہ انھیں دودھ اور بال دیتے ہیں۔

تاہم، آج ان گلّہ بانوں کا طرزِ زندگی خطرے میں ہے۔ ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے کی روایت کی وجہ سے رائیکا لوگوں کا جینا اب دوبھر ہوتا جا رہا ہے، کیوں کہ اس طرزِ زندگی کی وجہ سے لوگ انھیں حقیر سمجھتے ہیں اور اکثر انھیں اپنا دشمن تصور کرنے لگتے ہیں۔

جوگا رام جی رائیکا اپنی کمیونٹی کے سینئر گلّہ بان ہیں، ساتھ ہی وہ ایک روحانی پیشوا، یا بھوپا جی، بھی ہیں۔ رائیکا جن بھگوانوں کی پوجا کرتے ہیں، ان سے وہ دعا کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کے بھگوان پابو جی ہیں۔ یہ لوگ جب روحوں سے بات کرتے ہیں تو بھوپا جی اکثر وجد کی حالت میں چلے جاتے ہیں۔


01RaikasSDDSC_0307_2.JPG

جوگارام جی کی پوجا کی ذاتی جگہ


جب میں ان سے پہلی بار ملی، تو وہ اپنی برادری کے اراکین کے ساتھ بات کر رہے تھے، ساتھ ہی افیم کے تیل کا ایک آمیزہ بھی پی رہے تھے۔ وہ دن میں کئی دفعہ اس میں سے کچھ پیتے رہتے ہیں۔ ان کی بیوی ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔


02RaikasSDIMG_0067.jpg

تیل یہاں بنایا جاتا ہے ۔ گاڑھا افیم اندر ڈالا جاتا ہے اور پھر سیّال کے طور پر چھان کر باہر نکال لیا جاتا ہے


کمیونٹی کے لوگ متعدد معاملوں میں، چاہے وہ ان کے ذاتی ہوں یا کمیونٹی سے متعلق، مشورے کے لیے بھوپاجی سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں زمینی مسائل سے متعلق فیصلہ لینے، یا عوامی مجمع میں کمیونٹی کی نمائندگی کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔


03RaikasSDDSC_0304_2.jpg

کمیونٹی کے ممبران بھوپا جی سے ملنے ہر روز آتے ہیں


جوگارام جی نے کمیونٹی کے مسائل، اور اپنی فیملی کے بارے میں بتایا۔ آج کل باقاعدہ تعلیم ضروری ہے، وہ کہتے ہیں، کم از کم خیال کے طور پر، اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی بیٹی، ریکھا اسکول ضرور جائے۔ ’’اسکول سے آپ کی عزت ہوتی ہے،‘‘ وہ وضاحت کرتے ہیں۔ ’’ہم اسکول نہیں گئے، اس لیے لوگ ہماری عزت نہیں کرتے، کیوں کہ وہ سوچتے ہیں کہ ہم دنیا کے طور طریقوں کو نہیں جانتے۔ اس کے علاوہ، وہ ایک لڑکی ہے۔ اسے اپنی حفاظت کرنے کے لیے کئی طریقوں کی ضرورت ہے۔‘‘

ساتھ ہی، جوگا رام جی اپنی روایتی حکمت بھی ریکھا کو منتقل کر دیں گے۔ گلّہ بان کمیونٹی میں پرورش پاتی اس لڑکی کو وہ تمام آزادیاں حاصل ہیں، جو بہت سی دوسری لڑکیوں کو میسر نہیں ہیں۔ ایک اونٹ کے ساتھ کھیلتی ہوئی اس کی تصویر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ کتنی گھلی ملی ہوئی ہے۔


04RaikasSDDSC_0337_2.jpg

بھوپا جی کی بیٹی، ریکھا، اونٹوں کے ساتھ پوری طرح گھلی ملی ہوئی ہے


رائیکا اپنے مویشیوں کے ساتھ اپنی پیدائش سے لے کر موت تک رہتے ہیں، حالانکہ ان کی اوسطاً زندگی تقریباً ۵۰ سال کی ہوتی ہے، جب کہ یہ جانور اپنے مالک سے بھی زیادہ دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ بعض رائیکا تو اپنی پیدائش کے وقت آدمیوں سے زیادہ جانوروں سے گھرے رہتے ہیں۔


05RaikasSDDSC_0384_2.jpg

ایک گلّہ بان اپنے دن کی شروعات کرتے ہوئے


رائیکا اُن آخری لوگوں میں سے ہیں، جو اونٹ کی پیٹھ پر اُگے بال کو قینچی سے کتر کر ڈیزائن بناتے ہیں، یہ ایک گلّہ بان اور اس کے جانور کے درمیان گہرے اعتماد کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ کمیونٹی سے باہر کا کوئی شخص اسے دیکھ کر یہی سوچے گا کہ بال کی کٹائی کے وقت جانور کو کافی درد ہو رہا ہے۔ لیکن رائیکا اونٹوں سے گفتگو کر سکتے ہیں اور سر یا ہاتھ کے معمولی اشارے سے اسے اپنی بات سمجھا سکتے ہیں اور اس طرح اس کے جسم پر کوئی زخم نہیں لگنے دیتے۔ اونٹ کا بال قالین بنانے میں استعمال ہوتا ہے، اس کے علاوہ بال کاٹنے سے اس جانور کا جسم ٹھنڈا بھی رہتا ہے۔


07RaikasSDDSC_0518_2.jpg

رائیکا صدری میں ایک این جی او کے پالتو اونٹوں کا بال کترنے میں مدد کر رہے ہیں


میں اس کمیونٹی کے ایک دوسرے تجربہ کار گلّہ بان، فویا رام جی کے ساتھ ’چَڑیے‘ (جب جانور کو چرانے کے لیے لے جایا جاتا ہے) پر گئی۔ عام طور پر جانوروں کو چرانے کا یہ کام دن بھر چلتا ہے۔


08RaikasSDDSC_0623_2.jpg

فویا رام جی اونٹوں کو دن بھر چراتے ہیں


وہ صبح میں نکلتے ہیں، چائے اور کھانے کا سامان اپنی پگڑی میں باندھ لیتے ہیں، اور شام کو دیر سے واپس لوٹتے ہیں۔ راجستھان میں گرمیوں کی شدید حرارت، اور ۲۰ اونٹوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کے باوجود، وہ چائے بناکر مجھے بھی پلاتے ہیں۔


09RaikasSDDSC_0587_2.jpg

’چَڑیے‘ کے دوران چائے بناتے ہوئے


پہلے، رائیکا لوگ آمدنی کے لیے نوجوان نر اونٹوں کو بیچا کرتے تھے۔ اب اس سے ان کا کام نہیں چلتا۔ اب وہ اپنی آمدنی کے لیے اونٹوں کے دودھ وغیرہ سے بننے والی اشیا بیچتے ہیں۔ لیکن یہ مشکل ہے، فویا رام جی کہتے ہیں۔ تغذیہ سے بھرپور اونٹ کے دودھ کو ’’سپر فوڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن سرکاری ڈیریوں کے ذریعے مختلف قسم کی پابندیاں لگائے جانے سے ہندوستان میں اس کی فروخت شروع نہیں ہو پائی ہے۔ ان چیزوں کو نہ بیچ پانے کے سبب، رائیکا کمیونٹی اپنی زندہ رہنے کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہے۔ نتیجہ کے طور پر بہت سے لوگ اپنی کمیونٹی کو چھوڑ کر کوئی ذریعہ معاش ڈھونڈنے نکل پڑے ہیں۔

جانوروں کے ڈاکٹر، کارکن اور ۲۰۱۴ میں شائع ہونے والی کتاب ’کیمل کرما‘ کے مصنف، کوہیلر رولیفسن کے مطابق، ’’اگلی نسل اپنی بعض روایتوں کو برقرار رکھنے میں دلچسپی لے رہی ہے، لیکن ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ایک گلّہ بان کے لیے کوئی دلہن ہی تلاش کرنے کی کوشش کرکے دیکھ لیجیے: اسے ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ بہت سے رائیکا اب مزدور بن چکے ہیں۔‘‘

فویا رام جی شاید اس بات سے واقف ہیں کہ ان کی فیملی میں سے اب کوئی ان کے نقشِ قدم پر نہیں چلنے والا ہے۔ زمین کے کچھ ٹکڑوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے جہاں ان گڈریوں کو اب بھی جانے کی اجازت ہے، انھوں نے مجھے بتایا کہ رائیکا پہلے صدری کے جنگلوں اور کھیتوں میں آزادی کے ساتھ گھوما کرتے تھے، راستے میں انھیں جو بھی ملتا وہ ان سے دیرپا رشتہ قائم کر لیا کرتے تھے۔


10RaikasSDDSC_0564_2.jpg

اونٹ چرنے، درختوں کی پتیاں کھانے میں مصروف ہیں


بیس سال پہلے، گلّہ بان اور کسان اقتصادی اور سماجی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ جب گلّہ بان اپنے ریوڑ کو لمبے راستے پر لے جاتا، تو اکثر وہ کھیتوں سے ہوکر گزرتا تھا۔ یہاں، گڈریے اکثر کسان کو اعلیٰ درجے کی کھاد اور اونٹ کے دودھ فراہم کیا کرتے تھے۔ بدلے میں کسان، ان گڈریوں کو کھانا دیا کرتا تھا۔ چونکہ گڈریے کا راستہ کبھی بدلتا نہیں تھا، اس لیے دونوں کے درمیان ایک رشتہ قائم ہو جاتا تھا، جو کئی نسلوں تک چلا کرتا تھا۔ اب، بہت سے کسان گڈریوں کو اپنے کھیتوں پر آنے کی اجازت اس خوف سے نہیں دیتے کہ وہ ان کے کھیتوں کو تباہ کر دیں گے یا اونٹ ان کی فصلوں کو کھا جائیں گے۔


11RaikasSDDSC_0595_2.jpg

فویا رام جی نگراں کے طور پر کھڑے ہیں، جب کہ ان کے اونٹ چرنے میں مصروف ہیں


نئے قوانین اور پالیسیاں، جنھیں بعض ماہرین ماحولیات اور جانوروں کے حقوق کے لیے لڑنے والی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، نے رائیکا لوگوں کے آنے جانے پر پابندی لگا دی ہے اور ان کے طرزِ زندگی کو بدل دیا ہے۔ راج سمند ضلع کے کُمبھل گڑھ جیسے نیشنل پارکوں میں اب گڈریوں کا جانا ممنوع ہے، جس کی وجہ سے صدیوں پرانی اُن کی ہجرت کرنے والی طرزِ زندگی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

چونکہ نئے قوانین نے بعض پابندیاں لگا دی ہیں اور اب اونٹ پالنے والے گڈریوں کا کھیت اور دیگر ذرائع تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے، اس لیے کچھ رائیکا پُشکر میلے میں اپنی اونٹنیوں کو بیچنے کے لیے مجبور ہیں۔ انھوں نے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا، سال ۲۰۰۰ تک وہ صرف نر اونٹ ہی بیچا کرتے تھے۔ اونٹنی کو بیچنا اس بات کی علامت ہے کہ رائیکا اب خودسپردگی کر رہے ہیں: ان جانوروں کے بغیر، ریوڑ میں اضافہ کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اس کے ردِ عمل میں، دیگر رائیکا نے سرکار سے کہا ہے کہ وہ اونٹنیوں کے ذبح کرنے پر پابندی لگائے، تاکہ ان کی نسل کو بچایا جا سکے۔ بجائے اس کے، ریاستی حکومت نے مارچ ۲۰۱۵ میں اونٹ اور اونٹنی، دونوں کے ذبح کرنے پر مکمل پابندی لگا دی، جس کی وجہ سے رائیکا کمیونٹی کی بہترین آمدنی کا ذریعہ ان سے چھن گیا۔

’’اکثر، اس قسم کی پالیسیوں میں ان برادریوں کے حقائق کی کمی ہوتی ہے،‘‘ صدری کی ایک رضاکار تنظیم، لوک ہِت پشو پالک سنستھان کے سربراہ، ہنونت سنگھ راٹھور کہتے ہیں۔ ’’سرکار رائیکا لوگوں کی بات تک سننے کو تیار نہیں ہے، حالانکہ یہ لوگ ماحولیاتی نظام کے نازک توازن کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کا علم ایک نسل سے دوسری نسل تک ہوتا ہوا ان کے پاس پہنچا ہے، جو اسے بیش قیمتی بناتا ہے۔ وہ اپنی زمین کو اچھی طرح جانتے ہیں، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ جانوروں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے۔‘‘


12RaikasSDDSC_0352_2.jpg

اپنے ریوڑ کے ساتھ بھوپاجی


اس وقت بھی، جب آپ اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں، محکمہ جنگلات رائیکا کمیونٹی کو ان کے چراگاہوں سے دور بھگانے میں مصروف ہے۔ ’’زیادہ طاقتور برادریاں رائیکا سے ان کے چرانے کے حقوق کو چھیننے میں سرگرمی سے کوشاں ہیں،‘‘ راٹھور نے کہا۔ ’’وہ سوچتے ہیں کہ اونٹ ان کی بھینسوں کو ڈراتے ہیں، لہٰذا انھوں نے محکمہ جنگلات کے اہل کاروں سے کہا ہے کہ وہ چراگاہوں کے دروازوں کی نگرانی کریں۔ اگر یہی چلتا رہا، تو اونٹ بھوک سے مر جائیں گے۔

’’اونچی ذات کی برادریوں نے رائیکا لوگوں کے سوشل بائیکاٹ، دوسری تمام برادریوں سے انھیں الگ تھلگ کرنے کا نعرہ دیا ہے۔ ہم اپنے سیاسی نمائندوں سے اس جانب توجہ دینے اور اسے رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہی سب چلتا رہا، تو رائیکا کمیونٹی ایک دن ختم ہو جائے گی۔ اور اگلے پانچ سالوں میں، ہوسکتا ہے کہ پورے راجستھان میں ایک بھی اونٹ نہ بچے۔‘‘

رائیکا کمیونٹی کا جینا مرنا اس جانور کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور انھیں چرانے کے حقوق کو کسی بھی طرح چیلنج کرنا، ان کے طرزِ زندگی کو چیلنج کرنا ہے۔ ’’ہم اسے برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں گے،‘‘ جوگا رام جی نے کہا، ’’لیکن اگر کسی کو یہ نہیں لگتا کہ ہم ان حقوق کے ’’حقدار‘‘ ہیں، تو پھر ہم کس کے لیے لڑ رہے ہیں؟‘‘

 

مضمون نگار رائیکا کمیونٹی، لوک ہِت پشو پالک سنستھان اور ہرش وردھن، اسسٹنٹ فوٹوگرافر کا شکریہ ادا کرنی چاہتی ہیں، جنھوں نے اس مضمون کو لکھنے میں ان کی مدد کی۔

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Sweta Daga

مضمون نگار شویتا ڈاگا بنگلور میں مقیم قلم کار اور فوٹوگرافر ہیں۔ وہ متعدد ملٹی میڈیا پروجیکٹوں پر کام کر رہی ہیں، جن میں ’پیپلز آرکائیو آف رورَل انڈیا‘ (پاری)، اور ’سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرمینٹ‘ کے ساتھ فیلوشپ بھی شامل ہیں۔

Other Stories by Sweta Daga