/media/uploads/Articles/Shalini Singh/Urvashi Sarkar Hanging by a thread/img_0998.jpg


دہلی کی کٹھ پتلی کالونی میں کٹھ پتلی بناتے ہوئے


تیز پیلے رنگ کی ساڑی میں ملبوس، ہاتھوں میں خوبصورت سفید رنگ کی چوڑیاں پہنے ہوئے بِملا بھٹ ایک مربع علاقہ میں آلتی پالتی مارے ہوئے بیٹھی ہیں اور مٹی کے چولہے پر روٹیاں سینک رہی ہیں۔

آٹے کا گول پیڑا بنانے کے بعد، وہ اس کے ہر کونے کو بیلنے سے پھیلاتی ہیں۔ لکڑی کے ٹکڑے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں، کچھ دیوار سے سٹاکر کھڑے کیے گئے ہیں۔ نیلے رنگ کی اس دیوار پر لگا ہوا پلاسٹر جگہ جگہ سے جھڑ رہا ہے۔ دھوئیں کا گولا آگ کے اوپر منڈرا رہا ہے۔

’’اس طرح بنایا ہوا کھانا ذائقہ دار ہوتا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ کیا دھوئیں سے ان کے سر میں درد نہیں ہوتا یا انہیں کسی اور طرح بیمار نہیں کرتا؟ ’’مٹکے کا پانی اور چولہے کا کھانا، سب سے اچھا ہوتا ہے۔‘‘

ان کی رسائی گیس سیلنڈر تک ہے، لیکن بملا چولہے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ہر روز پانچ کلو گیہوں پکاتی ہیں، ایک دن میں تقریباً ۲۰ روٹیاں بناتی ہیں۔ پانی کو سب سے پہلے ’پیوریٹ‘ سے چھانا جاتا ہے اور اس کے بعد مٹی کے بڑے گھڑے میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Shalini Singh/Urvashi Sarkar Hanging by a thread/img_1007.jpg


بملا بھٹ اس کالونی میں کئی برسوں سے رہ رہی ہیں اور یہاں سے کہیں اور نہیں جانا چاہتیں


روز کے معمول کے علاوہ زمین کے کھونے اور سماجی روابط کے بدلنے کا خطرہ لاحق ہے۔ ’’میں یہاں ۳۰ سال پہلے آئی تھی،‘‘ بملا بتاتی ہیں۔ وہ نوجوان دکھائی دیتی ہیں، ان کی جلد چمکدار ہے۔ ’’مجھے واقعی نہیں معلوم کہ میری عمر کیا ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔

بملا بنیادی طور پر راجستھان کے سیکر ضلع کی رہنے والی ہیں، جن کی شادی پورن بھٹ فیملی میں ہوئی ہے، اس فیملی کو کٹھ پتلی بنانے کے لیے قومی ایوارڈ مل چکا ہے۔ یہاں پر رہنے والے زیادہ تر کنبے ۱۹۷۰ کی دہائی میں راجستھان، اتر پردیش اور بہار سے ہجرت کرکے آئے تھے۔


/static/media/uploads/Articles/Shalini Singh/Urvashi Sarkar Hanging by a thread/img_0998.jpg


آرٹ کی حفاظت اور روزی روٹی کمانے کی کوشش کرتے ہوئے


پورن بھٹ کا گھر، مغربی دہلی کی کٹھ پتلی کالونی کا سب سے مشہور پتہ ہے۔ یہ کالونی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کا سب سے پہلا جھگی بازآبادکاری پروجیکٹ تھا۔ منصوبہ کے مطابق، باشندوں سے کہا گیا کہ وہ پہلے ٹرانزٹ کیمپوں میں جائیں، جہاں انھیں دو سال یا اس سے زیادہ رہنا پڑے گا، اس کے بعد ہی انھیں کٹھ پتلی کالونی میں فلیٹ دیے جائیں گے۔ یہ فلیٹ رہیجا ڈیولپرس کے ذریعہ ڈی ڈی اے کے ساتھ مل کر، پبلک۔پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنائے جائیں گے۔ کچھ کنبے، جن کی اس کالونی میں زمین نہیں ہے، وہ ٹرانزٹ کیمپوں میں جانے کے حامی ہیں۔ لیکن جن کے پاس یہاں زمینیں ہیں، وہ جانے سے ڈر رہے ہیں، انھیں شک ہے کہ ان سے جن فلیٹوں کا وعدہ کیا گیا ہے، پتہ نہیں وہ انھیں ملے یا نہیں اور اس طرح وہ اپنی زمین سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

’’ہم ہمیشہ سے یہاں رہے۔ ہم یہاں سے کیوں جائیں؟‘‘ بملا سوال کرتی ہیں۔ ان کی ۱۵ سالہ بیٹی دیپالی بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے: ’’فلیٹ تو چاروں طرف سے بند جگہ ہوتی ہے۔ ہم اپنے دوستوں اور پڑوسیوں سے آزادانہ طور پر مل جل نہیں سکیں گے۔‘‘

دیپالی چائے پینا چاہتی ہے؛ ہم اس کی ماں کو کھانا بنانے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور ایک بغل کے کمرے میں جاکر بیٹھتے ہیں، جہاں سیاہ آنکھوں اور ہلکی سی چوٹی والی ایک چھوٹی سی لڑکی زمین پر بیٹھی ہے اور وہیں سے ہمیں دیکھ کر زور سے ہنس رہی ہے۔ وہ پڑوسی کی بیٹی ہے۔ بچے اندر باہر آ جا رہے ہیں، ہمیں عجیب نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کٹھ پتلی کالونی میں مکان پوری طرح پیک ہیں، اور پتلی سی گلیوں میں بے ترتیبی سے بنے ہوئے ہیں۔ ہر طرف نالوں کا پانی بہہ رہا ہے، جہاں کوڑے اور فضلات کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، اور پانی کی کمی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ سرکاری حکام نے اس علاقے کی بری طرح اندیکھی کی ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ گھروں کے اندر پوری صفائی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Shalini Singh/Urvashi Sarkar Hanging by a thread/img_1003.jpg


کٹھ پتلی کالونی کی غلاظت سرکار کے صفائی محکمہ کی اندیکھی کی عکاسی کر رہی ہے


اپنی کمیونٹی کے بحران سے پوری طرح واقف، دیپالی بتاتی ہے کہ اس کے پڑوس میں آئندہ بننے والے اپارٹمنٹ کامپلیکس اور مال کیسے اس کالونی کو الگ تھلگ کر دیں گے۔ پاس ہی بڑے لوگوں کے لیے اپارٹمنٹ بنائے جائیں گے اور انہیں بیچا جائے گا۔ ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمیں کنارے لگانا اور چھپانا چاہتے ہیں۔ غلاظت اور غریبی دکھائی نہیں دینی چاہیے،‘‘ وہ تلخی سے کہتی ہے۔

اسے اپنے دادا پورن بھٹ کی حصولیابی اور شہرت پر ناز ہے۔ دیپالی کا خود اپنا ایک خواب ہے، وہ فیشن ڈیزائنر بننا چاہتی ہے۔ لیکن وہ ابھی غیر یقینی کا شکا ہے۔ ’’شادی کرنے کے لیے بولیں گے،‘‘ وہ اداس لہجہ میں بولتی ہے۔ اس کی تمام سہیلیوں کی شادی ہو چکی ہے۔ وہ مزید اعتماد سے کہتی ہے: ’’اس گھر میں ہمیں کافی آزادی ملی ہوئی ہے۔ مجھے پڑھنے اور کام کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔‘‘

اس کے بعد، وہ خوشی سے اپنے ماں کے گاؤں کی شادی کے بارے میں بتاتی ہے، جہاں وہ اکثر جایا کرتی ہے۔ ’’گاؤں کی شادی دیکھنے لائق ہوتی ہے۔ آپ کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ لوگ کیسا کپڑا پہنتے اور ڈانس کرتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہے۔ پلک جھپکتے ہی وہ کہتی ہے، ’’آپ کو بھی وہاں آنا چاہیے!‘‘ شک اور بہانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دیپالی پورے اعتماد کے ساتھ اپنے وعدہ پر قائم ہے۔

کٹھ پتلی کالونی اپنے یہاں کے عظیم فن کاروں کے لیے مشہور ہے، جو درزی گیری، بڑھئی گیری، برتن بنانے، اور دیگر شعبوں سے وابستہ متعدد برادریوں کے مقابلے کافی مضبوط ہیں اور ان کا کام ہر جگہ نظر آتا ہے۔ اس جھگی میں جادو، ڈانس اور آرٹ، ہر فن موجود ہے، پرفارمنگ آرٹس کو یہاں زیادہ اہمیت اس لیے دی جاتی ہے، کیوں کہ اسی سے ان کی روزی روٹی چلتی ہے۔

جادو، محمد ماجد کا فن اور ذریعہ معاش ہے۔ ماجد ایک کمرہ والے گھر میں پریکٹس کرتے ہیں، جو خطرناک طریقے سے ایک اونچی جگہ پر بنا ہوا ہے، جہاں ایک پتلی اور کمزور سیڑھی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو اپنے جادو سے مسحور کرنے کے لیے ان کے پاس بہت سے سامان ہیں، جیسے کتابیں، رسیاں، بالٹیاں، مگ وغیرہ۔ ماجد، راجستھان کے اَلور ضلع کے رہنے والے ہیں اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انھوں نے کٹھ پتلی کالونی میں ہی گزارا ہے۔ وہ اپنے فن کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اَلور کے جادوگر شروع میں بنجارہ ہوا کرتے تھے، جو کام کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے رہتے تھے۔ ہمارا کاروبار گاؤوں میں خوب چلا، لیکن وہاں معاش کا بہت محدود امکان تھا۔ یہاں، شہر میں، زیادہ پیسہ دستیاب ہے۔ ہم ہوٹلوں میں، برتھ ڈے پارٹیوں میں، اور دیگر موقعوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘

پڑوس کا رہنے والا ۱۹ سالہ راجیش بھٹ، جو ’آرٹسٹ مینجمنٹ‘ بزنس میں لگا ہوا ہے، بتاتا ہے کہ ماجد ۳۰ منٹ کے اپنے فن کے مظاہرہ سے ۳ ہزار روپے کما لیتا ہے۔

راجیش اگر ۱۹ سال کی عمر میں ایک ابھرتا ہوا آرٹسٹ منیجر ہے، تو اس سے عمر میں دو سال چھوٹی مُنّی بھی کم نہیں ہے، جو کسی بھی میوزک پر سُر لگا سکتی ہے۔ وہ بغیر کسی کوشش کے چھوٹے بچوں کے ایک گروپ میں شامل ہو جاتی ہے، جو راجستھانی مقامی گانے کی دھن پر گا رہے ہیں۔ گانے میں ان کا ساتھ ایک ہارمونیم اور طبلہ اور ایک الیکٹرک گیٹار دے رہے ہیں۔ گانے کافی جانے پہچانے ہیں: ’پدھارو مھارے دیس‘ اور ’آرا را را را‘۔ راجیش کو نہیں معلوم کہ یہ دھُن کتنی پرانی ہے: ’’یہ گانے تب بھی موجود تھے، جب ہمارے دادا نانا نوجوان ہوا کرتے تھے، شاید اس سے بھی پرانے۔ ان کی ابتدا شاید گاؤوں میں ہوئی تھی۔‘‘

حالانکہ زیادہ تر کنبے کتھ پٹلی کالونی میں تین دہائی پہلے آئے تھے، اور موجودہ نسل کے زیادہ تر بچے اسی شہر میں پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان کی روزانہ کی پریکٹس میں گاؤں اور شہر دونوں کا امتزاج ملتا ہے، چاہے وہ کھانا بنانے کا طریقہ ہو، سماجی روابط ہوں، شادی بیاہ کی رسومات، فن کی شکلیں یا پھر ان کے لباس اور جوڑے، سب بنیادی طور سے گاؤں کے ہی ہیں، لیکن شہر میں آکر ان میں بہتری آئی ہے اور انھوں نے یہاں کی شکل اختیار کر لی ہے۔

کٹھ پتلی کالونی میں رہنے والی برادریاں فی الحال جس تجربے سے گزر رہی ہیں، وہ دہلی حکومت کی اس کوشش کا نتیجہ ہے، جس کے تحت وہ شہرکاری کے کام میں لگی ہوئی ہے، اور اس کالونی کے باشندے اس نئی تبدیلی کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

 (مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Urvashi Sarkar
[email protected]

اُروَشی سرکار ایک آزاد صحافی اور ۲۰۱۶ کی پاری فیلو ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @storyandworse

Other Stories by Urvashi Sarkar