NW-Dawandi-featuredImage-DSCN4762_Fotor.jp

 


یہ دوسرے دور میں واپس جانے جیسا تھا۔ ہمیں امید نہیں تھی کہ ہم ایک ایسے پرانے مزاج کے قصبہ میں پہنچ جائیں گے، جہاں منادی لگانے والا ۲۱ویں صدی میں ڈھول پیٹ کر عوام کو ’سرکاری‘ اعلانات کے بارے میں بتا رہا ہوگا۔ لیکن یہاں ایسا ہی تھا، ایک منادی لگانے والا یہی کر رہا تھا۔ ہم جس وقت پُنے ۔ شولاپور ہائی وے پر اپنی گاڑی سے جا رہے تھے، ہم نے اس کی آواز سنی اور رک گئے، پھر ہم نے دیکھا کہ وہ ڈھول کی تھاپ کے درمیان اپنا پیغام بلند آواز میں سنا رہا ہے۔

’’سنو، سنو ۔۔۔

کل صبح ساڑھے نو بجے

چندن نگر گرام پنچایت آفس میں

گرام سبھا کی میٹنگ

صبح میں ہے، ٹھیک ساڑھے نو بجے!‘‘

ماضی میں اس طرح منادی لگانے والے ہندوستان کے ہر گاؤں اور قصبے میں ہوا کرتے تھے۔ منادی لگانے والا لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچنے کے لیے ڈھول پیٹتا ہے، اور جب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، تو وہ اس دن کا پیغام سناتا ہے۔

مذکورہ معاملے میں، تاناجی کیلاش کدم نے اعلان کیا کہ گرام پنچایت کی میٹنگ اگلی صبح کو ساڑھے نو بجے ہونی ہے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ یہ میٹنگ شولاپور ضلع کے موہول بلاک کے لمبوٹی گاؤں کی ہے۔

یہ پیغام بعض دفعہ مٹی کے تیل آنے کی اطلاع یا پھر مقامی راشن کی دکان پر دیگر سامان کے آنے کے بارے میں ہو سکتا ہے، کسی جھگڑے کو حل کرنے کی میٹنگ، یا پھر کسی ملکیت کی نیلامی سے متعلق ہوسکتا ہے۔

حالانکہ یہ فن اور پیشہ دھیرے دھیرے غائب ہو رہا ہے، لیکن ملک کے بعض حصوں میں یہ اب بھی موجود ہے۔ تانا جی ایک زرعی مزدور ہیں جنہیں گاؤں کی پنچایت کے ذریعہ داونڈی، یعنی منادی کے طور پر بھی بلایا جاتا ہے۔ (مراٹھی میں، اس لفظ کا مطلب منادی اور اعلان دونوں ہے)۔ اس کام کے لیے اسے مہینہ میں صرف ۳۰۰ روپے ملتے ہیں۔ ’’ہر اعلان کے لیے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’میں گاؤں میں مختلف جگہوں پر دو دنوں میں ۱۵ سے ۲۰ بار جاتا ہوں، تاکہ پیغام پہنچا سکوں۔‘‘

روایتی طور پر اور خاص کر ماضی میں یہ رول دلتوں کو زبردستی دیا جاتا تھا۔ ذات پات کی مکروہ دنیا میں، صرف ایک ’اچھوت‘ ہی ’مقدس‘ گائے کے چمڑے سے بنی ڈھول کو پیٹ سکتا تھا۔ ہندوستان میں آج بھی اس قسم کے ڈھول بجانے والے زیادہ تر لوگ دلت برادری سے ہیں۔ وہ جنازے اور دیگر پروگراموں، یہاں تک کہ شادیوں میں بھی ڈھول بجاتے ہیں۔

تانا جی نے گرام سبھا کے بارے میں یہ اعلان ہائی وے کے کنارے بنے ایک چھوٹے سے ریستوراں کے باہر کیا، جہاں کچھ گاؤں والے اور مسافر کھانے پینے کے لیے رکے تھے۔ وہ اپنی داونڈی کے لیے جیسے ہی دوسری جگہ روانہ ہوا، ہم نے بھی اپنی کار تیزی سے عثمان آباد کی طرف دوڑائی، جہاں ہماری کسی کے ساتھ میٹنگ تھی اور ہم پہلے ہی اس کے لیے لیٹ ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

نمیتا وائیکر ایک قلم کار، مترجم اور پاری کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ وہ ایک کیمسٹری ڈاٹابیسز فرم کی پارٹنر ہیں، اور ایک بایو کیمسٹ اور سوفٹ ویئر پروجیکٹ منیجر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔ You can contact the author here: