’’دزومو اب ہمارے درمیان کافی مقبول ہیں،‘‘ مغربی کامینگ ضلع کے لاگم گاؤں کے ۳۵ سالہ خانہ بدوش چرواہے، پیمپا چھیرِنگ کہتے ہیں۔

دزومو؟ یہ کیا ہے؟ اور اروناچل پردیش کی ۹۰۰۰ فٹ اور اس سے زیادہ اونچی پہاڑیوں میں کیا چیز انھیں مقبول بناتی ہے؟

دزومو یاک اور کوٹ کے ہابرڈ ہیں، اونچے علاقوں کے مویشیوں کی ایک نسل۔ نر ہائبرڈ جسے دزو کہا جاتا ہے، بانجھ ہوتا ہے، اس لیے چرواہے مادہ، دزومو کو پسند کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ کوئی نئی نسل نہیں ہے، لیکن ایک نیم خانہ بدوش چرواہا برادری، بروکپا، حال کے دنوں میں ان جانوروں کو اپنے جھنڈ میں زیادہ شامل کرنے لگے ہیں – تاکہ خود کو مشرقی ہمالیہ میں بدلتی آب و ہوا کے موافق ڈھالا جا سکے۔

پیمپا، جن کے ۴۵ جانوروں کے ریوڑ میں یاک اور دزومو دونوں شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ یاک مویشی ہائبرڈ ’’زیادہ گرمی کو برداشت کرنے والے ہیں اور کم اونچائی والے علاقوں اور بڑھتے درجہ حرارت کے تئیں خود کو بہتر طریقے سے ڈھال سکتے ہیں۔‘‘

ان بلند و بالا چراگاہوں میں، گرمی یا ’وارمنگ‘ بہت حقیقی اور بلا واسطہ دونوں ہیں۔ یہاں سال میں ۳۲ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت والے دن نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن یاک، جو منفی ۳۵ ڈگری کو آسانی سے برداشت کر سکتے ہیں، اگر درجہ حرارت ۱۲ یا ۱۳ ڈگری سے زیادہ بڑھ جائے، تو جدوجہد کرنے لگتے ہیں۔ دراصل، ان تبدیلیوں کے رونما ہونے پر پورا ایکولوجی سسٹم جدوجہد کرنے لگتا ہے – جیسا کہ ان پہاڑوں میں حالیہ برسوں میں ہوا ہے۔

بڑی مونپا درج فہرست ذات (۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق پورے اروناچل میں ان کی تعداد تقریباً ۶۰ ہزار ہے) کے خانہ بدوش چرواہے، بروکپا صدیوں سے یاک کی پرورش کرتے آ رہے ہیں اور انھیں پہاڑی چراگاہوں میں بھیجتے ہیں۔ سخت سردیوں کے دوران، وہ نچلے علاقوں میں رہتے ہیں، اور گرمیوں میں وہ اونچے پہاڑی علاقوں میں چلے جاتے ہیں – ۹ ہزار سے ۱۵ ہزار فٹ کی اونچائی پر چلتے ہیں۔

لیکن لداخ کے چانگ تھانگ علاقے کے چانگپا کی طرح، بروکپا بھی اب زیادہ سنگین آب و ہوا کی چپیٹ میں آ چکے ہیں۔ صدیوں سے، ان کا ذریعہ معاش، ان کا سماج، یاک، مویشی، بکری اور بھیڑ کو پالنے اور چرانے پر مبنی ہے۔ ان میں سے، وہ یاک پر سب سے زیادہ منحصر ہیں – اقتصادی، سماجی اور روحانی سطحوں پر۔ یہ رشتہ اب سنگین طور پر کمزور ہوا ہے۔

’’یاک گرمی کے سبب فروری کی شروعات میں ہی تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں،‘‘ چندر گاؤں کی ایک خانہ بدوش خاتون، لیکی سُزوک نے مجھے بتایا۔ مئی میں مغربی کامینگ کے دیرانگ بلاک کے اپنے سفر کے دوران میں ان کی فیملی کے ساتھ ٹھہرا تھا۔ ’’گرمی گزشتہ کئی برسوں سے لمبے دنوں تک رہتی ہیں، درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ یاک کمزور ہو گئے ہیں،‘‘ ۴۰ سالہ لیکی کہتی ہیں۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

دزومو یاک اور کوٹ کے ہائبرڈ ہیں، اونچے علاقوں کے مویشیوں کی ایک نسل۔ ایک نیم  خانہ بدوش چرواہا برادری، بروکپا، حال کے دنوں میں ان جانوروں کو اپنے ریوڑ میں زیادہ شامل کرنے لگے ہیں، تاکہ خود کو مشرقی ہمالیہ میں بدلتی آب و ہوا کے موافق ڈھال سکیں

بروکپا کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت کے ساتھ، اروناچل پردیش کے پہاڑوں میں – جو چین کے تبت خود مختار علاقہ، بھوٹان اور میانمار کی سرحد پر واقع ہیں – گزشتہ دو دہائیوں میں موسم کا پورا حال غیر یقینی ہوگیا ہے۔

’’ہر چیز میں دیر ہونے لگی ہے،‘‘ پیما وانگے کہتے ہیں۔ ’’گرمیوں کی آمد میں دیری ہو رہی ہے۔ برفباری کی آمد میں دیری ہو رہی ہے۔ موسمی مہاجرت میں دیری ہو رہی ہے۔ بروکپا برف سے ڈھکے اپنے چرائی کے اونچے مقامات پر جاتے ہیں، انھیں ڈھونڈنے کے لیے۔ اس کا مطلب ہے کہ برف کے پگھلنے میں بھی دیری ہو رہی ہے۔‘‘ ۳۰ سالہ پیما بروکپا نہیں ہیں، بلکہ تھیمبانگ گاؤں کے ایک کنزرویٹر ہیں، جن کا تعلق مونپا درج فہرست ذات سے ہے اور وہ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے لیے کام کرتے ہیں۔

اس بار میں، ان سے فون پر بات کر رہا ہوں، کیوں کہ عام طور سے میں جس علاقے میں جاتا ہوں، بھاری بارش کے بعد وہاں تک پہنچنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن میں اس سال مئی میں وہاں گیا تھا، چندر گاؤں کے ایک بروکپا یاک چرواہے، ناگولی تسوپا کے ساتھ ایک چٹان پر کھڑے ہو کر، مغربی کمینگ ضلع کے ہرے بھرے جنگلوں کو دیکھتے ہوئے۔ ان کی برادری کے زیادہ تر لوگ یہاں اور توانگ ضلع میں آباد ہیں۔

’’یہاں سے ماگو بہت دور ہے، جو کہ گرمیوں کے ہمارے چراگاہ ہیں،‘‘ ۴۰ سالہ ناگولی نے کہا۔ ’’ہمیں وہاں پہنچنے کے لیے ۳-۴ راتوں تک جنگلوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ پہلے [۱۰-۱۵ سال پہلے]، ہم مئی یا جون میں [اوپر کی طرف مہاجرت کے لیے] یہاں سے نکل جایا کرتے تھے۔ لیکن اب ہمیں پہلے ہی، فروری یا مارچ میں نکلنا پڑتا ہے اور ۲-۳ مہینے کی دیری سے لوٹنا پڑتا ہے۔‘‘

ناگولی، جن کے ساتھ میں اس علاقے میں اُگنے والے سب سے اچھے معیار کے بانس جمع کرنے کے لیے، بھاری دھند والے جنگلوں سے ہوکر ان کے لمبے سفر میں سے ایک میں گیا تھا، انھوں نے اور بھی کئی مسائل کی طرف اشارہ کیا: ’’گرمیوں کے دنوں میں اضافہ کے سبب، ہم جن بعض مقامی جڑی بوٹیوں کا استعمال یاک کے علاج میں کرتے ہیں، وہ ایسا لگتا ہے کہ اب اُگ نہیں رہی ہیں۔ ہم ان کی بیماریوں کا علاج اب کیسے کریں گے؟‘‘ انھوں نے کہا۔

اروناچل عام طور سے زیادہ بارش والی ریاست ہے، جہاں سالانہ اوسطاً ۳ ہزار ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی میں، کئی برسوں تک بارش کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے، ہندوستان کے محکمہ موسمیات کے اعدادوشمار کے مطابق، ان میں سے کم از کم چار برسوں میں یہ کمی ۲۵ سے ۳۰ فیصد کے درمیان رہی۔ حالانکہ اس سال جولائی میں، ریاست میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے سبب کچھ سڑکیں یا تو بہہ گئیں یا پانی میں ڈوب گئیں۔

ان اتار چڑھاؤ کے درمیان، پہاڑوں میں درجہ حرارت لگاتار بڑھ رہا ہے۔

PHOTO • Ritayan Mukherjee

مغربی کمینگ ضلع کے کافی اونچائی والے گھاس کے میدانوں میں اپنے جانوروں کو چرانے کے دوران، چائے کی چھٹی لیتے ہوئے ناگولی تسوپا کہتے ہیں، ’گرمیوں کے دنوں میں اضافہ ہونے کے سبب، ہم جن بعض مقامی جڑی بوٹیوں کا استعمال یاک کا علاج کرنے میں کرتے ہیں، وہ ایسا لگتا ہے کہ اب اُگ نہیں رہی ہیں۔ ہم ان کی بیماریوں کا علاج اب کیسے کریں گے؟‘

سال ۲۰۱۴ میں، وِسکانسِن-میڈیسن یونیورسٹی کے ایک مطالعہ نے مشرقی تبتی پٹھار (بڑا جغرافیائی علاقہ جس میں ارونچال واقع ہے) میں درجہ حرارت میں تبدیلی کو درج کیا۔ یومیہ کم درجہ حرارت ’’گزشتہ ۲۴ برسوں میں بہت بڑھ گیا‘‘ (۱۹۸۴ سے ۲۰۰۸ کے درمیان)۔ ۱۰۰ برسوں میں یومیہ اعلیٰ درجہ حرارت ۵ ڈگری سیلسیس کی شرح سے بڑھا تھا۔

’’ہم غیر یقینی موسم کے ایشوز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں،‘‘ ۳۰ سالہ ایک اور چرواہے، چھیرنگ ڈونڈُپ کہتے ہیں، جن سے ہماری راستے میں ملاقات ہوئی تھی۔ ’’ہم نے اپنی مہاجرت کا وقت دو یا تین مہینے آگے بڑھا دیا ہے۔ ہم چرائی کا استعمال زیادہ سائنسی طریقے سے کر رہے ہیں [بے ترتیب چرائی کے بجائے زیادہ پیٹرن والے طریقے سے]۔‘‘

ان کی طرح، بروکپا کے زیادہ تر لوگ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں جانتے ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اس کے بارے میں وہ زیادہ کچھ نہیں بولتے، لیکن اس سے ہونے والے نقصان کو سمجھتے ہیں۔ اور یہاں کچھ پرجوش ہیں: وہ مختلف موافق حکمت عملیوں کا پتہ لگا رہے ہیں، کئی محقق کہتے ہیں۔ برادری کا سروے کرنے والے ایک گروپ نے ۲۰۱۴ میں انڈیا جرنل آف ٹریڈیشنل نالیج میں اس طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کی تحقیق نے نتیجہ نکالا کہ مغربی کمینگ کے ۷۸ء۳ فیصد اور توانگ کے ۸۵ فیصد بروکپا – اروناچل میں اس خانہ بدوش برادری کے ۸۱ء۶ فیصد – ’’بدلتے ماحولیاتی منظر نامہ ... کے بارے میں بیدار تھے۔‘‘ اور ان میں سے ۷۵ فیصد نے ’’کہا کہ انھوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کم از کم ایک موافق حکمت عملی اپنائی ہے۔‘‘

محقق دیگر حکمت عملیوں کا بھی ذکر کرتے ہیں – ’ریوڑ کی تکثیریت‘، کافی اونچے علاقوں میں مہاجرت، مہاجرتی کیلنڈر میں تبدیلی۔ ان کا پیپر ’’ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’۱۰ نظاموں‘‘ کی بات کرتا ہے۔ دیگر حکمت عملیوں میں شامل ہیں چراگاہوں کے استعمال میں تبدیلی، تباہ کیے جا چکے اونچائی والے چراگاہوں کا احیا، مویشی پروری کے ترمیم شدہ طریقے، اور مویشی یاک ہائبرڈائزیشن۔ اس کے علاوہ، جہاں گھاس کم ہے وہاں دیگر چاروں کا انتظام کرنا، مویشیوں کی صحت سے متعلق نئے طریقوں کو اپنانا، اور سڑکوں کی تعمیر میں مزدوری، چھوٹے کاروبار، اور پھلوں کو جمع کرنے جیسے آمدنی کے اضافی ذرائع کو تلاش کرنا۔

یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ کیا یہ یا سبھی کام کریں گے اور بڑی عمل کاریوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔ لیکن وہ کچھ کر رہے ہیں – اور کرنا بھی چاہیے۔ چرواہوں نے مجھے بتایا کہ یاک کی اقتصادیات میں گراوٹ سے اوسط فیملی اپنی سالانہ آمدنی کا ۲۰-۳۰ فیصد کھو چکے ہیں۔ دودھ کی پیداوار میں گراوٹ کا مطلب گھر میں بنائے جانے والے گھی اور چھُرپی (یاک کے پھٹے دودھ سے بنایا گیا پنیر) کی مقدار میں بھی کمی ہے۔ دزومو طاقتور تو ہو سکتا ہے، لیکن دودھ اور پنیر کے معیار میں، یا مذہبی اہمیت کے معاملے میں بھی یاک سے میل نہیں کھاتا۔

’’جس طرح سے یاک کے جھنڈ سکڑتے جا رہے ہیں یا ان میں کمی آ رہی ہے، اسی طرح سے بروکپا کی آمدنی بھی گھٹ رہی ہے،‘‘ پیما وانگے نے اس مئی کے سفر کے دوران مجھ سے کہا۔ ’’اب [معاشی طور پر ترمیم شدہ] پیک کیا ہوا پنیر مقامی بازار میں آسانی سے دستیاب ہے۔ اس لیے چھُرپی کی فروخت کم ہو رہی ہے۔ بروکپا دونوں طرح سے نقصان میں ہیں۔

اُس بار میرے گھر لوٹنے سے کچھ وقت پہلے، میری ملاقات ۱۱ سالہ نوربو تھوپتن سے ہوئی۔ وہ بروکپا کے ذریعے اپنی مہاجرت کے دوران استعمال کیے جانے والے راستے سے ملحق تھُمری نام کی علاحدہ بستی میں اپنے ریوڑ کے ساتھ تھے۔ ’’میرے دادا جی کا وقت سب سے اچھا تھا،‘‘ انھوں نے خوداعتمادی سے کہا۔ اور، شاید اپنے بزرگوں کی بات کی ترجمانی کرتے ہوئے آگے کہا: ’’زیادہ چراگاہ اور کم لوگ۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس نہ تو سرحد کی کوئی قید تھی اور نہ ہی ماحولیات سے متعلق مشکلیں۔ لیکن خوشی کے دن اب صرف پرانی یادیں ہیں۔‘‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

اروناچل پردیش کے مغربی کمینگ اور توانگ ضلعوں کے مونپا درج فہرست ذات کی ایک برادری، بروکپا ۹ ہزار سے ۱۵ ہزار فٹ کی اونچائی پر پہاڑوں پر رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی مہاجرت کا پیٹرن تیزی سے غیر یقینی موسم کے پیٹرن کے ساتھ بدل رہا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

ایک نوجوان بریگیڈ راشن پیک کر رہا ہے، جب کہ بزرگ چرواہے ہجرت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ’سب کچھ دیری سے ہو رہا ہے‘، پیما وانگے کہتے ہیں۔ ’گرمیوں کی آمد میں دیری ہو رہی ہے۔ برفباری کی آمد میں دیری ہو رہی ہے۔ موسمی مہاجرت میں دیری ہو رہی ہے‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

چندر گاؤں کے باہر، بروکپا چرواہوں کا ایک گروپ ہجرت کرنے والے راستے کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ زیادہ اونچائی پر برف چونکہ دیر سے صاف ہوتی ہے، اس لیے اب انھیں اکثر اپنا راستہ بدلنا پڑتا ہے یا ان راستوں پر اپنے ریوڑ کے ساتھ انتظار کرنا پڑتا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

ماگو کے چرائی کے میدان میں جانے والے بروکپا چرواہوں کا ایک گروپ اس راستے پر ہے، جو تین اونچے درّوں سے ہوکر گزرتا ہے: ’اس سے پہلے، ہم مئی یا جون میں نکل جاتے تھے۔ لیکن اب ہمیں پہلے ہی، فروری یا مارچ میں نکلتا پڑتا ہے، اور ۲-۳ مہینے دیر سے لوٹنا پڑتا ہے‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

تاشی چھیرنگ لاگم گاؤں کے پاس کے جنگلوں میں دزومو کا دودھ نکال رہے ہیں۔ دزومو زیادہ گرمی کو برداشت کر سکتے ہیں اور کم اونچائی والے علاقوں میں خود کو بہتر ڈھنگ سے ڈھال سکتے ہیں، لیکن کوئی ضروری نہیں کہ دودھ اور پنیر کے معیار میں یا مذہبی اہمیت کے معاملے میں بھی یاک سے میل کھائیں؛ وہ چھوٹے بھی ہوتے ہیں، اور انھیں مرض کا زیادہ خطرہ رہتا ہے، اور یہ بروکپا کی اقتصادیات کو متاثر کر رہا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

جنگل کے پھل جمع کرکے لوٹے: تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بروکپا چرواہے آمدنی کے دیگر ذرائع جیسے سڑکوں کی تعمیر میں مزدوری، چھوٹے کاروبار اور پھل اکٹھا کرنے کی طرف رخ کر رہے ہیں – جس میں کئی گھنٹوں تک کیچڑ بھری سڑکوں پر چلنا پڑتا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

جنگل سے بانس اکٹھا کرنے کے بعد لوٹتے ہوئے: بانسوں کا بروکپا کی روزمرہ زندگی میں مرکزی مقام ہے، اور اس کا استعمال عارضی رسوئی اور گھریلو سامان بنانے میں کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طرزِ زندگی دھیرے دھیرے بدل رہی ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

ایک بروکپا چرواہا  اپنے دزو کے ساتھ جس کی پہاڑوں سے اترتے وقت موت ہو گئی تھی۔ چونکہ ان اونچائی والے گاؤوں میں کھانے کی کمی ہے، اس لیے کچھ بھی برباد نہیں کیا جاتا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بروکپا کی رسوئی میں آگ ہمیشہ جلتی رہتی ہے۔ یہ سخت سردیوں کے دوران انھیں اور ان کے مویشیوں کو گرم رکھنے میں ان کی مدد کرتی ہے۔ ۲۰۱۴ کے ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ  ۱۹۸۴ اور ۲۰۰۸ کے درمیان اس علاقے میں یومیہ کم درجہ حرارت ’بہت زیادہ بڑھ گیا‘، اور ۱۰۰ برسوں میں یومیہ اعلیٰ درجہ حرارت ۵ ڈگری سیلسیس کی شرح سے بڑھا

PHOTO • Ritayan Mukherjee

روایتی پنیر، چھُرپی کے ساتھ اپنے گھر پر ناگولی تسوپا۔ بروکپا چرواہوں کے لیے آمدنی کا یہ اہم ذریعہ یاک کی گھٹتی آبادی اور آس پاس کے بازاروں میں پیک کیے گئے پنیر کی دستیابی کے ساتھ گھٹ رہا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

چندر میں گھر پر: لیکی سُزوک اور ناگولی تسوپا۔ جب بروکپا میاں بیوی گھر پر ہوتے ہیں تو وہ چرائی کے وسائل کو موافق بنانے کے لیے اپنے ریوڑ کو جمع کرتے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

لیکی سُزوک اور ناگولی تسوپا کا سب سے چھوٹا بیٹا، نوربو، تیز ہوا میں ایک چھتری کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Ritayan Mukherjee

رِتائن مکھرجی کولکاتا میں مقیم ایک پرجوش فوٹوگرافر اور ۲۰۱۶ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک لمبے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جو تبتی پٹھار کی خانہ بدوش کمیونٹیز کی زندگی کا احاطہ کرنے پر مبنی ہے۔

Other stories by Ritayan Mukherjee