پدما بائی گاجرے کچھ ہی دنوں میں اپنی زمین کھو سکتی ہیں۔ ’’اگر یہ زمین نہیں ہوتی، تو بھگوان جانے ہم کس طرح سے زندہ رہ پاتے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

آٹھ سال پہلے اپنے ۳۹ سالہ شوہر، پنڈھری ناتھ کو ایک موٹر سائیکل حادثہ میں کھونے کے بعد، پدما بائی اپنی فیملی کو اس خسارے سے باہر نکالنے اور مستحکم کرنے کے لیے کڑی محنت کر رہی ہیں۔ پنڈھری ناتھ اپنے پیچھے دو بیٹے، دو بیٹیاں، اپنی ماں اور ۶ء۵ ایکڑ کھیت چھوڑ گئے تھے۔

’’میں ڈری ہوئی اور اکیلی تھی،‘‘ اورنگ آباد کے ویجا پور تعلقہ کے ہاڈس پمپل گاؤں میں اپنی فیملی کے دو کمرے والے گھر میں بیٹھی وہ کہتی ہیں۔ ’’میرے بچے چھوٹے تھے۔ مجھے وہ سبھی ذمہ داریاں نبھانی پڑیں، جن کی مجھے عادت نہیں تھی۔ باورچی خانہ کے ساتھ ساتھ میں نے کھیت کی بھی نگرانی کرنی شروع کر دی۔ آج بھی، میں کھیت پر اتنا ہی کام کرتی ہوں۔‘‘

Padmabai Gajare with her sons and mother-in-law
PHOTO • Parth M.N.

پدما بائی گاجرے (بائیں سے تیسری، اپنے بیٹوں اور ساس کے ساتھ) اپنے بیٹوں کے مستقبل کو لیکر فکرمند ہیں، اگر ان کے پاس کوئی زمین نہیں بچی تو

لیکن اب ۴۰ سال کی گاجرے کو اپنی زمین چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ ریاستی حکومت سمردھی مہا مارگ کے لیے اسے اپنے قبضہ میں لینا چاہتی ہے۔ مہاراشٹر سمردھی مہا مارگ کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ سڑک مہاراشٹر کے ۱۰ ضلعوں کے ۲۶ تعلقہ کے ۳۹۲ گاؤوں کو جوڑے گی۔ ان میں سے ۶۳ گاؤوں مراٹھواڑہ کے زرعی علاقے میں ہیں، خاص طور سے اورنگ آباد اور جالنہ ضلعوں میں۔

مہا مارگ کی ویب سائٹ کے مطابق، ’سمردھی‘ (خوشحالی) شاہراہ کی تعمیر کرنے کے لیے ریاست کو ۹۹۰۰ ہیکٹیئر (تقریباً ۲۴۲۵۰ ایکڑ) کی ضرورت ہوگی۔ اس میں پدما بائی کے کھیت کی چھ ایکڑ زمین بھی شامل ہے، جس میں وہ کپاس، باجرا اور مونگ کی کھیتی کرتی ہیں۔ اگر انہیں اسے چھوڑنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، تو فیملی کے پاس صرف آدھا ایکڑ زمین ہی بچے گی۔ جب بھی کوئی اس پروجیکٹ کا ذکر کرتا ہے، پدما بائی کانپ جاتی ہیں۔ ’’اگر میری زمین مجھ سے جبراً چھینی جاتی ہے، تو میں خود کشی کر لوں گی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’زمین میرے لیے ایک بچے کی طرح ہے۔‘‘

اس سال مارچ میں، مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (ایم ایس آر ڈی سی) نے پدما بائی کی زمین کا تخمینہ نکالا – ۱۳ لاکھ روپے فی ایکڑ یا چھ ایکڑ کے ۷۸ لاکھ روپے۔ یہ دلکش لگ سکتا ہے، لیکن ان کے لیے پیسہ معنی نہیں رکھتا۔ ’’میں نے اپنی بیٹیوں کی شادی کی [جو اَب ۲۵ اور ۲۲ سال کی ہیں]، بیٹوں کو پڑھایا، اپنی ساس کی دیکھ بھال کی، اس گھر کو پھر سے بنایا ہے – یہ سبھی کھیت پر کام کرکے ہوئے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں، غصے میں۔ ’’اس نے فیملی کو ایک ساتھ رکھا ہے۔ اگر زمین چلی گئی، تو آگے میں کس پر بھروسہ کروں گی؟ ہماری زمین ہی ہماری پہچان ہے۔‘‘

پدما بائی کا چھوٹا بیٹا ۱۸ سال کا ہے، سائنس کی پڑھائی کر رہا ہے؛ بڑا والا ۲۰ سال کا ہے۔ دونوں ہی فیملی کے کھیت پر کام کرتے ہیں۔ ’’ہم سبھی جانتے ہیں کہ آج کی دنیا میں نوکری پانا کتنا مشکل ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اگر نوکری نہیں ملی، تو انہیں شہر میں یومیہ مزدور یا چوکیدار کے طور پر کام کرنا ہوگا۔ اگر آپ کے پاس زمین ہے، تو ناکامی کی حالت میں کچھ تو ہے جس پر آپ منحصر رہ سکتے ہیں۔‘‘

تقریباً ۱۲۵۰ لوگوں کی آبادی والے گاؤں، ہاڈس پمپل گاؤں میں گاجرے کا کھیت موجودہ ممبئی-ناگپور شاہراہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔ لیکن مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ، دیوندر فڑنویس، نئی شاہراہ کو ایک پروجیکٹ کے طور پر فروغ دے رہے ہیں جو ریاست کے نصیب کو بدل دے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آٹھ لین والا اور ۱۲۰ میٹر چوڑا اور ۷۰۰ کلومیٹر لمبا ایکسپریس وے، کھیتوں سے پیداوار کو سیدھے بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور زرعی پروسیسنگ مراکز تک تیزی سے پہنچانے کے سبب اقتصادیات کو فروغ دے گا۔ اس پروجیکٹ کی لاگت ۴۶ ہزار کروڑ روپے ہوگی۔

ویڈیو دیکھیں: ’اگر میری زمین مجھ سے جبراً چھینی گئی، تو میں خودکشی کر لوں گی‘، گاجرے کہتی ہیں

مراٹھواڑہ کے کسان اچھی قیمت پر اپنی زمین بیچنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہو رہے ہیں، جب کہ اس علاقے کے زیادہ تر حصوں میں کھیتی کرنا مشکل ہو گیا ہے؟

مطلوبہ ۹۹۰۰ ہیکٹیئر میں سے ریاستی حکومت کے پاس ۱۰۰۰ ہیکٹیئر پہلے سے ہی ہے، جس میں محکمہ جنگلات کی زمین بھی شامل ہے، ایم ایس آر ڈی سی کے جوائنٹ مینیجنگ ڈائرکٹر، کے وی کروندکر، نے اس نامہ نگار کو بتایا۔ باقی کو تحویل میں لینا ہوگا۔ ’’ہم نے صرف ۲۷۰۰ ہیکٹیئر کے لیے رضامندی حاصل کی ہے، اور ۹۸۳ ہیکٹیئر کو تحویل میں لیا ہے،‘‘ کروندکر کہتے ہیں۔ ’’ہم مزید زمین حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ مخالفت کرنے والے گاؤوں میں، ہم کسانوں سے بات کر رہے ہیں اور انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ریاست کے پاس جب تک ۸۰ فیصد زمین نہیں آ جاتی، تب تک پروجیکٹ شروع نہیں ہو سکتا، وہ کہتے ہیں۔ پروجیکٹ جنوری ۲۰۱۸ میں شروع ہونا ہے۔

مراٹھواڑہ کے کسان اچھی قیمت پر اپنی زمین بیچنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہو رہے ہیں، جب کہ روایتی قرض حاصل کرنے والے نظام کی کمی، بے ترتیب موسم اور غذائی فصلوں سے کم کمائی کے سبب اس علاقہ کے زیادہ تر حصوں میں کھیتی کرنا مشکل ہو گیا ہے؟ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس کے سبب سینکڑوں کسانوں کو خودکشی کرنی پڑ رہی ہے اور ہزاروں قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

پدما بائی بتاتی ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زمین کی جو قیمت ہوتی ہے، اسے پیسوں میں نہیں ناپا جا سکتا۔ ایک اور بڑی وجہ سرکار کی معتبریت ہے۔ قرض میں ڈوبے کئی کسان ہو سکتا ہے کہ اپنی زمین خوشی سے دینے کے لیے تیار ہوں، لیکن انہیں ریاست کے ذریعے اس کے بارے میں کیے گئے وعدوں پر بھروسہ نہیں ہے۔

Kakasaheb Nighote going through the notice he received from the MSRDC
PHOTO • Parth M.N.

ہاڈس پمپل گاؤں کے ایک کسان، کاکا صاحب نگھوٹے کہتے ہیں، ’کسی بھی سرکار کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھیں۔ انہیں کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے‘

ہاڈس پمپل گاؤں کے ہی رہنے والے کاکا صاحب نگھوٹے کہتے ہیں، ’’کسی بھی سرکار کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھیں۔ کیا اس سے خود اعتمادی بڑھتی ہے؟ انہیں کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ملک بھر میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں، جہاں کسانوں اور آدیواسیوں سے ان کی زمین کو تحویل میں لینے سے پہلے کئی چیزوں کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ لیکن آخر میں انہیں کا استحصال ہوتا ہے۔‘‘

چالیس سالہ نگھوٹے شاہراہ پر اپنی ۱۲ ایکڑ زمین میں سے چھ ایکڑ کھو دیں گے۔ وہ ہمیں ۳ مارچ کو ایم ایس آر ڈی ایس کے ذریعے گاؤں کو دیا گیا نوٹس دکھاتے ہیں۔ ’’سرکار کہتی ہے کہ ہم کسانوں کی رضامندی کے بغیر کچھ نہیں کریں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’لیکن ان کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ یا آپ کے نمائندہ مقررہ دن کو حاضر نہیں رہتے ہیں، تو یہ مان لیا جائے گا کہ آپ کو زمین کی اجتماعی گنتی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں تو اپنی شکایتیں درج کرنے کے لیے [کلکٹر کے دفتر میں] ایک آسام فارم کے لیے بھی لڑنا پڑا تھا۔‘‘

ہاڈس پمپل گاؤں سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر دور، پرانے ممبئی-ناگپور شاہراہ کے متوازی چلنے والے اورنگ آباد-ناسک شاہراہ کے قریب، گنگاپور تعلقہ کے مالی واڑہ گاؤں کے کسان بھی پریشان ہیں۔ تقریباً ۴۴۰۰ لوگوں کی آبادی والے اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ امرود، چیکو اور انجیر جیسے پھلوں کی کھیتی کرتے ہیں۔

ان کے کھیت اورنگ آباد اور گنگاپور کی سرحد پر واقع ہیں۔ ۱۰ فٹ چوڑی ایک دھول بھری سڑک، جو مالی واڑہ سے ہوکر گزرتی ہے، دو تعلقوں کو الگ کرتی ہے۔ ایم ایس آر ڈی سی نے جب جولائی ۲۰۱۷ میں زمین کا تخمینہ لگایا، تو اورنگ آباد شہر کے قریبی گاؤں کی زمین زیادہ قیمتی لگ رہی تھی۔ مالی واڑہ اس شہر سے صرف ۱۶ کلومیٹر دور ہے، لیکن چونکہ یہ اورنگ آباد تعلقہ میں نہیں ہے، اس لیے یہاں کے کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں فی ایکڑ ۱۲ لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی، جب کہ وہاں سے ۱۰ فٹ کی دوری پر واقع زمین کے مالک کسانوں کو ۵۶ لاکھ روپے فی ایکڑ پیش کیے گئے۔

مالی واڑہ کے ۳۴ سالہ بالا صاحب ہیکڑے، جنہیں اپنے ۴ء۵ ایکڑ کے باغ کو کھونے کا خطرہ ہے، کہتے ہیں، ’’اس کا [تخمینہ کا] کوئی مطلب نہیں ہے۔ میں زعفران، امرود اور آم کی کھیتی کرتا ہوں۔ وہ فی ایکڑ جتنے پیسے [۱۲ لاکھ روپے] کی پیشکش کر رہے ہیں، وہ میرے سالانہ منافع کے آس پاس ہے۔ ہمیں چاہے جتنے پیسے کی پیشکش کی جا رہی ہو، لیکن یہ کتنے دن چلے گا؟‘‘

Balasaheb Hekde at his orchard
PHOTO • Parth M.N.
Pole erected in an orchard in Maliwada
PHOTO • Parth M.N.

مالی واڑہ میں پھلوں کے کسان، بالا صاحب ہیکڑے کا کہنا ہے کہ ایم ایس آر ڈی سی کے اہلکار جب زمین کا معائنہ کرنے آئے، تو ان کے گاؤں کے کسانوں نے مخالفت کی تھی

ہیکڑے کہتے ہیں کہ مراٹھواڑہ کے کئی حصوں میں جہاں کسان جدوجہد کر رہے ہیں، وہیں مالی واڑہ جیسے گاؤوں میں پھل کے باغات کے مالک کسان اقتصادی طور پر مضبوط ہیں۔ کیساپوری باندھ قریب میں ہے، یہاں کی زمین زرخیز ہے۔ ’’اگر زمین زرخیز ہے اور اس سے پیسے آ رہے ہیں، تو کوئی اسے بیچے گا کیوں؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ ’’اس میں شروع میں کافی سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ اسے بنائے رکھ سکتے ہیں، تو آپ سیٹ ہیں۔ میرے والد نے اس باغ کو قائم کرنے میں ۱۵ سال لگائے۔ اگر وہ اس کے بدلے کوئی اور زمین دیتے ہیں، تب بھی ہمیں وہاں باغ لگانے میں ۱۵ سال اور لگ جائیں گے۔ اور کون جانتا ہے کہ نئی زمین زرخیز ہوگی ہی؟‘‘

’’کسان اپنی زرخیز زمین بیچنا نہیں چاہتے،‘‘ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسوادی) کے زرعی کارکن اور اس پروجیکٹ کی مخالفت کرنے والی تنظیم، سمردھی مہا مارگ شیتکری سنگھرش سمیتی کے رکن، راجو دیسلے کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کسانوں کے ساتھ جو الگ الگ سودے بازی کی جا رہی ہے، اس سے بھی کافی بے اطمینانی پیدا ہو رہی ہے۔ ’’[ریاست بھر کے] کم از کم ۱۰ ہزار کسان بے گھر ہو جائیں گے۔‘‘ معاوضہ ایک پروجیکٹ ایک لاگت کے حساب سے ملنا چاہیے تھا،‘‘ دیسلے کہتے ہیں۔ ’’لیکن کچھ کسانوں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے، جب کہ کچھ کو بہت کم مل رہا ہے۔‘‘

حالانکہ، ایم ایس آر ڈی سی کے کُرندکر کا کہنا ہے کہ زمین کا تخمینہ صحیح طریقے سے لگایا گیا ہے اور جن کسانوں کی زمین اہم مقامات پر ہے ان کے لیے ایک ہی قیمت غیر مناسب ہوگی۔ ’’جب کسانوں کو ان کی زمین کی لاگت کا چار گنا ملتا ہے، تو نابرابری ختم ہو جاتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’جن کسانوں نے اپنی زمین [ہمیں] فروخت کر دی ہے، وہ مطمئن ہیں۔ ہم نے انہیں بازار کی قیمت کا چار گُنا دیا اور انہوں نے کہیں اور پلاٹ خرید بھی لیا ہے۔ اب ان کے پاس زمین کے ساتھ ساتھ بینک بیلنس بھی ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: ہیکڑے کے والد کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہو گئی، جب انہوں نے سنا کہ نئے شاہراہ کی وجہ سے ان کی پوری زمین چلی جائے گی

لیکن کئی لوگوں کو بھروسہ نہیں ہے۔ ایم ایس آر ڈی سی کے اہلکار جب کھیتوں کا معائنہ اور علاقہ کی حد بندی کرنے کے لیے پچھلے سال ۲۴ دسمبر کو مالی واڑہ پہنچے، تو ۴۴۰۰ لوگوں کی آبادی والے اس گاؤں کے کئی لوگوں نے مخالفت کی اور اہلکاروں کو اپنا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ ’’پولس کی موجودگی میں انہوں نے ہماری زمین پر ستون گاڑ دیے،‘‘ ہیکڑے کہتے ہیں۔ ’’تب تک، ہم سبھی یہی سوچ رہے تھے کہ کچھ نہ کچھ ہوگا اور ہماری زمین بچ جائے گی۔‘‘

جب ہیکڑے کے ۶۲ سالہ والد، وشوناتھ نے اپنی زمین کے نشان زد ہونے کی بات سنی، تو وہ موقع پر پہنچے۔ ’’ہماری پوری زمین اس نشان زد علاقے میں تھی،‘‘ ہیکڑے کہتے ہیں۔ ’’میرے والد نے اسے دیکھا، جس کے بعد اسی شام کو انہیں دل کا دورہ پڑا۔ انہیں پہلے سے کوئی طبی مسئلہ نہیں تھا۔ دو دن بعد، ۲۶ دسمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘

مالی واڑہ نے تب سے ’گاؤں بندی‘ کی تجویز پاس کی ہے یا ایم ایس آر ڈی سی کے اہلکاروں کے گاؤں میں داخلہ پر پابندی لگا دی ہے۔ مراٹھواڑہ کے کئی دیگر گاؤوں کی طرح، یہاں بھی اس سال اپنے گھروں کے سامنے کالی لالٹین لگاکر ’کالی دیوالی‘ منائی گئی۔ دیسلے کا کہنا ہے کہ ناسک ضلع کی ۱۷ گرام پنچایتوں نے اپنی زمین بیچنے کے خلاف تجویز پاس کی ہے۔

اس لیے اس غیر مطلوبہ نئے قومی شاہراہ کی بجائے، ہیکڑے مشورہ دیتے ہیں، ’’سرکار کو پرانی شاہراہوں کے سبھی گڑھوں کو بھر دینا چاہیے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ’لاس اینجلیس ٹائمز‘ کے ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار ہیں اور کئی آن لائن پورٹل پر فری لانس کام کرتے ہیں۔ انھیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.