’’لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم امیر اور بڑے کسان ہیں،‘‘ دادا صاحب سپیکے نے کہا۔ ’’جب وہ ہماری سایہ دار جالیوں کو دیکھتے ہیں تو ان کی عام سوچ یہی ہوتی ہے۔ لیکن آپ جب ہمارے کھیتوں پر آئیں گے، تو آپ کو کڑوا سچ دیکھنے کو ملے گا۔ ہمارے اوپر بھاری قرض ہے۔ اور ہم اس میں سے کسی کو بھی چُکا نہیں سکتے۔‘‘

ناسک میں ۲۰ فروری کو شروع ہوئے کسان مارچ میں، دادا صاحب دوسروں کے ساتھ خاموشی سے مارچ کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ راجندر بھاگوت بھی تھے – یہ دونوں اس مارچ کے زیادہ تر آدیواسی اور غریب کسان احتجاجیوں سے بالکل الگ تھے۔ (مہاراشٹر حکومت کے ذریعے یقین دہانی کرائے جانے کے بعد کہ وہ کسانوں کے سبھی زیر التوا مطالبات کو متعینہ مدت کے اندر سلسلہ وار طریقے سے پورا کرے گی، ۲۱ فروری کی دیر رات مارچ کو ختم کر دیا گیا۔)

یہ نقدی کا بحران ہے، یہ پانی کا بحران ہے، یہ بازاروں کا بحران ہے۔ ہم پھنس چکے ہیں‘، دادا صاحب سپیکے کہتے ہیں

سپیکے (۵۱) اور بھاگوت (۴۱) میں سے ہر ایک، احمد نگر کے خشک زدہ سنگم نیر تعلقہ میں پانچ ایکڑ زمین پر کھیتی کرتے ہیں۔ دونوں نے دو-دو ایکڑ زمین پر سایہ دار جالیاں لگوائی ہیں۔ یہ جالیاں مچان پر لگائی گئی ہیں، جو مختلف برعکس حالات جیسے ژالہ باری اور بھاری بارش، کیڑوں اور حد سے زیادہ دھوپ سے تحفظ فراہم کرتی ہیں اور نمی بنائے رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ جالیوں کے اندر لگی فصلوں یا پودوں کو سوراخ والے پائپوں سے بوند-بوند پانی دیا جاتا ہے۔

سپیکے اور بھاگوت نے بتایا کہ ایک ایکڑ کھیت میں سایہ دار جالی لگانے پر ۱۵-۲۰ لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے، جب کہ پالی ہاؤس بنانے کے لیے فی ایکڑ ۴۰ سے ۵۰ لاکھ روپے لگانے پڑتے ہیں۔ پالی ہاؤس اسٹیل کے پہلے سے بنے اور نلی دار بڑے ڈھانچے ہیں، جو پالی تھین کی خاص طور سے تعمیر شدہ چادروں سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ شمالی اور مغربی مہاراشٹر میں پالی ہاؤس کا استعمال خاص طور سے گلاب اور جربیرا کے پھول اُگانے میں کیا جاتا ہے، جو برآمد کیے جاتے ہیں۔

تقریباً ایک دہائی قبل، ریاستی حکومت اور بینکوں نے خشک علاقوں میں مختلف رعایتوں اور سبسڈی کے توسط سے ان ڈھانچوں کو فروغ دینا شروع کیا۔ سنگم نیر کم بارش اور پانی کی کمی والی تحصیل ہے۔ یہاں پر ان ڈھانچوں کو ایک ایسی تکنیک کے طور پر فروغ دیا گیا، جو زراعت کی اچھی پیداوار کے لیے پانی کا کم استعمال اور موسم کی غیر یقینیت کے خلاف ڈھال کا کام کرتی ہے۔

Farm land.
PHOTO • Jaideep Hardikar

ایک دہائی قبل، ریاست اور بینکوں نے خشک علاقوں میں سایہ دار جالیوں اور پالی ہاؤس کو فروغ دینا شروع کیا۔ ابتدائی منافع کے بعد، کسان بحران میں پھنس گئے

دونوں کسانوں نے تقریباً آٹھ سال پہلے سایہ دار جالیاں لگوائی تھیں۔ پہلے دو برسوں میں انھیں منافع ہوا، جس سے پرجوش ہو کر ان میں سے ہر ایک نے اسے ایک ایکڑ سے بڑھا کر دو ایکڑ میں لگوا لیا۔ ’’سال ۲۰۰۹-۱۰ میں جب ہمارے علاقے میں سایہ دار جالیوں اور پالی ہاؤس کی توسیع ہونے لگی، تو شملہ مرچ جیسی سبزیوں، یا پھولوں کی قیمتیں بہتر تھیں۔ لیکن اب [حد سے زیادہ سپلائی اور بازاروں میں اتار چڑھاؤ کے سبب] قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے اور پانی بالکل بھی نہیں ہے،‘‘ بھاگوت نے کہا۔

انھیں اور سپیکے کو، شملہ مرچ کی فصل پر پانچ سالوں تک نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن وہ اپنے قرض کے بارے میں بتانے سے ہچکچاتے ہیں۔ ’’کھل کر سامنے آنا مشکل تھا،‘‘ بھاگوت نے کہا، ’’کیوں کہ اگر رشتہ داروں اور دوستوں کو پتہ چل جاتا کہ ہم قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، تو اس سے ہماری سماجی حیثیت متاثر ہو سکتی تھی۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مسائل کو سرکار تک لے جائیں۔‘‘

دادا صاحب نے بتایا کہ احمد نگر ضلع اور دیگر جگہوں کے کئی دیگر کسان جنہوں نے اپنے کھیتوں پر سایہ دار جالیاں یا پالی ہاؤس بنوائے ہیں، وہ بڑھتے قرض سے جوجھ رہے ہیں اور انھوں نے اپنے پروجیکٹوں کو چھوڑ دیا ہے۔ شرڈی کے پاس خود ان کے گاؤں، کنکوری میں زیادہ تر لوگوں کے پاس اب پیسے نہیں بچے ہیں اور وہ بینکوں سے بھی قرض نہیں لے سکتے۔ ’’یہ نقدی کا بحران ہے، یہ پانی کا بحران ہے، یہ بازاروں کا بحران ہے۔ ہم پھنس چکے ہیں۔ میرے پاس اپنی فیملی چلانے کے لیے پنشن ہے [وہ بحریہ کے ایک ریٹائرڈ کلرک ہیں]، لیکن دوسروں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے....‘‘

Two farmers in the march.
PHOTO • Jaideep Hardikar

سپیکے (بائیں) اور بھاگوت (دائیں) غریب کسان تو نہیں ہیں، لیکن سایہ دار جالیوں والے کئی دیگر کسانوں کی طرح وہ بھی قرض میں ڈووبے ہوئے ہیں

آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس)، جس نے حال ہی میں مارچ کا انعقاد کیا تھا جس میں یہ دونوں بھی شامل ہوئے تھے، نے ۱۳ فروری کو احمد نگر میں سایہ دار جالیوں اور پالی ہاؤس والے کسانوں کی ایک میٹنگ بلائی تھی یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ اس مسئلہ کو بھی مارچ کے ذریعے اجاگر کیا جانا چاہیے۔

سپیکے اور بھاگوت میں سے ہر ایک کے اوپر ۲۰ لاکھ سے ۳۰ لاکھ روپے تک کا بینک لون ہے، جسے انھوں نے ابھی تک لوٹایا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے جیسے دوسرے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس سے بھی زیادہ قرض لے رکھا ہے، جسے چکانے میں وہ نا اہل ہیں۔ کسان سبھا نے ریاستی حکومت کے سامنے اپنے جو مطالبات رکھے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرض معافی اسکیم کی توسیع کرکے اس میں سایہ دار جالیوں اور پالی ہاؤس والے کسانوں کو بھی شامل کیا جائے۔

حکومت نے ۲۱ فروری کی رات کو جو یقین دہانی کرائی تھی، اس میں کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو بھی حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ’’ہمیں ان کے بوجھ کو کم کرنے کا کوئی فیصلہ لینے سے پہلے ایسے کسانوں کا سروے کرانا ہوگا،‘‘ مہاراشٹر کے وزیر برائے آبی وسائل، گریش مہاجن نے کہا۔ انھوں نے کسان سبھا کے لیڈروں کے ساتھ دیر شام کو ہونے والی بات چیت کی قیادت کی اور کسانوں کو مخاطب کیا تھا، جس کے بعد مارچ کو ختم کر دیا گیا۔

’’موجودہ شکل میں قرض معافی کی اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے،‘‘ داداد صاحب نے کہا۔ ’’ہمارا قرض بہت بڑا ہے۔ چُکانے کے لیے اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے، تو ہم اپنے مطالبات کو لے کر ریلی نہیں نکال رہے ہوتے۔‘‘ وہ اپنی زمینیں بیچ دیں تب بھی اپنا قرض نہیں چکا پائیں گے، انھوں نے کہا۔ ’’ہم نے بولنے کا فیصلہ کیا تاکہ دوسرے لوگ ہم سے جڑ سکیں۔ جب ہمارے پاس سرکار کا دروازہ کھٹکھٹانے کا راستہ موجود ہے، تو خود کو پھانسی لگانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar