’’ایک اور خوفناک اجتماعی عصمت دری ہندوستانی اخباروں کی سرخیاں بنی ہوئی ہے،‘‘ یکم فروری، ۲۰۱۴ کو نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ کی شروعات انھیں الفاظ سے کی تھی۔ ’’اس دفعہ، ہندوستانی ریاست مغربی بنگال کی ایک پنچایت نے سزا کے طور پر عصمت دری کرنے کا حکم دیا ہے۔ جرم ہے: محبت میں گرفتار ہونا اور شادی کا پلان بنانا۔‘‘ اس اداریہ، جس میں ’’قانون کے ساتھ اس طرح کھلواڑ کرنے والوں‘‘ کے خلاف کڑی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، میں اسی قسم کی اور بھی بہت ساری اسٹوریز کا ذکر تھا جو گزشتہ جنوری میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں چھائی رہیں۔

مثال کے طور پر چند سرخیاں یہاں دی جا رہی ہیں: ’’مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع میں کنگارو کورٹ نے ۱۲ قبائلی خواتین کی اجتماعی عصمت دری کا حکم دیا‘‘ (ہندوستان ٹائمز)، ’’اجتماعی عصمت دری ہندوستانی گاؤوں میں تحفظ امن کی اراکین کا پول کھولتی ہے‘‘ (بلوم برگ)، ’’ہندوستانی گاؤں کے بزرگوں نے اجتماعی عصمت دری کا حکم دیا‘‘ (اسکائی نیوز)، ’’مغربی بنگال میں اجتماعی عصمت دری: پورے گاؤں کے سامنے بانس کے مچان پر نوجوان عورتوں کو نشانہ بنایا گیا‘‘ (دی انڈپنڈینٹ)، یا پھر یہ کہ ’’پورے گاؤں کے ذریعہ ہندوستانی عورتوں کی اجتماعی عصمت دری‘‘ (بیروٹنگ ڈاٹ کام)۔ ان شہوت انگیز میڈیا رپورٹوں نے حکام کو کارروائی کرنے پر مجبور کیا، خود مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے قبائلی اور گاؤں کی کونسلوں (گرام سبھاؤں) پر پابندی لگادی، جن کی ’قدیم‘ روایتوں کو اس ظلم کے لیے پوری دنیا نے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

جھول: ان رپورٹوں کے کلیدی عناصر شاید جھوٹ پر مبنی ہیں۔ اس معاملے کو لے کر بہت سے الٹے سیدھے بیانات جاری کیے گئے، جس میں پولس کا یہ بیان بھی شامل ہے کہ میڈیا رپورٹوں میں الگ الگ باتیں کہی گئی ہیں۔ حقائق کو مختلف رنگ میں پیش کیا گیا، جیسے مبینہ عصمت دری کی تاریخ جیسی بنیادی حقیقت بھی الگ الگ نقل کی گئی۔ اس بات کا قوی اشارہ ملا ہے کہ بلائی مردی نام کا سنتال گاؤں کا سربراہ، جسے ماجھی کہتے ہیں، اُس رات گاؤں میں موجود ہی نہیں تھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ دستیاب ثبوت ہی بنیادی الزام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے اور وہ الزام یہ ہے کہ کسی نے مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع میں واقع سُبل پور گاؤں کی بملا (بدلا ہوا نام) کی عصمت دری کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اُس رات میں جو کچھ رونما ہوا، اس کے بارے میں متضاد بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پوری تصویر کبھی سامنے نہیں آ پائے گی۔ تاہم، اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو راقم الحروف کو لگتا ہے کہ اُس رات بملا کی عصمت دری ہوئی ہوگی، لیکن کسی کونسل (یا گرام سبھا) کے فرمان کے بغیر۔ اس سے پرے، حقائق کا گہرائی سے مطالعہ کرنے پر اس خطرناک صورتِ حال کا پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کے قبائلی علاقوں میں روایت اور جدیدیت کے درمیان کس طرح ٹکراؤ چل رہا ہے اور کس طرح اس کی غلط ترجمانی کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، نیویارک ٹائمز نے نہ صرف ایک غیر ضروری اداریہ اس پر لکھ ڈالا، بلکہ اجتماعی عصمت دری کے اس خاص واقعہ پر باقاعدہ ایک مضمون بھی شائع کیا، حالانکہ وسطی ہندوستان میں سیکورٹی فورسز اور متعلقہ مسلح دستوں کے ذریعہ سینکڑوں آدیواسی عورتوں کا جنسی استحصال میڈیا کے لیے عام طور پر خبر کا مواد نہیں ہوتا۔

بیربھوم کے واقعہ کو خاص طور سے زیادہ اہمیت اس لیے دی گئی، کیوں کہ اس میں ایک ’’کنگارو کورٹ‘‘ کا مبینہ ہاتھ تھا، جو ہندوستانی گاؤوں کی پس ماندگی کو ظاہر کرتا تھا اور اس طرح وہاں ۲۱ویں صدی کے ترقیاتی تہذیبی مشن کی اشد ضرورت تھی۔ نیویارک ٹائمز کے اداریہ میں لکھا گیا کہ ’’ہندوستان میں تیزی سے ہونے والی جدید کاری نے نوجوان عورتوں کو بہت سے مواقع اور آزادیاں فراہم کی ہیں، جسے مردوں کے غلبہ والے سماج کے یہ خود ساختہ ٹھیکہ دار سنگین خطرہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔‘‘

مغربی بنگال کی عدالتوں میں ہونے والی دیری کے مد نظر اس معاملے کے حل ہونے میں بھی مہینوں یا سالوں لگ سکتے ہیں؛ اس بیچ سبھی ۱۳ ملزمین، بشمول بزرگ ماجھی، جیل میں ہی بند رہیں گے۔ ’’اس پورے معاملے کو سیاست دانوں نے نیا موڑ دے دیا، تاکہ ہماری کمیونٹی بدنام ہو،‘‘ نتیانند ہیمبروم افسردگی کے ساتھ کہتے ہیں، جو دیشوم ماجھی، یا ہندوستان کے سنتالوں کے سربراہِ اعلیٰ اور سنتال سربراہوں کی ایک تنظیم، بھارت جکت ماجھی منڈُوا (بی جے ایم ایم) کے صدر ہیں۔ ’’مجھے نہیں معلوم کہ ہم اپنا دامن کیسے بچائیں۔‘‘

حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ یہ پورا معاملہ خواتین کی خود مختاری سے جڑا ہوا ہے، لیکن ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں ترقی کے نام پر آدیواسی سوسائٹی کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی ہی اس کی بنیادی وجہ ہے، جس کے سبب ان برادریوں کے اندر جنسی حملوں میں بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے، خاص کر عصمت دری، جسم فروشی اور انسانوں کی اسمگلنگ جیسے واقعات کانکنی والے علاقوں میں مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ماہر بشریات فیلکس پڈیل کہتے ہیں، ’’جب کسی معاشرہ پر حملہ ہو رہا ہو، تو یہ حملہ اس کے اندر سے ہی شروع ہوتا ہے، وہ بھی عورتوں سے۔ جدیدکاری، کانکنی، میڈیا، سیاست، اور پرتشدد ٹکراؤ کے واقعات تباہ کن رہے ہیں۔‘‘ اس قسم کے حملوں کے بجائے، روایتی آدیواسی نظامِ حکومت اُن جنسی حملوں اور دیگر تشدد کی یلغار کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جو موجودہ ہندوستان میں قبائلی برادریوں کو پاش پاش کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

* * *

بملا کی حفاظت پر پولس والے مامور ہیں اور وہ اب سبل پور میں بھی نہیں رہتی۔ دریں اثنا، بیر بھوم میں عصمت دری کے اس واقعہ کے کم از کم تین ورژن ہیں۔ پہلے ورژن کے مطابق، بولپور، بیربھوم کے قریب واقع ایک پولس اسٹیشن نے ۲۲ جنوری، ۲۰۱۴ کو بنگالی زبان میں لکھی پہلی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) رجسٹر کی، جس پر سبل پور گاؤں کی سنتال عورت، بملا کے انگوٹھے کا نشان ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق، ۲۰ سالہ بملا کی شادی ایک غیر سنتال مرد، شیخ خالق سے ہونے والی تھی، جو عمارت بنانے والے مستری کے طور پر کام کرتا تھا اور ۲۰ جنوری، بروز پیر شام ۵ بجے اس سے ملنے آیا ہوا تھا۔ لہٰذا گاؤں کے سنتال لوگوں نے اپنے ماجھی، بلائی مردی کی قیادت میں اس جوڑے کو پکڑ کر باندھ دیا اور پھر اپنی ذات یا برادری و نسل سے باہر شادی کی پلاننگ کرنے کے جرم میں ان کے خلاف باقاعدہ پنچایت میں سنوائی چلی۔ ان پر ۲۷ ہزار روپے کا جرمانہ لگایا گیا، جسے اپنی غربت کی وجہ سے وہ کبھی ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد، مردی نے گاؤں کے آدمیوں سے کہا: ’’اس (عورت) کے ساتھ مزے لوٹو، جو کرنا چاہو کرو۔‘‘ مردی نے خود، دیگر ۱۲ لوگوں کے ساتھ اُس رات بملا کی عصمت دری کی۔ اگلی صبح ان دونوں کو وہاں سے جانے کی اجازت دے دی گئی، اس وارننگ کے ساتھ کہ اگر انھوں نے پولس کو اس کے بارے میں بتایا، تو بملا کا گھر جلا دیا جائے گا۔ لیکن، اس نے آخرکار ہمت کرکے اگلے بدھ کو حکام سے رابطہ کیا۔

اسی اسٹوری کو، تھوڑے پھیر بدل کے بعد، پوری دنیا میں رپورٹ کیا گیا۔ تاہم، سبل پور کی دوسری سنتال عورتوں کا اس واقعہ کے بارے میں کچھ اور ہی کہنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بملا اور اس کے ملازم اور عاشق، خالق کو سب سے پہلے انھوں نے ہی پکڑا تھا، خالق کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ ’’ہم دوسری ذات کے مردوں کو اپنے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے،‘‘ ملّیکا ٹوڈو سرکشی کے انداز میں کہتی ہیں۔ جب اِن عورتوں نے اس شام اسے وہاں آتے دیکھا، تو بقول ٹوڈو، ’’ہم نے گاؤں کی ماؤں سے کہا کہ مسلمان آ چکا ہے، اور پھر ہم نے مردوں تک یہ خبر پہنچا دی۔‘‘

گاؤں والے بملا کی جھونپڑی کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے، جہاں دونوں عاشق و معشوق بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے جوڑے کو پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے لے گئے اور ماجھی کے گھر کے سامنے کھجور کے درخت سے باندھ دیا۔ ماجھی اس وقت دوسرے گاؤں میں کسی کی شادی میں شریک ہونے کے لیے گئے ہوئے تھے، لہٰذا وہ اگلی صبح تک ان کے واپس لوٹنے کا انتظار کرنے لگے، تاکہ اس جوڑے کے معاملے کی پنچایت کے سامنے سنوائی شروع کی جا سکے۔ ’’ہم چاہتے تھے کہ وہ آدمی اُس سے شادی کرے اور ہمارے گاؤں سے اسے دور لے جائے،‘‘ ٹوڈو نے بتایا۔ (حالانکہ خالق دراصل شادی شدہ ہے، اور یہ عورتیں شاید یہ سوچ رہی تھیں کہ ہندوستانی مسلمان قانونی طور پر ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتا ہے۔) ’’ہم نے ان دونوں کی رات بھر حفاظت کی، ہم سبھی نے مل کر۔ کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، کوئی عصمت دری نہیں،‘‘ ٹوڈو کہتی ہیں۔ ایک چیز کو چھوڑ کر گاؤں کے سبھی لوگ اسی بیان پر قائم ہیں اور وہ یہ کہ انھوں نے اس واقعہ کی جانچ کرنے والے ایک اہل کار کو بتایا کہ جب یہ خبر پھیلی، تو اُس رات وہ شروع کے دو گھنٹے بملا کی نگرانی نہیں کر پائے تھے۔ لیکن بعد میں، وہ اس سے منحرف ہوگئے اور اب ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بملا کی نگرانی پوری رات کی تھی۔

گاؤں والوں کے بیان کو جاری رکھتے ہوئے: اگلی صبح، یعنی منگل کو ماجھی واپس آگئے۔ لہٰذا گاؤں کی منتخب کونسل یا پنچایت کے ممبران، جو سبھی بنگالی ہیں اور غیر آدیواسی، اور سب کا تعلق ترنمول پارٹی سے ہے، وہ بھی وہاں پہنچے، ساتھ میں خالق کے رشتہ دار بھی آ گئے۔ (بیربھوم میں، کئی گاؤوں میں سنتالوں کی بستیوں کے ساتھ ساتھ بنگالیوں کی بھی بستی ہے؛ گاؤں کی پنچایت میں عام طور پر بنگالیوں کا ہی قبضہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، چونکہ یہ منتخب عملہ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون اور دیگر اسکیموں کے ترقیاتی فنڈس تقسیم کرتا ہے، لہٰذا اس کے اہل کاروں کا حکم سنتال ماجھی کے مقابلہ زیادہ چلتا ہے، کیوں کہ ماجھی عام طور پر غریب ہوتے ہیں۔) پنچایت کے ممبران نے سماعت شروع کی اور سمجھوتہ کرانے کا فیصلہ کیا۔ خالق چونکہ بملا سے شادی کرنے کو منع کر رہا تھا، لہٰذا اسے ۲۵ ہزار روپے بطور جرمانہ ادا کرنے کے لیے کہا گیا، جسے اس کے بھائی نے جمع کر دیا تاکہ یہ پیسہ سنتالوں کو دیا جا سکے۔ بملا سے ۳ ہزار روپے ادا کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن چونکہ اس کے پاس اتنے پیسے تھے نہیں، لہٰذا اس کے بڑے بھائی، جو دوسرے گاؤں میں رہتا ہے، نے پیسہ ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ ’’ہم سمجھوتہ نہیں کرتے، نہ ہی ہم نے پیسے کے لیے ان سے کہا،‘‘ ٹوڈو پورے اعتماد سے کہتی ہیں؛ پیسے کی پیشکش تو بنگالیوں نے کی تھی، وہ بھی اس لیے کہ خالق بملا سے شادی کرنے سے منع کر رہا تھا۔ اس کے بعد دوپہر کو ان دونوں کو رہا کر دیا گیا۔

/static/media/uploads/Articles/Madhusree Mukerjee/How To Colonize Your Own Country/subalpur_may_2014_086.jpg

جہاں تک سبل پور کی عورتوں کو علم تھا، یہ معاملہ وہیں ختم ہو چکا تھا، لیکن اگلے دن، ۲۲ تاریخ بروز بدھ، پولس وہاں پہنچی اور پانچ آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ گاؤں کے بقیہ لوگ جب اس کے بارے میں معلوم کرنے پولس اسٹیشن پہنچے، تو پولس نے آٹھ اور لوگوں کو بلاکر گرفتار کر لیا۔ ترنمول کا بدمعاش ایم ایل اے، منیرالاسلام، جو تہرے قتل کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث ہے، اُس دن کارروائی کی قیادت کر رہا تھا، ایسا وہاں کی عورتوں کا کہنا ہے۔ ’’ہم نے انھیں کاغذ (جو ہمارے پاس تھا) دکھایا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ اس تحریری بیان میں، جس کی ایک کاپی راقم الحروف نے دیکھی ہے، بملا اور خالق کے درمیان ناجائز جسمانی تعلقات سے متعلق سمجھوتہ ہونے کی بات درج ہے۔ اس کاغذ پر ترنمول پنچایت ممبران اور ساتھ ہی خالق اور اس کے بھائی کے دستخط موجود ہیں، جو یہ بتاتا ہے کہ ’’ٹرائل‘‘ منگل کی صبح کو ہوا تھا، جب کہ ایف آئی آر میں کچھ اور درج ہے۔ ’’منیرل نے جواب میں کہا تھا، ’اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر تم لوگ اسمارٹ بننے کی کوشش کروگے، تو تم میں سے کسی کا بھی سر تمہارے جسموں پر محفوظ نہیں رہے گا،‘‘ ٹوڈو بتاتی ہیں۔

بی جے ایم ایم کا ایک نمائندہ، جو خود بھی اس معاملے کی تفتیش کرتا رہا ہے، ایک الگ کہانی بیان کرتا ہے۔ اس کے مطابق، چند سال پہلے بملا جھارکھنڈ کے ایک دوسرے سنتال مرد کے ساتھ بھاگ گئی تھی، جس نے اس سے شادی کرنے کے بجائے اسے دہلی لے جا کر بیچ دیا۔ لیکن بعد میں جو سنتال مرد اسے بھگا کر لے گیا تھا، اسی کے ایک رشتہ دار (جو اس کے اس فعل سے کافی نادم تھا) نے اسے اس دلدل سے نکالا، لہٰذا بملا پچھلے مانسون (۲۰۱۳) میں اپنے گاؤں سبل پور واپس لوٹ آئی۔ بملا نے حالانکہ خالق کی ملازمہ کے طور پر اینٹ، سیمنٹ وغیرہ ڈھونے کا کام شروع کر دیا تھا، لیکن گاؤں کی عورتوں کو شک ہونے لگا کہ بملا جسم فروشی کے کاروبار میں مبتلا ہو چکی ہے، اور اس کے خریداروں میں ان (گاؤں کی عورتوں) کے شوہر اور بیٹے بھی شامل ہیں۔ اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس (بملا) سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے اسے کسی باہری شخص، خالق کے ساتھ زبردستی شادی کرائیں گی۔ بی جے ایم ایم کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ ۲۰ جنوری کی رات کو ماجھی دراصل گاؤں میں نہیں تھے، اور سبل پور گاؤں کے سنتالوں نے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، پکڑے گئے اس جوڑے (بملا اور خالق) کی نگرانی کی تھی۔ تاہم، اس نمائندہ کا کہنا ہے، بملا کو پکڑنے والے کچھ سنتال مردوں نے بعد میں اُس رات شراب پینا شروع کر دیا اور پھر انھوں نے گاؤں کی عورتوں کو دو گھنٹے کے لیے وہاں سے دور کر دیا۔ ہو سکتا ہے کہ اسی وقفہ کے دوران بملا کی عصمت دری کی گئی ہو۔

گرفتار کیے گئے کل ۱۳ مردوں میں سے ایک، دیب راج مونڈل بنگالی ہے، جب کہ باقی سبھی سنتال ہیں۔ (مونڈل کی ایک مبہم شبیہ ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سبل پور کے سنتالوں کا محافظ بھی ہے اور ان کا استحصال بھی کرتا ہے۔ اس نے آدیواسیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کرانے کی سہولت فراہم کرائی اور منریگا کے کام کی مزدوری پنچایت کے ذریعہ نہ دینے پر ان کے حق میں آواز بھی بلند کی؛ لیکن اس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے گاؤں والوں کو غیر قانونی طریقے سے شراب سپلائی کی۔) پولس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک کیمرہ ضبط کیا ہے، جس میں مونڈل نے بملا کی دو فحش تصویریں کھینچ رکھی ہیں: ایک خالق کے ساتھ اور دوسری کسی اور مرد کے ساتھ، جس کا چہرہ اس تصویر میں واضح نہیں ہے، لیکن مونڈل نے اس کی شناخت حراست میں لیے گئے سنتالوں میں سے ایک، سنیل کِسکو کے طور پر کی۔ کولکاتا کی تنظیم برائے تحفظِ جمہوری حقوق (اے پی ڈی آر) کے مطابق، جن کے ارکان نے بملا اور دیگر افراد کا انٹرویو کیا، کِسکو پر اسی گاؤں میں پہلے بھی عصمت دری کرنے کا الزام ہے۔ بملا کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں اس بات کا تو ذکر ہے کہ اس کے چہرے اور جسم پر خراش کے مختلف نشانات پائے گئے، لیکن واضح طور پر یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ اس کی عصمت دری ہوئی تھی یا نہیں۔ پولس میڈیا کو البتہ یہ بتاتی رہی ہے کہ اس کی عصمت دری ہوئی ہے، لیکن اس نے ابھی تک ڈی این اے کے ساتھ ضروری فارینسک رپورٹ اور دیگر ثبوت جمع نہیں کیے ہیں، جن سے عصمت دری کرنے والوں کی شناخت ہو سکے۔ اے پی ڈی آر نے بھی اب تک باقاعدہ رپورٹ جمع نہیں کی ہے۔

بی جے ایم ایم کا یہ بھی کہنا ہے کہ خالق، منیرالاسلام کا رشتہ دار ہے۔ ایم ایل اے منیر الاسلام پچھلے سال خبروں میں اس وقت چھائے رہے، جب انھوں نے اپنے ایک کانگریس حریف کو سر عام گردن اڑانے کی دھمکی دی تھی، اور بیر بھوم میں لوگوں کی عام رائے ہے کہ انھوں نے تین لوگوں کا قتل کیا ہے۔ (یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ منیرل نے پہلے یہ بات تسلیم کی تھی کہ انھوں نے تین قتل کیے ہیں، لیکن بعد میں وہ اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے؛ ان کا نام چارج شیٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ الزام لگنے لگا ہے کہ مغربی بنگال کی حکومت انھیں بچا رہی ہے۔) منیرل نے جب اپنے رشتہ دار کی اس پریشانی کے بارے میں سنا، تو مبینہ طور پر انھوں نے ترنمول پنچایت کے لوگوں سے کہا کہ وہ سنتالوں کو پیسہ دے کر خالق کو اس دھمکی والی شادی سے باہر نکالیں، جس کے بعد وہ ان کا ’’خیال رکھیں گے‘‘۔ یہ ساری چیزیں اس سنسنی خیز ایف آئی آر کی تفصیل بیان کر سکتی ہیں، جس میں ماجھی کو بھی قصوروار بتایا گیا ہے۔

’’ماجھی نظامِ حکومت میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ سزا کے طور پر کسی کی عصمت دری کا حکم دیا گیا ہو،‘‘ روبی ہیمبروم کہتی ہیں، جو کولکاتا میں ’آدیوانی‘ کے نام سے ایک مقامی پبلشنگ ہاؤس چلاتی ہیں۔ نہ ہی روایتی سنتال قانون میں اس قسم کے فیصلہ کو منظوری دی گئی ہے۔ سبل پور سے ۵ کلومیٹر دور کے شری کرشنا پور گاؤں کے بہت سے لوگ اس بات کی گواہی دینے کو تیار ہیں کہ ۲۰ تاریخ کی رات کو ماجھی ان کے گاؤں میں تھے۔ گرفتار کیے گئے آدمیوں کی میڈیکل رپورٹ میں بھی ان کا گناہ ثابت نہیں ہو سکا ہے، کیوں کہ اس میں کہا گیا ہے کہ وہ جنسی مباشرت کے قابل نہیں ہیں، جو کہ بملا کے ذریعہ دیے گئے تفصیلی بیان کے بالکل برعکس ہے۔

* * *

حالانکہ یہ اسٹوری کہیں کہیں عام ہوئی ہے، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ بیر بھوم کے سنتالوں کے درمیان یہ سب سے وحشیانہ حملہ ہے جو حالیہ دنوں رونما ہوا ہو۔ بی جے ایم ایم کے مطابق، گزشتہ سال فروری میں، سیوری کے قریب راج نگر گاؤں کے کئی سنتال نوجوانوں نے اپنے ہی گاؤں کی ایک ۱۳ سالہ سنتال لڑکی کا اغوا کیا، اس کی عزت لوٹی اور پھر اس کے گلے میں پھندا لگا کر ایک درخت سے لٹکا دیا۔ اس گینگ نے اس لڑکی کے گھر والوں کو اتنی بری طرح ڈرا دیا تھا کہ اگلے کئی دنوں تک وہ گاؤں سے باہر جاکر اس واقعہ کی ایف آئی آر تک درج نہیں کرا سکے۔ ایف آئی آر تبھی درج ہوئی، جب بی جے ایم ایم کے اراکین انھیں اپنے گھیرے میں لے کر پولس اسٹیشن پہنچے۔ ’’لیکن اس کا کچھ نہیں ہوا،‘‘ بی جے ایم ایم کے سماجی کارکن گھاسی رام ہیمبروم کہتے ہیں: کیوں کہ مبینہ طور پر پولس نے گاؤں کی ترنمول پنچایت کے دباؤ میں خودکشی کی رپورٹ جمع کی اور اس کیس کو بند کر دیا۔ اس کے بعد لڑکی کے گھر والے غنڈوں کے ڈر سے گاؤں ہی چھوڑ کر چلے گئے، ہیمبروم مزید بتاتے ہیں۔

حالانکہ، ماضی میں سنتال عصمت دری کے واقعات میں ملوث رہے ہیں، لیکن اتنی تعداد میں نوجوانوں نے پہلے کبھی بھی اپنی عورتوں پر اس قسم کا ظلم نہیں کیا ہے۔ بقول فیلکس پڈیل، یہ المیہ مزید خطرناک اس وقت ہو جاتا ہے، جب آپ کو یہ پتہ چلتا ہے کہ روایتی آدیواسی کلچر ’’رومانس اور محبت کے معاملے کو پوری نزاکت سے حل کرتا ہے‘‘۔ سنتالوں کی، ان کے محبت بھرے نغموں، بانسری بجانے کی ان کے انوکھے فن اور چاندنی راتوں میں شہوانی رقص کے لیے، کافی پذیرائی ہوتی تھی، کیوں کہ یہ ساری چیزیں کرشن لیلا کی یاد کو تازہ کرتی تھیں۔ ماہر علم الانسان، ایڈورڈ ٹی ڈالٹن نے ۱۸۷۲ میں نغمگی کے ساتھ لکھا کہ ہر سنتال گاؤں میں ایک کھلی جگہ ہوتی ہے، جہاں ’’نوجوان مرد شام کے کھانے کے بعد اکثر جمع ہو جاتے، اور ان کی بانسریوں اور ڈھول کی آوازیں جلد ہی کنواری لڑکیوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیتیں، یہ لڑکیاں اپنے لمبے بالوں میں تیل اور کنگھیاں کرنے کے بعد جوڑا بناتیں اور پھر اس میں ایک یا دو پھول لگا لیتیں اور پھر خوشی خوشی اس محفل میں شامل ہو جاتیں۔‘‘ رقص کے بعد، ایک دوسرے کو پسند کرنے والے مرد و عورت جنگل میں کہیں غائب ہو جاتے۔

کانکنی اور حقوقِ انسانی کے موضوع پر جھارکھنڈ سے باہر شائع ہونے والے نیوز لیٹر ’کھان، کھَنِج اور ادھیکار‘ کے ایڈیٹر، ژیویئر ڈائس کہتے ہیں کہ آدیواسیوں کے درمیان ’’آپ کو رومانس کے بغیر سیکس کے معاملے دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔ قبائلی کلچر میں جنسیت مباشرت تک محدود نہیں ہے۔ وہ عام طور پر یوں بات کرتے ہیں، ’میں بازار گیا تھا، جہاں میں نے ایک لڑکی سے بات کی۔ بڑا مزہ آیا۔‘ یہ بمبئی یا بنگلور کے اُس کلچر سے کافی مختلف ہے، جہاں میری پرورش ہوئی، جہاں آپ اگر کسی لڑکی کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو آپ اس کی جسمانی بناوٹ یا اس کی سیکس اپیل پر بات کرتے ہیں۔‘‘

آدیواسیوں کو آج بھی اس بات پر ناز ہے کہ عام ہندوستان کے مقابلے ان کے ہاں مردوں اور عورتوں کو برابر کا درجہ دیا جاتا ہے، جس کی تصدیق ۲۰۱۱ کی مردم شماری سے بھی ہوتی ہے کہ آدیواسیوں میں جنسی تناسب ہندوستان میں سب سے بہتر ہے، یعنی ایک ہزار مردوں پر ۹۹۰ عورتیں۔ (ماں کے پیٹ میں لڑکیوں کا قتل اور سماج میں لڑکیوں کی اندیکھی کی وجہ سے، ہندوستان میں مجموعی طور سے اور خاص کر پنجاب اور ہریانہ جیسی ’ترقی یافتہ‘ ریاستوں میں یہ تناسب ایک ہزار مردوں کے مقابلے ۹۴۳ عورتوں کا ہے۔) جن ۵۸ آدیواسی قبیلوں کا سروے کیا گیا، ان سے پتہ چلا ہے کہ ۲۷ قبیلوں میں مردوں کی بہ نسبت عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لیکن ان آدیواسیوں میں جنسی اعتبار سے بالغوں کے مقابلے چھ سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کی تعداد کم ہے۔ یہ ایک خطرناک چیز ہے اور اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ لڑکوں کو زیادہ ترجیح دیا جانے لگا ہے، جو عام لوگوں کے درمیان جہیز لینے کی روایت کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جہاں لڑکیاں ایک اقتصادی ذمہ داری بن جاتی ہیں، اب ایسا لگتا ہے کہ سنتالوں اور متعدد دیگر قبیلوں میں دلہن کی قیمت کے رسم کی جگہ لینے لگی ہے۔ حالانکہ، سنتالوں جیسے زیادہ ’’جدید‘‘ یا مستحکم قبیلوں میں پدری سیاسی ڈھانچہ اور جادوگروں کو ایذا پہنچانے جیسی بعض بیہودہ روایات موجود ہیں، لیکن اڈیشہ کے بونڈا یا انڈمان جزیرے کے جاروا قبیلے مردوں و عورتوں کے ساتھ کم و بیش برابری کا سلوک کرتے ہیں۔ مبینہ طور پر ان ’’قدیم‘‘ کمیونٹیز میں عورتوں کے ذریعہ عصمت دری جیسے واقعات بالکل نہیں ہوتے۔

مدھیہ پردیش کے علی راجپور ضلع کے بھیل قبیلوں کے درمیان سماجی کام کرنے والے راہل بنرجی، اس کمیونٹی میں جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ کا ذمہ دار کنزیومر کلچر کے داخلہ کو مانتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آدیواسی مرد، جو ٹیلی ویژن یا مہنگے موبائل فون خریدنا چاہتے ہیں، وہ گجرات یا دیگر دولت مند ریاستوں میں ہجرت کر رہے، اور اکثر نقدی کے طور پر موٹی رقم بچاکر واپس لوٹتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں، عالی راجپور میں پراپرٹی کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں، اور ڈائن کو قتل کرنے کے واقعات بھی کافی بڑھے ہیں۔ ڈائن عام طور پر یہاں ان عورتوں کو کہا جاتا ہے، جن کے اثاثے پر ان کی رشتہ داروں کی حرص بھری نظر لگی رہتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے وہ اسے ’ڈائن‘ نام دے کر اس کا قتل کر دیتے ہیں۔ ان نئے دولت مندوں میں سے بعض نے عورتوں کی عصمت دری بھی کی ہے اور پنچایت کو جرمانہ دے کر آسانی سے چھوٹ بھی گئے ہیں۔ بنرجی بتاتے ہیں کہ پہلے، روایتی قبائلی کونسلوں کے ذریعہ ’’ایسی حرکتوں پر کمیونٹی کا کنٹرول ہوا کرتا تھا‘‘۔ اب، چونکہ منتخب ہو کر آنے والے پنچایت لیڈر ضمیر فروش ہوتے ہیں اور کلیدی فیصلے بھی وہی لیتے ہیں، اس لیے ’’آپ انھیں پیسے دے کر معاملے کو رفع دفع کر سکتے ہیں۔‘‘

ایک دوسری مہلک بیماری، جس کی طرف بنرجی اور دیہی ہندوستان کا قریب سے مشاہدہ کرنے والا ہر شخص اشارہ کرتا ہے، وہ ہے موبائل فون کے ذریعہ پورنوگرافی (فحش مواد) کا پھیلاؤ، جن میں سے بعض کافی پرتشدد ہوتے ہیں۔ ڈائس کہتے ہیں کہ جھارکھنڈ میں فحش مواد سب سے پہلے وی سی آر کے ذریعہ ۱۹۹۰ کے عشرے میں پہنچا۔ گاؤں کے نوجوان لڑکے پہلے ٹی وی خریدتے، پھر جنریٹر کرایے پر لیتے، اور فلمیں دیکھنا شروع کر دیتے، جن میں ’’بلیو‘‘ فلمیں بھی شامل تھیں، جن کی فیس بہت کم ہوا کرتی تھی، مثال کے طور پر ایک مٹھی چاول۔ اب آپ کو ہر چھوٹے شہر اور قبائلی ہندوستان کے زیادہ تر گاؤوں میں موبائل فون کی خدمات فراہم کرنے والے ایسے کی اوسک (کمپیوٹر سنٹر) مل جائیں گے، جہاں سے تھوڑی سی فیس دے کر فون کی میموری چپس میں فحش ویڈیو ڈاؤن لوڈ کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ویڈیو ایک سے دوسرے موبائل فون میں پہنچتے رہتے ہیں۔ بہت سے ایسے مرد بھی ہیں، جو فحش نگاری کے کام میں ملوث عورتوں کی جانکاری یا ان کی اجازت لیے بغیر خود ہی پورنوگرافک کلپس بناتے اور اسے پھیلاتے رہتے ہیں۔ بیربھوم ضلع کے گریا کی ایک سنتال اسکول ٹیچر، سادی مُرمو کہتی ہیں کہ انھوں نے دس سال تک کے لڑکوں کو ایسی فلمیں دیکھتے ہوئے دیکھا ہے۔

پورنوگرافک فلموں میں سیکس کے ایکٹ کے دوران جسم کے حصوں کی تصویر نگاری ایسے کی جاتی ہے، گویا عورتیں مردوں کے ذریعہ کھیلے جانے والا کھلونا ہیں، ان میں نہ تو کوئی رومانس ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اسٹوری لائن۔ بقول ڈائس، اس پر مزید طریہ یہ کہ بہت سے آدیواسی نوجوانوں کا خیال ہے کہ وہ ان فلموں میں جو چیز دیکھ رہے ہیں، وہ ڈیکو (غیر آدیواسی) سوسائٹی کا حصہ ہے، جس کی وہ چاہت رکھتے ہیں۔ ’’یہاں، حقیقی دنیا کے بارے میں آپ کا نظریہ ہے کہ ڈیکو دنیا ہی اصلی دنیا ہے،‘‘ ڈائس تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ پورن (فحش فلم) دیکھنے والا آدیواسی نوجوان یہ سوچنے لگتا ہے کہ ’’ڈیکو لوگ یہی سب کچھ کرتے ہیں۔ ڈیکو ایسے سیکس کرتے ہیں، لہٰذا سیکس کرنے کا صحیح طریقہ شاید یہی ہے۔‘‘ نیوزی لینڈ کی ماسے یونیورسٹی کی ماہر بشریات سیتا وینکٹیشور کہتی ہیں کہ آدیواسی مرد شاید ’’ان فلموں میں دکھائی اور ثابت کی جانے والی مردانیت‘‘ سے اثر لے رہے ہوں گے ’’کیوں کہ اپنی ذات سے متعلق ان کے موجودہ احساس اور شکلوں پر لگاتار حملے ہو رہے ہیں۔‘‘ ٹیسٹ اسٹڈیز سے پتہ چلا ہے کہ خاص طور سے ’’ریپ پورن‘‘ جیسا پرتشدد مواد، ان مردوں کے ذہن میں عصمت دری کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے، جو پہلے سے اس قسم کا جرم کرنے کی جانب مائل ہوں۔

تاہم، آدیواسی سوسائٹی میں جنسی جارحیت مین اسٹریم سوسائٹی میں ہونے والے اس قسم کے پرتشدد واقعات کا نتیجہ ہے۔ سوشل ورکر کُنال دیب، جو سیوری کے قریب ایک این جی او چلاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کے بیربھوم نے ۱۹۷۰ کی دہائی میں پتھر کی کھدائی سے خود کو الگ کرنا شروع کر دیا۔ یہاں پر صنعتیں لگنے کی وجہ سے کھیت برباد ہو گئے، فصلوں اور پانی کے چشموں کی جگہ پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑوں اور گرد و غبار نے لے لی، لہٰذا زراعت کرنا لگاتار مشکل ہوتا چلا گیا۔ سنتالوں نے یا تو اپنی زمینیں بیچ دیں اور اس علاقے سے دور چلے گئے یا پھر انھوں نے ان کھدانوں اور کرشرز (جو پتھروں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑتے ہیں) میں مزدوروں کے طور پر کام کرنے لگے۔ یہاں، سودمند مائننگ انڈسٹری میں ہزاروں کی تعداد میں کام کرنے والے کھدان مالکوں، منیجروں، اوورسیروں کے ساتھ ساتھ ٹرک ڈرائیوروں اور ان کے ہرکاروں کے ذریعہ عورتوں کی عصمت دری عام بات ہو گئی۔

/static/media/uploads/Articles/Madhusree Mukerjee/How To Colonize Your Own Country/garia_october_2012_077.jpg

گریا گاؤں کے ایک سنتال اسکول ٹیچر، بابورجی کِسکو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ۱۹۹۰ کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں جب ایک ویران کھدان میں جمع سارے پانی کو پمپ سے باہر نکالا گیا، تو اس کی سطح کے قریب ۱۰ سے ۱۵ بورے ملے، جن میں سے ہر ایک میں انسانوں کے باقیات تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ مظلوم کون تھے، لیکن ہر کسی کا خیال یہی تھا کہ یہ سنتالوں کے جسم کے ہی اعضا ہیں: ان سنتال عورتوں کے جن کے اوورسیروں نے عصمت دری کرنے کے بعد قتل کر دیا، اُن مردوں کے جنھیں اس لیے ہلاک کر دیا گیا ہوگا کہ انھوں نے اپنی بیوی یا بہن پر ہو رہے ظلم کی مخالفت کی ہوگی، یا پھر ان مزدوروں کے جو کانکنی کے حادثہ میں موت کے شکار ہو گئے ہوں گے اور ان کی لاش کو یہاں پھینک دیا گیا ہوگا۔ کیوں کہ کانوں کے مالکان، جو تمام کے تمام مین اسٹریم ڈیکو سوسائٹی کے مرد تھے، کھلے عام بندوقیں لے کر چلا کرتے تھے اور جو پورے گھمنڈ سے کہتے تھے کہ پولس والوں اور سیاسی لیڈروں سے ان کی دوستی ہے، لہٰذا کسی کے اندر ان قتل عاموں کی جانچ کا مطالبہ کرنے کی ہمت نہیں رہی ہوگی۔ کسکو بتاتے ہیں کہ ’’بہت سے مردوں نے مجھ سے کہا کہ خود ان کی بہنوں کی عصمت دری ان کی آنکھوں کے سامنے کی گئی، اور اگر وہ اس کی مخالفت کرتے تھے تو انھیں پستول دکھاکر خاموش کرا دیا جاتا تھا۔‘‘

اس قسم کی ظلم و زیادتی صرف مغربی بنگال یا صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ پوری دنیا کے قبائلی علاقوں میں، جہاں کہیں بھی کانکنی اور صنعت کاری کی دوسری شکلیں موجود ہیں، وہاں اسی طرح کا جنسی تشدد ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اسپیشل ریپورٹیئر جیمز اَنایا نے جنوری میں بیان دیا تھا: ’’قبائلی عورتوں نے اطلاع دی ہے کہ کھدائی کے پروجیکٹوں کے نتیجہ میں قبائلی کمیونٹیز کے درمیان بڑی تعداد میں کامگاروں کے آنے سے جنسی استحصال اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس میں عصمت دری اور حملے کے واقعات بھی شامل ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ اس قسم کے مظالم سے ایچ آئی وی بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ڈائس کہتے ہیں کہ وہ جب پہلی بار ۱۹۷۴ میں سنگ بھوم (جو اَب جھارکھنڈ بن چکا ہے) پہنچے، ’’تو میں نے جنگل کے پہریداروں کے ذریعہ عصمت دری کے بارے میں سنا تھا۔ اور اس طرح یہاں ریپ کلچر شروع ہوا۔ اور میں نے ۱۹۸۵ سے پہلے کبھی بھی، کبھی بھی یہ نہیں سنا تھا کہ کسی آدیواسی نے کسی کی عزت لوٹی ہے۔‘‘ مشینوں کی وجہ سے چونکہ اب کانکنی بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں تک رسائی ہونے لگی ہے جہاں پہلے کوئی نہیں جاتا تھا، اس لیے حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے،‘‘ ڈائس اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’ہر ٹرک کے ساتھ ایک نیا ڈرائیور، صفائی کرنے والا اور دیگر مزدور پہنچ رہے ہیں۔‘‘ اس کے نتیجہ میں، وہ کہتے ہیں، ان قبائلی علاقوں کی ہزاروں مُنڈا، سنتال، اور ہو عورتوں کی عزت لوٹی گئی یا پھر انھیں جسم فروشی کے لیے مجبور کر دیا گیا۔ وہ آگے کہتے ہیں کہ، اسی ظلم کا نتیجہ ہے کہ باقاعدہ تاریخ کی کتابوں میں جمشید پور اور نوامنڈی جیسے ریاست کے بڑے اسٹیل شہروں میں سے ہر ایک میں ’’آزاد بستی‘‘ موجود ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ بقول ڈائس، اہل کار وہاں اپنی آدیواسی رکھیلوں کے ساتھ مفت سیکس کرنے کے لیے جاتے ہیں، جن کے نام تک موجود ہیں۔

اڈیشہ کے ایک فلم ساز، سوریہ شنکر داش بھی ایسی ہی کہانی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لانجی گڑھ، جہاں بہت سے کوندھ کنبے آباد تھے، ۲۰۰۲ میں وہاں برطانیہ کی مائننگ کمپنی ویدانتا رِسورسز کے آنے سے پہلے’’جنسی تشدد کے بارے میں کسی نے بھی نہیں سنا تھا۔‘‘ اس سے پہلے انھوں نے صرف عصمت دری کے دو واقعات کے بارے میں سنا تھا جو ۱۹۹۰ کی دہائی میں ہوئے تھے، پہلا ڈونگریا کوندھ ڈیولپمنٹ ایجنسی کے ایک سرکاری ماہربشریات انچارج کے ذریعہ، اور دوسرا لانجی گڑھ میں کام کرنے والے ایک این جی او کے ملازم کے ذریعہ۔ تاہم، جب ویدانتا نے المونیم رِفائنری بنانی شروع کی، تو اس کے بعد، ’’میں نے گاؤں والوں سے ایسی بہت سی کہانیاں سنیں، جس میں ٹرک چلانے والوں، مہاجر مزدوروں اور ویدانتا کے ٹھیکہ داروں اور ملازموں نے مقامی لڑکیوں اور عورتوں کو اغوا کرکے ان کی عزت لوٹی تھی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ داش آگے بتاتے ہیں کہ ویدانتا کے ’’غنڈوں‘‘ کے ذریعہ اغوا اور عصمت دری کے ایک ایسے ہی واقعہ میں، ایک کارکن کی ۹ سال کی بیٹی کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن خوش قسمتی سے زندہ بچ گئی۔ فلم ساز داش کہتے ہیں کہ آج لانجی گڑھ میں سینکڑوں سیکس ورکرس ہیں، جو رِفائنری کے لیے اپنے گاؤوں کے اجاڑے جانے کے سبب محرومی کا شکار ہوئیں، یا پھر جنھیں مہاجر مزدوروں نے عصمت دری کے بعد دھوکہ دیا اور چھوڑ دیا۔

داش اس قسم کے بے شمار واقعات بتاتے چلے جاتے ہیں۔ ’’کوراپٹ میں نالکو رِفائنری کے لیے بنائے گئے شہر، دمن جوڑی میں ہزاروں آدیواسی رنڈیاں ہیں۔ اسی طرح سوکندا کی کرومائٹ کانوں کی بیرہور کمیونٹی کی سبھی عورتوں اور کم عمر لڑکیوں کو ٹرک ڈرائیوروں اور ٹھیکہ داروں کو اپنا جسم بیچنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ صنعت کاری کی وجہ سے بے گھر ہونے والی لڑکیاں، جو اَب کلنگ نگر کے ٹرانزٹ کیمپ میں رہتی ہیں، ٹاٹا کمپنی کے غنڈوں کے ذریعہ ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ کلِنگ نگر میں جندل کی فیکٹری کے سامنے رنڈیوں کی ایک بستی آباد ہو رہی ہے۔‘‘

اسی طرح بقول داش، کوراپٹ ضلع میں الگ تھلگ پڑ چکی ایک پاروجا کمیونٹی ہے، جن کی زمینیں ۱۹۸۰ کے عشرے میں کولاب آبی ذخائر کی تعمیر کے سبب اس میں ضم ہو گئیں اور ان کی کھیتی چھن گئی، ضلع انتظامیہ کے اہل کاروں نے ان لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر وہ اپنی لڑکیوں کی روایتی خوابگاہوں تک انھیں آزادانہ رسائی نہیں دیں گے، تو ان کے لیے قانونی طور پر جو راشن آتا ہے، وہ اسے روک دیں گے۔ ان کا مقصد ان لڑکیوں کے ساتھ سیکس کرنا تھا۔ اس قسم کی خوابگاہیں ان قبائلی کمیونٹیوں میں عام ہیں، جو زندہ رہنے کے لیے شکار کرتے ہیں، جنگل وغیرہ سے کھانے کی چیزیں اکٹھا کرتے ہیں اور مختلف قسم کی کھیتیاں کرتے ہیں۔ ان خوابگاہوں میں گاؤں کی بڑی لڑکیاں اپنی کمیونٹی کے ہال ہی میں سوتی ہیں (لڑکوں کے لیے الگ خوابگاہیں ہوتی ہیں)۔ ان خوابگاہوں کا مقصد ’’سماجی میل ملاپ بڑھانے کے ایک مخصوص طریقے‘‘ کو قبیلہ کی اگلی نسل تک پہنچانا ہے۔ یہ باتیں ایک ماہر بشریات نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائیں۔ ان خوابگاہوں میں یہ نوعمر لڑکیاں خود سے تھوڑی بڑی لڑکیوں سے گانے کمپوز کرنا، رقص، فصلیں اُگانا، علاج کے لیے جڑی بوٹیوں کا استمعال (جس میں مانع حمل کے طریقے بھی بعد میں شامل ہو جاتے ہیں)، کنگھی اور دیگر تحائف بناکر اپنے رومانٹک پارٹنروں کو دینا وغیرہ سیکھتی ہیں۔ بقول مذکورہ ماہر بشریات، اس کے علاوہ یہ لڑکیاں ’’وہ تمام گُر سیکھتی ہیں کہ جب تم دوسروں کے ساتھ ہم بستری کرو گی تو کیا کرنا ہے اور الگ سونے پر کیا کرنا ہے۔‘‘ تہواروں اور دیگر تقریبات کے موقع پر جب دوسرے گاؤوں سے غیر شادی شدہ لڑکیاں یا لڑکے وہاں بطور مہمان آتے ہیں، تو انھیں مخالف جنس کی خوابگاہوں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ ان موقعوں پر، جو قبیلہ کے اندر باہمی ہمدردی کے جذبہ کو فروغ دینے کے لیے اہم ہوتے ہیں، عام طور پر ان کے درمیان رومانس اور جسمانی ملاپ تک کا واقعہ پیش آ جاتا ہے، جسے قبیلہ کے مرد اور عورتیں شادی سے پہلے کی ایک صحت مند شروعات مانتے ہیں۔

تاہم، ان دور دراز علاقوں میں تعینات ڈیکو مرد اِن خوابگاہوں کو عیاشی کے بے لگام اڈّے تصور کرتے ہیں، اور اس طرح وہ سیکس کی تلاش میں اکثر ان پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر، بہت سے قبیلوں کو اپنی ان خوابگاہوں کو بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، اور اس طرح رومانس کے فن سمیت وہ اپنے نوجوانوں کو قبیلہ کے کلچر کی تعلیم دینے سے محروم ہو گئے۔ اس مخصوص معاملہ میں بھی، پاروجا گاؤں نے ضلع کے سرکاری اہل کاروں کو رسائی دینے کے بجائے اپنی خوابگاہ ہی بند کر دی، لیکن اہل کاروں کی وہ شرط اب بھی برقرار ہے کہ راشن کے بدلے انھیں سیکس چاہیے۔

سال ۲۰۰۸ میں، اڈیشہ کے ایک ویڈیو کلیکٹو، کے بی کے سماچار کے محمد اسلم نے رپورٹنگ کی کہ کالاہانڈی ضلع میں ایک روایتی اجتماع کے وقت جب نوجوان آدیواسی مرد و عورت گانے اور رقص کرنے میں مصروف تھے، تبھی انسانی اسمگلنگ کے جرم میں ملوث افراد جیپ میں وہاں پہنچے اور عورتوں کو اس میں بھر کر لے گئے۔ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ برس، راؤرکیلا، اڈیشہ کے آدیواسی مہیلا سرکشا منڈل سے وابستہ للی کوجور نے موبائل رپورٹنگ سروِس، سی جی نیٹ کو خبر دی کہ اڈیشہ کے صرف ایک ضلع، سندر گڑھ سے ۴۰ ہزار آدیواسی عورتوں کی اسمگلنگ ہوئی ہے، جن میں ۱۵ ہزار کہاں گئیں، اس کا کوئی اَتا پتا نہیں ہے۔

جھارکھنڈ کے کارکن گلیڈسن ڈنگ ڈنگ کے مطابق، صرف دہلی میں تقریباً پچاس ہزار آدیواسی لڑکیاں اور عورتیں موجود ہیں، جو زیادہ تر گھریلو ملازماؤں اور جسم فروشی کا بھی کام کرتی ہیں۔ نوکری دلانے والی ایجنسیوں کے ایجنٹ قبائلی گاؤوں، خاص کر جہاں کانکنی کی وجہ سے زرعی ذریعہ معاش چھن چکا ہے، میں گھومتے رہتے ہیں اور عورتوں کو شہر میں نوکریاں دلانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ ڈنگ ڈنگ کا الزام ہے کہ سرہُل اور کرام جیسے آدیواسی تہواروں کے دوران یہ ایجنسیاں نیلامی لگانے کا بھی انتظام کرتی ہیں، جہاں عورتوں کو دوسرے بروکرس کے ہاتھوں یا پھر براہِ راست نوکری دینے والوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ ان عورتوں کا بعد میں جنسی استحصال ہوتا ہے، بعض کا قتل کر دیا جاتا ہے، اور کچھ اپنی گود میں جب بچہ لیے گاؤں لوٹتی ہیں، تو خود ان کی کمیونٹی انھیں قبول کرنے سے منع کر دیتی ہے۔ بہت سی عورتوں کا تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کہاں گئیں۔ ڈنگ ڈنگ بتاتے ہیں کہ سمڈیگا ضلع میں ’’جب میں اپنے آبائی گاؤں جاتا ہوں، تو مجھے وہاں کوئی لڑکی نظر نہیں آتی۔ وہ سبھی وہاں سے جا چکی ہیں۔‘‘

چھتیس گڑھ میں تو حالات اور بھی خراب ہیں، جہاں کانکنی اور نقل مکانی تو تباہی کا باعث بنی ہی ہوئی ہے، اوپر سے سرکاری فورسز اور ماؤنواز گوریلاؤں کے درمیان پرتشدد جھڑپ نے لوگوں کی زندگی حرام کر رکھی ہے۔ سال ۲۰۰۵ سے سنٹرل ریزرو پولس فورس اور ریاستی پشت پناہی والی قبائلی مسلح جماعت ’سلوا جوڈوم‘ نے تقریباً ۵۰ ہزار آدیواسیوں کو کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیا، تاکہ ماؤ نوازوں سے ان کا کسی قسم کا رابطہ نہ ہو سکے۔ دہلی یونیورسٹی کی ماہر بشریات، نندنی سندر کا اندازہ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ آدیواسی اس کی وجہ سے آندھرا پردیش بھاگ گئے۔ سندر کہتی ہیں کہ ریاست کے یہ نمائندے (سی آر پی اور سلوا جوڈوم کے لوگ)، ’’لوگوں کا قتل کر رہے تھے، عورتوں کی عصمت دری کرتے تھے جب بھی وہ ان کی پکڑ میں آتیں، اور کیمپوں میں رہنے والی لڑکیوں کو جنسی غلام یا باندی کے طور پر استعمال کرتے۔‘‘ سندر مزید بتاتی ہیں کہ شمالی بستر کے راؤگھاٹ مائننگ ایریا میں اب کل ۲۲ سی آر پی ایف چوکی بن چکی ہے، تاکہ کانکنی کے خلاف کسی بھی قسم کے احتجاج کو روکا جا سکے۔ دنتے واڑہ میں تو ایسی چوکیاں ہر ۵ کلومیٹر پر مل جائیں گی۔ یہ سیکورٹی مراکز عام طور پر اسکول کے احاطوں میں بنے ہوئے ہیں، جہاں مرد بلا روک ٹوک چاروں طرف گھومتے رہتے ہیں، اس لیے لڑکیاں ان اسکولوں میں جانے سے ڈرتی ہیں۔ بہت سی لڑکیاں تو اب جنگلوں میں بھی جانے سے ڈرتی ہیں کہ کہیں وہاں بھی ان کا سامنا کسی پولس والے یا سپاہی سے نہ ہو جائے۔

تہلکہ میگزین نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی، جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پچھلی ایک دہائی میں چھتیس گڑھ سے ۹ ہزار آدیواسی عورتوں کی ٹریفکنگ ہوئی ہے، جب کہ سماجی کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد اس سے ۱۰ گنا زیادہ ہے۔ ایڈوکیٹ سُدھا بھاردواج نے پچھلے سال کہا تھا کہ سلوا جوڈوم کے خلاف مبینہ ریپ کے جو ۹۹ الزامات ہیں، ریاستی حکومت نے ان میں سے ایک میں بھی ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی ہے، حالانکہ ۲۰۱۱ میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم نامہ میں چھتیس گڑھ حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ ان معاملوں سے متعلق تفصیلی حلف ناموں پر کارروائی کرے۔ ’قانون کے رکھوالوں‘ کے ذریعہ کیے جانے والے اس قسم کے مظالم نے بہت سے تجزیہ نگاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ مائننگ انڈسٹری کے نام پر آدیواسیوں کے خلاف حقوقِ انسانی کی جتنی بھی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، ان میں ہندوستانی مملک جانبداری سے کام لے رہی ہی۔

نصف صدی قبل، ماہر بشریات ویریر ایلوِن نے لکھا تھا کہ ’گھوٹُل‘، یا نوبالغوں کے لیے مخصوص موریا آدیواسی خوابگاہ کا بنیادی تصور تھا کہ ’’نوجوانوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ آزادی اور خوشی کی قیمت کسی بھی دوسری شے کے مقابلے کہیں زیادہ ہے، دوستی اور ہمدردی، مہمان نوازی اور اتحاد کافی اہمیت کے حامل ہیں، اور ان سب سے اوپر ہے انسانی محبت، اور اس کا جسمانی اظہار خوبصورت، صاف اور قیمتی ہے۔‘‘ لیکن اب ہندوستان کے تقریباً سبھی گھوٹُل ختم ہو چکے ہیں۔ پھر بھی، بقول ڈائس، ڈیکو دنیا کے ذریعہ لگاتار کیے جانے والے جسمانی یا جنسی اظہار اور اس قسم کے دیگر کارناموں نے آدیواسی نوجوانوں، ’’بھلے ہی وہ تھوڑے ہوں، لیکن کافی خطرناک ہیں، کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ تشدد جنسی تعلقات کا اٹوٹ حصہ ہے۔‘‘

* * *

فرانسیسی۔الجیریائی انقلابی فرینٹز فینون نے لکھا تھا کہ ہر دیسی باشندہ اپنے نوآبادیاتی آقا کی جگہ لینا چاہتا ہے، اس کے بستر پر سونا چاہتا ہے، اور اگر ممکن ہو تو اس کی بیوی کے ساتھ سونا چاہتا ہے۔ اب کوئی بھی نوجوان سنتال مرد بانسری بجانا اور شاعری کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ، وہ ان تمام چیزوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے، جو ڈیکو سوسائٹی ایک ’کامیاب‘ مرد کے لیے ضروری مانتی ہے: ایک ایئر کنڈیشنڈ اسکارپیو یا اگر وہ نہ ملے، تو ایک موٹر سائیکل، جینس، دھوپ کے چشمے، برانڈیڈ سگریٹس، بدیسی شراب، اچھا موبائل فون، اور عورتوں کے تئیں حقارت بھرا رویہ۔ مائننگ انڈسٹری کے مالک یا اس میں کام کرنے والے تمام منیجروں کا طرزِ زندگی ایسا ہی ہے، جو کہ ایک آدیواسی نوجوان لڑکا روز مشاہدہ کرتا ہے۔ لیکن، کان کا ایک مالک ہو سکتا کہ ایک دن میں لاکھوں روپے کما رہا ہو، جب کہ ایک مزدور سو روپے سے تین سو روپے تک ہی روزانہ کما پاتا ہے، اور بہت سے آدیواسی مرد سستی شراب پی کر اپنی نو دریافت خواہشوں کی تکمیل کرتے ہیں۔

دیب اور دیگر لوگوں کے مطابق، بیر بھوم کے مرد مزدور اپنی روزانہ کی کمائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ شراب کی ان دکانوں پر خرچ کر دیتے ہیں، جو ہر کھدان کے پاس اور ہر گاؤں میں موجود ہیں۔ پہلے، سنتال لوگ صرف مہوا کے پھول سے بڑی محنت سے شراب بناتے تھے، جسے وہ صرف مذہبی تقریبوں پر ہی پیتے تھے۔ اب، سستی کاروباری شراب ہر وقت دستیاب رہتی ہے۔ بہت سے مردوں کا یہ کہنا ہے کہ کھدان میں کام کرنا جسمانی طور پر اتنا مشکل ہوتا ہے کہ دن کے اخیر میں انھیں شراب چاہیے ہی چاہیے۔ یہ بات کہنے کی نہیں ہے کہ شراب پینے کے بعد گھریلو تشدد میں کتنا اضافہ ہوتا ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ عورتوں اور بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ مزید برآں، اس کی وجہ سے سنتال عورتوں کی شادی کے لیے قابل سنتال مردوں کی کمی ہوتی جا رہی ہے، جس کا فائدہ ڈیکو مرد اٹھا رہے ہیں۔

قبیلہ کی عورتوں تک رسائی نہ ہونے کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ سنتال مردوں کی مایوسی اور غصے میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈیکو مرد اور آدیواسی عورتوں کے درمیان اصلی ’’پیار‘‘ والی شادیوں میں اضافہ کے علاوہ، بیربھوم اور جھارکھنڈ کی بہت سی عورتوں پر اب باہری لوگوں کا کنٹرول ہو گیا ہے، جو کہ زیادہ تر سیکس کے لیے نہیں، بلکہ ان کی زمینوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ عملاً، بیربھوم میں کھدانوں کا جتنا بھی علاقہ ہے، ان زمینوں کے مالک پہلے سنتال ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کے مالک باہری لوگ بن چکے ہیں۔ قبائلی زمین کو غیر قبائلیوں میں بیچنا غیر قانونی ہے، لہٰذا ڈیکو لوگوں نے ان زمینوں کا مالک بننے کا یہ طریقہ نکالا ہے کہ وہ یا تو فرضی سنتال نام رکھ لیتے ہیں یا پھر کسی سنتال عورت کو اپنی محبت میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ عاشق اس عورت سے یا تو شادی کر لیتا ہے یا پھر زندگی بھر اسے اپنی رکھیل بنا کر رکھتا ہے، ’’جس کے بعد وہ یا تو اس کی زمین پر کھدان بنا سکتا ہے یا پھر اس کے نام پر زمین خرید سکتا ہے،‘‘ دیب بتاتے ہیں۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی ورجینیس شاشا کے مطابق، اس قسم کے رشتے جھارکھنڈ میں بھی عام ہیں، جہاں پر متعلقہ عورتوں کو ’’نہ صرف ڈیکو لوگوں کے ساتھی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، بلکہ قبائلیوں سے غیر قبائلیوں کو زمین ٹرانسفر کرنے والی پائپ کے طور پر بھی۔‘‘

اس کے نتیجہ میں، نوجوان سنتال مردوں کو پتہ چل رہا ہے کہ کھدانوں کا علاقہ جتنا بڑھ رہا ہے، وہ اپنے روایتی پیشے، خود مختاری، عزت و احترام اور اپنی عورتوں کو بھی کھوتے جا رہے ہیں۔ اور اپنا سارا غصہ وہ عورتوں پر نکال رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، بیربھوم کے سنتال نوجوانوں کے گینگ نے تین سنتال عورتوں کو برہنہ کرکے ان کی پریڈ نکالی: پہلی عورت اپنے ڈیکو بنگالی عاشق کے ساتھ پکڑی گئی تھی، اور بقیہ دو عورتوں پر یہ شک تھا کہ انھوں نے ڈیکو مردوں سے میل ملاپ بڑھایا ہے۔

آخرالذکر میں سے ایک، پھول مونی (بدلا ہوا نام) جو نیم پہاڑی گاؤں میں رہتی ہے، نے اپنی کہانی بیان کی۔ ۲۰۱۰ کے موسم گرما میں، وہ اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ پاس کے جنگل میں جامن کھانے کے لیے گئی ہوئی تھی، تبھی اس کے ہی گاؤں کے سنتال نوجوان لڑکوں نے انھیں پکڑ لیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ اپنے عاشقوں سے چھپ چھپ کر ملتی ہیں۔ پھول منی آگے بتاتی ہے کہ یہ نوجوان لڑکے اس کی کمیونٹی کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے مرد تھے۔ انھوں نے ان تینوں (لڑکیوں) کو رات بھر اپنی حراست میں رکھا اور ان لڑکیوں کے گھر والوں اور یہاں تک کہ ماجھی نے جب مداخلت کرنی چاہی، تو انھیں وارننگ دی۔ اس علاقے کے کئی دیہی باشندوں نے بتایا کہ روبین سورین نام کا ایک سنتال نوجوان، جو کھدان مالکوں سے بدلہ لینا چاہتا تھا، نے پہلے یہ فرمان جاری کر رکھا تھا کہ اگر کسی غیر شادی شدہ سنتال لڑکی کے پاس موبائل فون ملے تو اسے چھین لو، اور اگر وہ ڈیکو کے ساتھ پکڑی جائیں، تو انھیں سزا دو۔ یرغمال بنانے والوں نے پھول مونی کے رشتہ داروں کو بتایا کہ انھوں نے سورین کو بلایا ہے، جو ان عورتوں کے معاملے کی ’’سماعت‘‘ کرے گا۔

اگلی صبح سورین وہاں پہنچا۔ اس کے ساتھ موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر بڑی تعداد میں نوجوان سنتال بھی وہاں پہنچے، جو غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ پھول مونی اور دیگر عورتوں کے مطابق، سورین نے آدھے من سے اپنے ساتھیوں کو روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ باز نہیں آئے اور انھوں نے اسے اور اس کی ایک سہیلی (گاؤں والے تیسری لڑکی کو بچانے میں کامیاب رہے) کو برہنہ کر کے اگلے گاؤں تک لے گئے اور پھر وہاں سے اسی حالت میں واپس لے آئے۔ پھول مونی، جو اب بھی پوری طرح ڈری ہوئی ہے، بتاتی ہے کہ وہ بیہوش ہو گئی تھی، لیکن اسے یہ بات یاد ہے کہ وہ مرد، جنھیں ’’کوئی شرم نہیں تھی‘‘، کیسے اس کی شرمگاہوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ بعد میں جب اس نے پولس کو ان مردوں کے نام بتائے، تو انھوں نے اسے دھمکی دینا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے وہ گاؤں چھوڑ کر کہیں اور چلی گئی؛ اس کے علاوہ اس کی ننگی پریڈ کی تصویریں بھی موبائل فون کے ذریعہ پھیلائی گئیں، جس کی وجہ سے وہ شرم کے مارے اس علاقہ میں کہیں آ جا نہیں سکتی تھی۔ پھول مونی اب جنگل سے شال یا ساکھو کے پتے جمع کرتی ہے، انھیں سی کر پلیٹ بناتی ہے، پھر انھیں دھوپ میں سُکھاتی ہے اور پھر ایک پلیٹ کو دس پیسے میں بیچ کر اپنا گزر بسر کر رہی ہے۔ وہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہتی ہے، ’’اگر دھوپ ہوتی ہے، تو مجھے کھانے کو ملتا ہے۔ اگر نہیں ہوتی، تو میں بھوکی رہتی ہوں۔‘‘

برہنہ پریڈ کے واقعات دوسری جگہوں پر بھی رونما ہوئے، جیسے ۲۰۰۷ میں آسام کے گوہاٹی میں ایک نوجوان آدیواسی عورت جب اپنے آئینی حقوق کے لیے ایک مارچ میں شرکت کر رہی تھی، تو اسے ننگا کرکے پورے شہر میں دوڑایا گیا۔ تاہم، سنتالوں کے ذریعہ پہلے کبھی ان کی اس طرح بے عزتی نہیں کی گئی تھی۔ بیر بھوم میں برہنہ کرکے گھمانے کا یہ واقعہ عورتوں کے تئیں نوجوان مردوں کے غصے کی عکاسی کرتا ہے، کیوں کہ سورین کی نظر میں یہ عورتیں قبیلہ کی غدار ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ سنتال مردوں کو بھی بنگالی عورتوں کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہے، اور جن مردوں کو اس بات کی امید کم ہے کہ انھیں اپنے قبیلہ کی عورتوں مل پائیں گی، وہ خاص طور سے جنسی تشدد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کا رویہ تاریخ کے ہر دور میں دیکھنے کو ملا ہے، جیسا کہ ۱۹ویں صدی میں رائج قلی کے کاروبار سے متعلق اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ سال ۱۹۷۱ میں، ایک سرکاری مطالعہ سے پتہ چلا کہ گویانا، جہاں ہر پانچ مردوں کے لیے صرف دو خاتون قلی دستیاب تھیں، ہندوستان سے معاہدہ کے تحت جانے والے مزدوروں کے درمیان جنسی رقابت کی وجہ سے قتل کے واردات ہندوستان کے مقابلے ۹۰ گنا زیادہ تھے اور جن دو اضلاع سے یہ قلی گئے تھے، اس کے مقابلہ ۱۴۲ گنا زیادہ۔ جن کا قتل کیا گیا، وہ ساری کی ساری عورتیں تھیں۔

ظاہر ہے کہ ان قلیوں کی اپنے گھر والوں، برادریوں اور روایات سے بھی پرتشدد ناچاقی تھی۔ وینکٹیشور تفصیل بیان کرتے ہیں کہ تمام ثقافتیں تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہیں، ’’خاص کر جو لوگ ان تبدیلیوں سے متاثر ہو رہے ہیں ان کا اس پر کوئی کنٹرول بھی نہیں ہے، عورتیں تشدد اور ظلم کا نشانہ اس لیے بن رہی ہیں، کیوں کہ وہ ایسی علامتیں ہیں جن کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے، جو گم ہوتی جا رہی ہیں۔ عورتوں چونکہ نسل چلاتی ہیں، اس لیے وہ مستقبل کی امید بھی ہیں، اور اسی لیے ان کا ختم ہونا کمیونٹی کے مستقبل کے ختم ہونے کا اشارہ ہے۔‘‘

بدقسمتی سے، امریکہ کے نیشنل پبلک ریڈیو نے اس برہنہ پریڈ کے بارے میں بھی یہی بتایا کہ اس کا حکم ’’گاؤں کے بزرگوں‘‘ نے دیا تھا۔ لیکن ستمبر ۲۰۱۲ میں علاقہ کے سو سے زیادہ ماجھی نے ایک کونسل بلاکر ان متعدد سنتالوں کی زبانی اس قسم کے مظالم کی داستان سنی جو سورین کے گینگ نے برپا کیے تھے۔ پڈیل، جنھوں نے اس قسم کی چھوٹی کونسلوں کا مشاہدہ کیا ہے، کہتے ہیں کہ ’’میں نے عملی طور پر جمہوریت کی جتنی بھی شکلیں دیکھی ہیں، ان میں یہ سب سے بہترین مثالیں ہیں ۔۔۔۔۔ جہاں ہر کسی کو بولنے کی آزادی دی جاتی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اور حیرت انگیز موسیقی کا سماں جیسا بندھ جاتا ہے، جب وہاں لوگ آپس میں ایک ساتھ باتیں کرتے ہیں، اور جب کوئی ایک بولنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو بالکل خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور سب اسی کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ کونسل نے سورین سمیت اس جرم میں شامل سبھی مردوں کو اپنے قبیلہ سے باہر نکال دیا۔ اب چونکہ یہ سنتال ماجھی بی جے ایم ایم کے بینر تلے کام کر رہے ہیں، لہٰذا انھوں نے ایسی ریلیاں نکالنی شروع کردی ہیں، جن میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ریلی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ دی گئی اس کال کے خلاف نکالی گئی، جس میں انھوں نے سبل پور میں بملا کے معاملہ کے ردِ عمل میں قبائلی نظامِ حکومت پر پابندی لگانے کے لیے کہا تھا۔ ان قبائلیوں کا یہ ماننا ہے کہ سنتال لوگ پہلے جس سیلف۔ گورننس پر عمل کرتے تھے، اسے صحیح معنوں میں بحال کرکے ہی وہ اپنے قبیلوں کے کلچر اور سالمیت کو جدید دور کی برائیوں سے بچا پائیں گے، جنسی تشدد جس کا ایک حصہ ہے۔

سبھی ممالک کے آدیواسیوں کا یہی کہنا ہے کہ ان کی کمیونٹیز کو زوال سے بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ باہری دنیا کی مداخلت کا مقابلہ کیا جائے۔ اڈیشہ کے نیام گیری کے ڈونگریا کونڈھ قبیلہ نے مشترکہ طور پر پچھلے سال ویدانتا کو پہاڑ کے سب سے اوپری سرے پر کانکنی کرنے سے اس لیے روکنے کا فیصلہ کیا، کیوں کہ اس پہاڑ کے سب سے نچلے حصہ میں واقعی لانجی گڑھ کا آدیواسی کلچر مسخ ہو رہا تھا۔ اور جیسا کہ ایک ڈونگریا آدمی نے صحافی امیتابھ پاترا کو بتایا کہ سرکار اور کمپنی نے فورسز بھیجی ہیں، جو ’’ہمیں پیٹ رہے ہیں، ہمارے لمبے بالوں کو پکڑ کر ہمیں گھسیٹ رہے ہیں، ہمارے گھروں میں گھس رہے ہیں، ہماری عورتوں اور لڑکیوں پر حملے کر رہے ہیں، ہمارے مقدس مقامات پر جوتے پہن کر داخل ہو رہے ہیں اور ہمارے بھگوانوں کی بے حرمتی کر رہے ہیں، اور ہمارے قیمتوں سامانوں کو لوٹ رہے ہیں۔ کیا تعلیم یافتہ لوگ یہی سب کرتے ہیں؟‘‘

دنیا کے تمام ممالک کے آدیواسیوں کا جواب صرف ’’ہاں‘‘ ہی ہوگا۔ ڈیشوم ماجھی کو یہ جان کر کافی تکلیف ہوئی کہ سبل پور میں جو کچھ ہوا، اسے کئی اخباروں نے ’دورِ وسطیٰ‘ کی بربریت قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ سنتال کلچر نے عورتوں کے بعض حقوق کو ہمیشہ تسلیم کیا ہے، یہ حقوق تو انھیں مین اسٹریم سوسائٹی میں اب بھی حاصل نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۹ ویں صدی کے سوشل ریفارمر، ایشور چندر وِدیا ساگر کی پیدائش ایک سنتال گاؤں کی واحد بنگالی فیملی میں ہوئی تھی، جہاں انھوں نے بیواؤں کی دوسری شادی کرانے کی روایت دیکھی تھی، جس کی انھوں نے بعد میں ہندو سوسائٹی میں تبلیغ کی۔ ہیم بروم کہتے ہیں کہ وِدیا ساگر نے یہ بات کبھی کسی کو نہیں بتائی کہ ان کے ذہن میں یہ خیال کہاں سے آیا، کیوں کہ آج ہی کی طرح اُن دنوں بھی زیادہ تر ڈیکو آدیواسیوں کو جنگلی سمجھتے تھے، اور شاید اسی لیے انھیں اسے خارج کرنے کا مزید بہانہ مل گیا۔ ہیمبروم اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’سبل پور میں جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی طرح دورِ وسطیٰ کی بربریت نہیں تھی، بلکہ دورِ جدید کی بربریت تھی۔‘‘

مبینہ طور پر پس ماندہ سمجھی جانے والی سوسائٹی اپنی عورتوں کے ساتھ جس طرح پیش آتی ہے، اسے ہی بار بار تہذیب یافتہ بنانے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ اس کی مذہبی مثال ’ستی‘ ہے، جسے ۱۹ویں صدی کی برطانوی اشاعتوں میں وحشت ناک بتایا گیا اور اسے تفصیل سے بیان کیا گیا۔ ایک صدی کے بعد، برطانوی انٹیلی جنس نے پیسہ دے کر ایک ریسرچ کروائی، جو بعد میں ’مدر اِنڈیا‘ کے نام سے ۱۹۲۷ میں شائع ہوئی، یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب تھی، جو اَب نایاب ہے۔ اس میں ہندو مردوں کو بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والا بتایا گیا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں ہی تحریکیں بعض سچائیوں پر مبنی تھیں، لیکن ان کا اصلی مقصد عورتوں اور لڑکیوں کا دفاع کرنا نہیں، بلکہ شاہی حکومت قائم کرنے کی بنیاد ڈالنا تھا۔ جیسا کہ مؤرخین نے لکھا ہے، ’ستی‘ کی رسم کے تیزی سے پروان چڑھنے کی اصل وجہ زمین سے متعلق وہ قوانین تھے، جو انگریزوں نے ٹیکس وصول کرنے کے لیے بنائے تھے: بیواؤں کا قتل ان کے لیے فوری منافع کا سبب اس لیے تھا کیوں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی ملکیت والی زمینیں انگریزوں کو آسانی سے مل جاتی تھیں۔ اس بیماری کو جس چیز نے بڑھاوا دیا، یعنی نوآبادیت، اسے ہی بعد میں اس کا علاج کہا جانے لگا۔

پڈیل اور دیگر کو اندیشہ ہے کہ نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا میں سبل پور کے واقعہ کی جس طرح غلط رپورٹنگ کی گئی، جس میں ہندوستان کی قبائلی کونسلوں کی بربریت کو جان بوجھ کر دکھایا گیا، اس کے پیچھے بھی شاید یہی مقصد رہا ہو، کیوں کہ ہندوستان میں آدیواسیوں کے احتجاج کی وجہ سے آئندہ کانکنی میں ہونے والی لاکھوں، کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ پچھلے سال ڈونگریا کونڈھ کونسلوں کے ذریعہ لیے گئے فیصلہ نے لانجی گڑھ کامپلیکس میں ویدانتا کی ۱۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا۔ اس کامپلیکس کو نیام گیری سے کھدائی کے بعد حاصل ہونے والی خام دھات کی رِفائننگ کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قسم کی کونسل کے ذریعہ اجتماعی عصمت دری کا فرمان سنانے کی کہانی کو آسانی سے تسلیم کر لینا، اور ساتھ ہی اس حقیقت کو فراموش کردینا کہ ترقی کے نام پر آدیواسی سوسائٹی کو کیسے برباد کیا جا رہا ہے، کلاسیکی نوآبادیاتی مقصد کو پورا کر سکتا ہے: جس کے بعد ہو سکتا ہے کہ ان گرام سبھاؤں پر پابندی لگا دی جائے، جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور جو ڈیکو منافع کے لیے آدیواسیوں کی زمینوں پر مکمل قبضے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے گرِسٹ میڈیا  پر شائع ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Madhusree Mukerjee

مدھو شری مکھرجی ایک قلم کار، ایڈیٹر، محقق اور ’چرچِلس سیکریٹ وار‘ نامی کتاب کی مصنفہ ہیں۔ آپ اُن سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Madhusree1984

Other Stories by Madhusree Mukerjee