uploads/Articles/P. Sainath/Suicides are about the living not the dead /kamlabai_gudhe_seated.jpg

سماج کی نظروں میں کملا بائی ایک ’بیوہ‘ ہیں۔ خود اپنی نظر میں وہ ایک چھوٹی کسان ہیں جو زندہ رہنے اور اپنی فیملی کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ ملک بھر کی ان ایک لاکھ عورتوں میں سے بھی ایک ہیں جنھوں نے ۱۹۹۰ کے عشرے سے ہی زرعی خودکشی کے سبب اپنے شوہروں کو کھو دیا ہے


اپنی عمر کے ۶۰ ویں سال میں بھی کسان کے طور پر، کملا بائی گوڈھے جب بھی موقع ملتا ہے مزدوری کر لیتی ہیں اور وہ بھی نقد کے لیے نہیں، بلکہ اناج کے لیے۔ انھیں اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مل سکتا۔ اس لیے وہ مزدوری کرتی ہیں، بعض دفعہ ۱۲ گھنٹوں تک، صرف ۲۵ روپے کے جوار کے لیے۔ ان کے پاس اپنی ساڑھے چار ایکڑ کی زمین ہے، جس پر جب بھی وقت ملتا ہے، وہ کھیتی کے کام کرتی ہیں۔ جب کبھی ان کی فصل اچھی ہوتی ہے، تو ویسے میں زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ ان کی فصل کو جنگلی جانور کھا جاتے ہیں، کیوں کہ ان کا کھیت جنگل کے بالکل قریب ہے۔ کاٹن اور سویا بین کی فصل جتنی اچھی ہوتی ہے، جنگلی سور اور نیل گائے اس کی طرف اتنا ہی زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔ کھیت کے چاروں طرف باڑ لگانے کا مطلب ہے، اس پر ایک لاکھ روپے خرچ کرنا۔ اتنے پیسوں کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔

کملا بائی ان ایک لاکھ عورتوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے ۱۹۹۰ کے وسط سے ہندوستان کے زرعی بحران کے سبب زرعی خودکشی کی وجہ سے اپنے شوہروں کو کھو دیا ہے۔ وہ سب سے خستہ حال علاقے، وِدربھ میں رہتی ہیں۔ ان کا گاؤں لونساولا، وردھا ضلع میں پڑتا ہے، جو کہ اس علاقے کے ان چھ اضلاع میں سے ایک ہے، جس نے سال ۲۰۰۱ سے اب تک ۶ ہزار کسانوں کی خودکشیاں دیکھی ہیں۔ قرض کے بوجھ سے لدے ان کے شوہر پالس رام نے ایک سال قبل خود کشی کر لی تھی۔ اس کے بعد وہ اپنی زندگی کو گھسیٹ کر کسی طرح آگے بڑھاتی رہیں۔ وہ اپنے کھیت پر فصل اُگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ ایک ایسے گھر میں رہ رہی ہیں، جس کی آدھی چھت نہیں ہے اور دو دیواریں دوبارہ گرنے والی ہیں۔ اس ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی میں پانچ انسان رہتے ہیں۔ اس میں ان کا بیٹا، بہو، اور دو پوتے شامل ہیں۔ سماج کی آنکھوں میں کملا بائی ایک ’بیوہ‘ ہیں۔ لیکن خود اپنی نظروں میں، وہ ایک چھوٹی کسان ہیں جو اپنا اور اپنی فیملی کا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Suicides are about the living not the dead /gudhebai_standing.jpg

ایک بے زمین دلت کے پاس اپنا کھیت کیسے ہو سکتا ہے؟ لہٰذا، وہ اپنی زندگی یوں ہی بسر کر رہی ہیں۔ کملا بائی کی زندگی کا ہر ایک لمحہ ایک جدوجہد رہا ہے۔ ایک زرعی مزدور کی شکل میں انھوں نے اپنی زندگی کی شروعات روزانہ کی ۱۲۔۱۰ روپے کی اجرت کے طور پر کی۔ ’’یہ اُس زمانے میں ایک بڑی رقم ہوا کرتی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں، یہ تقریباً چار دہائی پہلے کی بات ہے۔ اپنی اس آمدنی میں انھوں نے تھوڑا اضافہ کسانوں کو مویشیوں کا چارہ بیچ کر کیا۔

’’مجھے یاد ہے کہ کس طرح میری ماں گھنٹوں چارہ اکٹھا کرتی تھیں اور اسے مفت میں بیچ دیا کرتی تھیں،‘‘ ان کا بیٹا بھاسکر بتاتا ہے، جو کھیتی کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے منصوبہ کا مرکز ہے۔ ’’ایک مٹھی چارہ کے مجھے دس پیسے ملتے تھے،‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’لیکن اس کے لیے میں کئی چکر لگاتی تھی، چارہ بیچ کر میں روزانہ دس روپے کما لیتی تھی۔‘‘ یعنی، انھیں گنتی بھی نہیں آتی تھی کہ انھوں نے کتنے کلومیٹر کے چکر لگائے روزانہ سو مٹھی چارے بیچنے کے لیے۔ تاہم، ان کی روزانہ کی ۱۸۔۱۶ گھنٹے کی محنت رنگ لائی۔ اپنی اس معمولی آمدنی سے انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر کچھ پیسے بچائے اور اس سے جنگل کے کنارے ایک زمین خرید، جو اس زمانے میں کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا۔ یہ تقریباً ۴۰ سال پہلے کی بات ہے۔ ساڑھے چار ایکڑ زمین کے لیے انھوں نے ۱۲ ہزار روپے ادا کیے۔ اس کے بعد اس فیملی نے غلاموں کی طرح اس مشکل زمین پر کھیتی شروع کی۔ ’’میرا دوسرا بیٹا بھی تھا، لیکن اس کی موت ہو گئی۔‘‘

اپنی عمر کے ۶۰ ویں سال میں چل رہی کملا بائی اب بھی روزانہ ایک لمبی دوری پیدل چلتی ہیں۔ ’’کیا کیا جائے؟ کھیت ہمارے گاؤں سے چھ کلومیٹر دور ہے۔ جب مجھے کام ملتا ہے، تو میں ایک مزدور کے طور پر کام کرتی ہوں۔ اس کے بعد میں کھیت پر جاکر بھاسکر اور ونیتا کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔‘‘ وہ اتنی بوڑھی ہو چکی ہیں کہ سرکاری پروجیکٹ کی جگہوں پر انھیں کام نہیں مل سکتا۔ اور کسی بھی طرح اس اکیلی عورت اور ایک بیوہ کو لے کر لمبی چوڑی امیدیں ہیں۔ اس لیے انھیں جو بھی کام ملتا ہے، وہ اسے قبول کر لیتی ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Suicides are about the living not the dead /kamlabai_and_varsha.jpg

اپنے درمیان، اس فیملی نے کھیت کی اچھی دیکھ بھال کی ہے۔ یہ کھیت دیکھنے میں اچھا ہے اور زرخیز ہے۔ ’’اس کنویں کو دیکھئے،‘‘ وہ فیملی کی محنت سے بنائے گئے اس بڑے کنویں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’اگر ہم اس کی صفائی اور مرمت کر لیں، تو اس سے ہمیں کافی پانی مل سکتا ہے۔‘‘ لیکن، اس کے لیے انھیں کم از کم ۱۵ ہزار روپے کی ضرورت پڑے گی۔ یہ رقم اس سے الگ ہے، جو انھیں کھیت کے چاروں طرف باڑ لگانے کے لیے ایک لاکھ خرچ کرنے پڑیں گے۔ وہ اپنے کھیت کے نچلے سرے پر ایک ایکڑ کو پانی جمع کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہو گا مزید پیسے خرچ کرنا۔ بینک سے قرض لینا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ اور اپنے گرتے ہوئے گھر کی مرمت کے لیے انھیں ۲۵ ہزار روپے الگ سے چاہئیں۔ ’’میرے شوہر نے فصل برباد ہونے کی وجہ سے خودکشی کر لی، جس کی وجہ سے ہم ڈیڑھ لاکھ روپے کے قرض دار ہو گئے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ انھوں نے اس میں سے کچھ رقم واپس ادا کردی ہے اور فیملی کا گزارہ اس کے بعد اس پیسے سے ہوا، جو انھیں بطور معاوضہ ایک لاکھ روپے ریاستی حکومت کی طرف سے ملے تھے۔ لیکن سرکاری اہل کار پیسے دینے میں اب بھی پریشانی کھڑی کرتے ہیں۔ ’’ہمارا سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ لیکن، ہماری فصلیں کئی برسوں تک ناکام ہوتی رہیں، جس کی وجہ سے ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔‘‘

لاکھوں دیگر لوگوں کی طرح ہی، ان کی فیملی بھی دہائیوں کے بعد پیدا ہونے والے اس زرعی بحران کی وجہ سے کافی متاثر ہوئی ہے۔ بیج اور کھاد وغیرہ کی لگاتار بڑھتی قیمت، پیداوار کی گھٹتی قیمت، پیسے کی کمی، سرکاری مدد نہ ملنا وغیرہ نے ان کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ’’یہی حال، گاؤں میں رہنے دیگر تمام لوگوں کا بھی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ پچھلے سال بھی پوری فصل برباد ہو گئی تھی۔ انھیں کافی نقصان اٹھانا پڑا، کیوں کہ بھاسکر نے بی ٹی کاٹن لگائی تھی۔ ’’ہمیں اس کی صرف دو کوئنٹل پیداوار ملی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

سرکار نے اس نقصان میں مزید اضافہ کر دیا۔ پچھلے سال کے اخیر میں، ریاستی حکومت نے انھیں ’’ریلیف پیکیج‘‘ سے ’’فائدہ‘‘ اٹھانے کے لیے چنا۔ اس کے تحت کملا بائی کو ’آدھا جرسی‘ گائے خریدنے کے لیے مجبور کیا گیا، جب کہ وہ اسے خریدنا نہیں چاہتی تھیں۔ حالانکہ سرکار کی طرف سے اس میں کافی سبسڈی یا رعایت دی گئی، لیکن انھیں اس کے لیے اپنے حصہ میں سے ساڑھے پانچ ہزار روپے اب بھی ادا کرنے ہیں۔ ’’مویشی نے فیملی کے ہم تمام لوگوں کے مقابلے کہیں زیادہ چارہ کھایا،‘‘ انھوں نے ہمیں بتایا۔ (دی ہندو، ۲۳ نومبر، ۲۰۰۶)۔ اور ’’اس نے بہت کم دودھ دیا۔‘‘

اُلٹا کرایہ

اس کے بعد سے ہی، ’’میں نے گائے کو دوبار واپس لوٹا ہے، لیکن وہ اسے ہمارے پاس پھر سے لے کر آ جاتے ہیں،‘‘ وہ تھک ہار کر کہتی ہیں۔ وہ یہ کہتے ہوئے اسے دوسروں کو تحفہ میں دے دیتی ہیں کہ ’’ہم اس کا پیٹ نہیں پال سکتے۔‘‘ اس لیے اب ’’میں اس مویشی کی دیکھ بھال کرنے کے بدلے اپنے پڑوسی کو ہر ماہ ۵۰ روپے دے رہی ہوں۔‘‘ ایک طرح سے اُلٹا کرایہ۔ سمجھوتہ یہ ہوا ہے کہ اگر گائے نے دودھ دینا شروع کیا، جیسا کہ اسے دینا چاہیے، تو انھیں اس کا آدھا ملے گا۔ یہ تب ممکن ہے، جب مستقبل میں ان کی خواہش کے مطابق سارا کام ہو۔ فی الحال تو کملا بائی اس گائے کی دیکھ بھال کے لیے پیسے ادا کر رہی ہیں، جو سرکار نے انھیں اس وعدہ کے ساتھ دیا تھا کہ گائے ان کی دیکھ بھال کرے گی۔

لیکن، ابھی تک ان کی امید پوری نہیں ہوئی ہے، ٹوٹی ہی ہے۔ انھیں کام نہ ملنے پر اب بھی اپنے کھیت پر جانے کے لیے ہر روز لمبی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ آج ان کے چھوٹے چھوٹے لیکن توانائی سے بھرپور پوتے ان کے ساتھ اس سفر پر روانہ ہیں۔ ان کی زندگی اور مستقبل کو سنوارنا ہی آج اس بوڑھی عورت کے لیے سب سے بڑا کام ہے۔ ہمیشہ کی طرح، آج بھی وہ سر اٹھا کے چل رہی ہیں، لیکن انھیں دیکھنے کے بعد وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پاتی ہیں۔ کملا بائی نے فیصلہ کیا ہے کہ خودکشی مردہ لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ یہ زندوں کے لیے ہے۔ اور ان کے لیے وہ جدوجہد کر رہی ہیں۔

یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو میں ۲۱ مئی، ۲۰۰۷ کو شائع ہوا تھا۔

(http://www.hindu.com/2007/05/21/stories/2007052103541100.htm)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath