/media/uploads/Articles/P. Sainath/Weaving a life in Anantapur /dsc02154.jpg
/media/uploads/Articles/P. Sainath/Weaving a life in Anantapur /dsc02154.jpg

جن کسانوں نے خود کشی کر لی، ان کے اہل خانہ پریشانیوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں


آپ انھیں صبح کے ۴ بجے بھی مگّامو (کرگھے) پر کام کرتا ہوا پائیں گے۔ ان کے اپنے دو بچے بھی اس وقت ان کے بغل میں لوم یا کرگھے پر کام کرتے ہوئے ملیں گے۔ ’’یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بجلی کب آتی ہے،‘‘ وہ معذرت خواہانہ انداز میں مسکراتی ہیں۔ ’’ان ساڑیوں کو وقت پر پورا کرنے کے لیے ہمیں ہر روز کئی کئی گھنٹے کام کرنے پڑتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں پر کتنا اندھیرا ہے۔‘‘

’’یہاں اندر‘‘ نو فیٹ لمبی اور آٹھ فیٹ چوڑی سے زیادہ جگہ نہیں ہے۔ اس میں دو کرگھے رکھے ہوئے ہیں، ساتھ ہی کرشنمّا اور ان کے دو بچے بھی اسی میں رہتے ہیں۔ کرگھے، جو گھر کے بڑے حصے کو گھیرے ہوئے ہیں، ان سوداگروں نے لگائے تھے، جنہوں نے ان کے پاس خام مال چھوڑا تھا اور جب یہ مال تیار ہو جائے گا تو وہ اسے یہاں سے اٹھا کر لے جائیں گے۔ یعنی ان خوبصورت ساڑیوں کو لے جائیں گے، جنہیں کرشنمّا اور ان کی بیٹی امیتا پہننے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتیں۔ تیار ہونے پر انھیں ایک ساڑی کے ۶۰۰ روپے ملیں گے۔ چونکہ ان کا بیٹا پولنّا بھی ہاتھ بٹا رہا ہے، اس لیے وہ ’’ایک مہینہ میں دو ساڑیاں بنا سکتے ہیں۔ یعنی ہمیں فی الحال اتنا ہی کام ملا ہے۔‘‘ اور وہ اس کام کو حیران کن طریقے سے انجام دیتے ہیں، جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اندھیرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کرگھے خراب ہو جاتے ہیں، اور بعض دفعہ بجلی بھی ساتھ نہیں دیتی۔ اننتاپور ضلع کے سُبرایانا پلّی گاؤں کی یہی زندگی ہے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Weaving a life in Anantapur /dsc02183.jpg

’’اسی لیے، جب بھی بجلی آتی ہے، ہمیں کام کرنا پڑتا ہے، وقت چاہے جو ہو رہا ہو،‘‘ کرشنمّا وضاحت پیش کرتی ہیں۔ اور انھیں یہ سارا کام دوسرے کرگھے پر کام کر رہے اپنے بچوں کی مدد کرتے ہوئے ساتھ ساتھ کرنے پڑتے ہیں۔ یہ کپڑوں کی دھلائی، صفائی اور کھانا پکانے کے کام کے علاوہ ہے۔ بعض دفعہ انھیں دوسرا کام بھی مل جاتا ہے، لیکن مزدوری کرنے سے انھیں ایک دن میں ۲۵ روپے سے زیادہ نہیں ملتے۔ ’’ایک لڑکی کے طور پر میں نے بُنائی کا کچھ کام سیکھا تھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ دریں اثنا، کرگھے پر گھنٹوں کھڑے رہنے کی وجہ سے ان کی ٹانگیں سوج گئی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے کام کو ہلکا اور آسان بنانے کے لیے بھی ایسا کرتی رہتی ہیں۔ دونوں بچے اسکول کی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ چکے ہیں۔ گھر سے چار کلومیٹر دور کے اسکول کو پولنّا نے ۱۴ سال کی عمر میں چھوڑ دیا تھا۔ اور امیتا، جو ابھی ۱۵ سال کی ہے، کو اسکول کی یاد بہت ستاتی ہے، لیکن وہ اپنی ماں کی خاطر اس خواہش کو زبان پر نہیں لاتی۔

کرشنمّا ہندوستان بھر کی ان ایک لاکھ عورتوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے گزشتہ ۱۴ برسوں کے دوران زرعی خودکشی کی وجہ سے اپنے شوہروں کو کھو دیا ہے۔ کسانوں نے سب سے زیادہ خودکشی جن علاقوں میں کی، ان میں سے ایک اننتاپور ضلع بھی ہے۔ ان کے شوہر نیتھی شری نواسولو نے ۲۰۰۵ میں تب خودکشی کر لی تھی، جب اپنی ساڑھے تین ایکڑ زمین پر انھوں نے ۶۰ ہزار روپے کی لاگت سے جو چار کنویں کھدوائے تھے، ان سے پانی نہیں نکلا۔ ’’قرض دینے والے میرے پاس آئے اور پیسہ لوٹانے کو کہا،‘‘ کرشنمّا بتاتی ہیں۔ ’’میں پیسے لوٹا نہیں سکتی تھی۔ میرے پاس پیسے کہاں ہیں؟‘‘ سرکار سے بھی کوئی راحت نہیں ملی۔ ’’نہیں، ان کی موت کے بعد مجھے کوئی معاوضہ نہیں ملا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ کرشنمّا کا کھیتی پر اب بھروسہ نہیں رہا۔ ’’ہم نے بہت کچھ کھو دیا، کئی سال برباد ہو گئے۔‘‘ انھیں پچھتانے کی بھی فرصت نہیں ہے۔ اپنی فیملی ہے، جس کا پیٹ بھرنا ہے اور وہ یہ کام کسی بھی قیمت پر کرنے کو تیار ہیں۔

پاروتی ملپّا نے چِنّا مُشتیورو میں اپنا ٹیلرنگ اسکول قائم کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس جانباز عورت نے سال ۲۰۰۳ میں خودکشی سے قبل اپنے شوہر کو کافی سمجھایا تھا۔ انھوں نے اپنے شوہر سے کہا تھا کہ قرض اور مایوسی کی وجہ سے پورے گاؤں کی یہی حالت ہے اور ان سے اپیل کی تھی کہ وہ قرض دینے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آئیں۔ لیکن، دُگّل ملپّا نے آخرکار خودکشی کر ہی لی۔ تب پاروَتی نے بیلاری، کرناٹک میں واقع اپنی ماں کے گھر نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے وہیں ٹھہرنے اور اپنی تین بیٹیوں ۔ بِندو، وِدیا اور دِویا کو پڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ان بچیوں کی عمر اس وقت بالترتیب چار سال، سات سال اور نو سال ہے۔ پاروَتی خود اپنے گاؤں کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی عورت ہیں، انھوں نے ۱۰ویں کلاس پاس کر رکھا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Weaving a life in Anantapur /dsc02133.jpg

انھوں نے اپنی ۱۲ ایکڑ زمین کو پٹّے پر دے دیا اور کپڑے کی سلائی دوسروں کو سکھانے کا فیصلہ کیا۔ ’’میں نے بچپن میں کچھ سِلائی کی تھی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’میں نے محسوس کیا کہ میں اسے کام کے طور پر اپنا سکتی ہوں۔‘‘ آخر ایسا ہی کیا۔ یہ ایک طرح سے خود کی مزدوری تھی اور ظاہر ہے کہ انھیں ملپّا کا قرض بھی چُکانا تھا۔ انھوں نے وہ بھی کیا، کچھ پیسے معاوضہ میں سے ادا کیے جو انھیں شوہر کی موت کے بعد ملے تھے اور باقی پیسے اپنی مویشیوں اور دیگر اثاثوں کو بیچ کر ادا کیے۔ چونکہ وہ اپنی تین بچیوں کے ساتھ اکیلی رہ رہی تھیں، اس لیے انھیں سب کی حفاظت اور پرورش و پرداخت کرنی پڑی۔ دو بڑی لڑکیاں اسکول میں اچھا کر رہی ہیں۔ ان میں سے ایک نے حال ہی میں سائنس کے امتحان میں ۵۰ میں سے ۴۹ نمبرات حاصل کیے ہیں۔ اور پاروَتی کا ارادہ ہے کہ ’’وہ جہاں تک پڑھنا چاہیں‘‘ یہ انھیں پڑھانے کو تیار ہیں۔

سلائی کا ہی کام کیوں؟ انھوں نے گاؤں کا بغور مطالعہ کیا اور پھر یہ فیصلہ لیا۔ ’’یہاں پر تقریباً ۸۰۰ گھر ہیں۔ ہر گھر میں ایک لڑکی ضرور ہے۔ لہٰذا، یہ بات بھلے ہی سچ ہو کہ مجھے سلائی کے اس کام سے بہت معمولی پیسہ ملتا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سلائی کا کام سکھانے سے کافی آمدنی ہو سکتی ہے۔ میرے پاس استطاعت سے زیادہ لڑکیاں سیکھنے آتی ہیں۔‘‘ اور اسی لیے، تھوڑی مدد سے، انھوں نے سلائی کی کئی مشینیں خرید لی ہیں اور اب وہ اپنا ’’اسکول‘‘ کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’یہ لڑکیاں جب اسکول میں ہوتی ہیں، تب میں ڈھیر سارا کام کر سکتی ہوں۔ جب یہ گھر پر ہوتی ہیں، تو تھوڑی مشکل ہوتی ہے۔‘‘

’’ان کی ہمت کو داد دینی پڑے گی،‘‘ ملّا ریڈی کہتے ہیں، جو اننتا پور میں رورل ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کے ایکولوجی سنٹر کے ڈائرکٹر ہیں۔ ان کی یہ تنظیم لڑکیوں کی تعلیم میں مدد کرتی ہے۔ ’’تین چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ یہاں قیام کرنا اور اتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے یہ سب کیا۔ انھیں اپنے مقصد کا بخوبی علم ہے۔ اور وہ اپنا مستقبل اپنے بچوں میں دیکھ رہی ہیں۔ وہی ان کے لیے حوصلہ کا باعث ہیں۔‘‘

اسی ضلع میں سینکڑوں پاروتی اور کرشنمّا ہیں، جن کے لیے پریشانیاں مصیبت بن کر آئیں۔ بہت سی عورتوں نے اپنی زمینیں اور مویشی بیچ دیے، تاکہ قرض کی رقم لوٹائی جا سکے، لیکن اب تک ان کا قرض اترا نہیں ہے۔ بہت سی عورتوں نے اپنے بچوں کو اسکول چھوڑتے دیکھا ہے۔ بہت سی عورتیں کام پر واپس لوٹ رہی ہیں، مزدوری کر رہی ہیں اور اگر انھیں قومی دیہی روزگار گارنٹی پروگرام میں کام بھی ملا، تو اجرت بہت معمولی ملے گی۔ زرعی بحران کے شکار دیگر علاقوں کی عورتوں کی طرح ہی، خودکشی جھیل چکے ان گھرانوں میں بھوک مری اور کڑی محنت لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ بعض گھروں میں اسی مایوسی کی وجہ سے دو دو خودکشی ہوئی ہے۔ ملک بھر کی ایسی ایک لاکھ عورتیں زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہی ہیں، تاکہ ان کی اگلی نسلیں بہتر زندگی گزار سکیں۔ جیسا کہ پاروَتی ملپّا کا کہنا ہے: ’’یہ سب بچوں کے لیے ہے، سر۔ ہمارا وقت تو گزر چکا ہے۔‘‘

یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو میں ۲۶ جون، ۲۰۰۷ کو شائع ہوا تھا۔

(http://www.hindu.com/2007/06/26/stories/2007062650641100.htm)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: