’’میں ایک سال میں کتنے چاقو بیچ سکتا ہوں؟‘‘ کوٹاگیری قصبہ کی گلیوں میں ٹن کی چھت والی اپنی بھٹّی میں بیٹھے این موہنا رنگن سوال کرتے ہیں۔ ’’چائے کے لیے، انھیں پتیوں کو کاٹنے کے لیے صرف چھوٹے چاقو کی ضرورت ہوتی ہے۔ زراعت کے لیے لوہے سے بنے بڑے ہل اور پانچہ کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن آج کھیتی کم ہو رہی ہے اور چائے کے باغ زیادہ لگائے جا رہے ہیں۔ کئی دن تو ایسا ہوتا ہے جب میں ورکشاپ آتا ہوں، لیکن کوئی کام نہیں ہوتا...‘‘

کوٹا درج فہرست ذات کے آخری بچے کولِّیلوں یا لوہاروں میں سے ایک ۴۴ سالہ رنگن بھی ہیں۔ وہ پُڈّو کوٹاگیری میں رہتے ہیں، جو کوٹاگیری سے کچھ کلومیٹر دور تمل ناڈو کے نیلگری ضلع کی ایک بستی ہے۔ ’’میں پچھلے ۲۷ سال سے یہ کام کر رہا ہوں، اور مجھ سے پہلے میرے والد، میرے دادا اور ان کے والد اور دادا جی بھی یہی کام کیا کرتے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’یہ وہ کام ہے جو ہماری فیملی کے ذریعہ نہ جانے کتنی نسلوں سے کیا جا رہا ہے۔‘‘

لیکن کئی نسلوں پرانا یہ کام چائے باغات کے پھیلنے سے ختم ہوتا جا رہا ہے – ۱۹۷۱ سے ۲۰۰۸ تک (تازہ ترین سال جس کے لیے اعداد و شمار دستیاب ہیں)، نیلگری میں چائے کے علاقے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور انڈین ٹی ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ۲۲۶۵۱ ہیکٹیئر سے بڑھ کر ۶۶۱۵۶ ہیکٹیئر ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے لوہار کے کام کا سست رفتاری سے خاتمہ۔

N. Mohana Rangan beating the red hot iron with his hammer
PHOTO • Priti David
N. Mohana Rangan's tools
PHOTO • Priti David

این موہنا رنگن: ’کئی دن تو ایسا بھی ہوتا ہے جب میں ورکشاپ آتا ہوں، لیکن کوئی کام نہیں ہوتا...‘

صارفین کے بغیر وہ کتنے دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا رنگن کے لیے تکلیف دہ ہے۔ ’’مجھے لوہار کا کام آتا ہے۔ ہم کوٹا ہمیشہ سے یہ کرتے آئے ہیں۔ لیکن زمانہ بدل گیا ہے، اگر میرے بیٹے کو کہیں اور روزگار ملتا ہے تو وہ چلا جائے گا۔‘‘ ان کا بیٹا وائیگُنڈ ۱۰ سال کا ہے اور بیٹی انّپورنی ۱۳ سال کی؛ ان کی بیوی سومتی لکشمی ایک پجارن ہیں۔ رنگن خود بھی ایک پجاری ہیں اور اپنے لوہارخانہ میں کام کرتے ہوئے بھی انھیں روایتی کوٹا پوشاک ہی پہننی پڑتی ہے۔

رنگن ۳۰ سے زائد انواع کے چاقو، ہل، ہنسیا اور کاٹنے کے دیگر اوزار بنا سکتے ہیں؛ ان کے صارفین میں شامل ہیں چائے کے باغات میں کام کرنے والے زرعی مزدور، کسان اور پیڑ کاٹنے والے اور کچھ قصائی اور باغباں۔ ’’بارش آنے اور بوائی شروع ہونے کے بعد، مجھے بازار کے دنوں [اتوار اور پیر] میں آرڈر ملتے ہیں۔ میرے ذریعہ بنائے گئے اوزاروں کا استعمال زمین کو صاف کرنے، برابر کرنے، گھاس پھوس نکالنے، چائے کی جھاڑیوں اور درخت کی شاخوں کو کاٹ کر چھوٹا کرنے میں کیا جاتا ہے۔ جون سے دسمبر تک میں ایک مہینہ میں ۱۲ ہزار روپے تک کما سکتا ہوں، اور پھر یہ سال کے باقی دنوں میں گھٹ کر ایک تہائی یا اس سے بھی کم رہ جاتا ہے۔ اس سے خرچ چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

لاگت کم کرنے کے لیے، رنگن نے ہاتھ سے چلنے والی چرخی تیار کی ہے، جس سے آگ کو ہوا دی جاتی ہے۔ ’’لوہارخانہ میں، ایک آدمی کا کام آگ کو ہوا کرنا اور لوہے کو پگھلانے کے لیے اس کا درجہ حرارت بڑھانا ہے۔ میں نے سائیکل کے پہیہ سے چرخی کے طور پر ایک دھونکنی بنائی۔ اب ایک ہاتھ سے میں آگ کو ہوا دے سکتا ہوں، اور دوسرے ہاتھ سے لوہے کو پکڑ کر گرم کر سکتا ہوں۔‘‘

نسلوں پرانا یہ کام چائے باغات کے پھیلنے کے سبب ختم ہوتا جا رہا ہے – ۲۰۰۸ تک، نیلگری میں چائے کے علاقے میں تین گنا اضافہ ہوا تھا

ویڈیو دیکھیں: رنگن اپنی کوٹاگیری ورکشاپ میں کام کرتے ہوئے

اپنی ایجاد کے بغیر، رنگن کو ایک معاون مقرر کرنا ہوتا۔ لیکن زیادہ تر مقامی مزدور چائے کے باغات میں کام کرتے ہیں، اور وہ انھیں ۵۰۰ روپے یومیہ تنخواہ بھی نہیں دے پاتے جو انھیں وہاں ملتا ہے۔

کوٹا، جو ایک درج فہرست ذات ہے، روایتی طور سے نیلگری کے کاریگر ہیں۔ اس برادری میں بُنکر، کمہار، لوہار، سونار، بڑھئی، گھر بنانے والے، ٹوکری بنانے والے اور چمڑے کا کام کرنے والے شامل ہیں۔ ’’پیدائش سے لے کر موت تک، ہم کسی بھی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں، اپنی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ نیلگری کے دیگر لوگوں کی بھی،‘‘ بینک کے ایک سابق منیجر اور اب کوٹا پجاری، ۵۸ سالہ آر لکشمنن کہتے ہیں۔ ’’ہم اپنے پروڈکٹ دیگر برادریوں کو بیچتے تھے۔ وہ ہمیں لوہے کے اوزاروں کے بدلے اناج اور سوکھی پھلیاں دیتے تھے۔ زیادہ تر اوزار بنیادی طور پر زراعت کے لیے ہوتے تھے اور کچھ درختوں کو کاٹنے چھانٹنے کے لیے۔ ان پہاڑیوں میں، گھر بنانے کے لیے لکڑی بنیادی سامان ہوتا تھا۔ درختوں کو کاٹنے کے لیے، بیم اور ستون کی لمبائی کو سائز دینے کے لیے اور بڑھئی گیری کے لیے – ہم نے ہر کام کے لیے اوزار بنائے۔‘‘

لیکن آج، نیلگری ضلع میں ۷۰ فیصد کنبے اینٹ، دھات، سیمنٹ اور کنکریٹ سے بنے پختہ مکانوں میں رہتے ہیں اور ۲۸ فیصد نیم-مستقل ڈھانچوں (بانس، مٹی اور دیگر سامانوں سے بنے مکانوں) میں رہتے ہیں۔ صرف ۱ء۷ فیصد لوگ ہی جنگلوں کے سامان سے بنائے گئے گھر میں رہتے ہیں، جس کے لیے لوہار کے ہنر کی ضرورت پڑتی تھی۔ خود پُڈّو کوٹاگیری میں، جہاں رنگن اور لکشمنن دونوں ہی رہتے ہیں، صرف سیمنٹ کے گھر ہیں۔

Kollel Rangan is also a Kota priest and must wear the traditional Kota dress even while working at his smithy. He is holding a large size sickle and rake once used to clear the hills for agriculture.
PHOTO • Priti David
R. Lakshmanan, 58, a former bank manager and now a Kota pujari (priest).
PHOTO • Priti David

بائیں: رنگن کے ہاتھ میں ایک بڑی درانتی اور پانچہ ہے، جس کا استعمال پہلے کھیتی کے لیے پہاڑیوں کو صاف کرنے میں کیا جاتا تھا۔ دائیں: آر لکشمنن: ’...ہمارے اوزاروں نے زرعی زمین کو چائے باغات میں تبدیل کرنے میں مدد کی، اور ہمارے کاروبار کو ختم کر دیا‘

رنگن نے اپنے والد سے ٹریننگ لی اور اُن دنوں کو یاد کرتے ہیں جب ان کی فیملی کے ذریعہ پانچ اور لوہاروں کو کام پر رکھا گیا تھا۔ ’’میرے والد ایک موجد کے طور پر مشہور تھے اور انھوں نے لوہے کے ایسے اوزار ڈیزائن کیے جس سے کسی بھی زمین پر چائے کی جھاڑیاں لگائی جا سکتی تھیں،‘‘ وہ فخر سے کہتے ہیں۔ اپنی زمین کو زراعت سے چائے کی فصل میں تبدیل کرنے والے کئی آدیواسیوں کے لیے، ان کی مہارت ان کی ضرورت کے بالکل موافق تھی اور وہ بڑی تعداد میں ان سے یہ اوزار خریدنے آتے تھے۔ ’’یہ ہمارے اوزار ہی تھے جو زرعی زمین اور جنگل کو چائے کے باغات میں بدلنے میں مدد کرتے تھے، اور اسی عمل میں خود ہمارا کاروبار ہی ختم ہو گیا،‘‘ لکشمنن بتاتے ہیں۔

رنگن ابھی بھی مانسون میں کچھ اوزار بیچتے ہیں، لیکن باقی وقت میں کوئی کام نہیں ہوتا، اس لیے انہی کچھ مہینوں میں انھیں پیسہ کمانا پڑتا ہے۔ ’’ایک دن میں، میں لکڑی کے ہینڈل والے دو بڑے چاقو یا درانتی [درخت کاٹنے کے لیے] بنا سکتا ہوں۔ میں انھیں [کل] ۱۰۰۰ روپے میں بیچ سکتا ہوں۔ میری تعمیری لاگت تقریباً ۶۰۰ روپے ہے۔ لیکن مجھے اپنے مصروف موسم میں بھی، ایک دن میں دو چاقو بیچنے میں مشکل ہوتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

گھٹتی فروخت اور غیریقینی مستقبل کے باوجود، رنگن ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ’’حالانکہ مجھے زیادہ پیسہ نہیں مل رہا ہے، لیکن میں اس کوئلہ، لوہا اور دھونکنی کے ساتھ کی جانے والی اپنی ایجاد کا مزہ لے سکتا ہوں۔ کیوں کہ، میں یہی سب کام تو جانتا ہوں۔‘‘

مضمون نگار منگلی شنموگم کا ان کے تعاون کے لیے اور ترجمہ میں مدد کرنے کے لیے آر لکشمنن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Priti David

پریتی ڈیوڈ بنگلور میں مقیم ایک قلم کار، ایڈیٹر اور ٹیچر ہیں۔ ہائی اسکول میں ۱۰ برسوں تک انگلش اور ایکنامکس پڑھانے کے بعد، وہ رپورٹنگ میں لوٹ آئی ہیں اور دیہی برادریوں، دستکاری، تعلیم، اور سفر کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئی ہیں۔

Other stories by Priti David