01-PK006-1 19-PS-Where there is a Wheel.jpg

اریوولی کے اس ’سائیکلنگ ٹریننگ کیمپ‘ میں اتوار کے روز سیکھنے والی عورتیں بہترین مظاہرہ کر رہی تھیں۔ ٹیچرس بھی خوبصورت لباسوں میں وہاں موجود تھیں


سماجی مہم کے طور پر سائیکل چلانا؟ عجیب سا لگتا ہے۔ شاید۔ لیکن، تمل ناڈو کے پڈوکوٹئی ضلع کی نوخواندہ ہزاروں دیہی عورتوں کے لیے یہ کوئی عجیب سی بات نہیں ہے۔ لوگ طریقے نکال لیتے ہیں، بعض دفعہ متجسس لوگ، اپنی پس ماندگی کا رونا روتے ہیں، غصے کا اظہار کرتے ہیں، ان بندشوں پر چوٹ کرتے ہیں جس نے انھیں جکڑ رکھا ہے۔

ہندوستان کے غریب ترین اضلاع میں سے ایک، یہاں پر سائیکلنگ کو ایسا لگتا ہے دیہی عورتوں نے اپنے وسیلہ چن لیا ہے۔ گزشتہ ۱۸ ماہ کے دوران، ایک لاکھ کے قریب دیہی عورتوں نے، جن میں سے زیادہ تر نوخواندہ ہیں، سائیکل چلانے کو اپنی آزادی، خود مختاری اور تحریک کی ایک علامت بنا لیا ہے۔ اگر ہم ۱۰ سال سے کم عمر کی لڑکیوں کو اس میں سے باہر کر دیں، تو اس ضلع کی تمامم دیہی عورتوں میں سے ایک چوتھائی نے سائیکل چلانا سیکھ لیا ہے۔ اور ان میں سے ۷۰ ہزار عورتوں نے اپنے اس نئے ہنر کا فخریہ انداز میں مظاہرہ کرنے کے لیے عوامی ’نمائش و مقابلے‘ میں حصہ لیا ہے۔ اور ٹریننگ کیمپوں اور سیکھنے کا سلسلے اب بھی جاری ہے۔

دیہی پڈوکوٹئی میں، نہایت ہی قدامت پرست بیک گراؤنڈ والی نوجوان مسلم عورتیں اپنے سائیکلوں پر سوار ہوکر سڑکوں سے تیزی سے گزر رہی ہیں۔ بعض نے پہیے کی وجہ سے اپنے پردے کو ترک کر دیا ہے۔ جیملہ بی بی نام کی ایک نوجوان مسلم لڑکی، جس نے سائیکل چلانا شروع کیا ہے، نے مجھ سے کہا، ’’یہ میرا حق ہے۔ ہم کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ اب مجھے بس کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ میں جانتی ہوں کہ جب میں نے سائیکل چلانا شروع کیا تھا تو لوگوں نے بھدے فقرے کسے تھے، لیکن میں نے کوئی توجہ نہیں دی۔‘‘

فاطمہ سیکنڈری اسکول کی ٹیچر ہیں، ان کو سائیکل چلانے کا نشہ اس قدر ہے کہ وہ ہر شام کو آدھے گھنٹہ کے لیے ایک سائیکل کرایے پر لیتی ہیں (وہ ابھی تک سائیکل نہیں خرید سکی ہیں، جس کی قیمت ۱۲۰۰ روپے ہے)۔ انھوں نے کہا: ’’سائیکل چلانے میں آزادی ہے۔ اب ہم کسی پر منحصر نہیں ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں چھوڑ سکوں گی۔‘‘ جمیلہ، فاطمہ اور ان کی سہیلی اواکنّی، جن میں سے سبھی کی عمر ۲۰ویں سال میں ہے، نے اپنی برادری کی بہت سی دیگر نوجوان عورتوں کو سائیکل چلانے کا ہنر سکھایا ہے۔

سائیکلنگ اس پورے ضلع میں اب عام بات ہو چکی ہے۔ خواتین زرعی کامگار، بھٹہ مزدور اور گاؤں کی طبی نرسیں ایسی شوقینوں میں شامل ہیں۔ اس مشغلہ میں بلواڑی اور آنگن واڑی میں کام کرنے والی عورتیں، ہیرے تراشنے والی اور اسکول ٹیچرس بھی شامل ہیں۔ اور گرام سیویکائیں اور مڈ ڈے میل ورکرس بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ زیادہ اکثریت ان کی ہے، جو ابھی ابھی خواندہ بنی ہیں۔ ’اریوولی لیاکم‘ (علم کی روشنی کی تحریک) کے بینر تلے ضلع میں بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی خواندگی کی مہم نے اس توانائی کو بھانپ کر اس پر فوراً عمل کرنا شروع کیا۔ ہر نوخواندہ، ’نئی سائیکل چلانے والی‘ عورت سے جب میں نے بات کی، تو اس نے سائیکلنگ اور اپنی ذاتی آزادی کے درمیان سیدھا رشتہ بتایا۔

’’سب سے بڑی بات،‘‘ این کنمل، اریوولی سنٹرل کوآرڈی نیٹر اور سائیکلنگ تحریک چلانے والوں میں سے ایک نے کہا، ’’یہ تھی کہ اس نے عورتوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کی۔ سب سے اہم بات یہ رہی ہے اس نے مردوں پر ان کے انحصار کو کم کیا۔ اب ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ عورت اپنی سائیکل پر سوار ہو کر چار کلومیٹر دور سے پانی لے آتی ہے، بعض دفعہ اپنے بچوں کے ساتھ۔ یہاں تک کہ اب وہ دوسری جگہوں سے گھریلو سامان بھی خود ہی خرید کر لا سکتی ہیں۔ لیکن میرا یقین کیجئے، جب اس کی شروعات ہوئی تو عورتوں کے کرداروں پر گندے حملے کیے جانے لگے۔ بہت سے لوگوں نے بھدے فقرے کسے۔ لیکن اریوولی نے سائیکل چلانے کو سماجی منظوری دے دی۔ لہٰذا عورتوں نے اسے اختیار کر لیا۔‘‘

سب سے پہلے جنہوں نے سائیکل چلانی سیکھی، ان میں سے ایک خود کنمل بھی ہیں۔ حالانکہ وہ ایک سائنس گریجویٹ ہیں، لیکن پہلے کبھی بھی انھوں نے سائیکل چلانے کی جرأت نہیں کی۔

اریوولی ’سائیکلنگ ٹریننگ کیمپ‘ کا دورہ کرنا ایک انوکھا تجربہ ہے۔ کیلا کروچی گاؤں میں سائیکل چلانا سیکھنے والی تمام عورتیں اتوار کے دن کا بہترین استعمال کر رہی تھیں۔ سائیکل چلانے کی مہم کے تئیں ان کی بے پناہ حمایت و شوق کو دیکھ کر آپ اپنی حیرانی کو نہیں روک سکتے۔ انھیں سیکھنا ہی تھا۔ سائیکلنگ نے انھیں اپنے اوپر تھوپے گئے روز کے معمول، مردوں کے ذریعے ڈالی گئی پابندیوں سے چھٹکارہ دلایا۔ نئی نئی سیکھنے والی عورتیں اریوولی کے ذریعے بنائے گئے گانے بھی گاتی ہیں، جن میں سائیکل چلانے کی تعریف کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک لائن یوں ہے: ’’اے بہن آکر سائیکل چلانا سیکھو، وقت کے پہیے کے ساتھ چلنا سیکھو۔۔۔‘‘


02-PK006-1 24-PS-Where there is a Wheel.jpg

سائیکل چلانے کی اس مہم کے تئیں عورتوں کے بے پناہ لگاؤں کو دیکھ کر آپ حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے


سائیکل چلانا سیکھ چکی ایک بڑی تعداد نئے لوگوں کو سکھانے کے لیے وہاں آئی ہیں۔ وہ ماسٹر ٹرینر کے طور پر اریوولی کے لیے مفت میں کام کرتی ہیں۔ ان کے اندر صرف سیکھنے کا ہی جذبہ نہیں ہے، بلکہ ان کے اندر وسیع سطح پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تمام عورتوں کو سائیکل چلانا سیکھنا چاہیے۔ نتیجہ میں، ان کے تجربہ نے خواندگی کی تحریک کو مضبوطی عطا کی ہے۔ نئی سائیکل چلانے والی عورتیں پہلے کی بہ نسبت اریوولی سے اب زیادہ مضبوطی سے جڑ گئی ہیں۔

بنیادی طور پر یہ پورا آئڈیا ضلع کی سابق کلکٹر، شیلا رانی چنکاٹھ کا تھا۔ سال ۱۹۹۱ میں ان کا خیال تھا کہ تمام خواتین کارکنوں کو سائیکل چلانا سکھایا جائے، تاکہ دیہی علاقوں کی عورتوں میں خواندگی کی مہم پہنچ سکے۔ انھوں نے خواندگی مہم کے ساتھ نقل و حمل کو بھی جوڑ دیا۔ یہ خیال اس حقیقت کی وجہ سے آیا کہ  عورتیں چونکہ کہیں زیادہ آتی جاتی نہیں ہیں، اس لیے ان کی خود اعتمادی پوری طرح بحال نہیں ہو پا رہی ہے۔ چنکاٹھ نے بینکوں کو اس بات کے لیے آمادہ کیا کہ وہ عورتوں کو سائیکل خریدنے کے لیے قرض دیں۔ انھوں نے ہر بلاک میں اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے مخصوص ڈیوٹی بھی تفویض کی۔ ضلع کی سب سے اعلیٰ افسر ہونے کی وجہ سے انھوں نے ذاتی طور پر اسے کافی توجہ دی۔

سب سے پہلے کارکنوں نے سائیکل چلانا سیکھا۔ اس کے بعد نو خواندہوں نے سیکھنے کی خواہش جتائی۔ ہر کوئی سیکھنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے، اس کی وجہ سے ’لیڈیز‘ سائیکلوں کی کمی ہو گئی۔ کوئی بات نہیں۔ ’مردانہ‘ سائیکلیں بھی اچھا کام کر سکتی ہیں، شکریہ۔ بعض عورتوں نے آخرالذکر کو ترجیح دی، کیوں کہ اس میں سیٹ سے لے کر ہینڈل تک اضافی بار ہوتا ہے۔ اس پر آپ کسی بچے کو بیٹھا سکتے ہیں۔ اور آج کل، ہزاروں عورتیں یہاں پر ’مردانہ‘ سائیکلیں ہی چلاتی ہیں۔ ہزاروں دیگر عورتوں کا خواب ہے کہ وہ دن ضرور آئے جب وہ ایک سائیکل خریدنے کے لائق بن جائیں۔


03-PK006-1 28-PS-Where there is a Wheel.jpg

پڈوکوٹئی ضلع کی قریب ایک لاکھ نوخواندہ عورتوں نے ۱۹۹۲ سے لے کے ۱۹۹۳ تک سائیکل چلانا سیکھا ہے


سائیکل ۱۹۹۲ میں بین الاقوامی یومِ خواتین کے بعد، یہ ضلع ویسا کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔ ہینڈل بار پر جھنڈے، بجتی ہوئی گھنٹیوں کے ساتھ سائیکل چلانے والی ۱۵۰۰ خواتین نے پڈوکوٹئی میں سب کو حیران کر دیا۔ سائیکل چلانے والی عورتوں کے اس بڑے ہجوم پر مبنی ریلی نے قصبوں میں رہنے والوں کو حیرت زدہ کر دیا۔

مردوں نے کیا سوچا؟ ایک آدمی جسے اس کو منظوری دینی ہی تھی، وہ رام سائیکلس کے مالک ایس کنکا راجن تھے۔ ایک سال کے اندر اس واحد ڈیلر نے ’لیڈیز‘ سائیکلوں کی فروخت میں ۳۵۰ فیصد کا اضافہ دیکھا۔ یہ عدد شاید کم کرکے آنکی گئی ہے، دو وجوہات سے: ایک، زیادہ تر عورتیں، جو ’لیڈیز‘ سائیکلوں کا انتظار نہیں کر سکتی تھیں، انھوں نے مردوں کے سائیکل کو چنا؛ دو، کنکا راجن نے یہ اطلاع بڑی احتیاط کے ساتھ مجھ سے شیئر کی۔ وہ صرف اس لیے کہ، انھیں پوری طرح یہ لگ رہا تھا کہ میں سیلز ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا خفیہ ایجنٹ ہوں۔

بہرحال، سارے مرد اس کے خلاف نہیں تھے۔ بعض اس کی حمایت میں بھی تھے۔ مثال کے طور پر، اریوولی کارکن، موتھو بھاسکرن۔ انھوں نے سائیکلنگ کا مشہور گانا لکھا جو اَب ان کا ترانہ بن چکا ہے۔

جب، کڈی میاں ملائی کے پتھر کی کان کی تپتی گرمی میں، آپ ۲۲ سالہ کے منو مانی کو دوسروں کو ٹرین کرتے ہوئے دیکھیں گے، تو آپ کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ خود کان میں کام کرنے والی اور اریوولی کارکن کے طور پر ان کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والی عورتوں کے لیے سائیکل چلانا نہایت ضروری ہے۔ ’’ہمارے علاقے تھوڑے کٹے ہوئے ہیں،‘‘ انھوں نے مجھ سے کہا۔ ’’جو سائیکل چلانا جانتے ہیں، وہ کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔‘‘

سال ۱۹۹۲ میں صرف ایک ہفتہ کے اندر ۷۰ ہزار سے زائد خواتین نے اریوولی کے ذریعہ منعقدہ ’’نمائش و مقابلہ آرائی‘‘ میں سائیکل چلانے کے اپنے ہنر کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر یونیسیف نے اریوولی خواتین کارکنوں کو ۵۰ موپیڈ بطور انعام دیے تھے۔

سائیکلنگ کے اقتصادی نتائج بھی دیکھنے کو ملے۔ اس سے آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہاں کی کچھ عورتیں گاؤوں کے ایک گروپ کے اندر زرعی پیداوار اور دیگر سامان بیچتی ہیں۔ سائیکل چلانے کی وجہ سے ان کا وہ وقت بچ جاتا ہے، جو انھیں بسوں کے انتظار میں کاٹنا پڑتا ہے۔ یہ ان راستوں کے لیے بھی اہم ہے، جو گاؤوں سے پوری طرح جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ دوسرے، یہ آپ کو اپنی پیدوار کو بیچنے پر زیادہ توجہ دینے کا موقع عطا کرتا ہے۔ تیسرے، اس کی مدد سے آپ اپنی امید کے مطابق زیادہ علاقوں میں جا سکتے ہیں۔ اخیر میں، یہ آپ کے فرصت کے اوقات میں اضافہ کر سکتا ہے، اگر آپ کام کی تکان سے تھوڑی دیر راحت لینا چاہیں۔

چھوٹی کاشت کار جو بسوں کے انتظار میں زیادہ وقت گزارا کرتی تھیں، انھیں بس اسٹاپ تک پہنچنے کے لیے بھی زیادہ تر اپنے والد، بھائیوں، شوہروں یا بیٹوں پر منحصر رہنا پڑتا تھا۔ وہ اپنی پیداوار کو بیچنے کے لیے چند محدود گاؤوں تک ہی پہنچ پاتی تھیں۔ کچھ کو پیدل چلنا پڑتا تھا۔ جن کے پاس سائیکل نہیں ہے، وہ اب بھی ایسا ہی کر رہی ہیں۔ ان عورتوں کو اپنے گھر واپس لوٹنے کی جلدی رہتی ہے، تاکہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکیں اور پانی بھر کر لا سکیں۔ جن کے پاس سائیکل ہے، وہ اب اپنے سارے کام آسانی سے کر لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے، اب آپ لمبی سڑکوں پر کسی نوجوان عورت کو سائیکل کی اگلی بار پر اپنے بچے اور پیچھے کیریئر پر سامان لاد کر لے جاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنی سائیکل پر پانی کے دو یا شاید تین برتن لٹکائے ہوئے کام پر یا گھر کو واپس جارہی ہوگی۔

پھر بھی، باقی تمام چیزوں پر اقتصادی پہلو کو اجاگر کرنا کافی غلط ہوگا۔ سائیکلنگ کی وجہ سے خود اعتمادی کا جو جذبہ پیدا ہوتا ہے، وہ سب سے اہم ہے۔ ’’ظاہر ہے یہ اقتصادی نہیں ہے،‘‘ فاطمہ نے کہا، میری طرف اس نگاہ سے دیکھتے ہوئے جس نے مجھے شرمندہ کر دیا۔ ’’مجھے سائیکل چلانے سے کیا پیسہ ملتا ہے؟ مجھے پیسے کا نقصان ہوتا ہے۔ میں سائیکل نہیں خرید سکتی۔ لیکن آزادی کی اس خوشی کا احساس کرنے کے لیے میں ہر شام کو ایک سائیکل کرایے پر لیتی ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کبھی بھی پڈوکوٹئی آتے ہوئے میں نے اس گاڑی، یعنی سائیکل کو آزادی کی علامت کے طور پر نہیں دیکھا تھا۔


 04-PK006-1 31-PS-Where there is a Wheel.jpg

یہ ان کے لیے مثبت اقتصادی نتائج ہیں، لیکن پڈوکوٹئی کی عورتوں کے لیے سائیکل کا مطلب یہ نہیں تھا۔ یہ آزادی کی علامت تھی


’’لوگوں کے لیے یہ دیکھنا کافی مشکل ہے کہ دیہی عورتوں کے لیے یہ کتنا بڑا ہے،‘‘ کنمل نے کہا۔ ’’یہ بہت بڑی حصولیابی ہے، ان کے لیے یہ ہوائی جہاز اڑانے جیسا ہے۔ لوگ قہقہہ لگا سکتے ہیں۔ صرف عورتیں ہی جانتی ہیں یہ کتنا اہم ہے۔‘‘

میرے خیال سے معیاری صحافت کا یہ اصول ہے کہ میں اب سائیکلنگ کی مخالفت کر رہے مردوں کا بیان لے کر اس میں کچھ توازن پیدا کروں۔ اگر سچ کہوں تو، کسے پرواہ ہے؟ یہاں ایک لاکھ نوخواندہ عورتیں سائیکل چلا رہی ہیں اور یہی اسٹوری ہے۔

جو مرد مخالفت کر رہے ہیں وہ باہر جاکر چہل قدمی کر سکتے ہیں، کیوں کہ جب سائیکلنگ کی بات آتی ہے تو وہ اس جوش لیگ میں نہیں رہتے، جس میں کہ عورتیں۔

پوسٹ اسکرپٹ: اپریل ۱۹۹۵ میں جب میں پڈوکوٹئی واپس لوٹا، تو یہ کریز اب بھی جاری تھا۔ لیکن عورتوں کی بڑی تعداد اب بھی سائیکل خریدنے سے دور تھی، کیوں کہ اب ایک سائیکل کی قیمت ۱۴۰۰ روپے ہو چکی تھی۔ اور ایک نئی نسل ابھر رہی تھی، جو پہلے راؤنڈ سے کچھ سیکھنے کے معاملے میں عمر میں کافی چھوٹی تھی۔ لیکن عورتوں کے ذریعہ سائیکل چلانے کے معاملے میں پڈوکوٹئی ہندوستان کے دیگر تمام ضلعوں سے بالکل الگ اب بھی بنا ہوا ہے۔ اور اس ہنر کو سیکھنے کا جوش و ولولہ دیگر تمام چیزوں پر بھاری ہے۔

یہ اسٹوری بنیادی طور پر پی سائی ناتھ کی ۱۹۹۶ میں منظر عام پر آئی کتاب ’ایوری باڈی لوز اے گڈ ڈراٹ‘ میں شائع ہوئی تھی۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath