حسن علی کی زندگی اس ریت کی طرح ہی غیر مستحکم اور کمزور ہے، جس پر وہ رہتے ہیں۔ دراصل، جب برہم پتر چار کی ریتیلی زمین کو کاٹتی ہے، تب چار کے باشندے ندی کے کنارے یا کنارے کے پاس منتقل ہو جاتے ہیں، لیکن علی نے کنارے پر بسے اپنے پانی کھیتی گاؤں سے یہاں چار پر ہجرت کرکے، غیر یقینیت کا الٹا سفر شروع کیا ہے۔

آسام کے کامروپ ضلع کی مہٹولی پنچایت کا پانی کھیتی ایک گاؤں ہے۔

’’تین سال قبل جب سیلاب اور زمین کی کٹائی نے میرا گھر بہا دیا، میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا، تب میں اس چار پر آیا، جہاں میں زندہ رہنے کے لیے کم از کم سر پر چھت کھڑا کر پایا،‘‘ علی کہتے ہیں۔


02-Pari-fellowship-article-1-Photo-1-RT-Struggles of the sandbar people.jpg

برہم پتر سے چار کا منظر: آسام کے کل رقبہ کا تقریباً ۵ فیصد حصہ ایسی ریتیلی زمین کا ہے


جب چار پر بسیرا بن گیا تھا، تب علی کی تین بیگھہ (سات بیگھہ ایک ہیکٹیئر کے برابر ہے) زرعی زمین تھی، لیکن گزشتہ تین سالوں میں پوری زمین پانی کی وجہ سے کٹ گئی۔ چار کی زمین کے کٹنے کا سلسلہ تو لگاتار چلتا ہی رہتا ہے، عدم استحکام اتنا ہے کہ اب اگلی منتقلی کہاں ہوگی، اس کا علی کچھ بھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔

آسام میں مشرق سے مغرب تک ۷۲۸ کلومیٹر پھیلی ہوئی طاقتور برہم پتر ندی سے چار بنتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ چار مطلب جزیرہ میں پائی جانے والی ریتیلی زمین یا ریت کا چھوٹا ٹاپو۔ ریاست کے کل رقبہ کا ۵ فیصد حصہ ان سے بنا ہے اور ۱۴ ضلعے، ۵۵ بلاکوں میں یہ چار پھیلے ہوئے ہیں۔

۲۰۱۴ کی آسام ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ کہتی ہے کہ ندی اور اس کی ذیلی ندیوں کے تیز بہاؤ کے عمل سے چار کی تعمیر ہونا ایک اس کا اٹوٹ حصہ ہے۔ سیلاب کے دوران بکھرے ہوئے عناصر اور ندی کی مٹی کے وزن سے اس بادام کی شکل کی تعمیر ہوتی ہے۔ یہ عمدہ سیلابی مٹی، سرسوں، گنا، جوٹ مونگ پھلی، تل کے بیج، کالا چنا، آلو اور دیگر سبزیوں کی کھیتی کے لیے بہترین ہے۔ لیکن چار کی اونچائی سیلاب کی اعلیٰ سطح کے مقابلے ہمیشہ کم ہوتی ہے، جس سے یہ مٹی ہمیشہ تباہی کے دہانے پر رہتی ہے۔

آسام حکومت کے چار علاقوں کی ترقی کے محکمہ کے ذریعہ شائع کردہ ’سماجی۔اقتصادی سروے رپورٹ (۰۳۔۲۰۰۲، جو کہ سب سے تازہ دستیاب آبادی ڈاٹا ہے) کی مانیں تو، برہم پتر کی وادی میں ۲۲۵۱ چار گاؤوں ہیں۔ ان تعداد ۲۴ لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور ان میں سے ۹۰ فیصد اس وقت کے مشرقی بنگال سے آئے ہوئے بے گھر مسلم خاندان ہیں۔


03-PARI-FELLOWSHIP-ARTICLE-2-PHOTO-7-RT-Struggles of the sandbar people.jpg

کشتی سے چار کا ایک منظر: ندی کنارے سے بھوٹ بھوٹی (ایک میکنائزڈ دیسی کشتی) پر حسن علی کو چار تک پہنچنے کے لیے تقریباً ۲۵ منٹ لگتے ہیں


نوآبادیاتی برطانوی حکومت نے، زرعی زمین سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کے سبب، مشرقی بنگال کے غریب کسانوں کو ان چاروں پر منتقل کر، یہاں کھیتی کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ یہاں پرورش پانے والی نسلیں اسمیا کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان بھی بولتی ہیں، اور انھیں مردم شماری میں اسمیا زبان بولنے والوں کے طور پر درج بند کیا گیا ہے۔

علی کے چار کے تین الگ الگ نام ہیں ۔ پانی کھیتی (مشرقی علاقہ، جہاں وہ رہتے ہیں)، لاکھی چار (وسطی علاقہ) اور موریشا کندی (مغربی علاقہ)۔ ہر علاقہ بے گھر ہو چکے باشندوں کے آبائی گاؤوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

ندی کنارے سے بھوٹ بھوٹی (ایک میکنائزڈ دیسی کشتی) پر چار تک پہنچنے کے لیے تقریباً ۲۵ منٹ لگتے ہیں۔ آج کنارہ اور چار کے درمیان ندی کی چوڑائی قریب تین کلومیٹر ہے ۔ دس سال قبل جب چار کی تعمیر ہوئی تھی، تب ندی کنارے سے چار اور پانی کھیتی گاؤں کو الگ کرنے والی برہم پتر ندی کی صرف ایک چھوٹی سی دھارا تھی۔ آج، قریب دو کلومیٹر چوڑے اور دو کلومیٹر لمبے چار پر، باشندوں کے اندازہ کے مطابق، ۸۰۰ مہاجر گھرانے بستے ہیں۔

گھروں میں صرف بزرگ مائیں اور بچے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ نوجوان لڑکیاں گھریلو کاموں میں مدد کرتی ہیں اور ان کی شادی ۱۴ یا ۱۵ سال کی عمر میں ہی کی جاتی ہے۔ زیادہ تر نوجوان لڑکے کام کے لیے دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔ وہ گوہاٹی یا دیگر شمال مشرقی شہروں میں جاتے ہیں اور کچھ دور دہلی، ممبئی یا چنئی میں بھی تعمیراتی مزدور، سیکورٹی گارڈ، صنعتی مزدور، یا ہوٹل میں ملازم کے طور پر کام کرنے جاتے ہیں۔ وہ سب ہجرت اور اس سے وابستہ مشکلات کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ علی کے بڑے بیٹے بھی ہائر سیکنڈری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گوہاٹی میں دِہاڑی مزدور کا کام کرنے کے لیے منتقل ہوئے ہیں۔


04-PARI-FELLOWSHIP-ARTICLE-1-PHOTO-3-RT-Struggles of the sandbar people.jpg

غیر یقینی میں سبھی بھٹکتے ہوئے: اپنے چار پڑوسیوں کے ساتھ حسن علی


عام طور پر بوڑھے لوگ ہجرت نہیں کرتے، کیوں کہ ٹھیکہ داروں کے ذریعہ انھیں روزگار پانے لائق نہیں مانا جاتا؛ وہ اپنی خود کی زمین پر یا دوسروں کے کھیتوں میں زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ علی کی عمر اب تقریباً ۶۰ سال کی ہے، وہ بھی پیچھے فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش ہے مچھلی پکڑنا، جس سے انھیں ہر ماہ مشکل سے ۱۵۰۰ روپے کی آمدنی ملتی ہے۔ ان کا بیٹا فیملی کے لیے ہر ماہ ۱۵۰۰ روپے بھیج دیتا ہے۔ علی کے ساتھ بچے ہیں؛ ان کی ۴ لڑکیوں کی چھوٹی عمر میں ہی شادی کرا دی گئی؛ پانچویں لڑکی تقریباً ۱۳ سال کی ہے اور جلد ہی اس کی بھی شادی ہوگی۔

ہم انھیں ملنے گئے تھے، تب علی کے پاس وقت تھا، کیوں کہ وہ اس دن ندی کے پار، ہفتہ وار منڈی میں جانے والے نہیں تھے۔ یہ منڈی بھی چار پڑوسیوں کے لیے ملنے کی ایک جگہ ہے۔ ’’ہماری روز کی ضرورتوں کے لیے ہم اس منڈی پر منحصر ہیں۔ وہاں آنے جانے کا روز کا کرایہ ۲۰ روپے ہوتا ہے، اور میرے پاس پیسے نہیں ہیں،‘‘ علی نے بتایا۔ حکومت کے ذریعے چلائی جانے والی کشتیوں کی کمی کے سبب، نجی طور پر چلائی جانے والی میکنائزڈ کشتیاں یہاں ٹرانسپورٹ کا واحد وسیلہ ہیں۔


ویڈیو: حسن علی غیر مستحکم ریت پر بسی اپنی کمزور زندگی کی آپ بیتی سناتے ہیں


چار علاقوں کا ایک محکمہ، ضلع انتظامیہ کے ساتھ چار پر خصوصی ترقیاتی کاموں کو نافذ کرتا ہے۔ پانی کھیتی چار میں دو سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول ہیں۔ جس کسی بچے کو پڑھنا ہے، اسے ہر روز کشتی سے ندی پار کر اسکول جانا ہوتا ہے ۔ پیسے کی کمی کے چلتے اسکول چھوڑنے کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔

پانی کھیتی میں بغیر چھت کا طبی مرکز بھی ہے۔ عمارت کے آس پاس بڑھی ہوئی گھاس سے وہ متروک جگہ محسوس ہوتی ہے۔ ایک معاون نرس مڈ وائف (اے این ایم) کبھی کبھی چار پر آتی ہے، لیکن وہ اس طبی مرکز کے بجائے کسی کے گھر سے کام کرنا پسند کرتی ہے، ایسا یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے۔ میڈیکل ایمرجنسی کی حالت میں لوگوں کو ندی پار کر، تین کلومیٹر کی دوری پر سونتالی میں نزدیک کے طبی مرکز میں چل کر جانا ہوتا ہے۔


05-PARI-FELLOWSHIP-ARTICLE-1-PHOTO-5-RT-Struggles of the sandbar people.jpg

چار میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے: پانی کھیتی میں یہ بغیر چھت والا ایک ہی ’طبی مرکز‘ ہے


’’ستمبر (۲۰۱۶) میں سیلاب کے قہر کے بعد، کسی بھی طبی اہل کار نے حالات کی طرف دھیان نہیں دیا۔ انتظامیہ نے سیلاب سے راحت رسانی کے نام پر صرف دو کلو مویشی چارہ تقسیم کیا،‘‘ علی کہتے ہیں۔ گھر کی دیواریں جوٹ کی چھڑیوں سے بنتی ہیں، اس پر وقت بوقت آئے سیلاب کی سطح کے نشان ہیں۔


06-PARI-FELLOWSHIP-ARTICLE-1-PHOTO-4(Crop)-RT-Struggles of the sandbar people.jpg

وقت بوقت آئے سیلاب کے چلتے ڈوبے ہوئے مکان دیواروں کے جوٹ کی چھڑیوں پر پانی کی سطح کے نشان ہیں


07-PARI-FELLOWSHIP-ARTICLE-1-PHOTO-6(Crop)-RT-Struggles of the sandbar people.jpg

تقریباً ۲۰ گھرانے پینے کے پانی کے لیے ایک ہی ہینڈ پائپ پر منحصر ہیں، جسے انھوں نے خود پیسے خرچ کرکے بنائے رکھا ہے


کھلے میں پاخانہ کرنا یہاں روز کی بات ہے اور ہر گھر میں دست کی بیماری، خاص طور سے سیلاب کے بعد، عام ہے۔ تقریباً ۱۰ فیملی پینے کے پانی کے لیے ایک ہی ہینڈ پائپ پر منحصر ہے، جسے انھوں نے خود پیسے خرچ کر بنائے رکھا ہے۔

’’ہماری چار دو لیجسلیٹو کانسٹی ٹیونسیز میں برابر برابر بانٹی گئی ہیں ۔ جنوبی کنارے پر بوکو اور شمالی کنارے پر چینگا۔ کچھ سرکاری خامیوں کے سبب چینگا حلقہ انتخاب کے لیے لوگ خطِ افلاس سے نیچے (بی پی ایل) لوگوں کو ملنے والے راشن سے طویل عرصے سے محروم ہیں،‘‘ علی بتاتے ہیں۔ وہ خود بوکو حلقہ انتخاب میں رجسٹرڈ ہیں، لیکن بی پی ایل میں چاول کے علاوہ اور کسی بھی شکل میں یہاں فائدہ نہیں ہے۔

بجلی تو بہت دور کی بات ہے، یہاں کسی بھی فیملی کے پاس شمسی لالٹین نہیں ہے۔ وہ مٹی کے تیل پر منحصر ہیں، جسے فی لیٹر ۳۵ روپے میں خریدنا ہوتا ہے۔ علی کی فیملی کی فی ماہ ۵ سے ۷ لیٹر کی ضرورت ہے۔ یہاں ریڈیو ہونا امیری کی نشانی ہے۔

’’زندگی تھوڑی اچھی ہوتی، اگر چار کا وجود کم از کم ۲۰ سال کے لیے رہتا۔ لیکن مشکل سے ۱۰ سال ہی چار رہتا ہے۔ جب ہم کچھ کمائیں اور تھوڑے استحکام کی امید کریں، زمین کا کٹاؤ شروع ہو جاتا ہے اور ہمیں ہجرت کرنے پر مجبور کرتا ہے،‘‘ علی بتاتے ہیں۔

’’یہ ہماری کہانی ہے، ہر چار باشندے کی۔ لیکن میری کہانی تو ابھی اور آگے ہے ۔۔۔‘‘ علی اپنے دوسرے بیٹے کے بارے میں بتاتے ہیں، ۱۸ سالہ ان کا دوسرا لڑکا نچلے آسام میں بار پیٹا ضلع کے ایک کالج میں ۱۲ویں کلاس میں سائنس کا طالب علم ہے۔ اب وہ میڈیکل انٹرنس ٹیسٹ کی تیاری کر رہا ہے۔ علی اپنے بڑے بیٹے کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اسے کچھ مدد فراہم نہیں کر سکے۔ لیکن، اپنے استادوں کی مدد سے، دوسرے بیٹے نے، دو سال پہلے سیکنڈری اسکول میں ۸۳ فیصد، ان سب پریشانیوں کے باوجود حاصل کیے ہیں۔

’’اس نے میڈیکل کالج میں داخلہ پانے کی ٹھان لی ہے،‘‘ علی کہتے ہیں۔ ’’اس کے ٹیچروں نے بتایا کہ میڈیکل کا کورس پورا کرنے کے لیے کم از کم ۳۰ لاکھ روپیوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر میرا بیٹا داخلہ امتحان پاس کر بھی لیتا ہے، پھر بھی مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس کورس کو کس طرح پورا کر پائے گا؟‘‘

لیکن علی کی آنکھوں میں ابھی بھی یہ امید ہے کہ زندگی، کسی دن انھیں اچھے موڑ پر لے آئے گی۔

تصویر: رتنا بھرالی تعلق دار

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Ratna Bharali Talukdar

رتنا بھڑالی تعلقدار ۱۷ ۔ ۲۰۱۶ کے لیے پاری فیلو ہیں۔ وہ ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں پر محیط آن لائن میگزین، نیزین ڈاٹ کام کی ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔ ایک تخلیقی قلم ہونے کے ناطے وہ متعدد علاقوں کا اکثر دورہ کرتی رہتی ہیں تاکہ مختلف ایشوز کو کَوَر کر سکیں، جیسے مہاجرت، نقل مکانی، امن و تصادم، ماحولیات، اور جنس۔

Other stories by Ratna Bharali Talukdar