Woman talking on phone
PHOTO • Sweta Daga

’’زندگی میں پہلی بار، میں نے خود کو مضبوط محسوس کیا،‘‘ اتر پردیش کے سون بھدر ضلع کے مجھولی گاؤں میں، زمین اور جنگل کے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنی آدیواسی برادری کو متحد کرنے کے بارے میں سُکالو گونڈ کہتی ہیں۔

سُکالوں ایک کارکن کے طور پر آل انڈیا یونین آف فاریسٹ ورکنگ پیوپل میں اپنے کام سے متعلق کال کرنے، میٹنگوں کے لیے روانہ ہونے، عدالت میں حاضر ہونے (دیکھیں ’مجھے معلوم تھا کہ میں اُس دن جیل جاؤں گی...‘)، مارچ اور دیگر بے تکان کام شروع کرنے سے پہلے، روزانہ صبح ۵ بجے اٹھتی ہیں اور اپنی گایوں کو دیکھتی ہیں، کھانا پکاتی اور گھر کی صفائی کرتی ہیں۔

یہاں، وہ اوکرا (بھنڈی) کاٹ رہی ہیں، اور ان کا فون ساتھ میں پڑا ہے کیوں کہ وہ یونین کے ایک رکن کے کال کا انتظار کر رہی ہیں۔ ایک پڑوسی کا بچہ انھیں دیکھ رہا ہے۔

(مضمون نگار کی ملاقات سُکالو سے، ان کے ۸ جون ۲۰۱۸ کو پھر سے گرفتار ہونے اور دوبارہ جیل جانے سے پہلے ہوئی تھی۔)

(مترجم: محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sweta Daga

شویتا ڈاگا بنگلورو میں مقیم ایک قلم کار اور فوٹوگرافر، اور ۲۰۱۵ کی پاری فیلو ہیں۔ وہ مختلف ملٹی میڈیا پلیٹ فارموں کے لیے کام کرتی ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی، صنف اور سماجی نابرابری پر لکھتی ہیں۔

Other stories by Sweta Daga