میز سرپنچ کے لیے ہوا کرتا تھا۔ لیکن ۴۴ سالہ شالو بائی کاسبے کے ذریعہ سال ۲۰۱۱ میں پانچ سال کے لیے منتخب ہونے کے چند ہفتوں بعد ہی، وگھولی گاؤں کے نوجوان مردوں نے پنچایت آفس میں چھتر پتی شیواجی کی ایک بڑی مورتی لگا دی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ صرف یہی چیز اس میز پر رکھی جا سکتی ہے۔

اور اس طرح عثمان آباد کے اس گاؤں کی منتخب سرپنچ، ایک دلت عورت، اپنی مدتِ کار کے پانچ سال تک بغیر میز کے صرف ایک کرسی پر بیٹھی۔ یہاں پر اسی ذات کا غلبہ ہے، لیکن ان کے پاس اپنی حکمرانی کی واحد علامت، پنچایت کے کاغذات پر دسختط کرنے کے لیے انھیں وہیں بیٹھنا پڑا، جہاں کوئی بھی عام آدمی بیٹھ سکتا تھا۔ میز کی دوسری طرف کلرک ہوتے تھے، جو آفس کے رجسٹر کو ہینڈل کرتے تھے۔

ستیش کھڑکے، جو اُن کا ’نائب‘ ہوا کرتا تھا، نے جب شالوبائی سے ۲۰۱۰ میں سرپنچ کے عہدہ کے لیے الیکشن لڑنے کے لیے کہا، تو ان کے شوہر اور دو بیٹوں نے منع کیا۔ وہ جانتے تھے کہ پنچایت چلانے میں ان کا کوئی مقام نہیں ہوگا، بلکہ علامتی پاور کے طور پر انھیں صرف کاغذوں پر دستخط کرنا ہوگا، جس میں ترقیاتی کام کے لیے ٹھیکے بھی شامل ہوں گے۔ حقیقی دنیا میں، زمام خود کھڑکے کے ہاتھ میں ہوگی، جو کلیئرنس کے لیے ان کاغذات کو لے کر آئیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ شالو بائی ناخواندہ ہیں، اور انھوں نے صرف اپنے نام کا دستخط کرنا سیکھ لیا تھا۔


02-NW-When Shalubai won the chair, but lost the table.jpg

شالو بائی گرام پنچایت آفس (بائیں) میں کلرک کی میز پر کاغذات پر دستخط کر رہی ہیں اور یومِ جمہوریہ پر پرچم کشائی کر رہی ہیں (دائیں؛ تصویر بشکریہ: وگھولی گرام پنچایت)


تاہم، یہ ایک ایسی پیشکش تھی، جسے وہ ٹھکرا نہیں سکتی تھیں۔ کھڑکے، اونچی ذات کے ایک مراٹھا، ان زمینداروں میں سے ایک تھے جن کے اوپر اس گاؤں کے ۱۷۴۶ زرعی مزدور کام کے لیے منحصر تھے۔

کیا سرپنچ بننے سے شالو بائی کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی؟ کیا اس سے ان کی دلت برادری، مانگوں کو کچھ فائدہ ہوا؟\



ہاں ہوا، کئی معنوں میں۔ مانگ ذات کے مشہور قلم کار، فوک شاعر اور سوشل رِفارمر انّا بھاؤ ساٹھے کی ایک تصویر اب پنچایت آفس میں لٹکی ہوئی ہے۔ اس کمیونٹی کے ایک نوجوان آدمی، ایک سیاسی پارٹی کے کارکن نے شالو بائی کے سرپنچ بننے کے بعد اسے یہاں لگایا ہے۔


03-DSCN1719-NW-When Shalubai won the chair, but lost the table.jpg

انّا بھاؤ ساٹھے کی تصویر (بالکل دائیں)، جو مانگ کمیونٹی کے ایک سوشل رِفارمر تھے، کو پنچایت آفس میں سبھاش چندر بوس، جیوتبا پھلے، بھگت سنگھ، لوک مانیہ تلک اور ساوتری بائی پھلے کی تصویروں کے ساتھ جگہ ملی ہے


الیکشن سے پہلے، مانگ لوگ اپنے اس عظیم لیڈر کی سالگرہ بھی کھل کر نہیں منا سکتے تھے۔ اب، ہر سال یکم اگست کو، وہ وگھولی کی سڑکوں پر ایک بڑا جلوس نکالتے ہیں، لیکن وہ بھی لڑائی کرنے کے بعد۔ پہلے سال، جب وہ گاؤں کی سڑکوں پر جمع ہوئے، تو بڑی ذات کے لوگوں نے انھیں جلوس نکالنے سے منع کر دیا۔ اس کے اگلے سال، شالو بائی نے ۲۰ مانگ عورتوں کے دستخط ایک عرضی پر کروائے اور اسے پولس پاٹل (گاؤں کے نیم عدالتی اہم افسر) کے سامنے پیش کرکے ان سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔ اس بار، ان کے ساتھ پولس کی ایک گاڑی بھی چلنے لگی۔ اونچی ذات کے لوگوں نے ایک بار پھر مجمع کو ہٹانے کی کوشش کی، لیکن پولس نے انھیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ تب سے لے کر اب تک، کسی نے اس جلوس کی مخالفت نہیں کی ہے۔

پنچایت آفس سے شالو بائی ہمیں چھوٹے سے ایک شیو مندر لے جاتی ہیں، جو گاؤں کے چوراہے کے اُس پار ہے۔ ’’پہلے ہماری برادری کو باہر سے پوجا کرنی پڑتی تھی۔ لیکن میرے انتخاب کے بعد، پنچایت کے کچھ ممبران نے ایک ساتھ مل کر گاؤں کے ہر مندر میں پوجا کی ہے۔ میں باہر کھڑی ہو گئی، لیکن وہ مجھے بھی اندر لے گئے۔ سرپنچ ہونے سے مجھے یہ عزت ملی ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔


04-Shalubai first visit to temple 720 dpi EV 004-NW-When Shalubai won the chair, but lost the table.jpg

سب سے بائیں شالو بائی ہیں، جو بڑے ماروتی مندر میں اپنی پہلی گرام سبھا میٹنگ میں سرپنچ کے طور پر دیگر عورتوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں (تصویر بشکریہ: وگھولی گرام پنچایت)


ایک بار جب شالو بائی کو مندر کے اندر جانے کی اجازت مل گئی، تو اس کے بعد ان کی برادری کے دوسرے لوگوں کو بھی مل گئی۔ مانگ برادری کے لوگ اب شیو مندر میں اسپتاہ بھی کرتے ہیں (پندرہ روز مجلس اور پوجا)۔ اونچی ذات کے لوگ مقدس ماروتی مندر میں اپنا سپتاہ کرتے ہیں۔ ماروتی مندر میں بھی گرام سبھا ہوتی ہے، کیوں کہ پنچایت آفس میں اتنے لوگ ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، جگہ کی کمی کے سبب۔ چونکہ کاغذات پر دستخط کرنے کا پاور صرف سرپنچ کے پاس ہوتا ہے، اس لیے شالو بائی بھی اس مندر کی سبھاؤں میں جاتی ہیں۔

حالانکہ یہ تبدیلیاں پوری طرح محدود ہیں: گاؤں کے مانگ اور مہار اب بھی الگ الگ، وگھولی کی دلت کالونی میں رہتے ہیں۔ شالو بائی کا گھر اس کالونی میں گلی کے سب سے کنارے ہے۔ اس کی چھت اور چہار دیواری ٹن کی چادر سے بنی ہوئی ہے۔ اس کے دو دروازے ہیں، لیکن ایک بھی کھڑکی نہیں ہے۔ اسی چہار دیواری کے اندر فیملی کا سارا سامان ہے: رسی پر کپڑے، ایک سنگل بیڈ، چھوٹی سی الماری کے اوپر ایک ٹی وی، ایک گیس سیلنڈر اور فرش پر دو برنر والا چولہا، برتنوں کے لیے لوہے کا ایک ریک، اور اناج رکھنے کے لیے چند بڑے بڑے ٹن کے ڈبے۔ اس گھر میں ان کی فیملی کے کافی لوگ بھرے ہوئے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی کہانی سنانا چاہتا ہے۔


05-DSCN1808-NW-When Shalubai won the chair, but lost the table.jpg

ٹن کی چادر والے گھر کے اندر شالو بائی اپنے شوہر راجندر کسبے کے ساتھ؛ ان کی بڑی بہن جھانک رہی ہے


’’ہم نے یہ گھر تب بنایا، جب میں سرپنچ بنی،‘‘ شالو بائی بتاتی ہیں۔ ’’پرانا گھر جو مٹی اور اینٹ سے بنا ہوا تھا ایک دن گر گیا۔ ٹن کی چھت کا تیز کونا میرے شوہر کے زانو میں گھس گیا، جس کی وجہ سے انھیں کئی ٹانکے لگے۔

’’لیکن ہمیں ابھی تک کوئی مناسب گھر نہیں ملا ہے۔ یہ مکان آپ کو تب ملتا ہے، جب آپ بی پی ایل (خط افلاس سے نیچے) ہوں۔ ہمارے پاس کوئی زمین نہیں ہے، نہ ہی پراپرٹی، کھیت، یا مویشی ہے، لیکن ہم بی پی ایل ہیں۔‘‘ سرپنچ کے طور پر ان کا اعزازیہ صرف ۶۰۰ روپے ماہانہ تھا۔ ’’اتنے کم پیسے میں کوئی کیسے گزارہ کر سکتا ہے؟‘‘

شالو بائی صبح ۹ بجے سے ۱۱ بجے تک پنچایت آفس میں کام کرتی تھیں اور اس کے بعد کسی دوسرے زرعی مزدور کے طور پر کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔ یہاں کی عورتیں دن بھر کھیت میں سویا بین چُن کر یا گھاس اُکھاڑ کر ۱۵۰ روپے کما لیتی ہیں۔ مردوں کو کدال چلانے، ہل چلانے اور بوائی کرنے کا اس سے دو گنا پیسہ مل جاتا ہے۔


06-DSCN4786-NW-When Shalubai won the chair, but lost the table.jpg

سویابین کے کھیت میں گھاس اکھاڑتے ہوئے


شالو بائی کا بڑا لڑکا سچن، جو ۲۹ سال کا ہے، کے دو بچے ہیں اور وہ بارہویں کلاس تک پڑھا ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سرپنچ کے طور پر اس کی ماں کے لیے گاؤں چلانا ناممکن تھا۔ حالانکہ انھوں نے کوشش کی، وہ اپنی برادری کے لوگوں کے کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے ہر وقت موجود رہتی تھیں، جب کہ اونچی ذات کے ان کے پیش رو ایسا نہیں کرتے تھے۔

’’مراٹھا ہم پر حکومت کرتے ہیں،‘‘ سچن کہتا ہے۔ ’’وہ ہمیں خوشحال نہیں بننے دیں گے۔ ان کی یہاں پر اکثریت ہے اور ہر چیز پر انہی کا قبضہ ہے۔‘‘ ان کی مخالفت کرنے کا مطلب ہے مصیبتوں کو دعوت دینا۔ ’’وہ ہمیں کھیتوں پر جانے سے روک دیں گے اور ہمیں کوئی دوسرا کام بھی نہیں کرنے دیں گے۔‘‘

شالو بائی اپنے بیٹے کو بیچ میں ہی روکتی ہیں۔ ’’ان سے جھگڑا مول لینے کا کیا فائدہ؟ ہم جن کھیتوں پر کام کرتے ہیں، وہ ان کے مالک ہیں۔ میرے ساتھ ان کا برتاؤ اچھا اس لیے ہے، کیوں کہ پانچ سالوں تک میں نے انہیں پریشان نہیں کیا۔‘‘

نائب سرپنچ کھڑکے، جو ایک زمیندار اور کوالیفائڈ انجینئر ہیں، بہت زیادہ ہمدرد نہیں ہیں۔ ’’جاہل عورتوں کو چیزوں کے بارے میں سمجھانا بہت مشکل کام ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اور اگر وہ پڑھنا اور لکھنا سیکھ بھی لیں، تب بھی وہ تعلیم یافتہ لوگوں جیسی نہیں ہو سکتیں۔‘‘

شالو بائی نے سوچا تھا کہ ان کے سرپنچ بننے کے بعد بیٹوں کو کوئی مستقل نوکری مل جائے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، اور سچن ان کی مدتِ کار میں بھی زرعی مزدور کے طور پر کام کرتا رہا۔

شالو بائی ریزرو کیٹگری میں (پنچایتی راج سے متعلق آئین کی) ۷۳ویں ترمیم کے بعد منتخب ہوئیں۔ انھوں نے نومبر ۲۰۱۵ میں اپنی مدتِ کار پوری کر لی۔ انتخاب کے لیے انھیں اپنا پیسہ خود خرچ کرنا پڑا، کھانا کھلانے اور الیکشن لڑنے کے لیے انھیں اپنی فیملی کی اکیلی بھینس کو بیچنا پڑا تھا۔ ’’خود میری اپنی بہن نے مجھے ووٹ دینے کے لیے ایک نئی ساڑی کا مطالبہ کیا تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں، اور ناراضگی کا اظہار کرتی ہیں۔

’’گاؤں کے لوگ مجھے اوپر اٹھنے نہیں دیں گے۔ تمام ’بڑے لوگ‘ (اونچی ذات کے لوگ) صرف اپنے لوگوں کو خوشحال بنائیں گے اور پیسہ کمائیں گے۔ ہم لوگ صرف ماگس ورگی (پس ماندہ) لوگ ہیں۔ احتجاج کرنے پر وہ لوگ کہیں گے: ’ہم تمہیں گاؤں سے باہر نکال دیں گے۔‘ اور تب ہم کہاں جائیں گے؟ اس لیے ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔‘‘

پھر بھی، شالو بائی کہتی ہیں کہ انھیں اس بات کا فخر ہمیشہ رہے گا کہ وہ اس گاؤں کی سرپنچ بنیں۔ حالانکہ عملی طور پر ان کی فیملی کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ اب بھی غریب ہیں، بے زمین ہیں گاؤں کے کنارے رہتے ہیں اور غالب سوشل گروپ ہیں۔



07-SHalubai-panchayat-office-DSCN1750-NW-When Shalubai won the chair, but lost the table.jpg

وگھولی گرام پنچایت آفس کے باہر، شالو بائی چھتر پتی شیوا جی کے ایک مجسمہ کے سامنے کھڑی ہیں



باقی سبھی تصویریں: نمیتا وائیکر۔

پوسٹ اسکرپٹ: شالو بائی کے شوہر راجندر کاسبے کو ایک خطرناک ٹیومر تھا، جس کے لیے فیملی کو کئی اسپتالوں میں علاج کی ضرورت تھی۔ ان اخراجات کو برداشت کرنے کے لیے، انھوں نے ایک مقامی ساہوکار سے بڑی رقم اور پڑوسیوں سے چھوٹی رقم قرض کے طور پر لی۔ اپریل ۲۰۱۶ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد ہی شالو بائی کے دونوں بیٹوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ اب وہ اکیلی رہتی ہیں، اور قرض کی وجہ سے پڑوسی انھیں ہمیشہ تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ساہوکار کا کہنا ہے کہ یا تو وہ اپنا گھر اس کے حوالے کردیں یا پھر قرض کی رقم کو چکانے کے لیے بندھوا مزدور کے طور پر کام کریں۔

اس اسٹوری کی رپورٹنگ میں مدد کرنے کے لیے بھرت پاٹل کا شکریہ، جو پہلے اے بی پی ماجھا کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

نمیتا وائیکر ایک قلم کار، مترجم اور پاری کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ وہ ایک کیمسٹری ڈاٹابیسز فرم کی پارٹنر ہیں، اور ایک بایو کیمسٹ اور سوفٹ ویئر پروجیکٹ منیجر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔

Other stories by Namita Waikar