01-Salihan 2003-PS-When 'Salihan' took on the Raj.jpg

آپ اگر ان سے یہ بات کریں کہ انگریزوں نے ان کے والد کو کیسے گولی ماری تھی، تو سالیہان کی یاد داشت غصے کے ساتھ تازہ ہو جاتی ہے


ایک دن جب وہ دیگر آدیواسی عورتوں کے ساتھ کھیتوں میں کام کر رہی تھیں، تبھی ان کے گاؤں سالیہا سے ایک نوجوان دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا، تیز آواز سے یہ کہتا ہوا: ’’وہ گاؤں پر دھاوا بول رہے ہیں، انھوں نے تمہارے والد پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ ہمارے گھروں میں آگ لگا رہے ہیں۔‘‘

’’وہ‘‘ مسلح برطانوی پولس تھی، جنھوں نے راج (برطانوی حکومت) کی بات کو ماننے سے انکار کرنے پر ایک گاؤں میں کارروائی شروع کر دی تھی۔ دیگر بہت سے گاؤوں کو بھی زمین بوس کر دیا گیا، نذرِ آتش کر دیا گیا، ان کے اناجوں کو لوٹ لیا گیا۔ باغیوں کو ان کی اوقات بتائی گئی۔

دیمتھی دیئی سابر، سابر قبیلہ کی ایک آدیواسی، ۴۰ دیگر نوجوان عورتوں کے ساتھ سالیہا کی طرف بھاگیں۔ ’’میرے والد زمین پر پڑے ہوئے تھے اور ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا،‘‘ بوڑھی خاتون مجاہدہ نے بتایا۔ ’’ان کی ٹانگ میں گولی لگی تھی۔‘‘

اُن کا دماغ اب کام نہیں کرتا، لیکن یہ یاد اب بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔ ’’میں نے اپنا کنٹرول کھو دیا اور اسی بندوق سے اس افسر پر حملہ کر دیا۔ اُن دنوں، ہم جب بھی اپنے کھیتوں یا جنگلوں میں کام پر جاتے تھے، تو ہمارے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھیں۔ آپ کو اپنے پاس کچھ نہ کچھ ضرور رکھنا پڑتا تھا، کیوں کہ جنگلی جانوروں کے حملے کا ڈر ہوا کرتا تھا۔‘‘

انھوں نے جیسے ہی اُس افسر پر حملہ کیا، ان کے ساتھ والی ۴۰ دیگر عورتوں نے بھی بقیہ حملہ آور دستے کو لاٹھیوں سے پیٹنا شروع کر دیا۔ ’’میں نے اُن بدمعاشوں کو دور سڑک کے کنارے تک کھدیڑا،‘‘ وہ بتاتی ہیں، غصے میں لیکن بے ساختہ ہنسی کے ساتھ، ’’ان کے اوپر لاٹھیاں برساتے ہوئے۔ اسے اتنی حیرانی ہوئی کہ وہ مزید کچھ نہیں کر سکا۔ وہ بھاگا، وہ بھاگا۔‘‘ انھوں نے اسے پیٹا اور پورے گاؤں میں دوڑایا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے والد کو اٹھایا اور اس جگہ سے دور لے گئیں۔ حالانکہ بعد میں انھیں گرفتار کر لیا گیا، کیوں کہ وہ ایک دوسرے احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ کارتک سابر اس علاقے میں انگریزوں کے خلاف میٹنگ بلانے والے کلیدی شخص تھے۔

دیمتھی دیئی سابر اپنے گاؤں کے نام کی وجہ سے ’سالیہان‘ کے نام سے مشہور ہیں، نُواپاڑہ ضلع کے اسی گاؤں میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ اڈیشہ کی اس فریڈم فائٹر کو لوگ اس لیے یاد کرتے ہیں، کیوں کہ انھوں نے ایک مسلح برطانوی افسر کا مقابلہ لاٹھی سے کیا تھا۔ وہ اب بھی اتنی ہی بے خوف ہیں۔ حالانکہ وہ یہ نہیں مانتیں کہ انھوں نے کچھ انوکھا کیا تھا۔ وہ اسے بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرتیں۔ ’’انھوں نے ہمارے گھروں، ہماری فصلوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اور انھوں نے میرے والد پر حملہ کیا تھا۔ ظاہر ہے، مجھے ان سے لڑنا ہی تھا۔‘‘

یہ ۱۹۳۰ کی بات ہے، جب وہ ۱۶ سال کی تھیں۔ راج آزادی کی حمایت میں ہونے والی اُن میٹنگوں کے خلاف کارروائی کر رہا تھا، جو باغی علاقوں میں منعقد ہو رہی تھیں۔ برطانوی حکومت اور ان کی پولس کے خلاف دیمتھی نے جو لڑائی لڑی، اسے سالیہا کی بغاوت اور فائرنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

دیمتھی سے جب میں ملا، تو اس وقت ان کی عمر ۹۰ کے آس پاس تھی۔ ان کے چہرے میں اب بھی طاقت اور خوبصورتی ہے۔ وہ لاغر ہیں اور تیزی سے آنکھوں کی روشنی کھو رہی ہیں، لیکن نوجوانی کی عمر میں وہ شاید خوبصورت، لمبی اور طاقتورہوا کرتی تھیں۔ ان کے لمبے بازو نے، جو اَب بھی چھپی ہوئی طاقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، ضرور لاٹھی گھمائی ہوگی۔ اُس افسر کو ضرور مصیبت سے گزرنا پڑا ہوگا۔ اس نے بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی ہوگی۔

انھیں اس بے مثال ہمت کا انعام اب بھی نہیں ملا ہے اور ان کے گاؤں کے باہر کے زیادہ تر لوگوں نے انھیں بھُلا دیا ہے۔ ’سالیہان‘ کو جب میں نے دیکھا، تو وہ بارگڑھ ضلع میں نہایت غربت کی حالت میں زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کے پاس مختلف رنگوں والا صرف ایک سرکاری سرٹیفکیٹ تھا، جس میں ان کی بہادری کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس میں بھی، ان سے زیادہ ان کے والد کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ انھوں نے جو جوابی حملہ کیا، اس کا اس میں کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ انھیں نہ تو کوئی پنشن مل رہی تھی، نہ ہی مرکز یا ریاست اڈیشہ سے کوئی مدد۔

انھیں پچھلی باتیں بڑی مشکل سے یاد ہیں ۔ لیکن یہ بات ان کے ذہن میں اب بھی تازہ ہے کہ ان کے والد کارتِک سابر کو گولی ماری گئی تھی۔ میں نے جب یہ کہانی چھیڑی، تو وہ اتنے غصے سے بولنے لگیں کہ اسے روکا نہیں جا سکتا تھا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہ واقعہ ابھی ان کے سامنے رونما ہو رہا ہے۔ اس نے دوسری یادوں کو بھی تازہ کر دیا۔


02-Salihan 1002-PS-When 'Salihan' took on the Raj.jpg


سالیہان ہمارے سامنے مسکراتی ہیں، کئی بار زور سے ہنستی ہیں، لیکن وہ اب کمزور ہو رہی ہیں


’’میری بڑی بہن بھان دیئی اور گنگا تلین اور ساکھا تورین (قبیلہ کی دو دیگر عورتوں) کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ وہ سبھی جا چکی ہیں۔ پِتا جی نے دو سال رائے پور جیل میں گزارے۔‘‘

ان کے علاقے میں آج کل زمینداروں کا غلبہ ہے، جو راج کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ انھیں اس آزادی سے زیادہ فائدہ ملا ہے، جس کی لڑائی سالیہان اور ان جیسے دیگر لوگوں نے لڑی تھی۔ مال و دولت سے بھرے اس علاقے میں بہت سے لوگ محرومی اور غریبی کے بھی شکار ہیں۔

وہ ہمارے سامنے مسکراتی ہیں، کئی بار زور سے ہنستی ہیں، لیکن وہ کمزور ہو رہی ہیں۔ انھیں اپنے تینوں بیٹوں: برشنو بھوئی، انکُر بھوئی اور اکورا بھوئی کا نام یاد کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ ہم نے جب ان سے رخصتی لی، تو انھوں نے ہمیں ہاتھ ہلا کر وداع کیا۔ دیمتھی دیئی سابر ’سالیہان‘ اب بھی مسکرا رہی ہیں۔

 

سال ۲۰۰۲ میں ہماری ملاقات کے ایک سال بعد ’سالیہان‘ کی موت ہوگئی۔

 

دیمتھی سابر ’سالیہان‘ کے لیے

وہ تمہاری کہانی نہیں سنائیں گے، سالیہان

اور میں تمہیں صفحہ ۳ بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا

یہ تو رنگین چیزوں کے لیے ہے،

موٹاپے کی سرجری کرانے والے لوگوں کے لیے،

باقی صنعت کے مالکوں کے لیے ہے

پرائم ٹائم تمہارے لیے نہیں ہے، سالیہان

یہ ہے، اور یہ مذاق نہیں ہے،

ان لوگوں کے لیے جو قتل کرتے ہیں اور زخمی

جو جلاتے ہیں اور جو الزام لگاتے ہیں

اور اس کے بعد شرافت سے بولتے ہیں، ہم آہنگی کے بارے میں

انگریزوں نے تمہارے گاؤں کو آگ لگائی، سالیہان

بہت سے آدمی بندوق لے کر آئے

وہ ٹرین سے آئے

دہشت اور درد لے کر آئے

جب تک کہ خود ہوش و حواس ختم نہیں ہو گئے

انھوں نے وہاں جو کچھ بھی تھا انھیں جلا دیا، سالیہان

نقدی اور اناج کو لوٹنے کے بعد

راج کے غنڈے

انھوں نے پرتشدد حملہ کیا

لیکن تم نے پوری قوت کے ساتھ ان کا سامنا کیا

تم نے اسے سڑک کے کنارے تک کھدیڑا

تم نے بندوق والے اس آدمی کا مقابلہ کیا

سالیہا میں لوگ اب بھی وہ کہانی سناتے ہیں

جو لڑائی تم نے لڑی تھی

اور جس میں تم جیتی تھی

تمہارا رشتہ دار زمین پر زخمی پڑا تھا، بہتے ہوئے خون کے ساتھ

تمہارے والد، ان کی ٹانگ میں گولی لگی ہوئی

اس کے باوجود تم ڈٹی رہی،

تم نے ان انگریزوں کو بھگا کر دَم لیا

کیوں کہ تم وہاں لڑنے گئی تھی، بھیک مانگنے نہیں

تم نے اس افسر کو پیٹا، سالیہان

اور اس سے پہلے کہ وہ بھاگ پاتا تم نے اسے گھسیٹا

آخرکار جب وہ بھاگا

تو لنگڑاتا ہوا اور وہ چھپ گیا

تم جیسی ۱۶ سال کی نوجوان سے بچنے کے لیے

راج کے خلاف چالیس عورتیں، سالیہان

اور طاقتور اور خوبصورت بھی

اب تم بوڑھی ہو چکی ہو اور پیلی پڑ چکی ہو

تمہارا جسم کمزور ہو گیا ہے

لیکن تمہاری آنکھوں میں اب بھی وہ شعلہ موجود ہے، جو تم تھی

جن لوگوں نے راج کا ساتھ دیا، سالیہان

آج وہ تمہارے غریب گاؤں پر حکومت کر رہے ہیں

اور پتھر کے مندر بنا رہے ہیں

لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے

ہماری آزادیوں کو ہم سے چھیننے میں

تم اسی طرح مری جیسے تم زندہ تھی، سالیہان

بھوکی، کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں

تاریخ کے رنگوں میں

تمہاری یادداشت، جو دھندلا رہی ہے،

جیسے رائے پور جیل کی روسٹر شیٹ

میں نے تمہارا دل دیکھا، سالیہان

اس کے بعد میں کون سی کامیابی نہ دیکھوں

حالانکہ وہ لڑائی خود

تمہارے اپنے لیے نہیں تھی

بلکہ اس لیے تھی کہ دوسرے بھی آزاد ہو سکیں

ہمارے بچوں کو تمہارے بارے میں جاننا چاہیے، سالیہان

لیکن مشہور ہونے کا تمہارا دعویٰ کیا ہے؟

تم کسی ریمپ پر نہیں چلی

تم نے فخر سے کوئی تاج نہیں پہنا

نہ ہی کسی پیپسی اور کوک کے ساتھ اپنا نام جوڑا

مجھ سے بات کرو، سالیہان

نہ ختم ہونے والے ایک گھنٹہ کے لیے جیسی کہ تمہاری مرضی

یہ آوارہ شخص، جب ہم الگ ہوں،

تمہارے دل کے بارے میں لکھنا چاہتا ہے

رومانس نہیں، ہندوستان کے گھٹیا سردارو


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath