’’بارش ایک بار پھر رک گئی ہے،‘‘ دھرما گریل نے بانس کی لاٹھی کے سہارے اپنے کھیت کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ ’’جون ایک عجیب مہینہ بن گیا ہے۔ ۲-۳ گھنٹے تک بارش ہوگی۔ کبھی ہلکی، کبھی بھاری بوچھار۔ لیکن اگلے کچھ گھنٹوں میں ایک بار پھر ناقابل برداشت گرمی ہو جائے گی۔ زمین کی پوری نمی کو جذب کرتے ہوئے۔ اس کے بعد مٹی دوبارہ خشک ہو جاتی ہے۔ ایسے میں پودے کیسے اگیں گے؟‘‘

اسّی سال کے گریل اور ان کی فیملی، تھانے ضلع کے شہاپور تعلقہ میں ۱۵ وارلی کنبوں کی آدیواسی بستی، گریل پاڑہ میں اپنے ایک ایکڑ کھیت میں دھان کی کھیتی کرتے ہیں۔ جون ۲۰۱۹ میں، انہوں نے جو دھان کی فصل بوئی تھی، وہ پوری طرح سوکھ گئی۔ اس مہینے، ۱۱ دنوں میں صرف ۳۹۳ ملی میٹر بارش ہوئی (اوسطاً ۴۲۱ اعشاریہ ۹ ملی میٹر سے بھی کم)۔

انہوں نے جو دھان لگایا تھا، وہ پھوٹا بھی نہیں – اور انہوں نے بیج، کھاد، کرایے کے ٹریکٹر اور کھیتی کی دیگر لاگت پر جو ۱۰ ہزار روپے خرچ کیے تھے، سب کا نقصان ہو گیا۔

’’اگست میں جاکر باقاعدہ بارش ہوئی، جس کے بعد زمین ٹھنڈی ہونے لگی۔ مجھے یقین تھا کہ دوسری بوائی کا خطرہ مول لینے پر، ہمیں فصل ضرور ملے گی، کچھ فائدہ ہوگا،‘‘ دھرما کے بیٹے، ۳۸ سالہ راجو نے کہا۔

اس کے بعد جون میں بارش بالکل بھی نہیں ہوئی، پھر جولائی میں ۹۴۷ اعشاریہ ۳ ملی میٹر کی معمول کے مطابق بارش کے مقابلے تعلقہ میں ۱۵۸۶ اعشاریہ ۸ ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ اس لیے گریل فیملی دوسری بوائی سے امید لگائے ہوئی تھی۔ لیکن اگست میں بارش بہت تیز ہونے لگی – اور اکتوبر تک جاری رہی۔ تھانے ضلع کے سبھی سات تعلقوں میں ۱۱۶ دنوں میں ۱۲۰۰ ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی۔

’’پودوں کے بڑھنے کے لیے ستمبر تک معقول بارش ہوئی تھی۔ پیٹ بھر جانے کے بعد ہم انسان بھی نہیں کھاتے، پھر چھوٹے پودے کیسے کھائیں گے؟‘‘ راجو کہتے ہیں۔ اکتوبر کی بارش سے گریل فیملی کا کھیت پانی سے بھر گیا تھا۔ ’’ہم نے ستمبر کے آخری ہفتہ میں دھان کاٹنا اور اس کا گٹھر بنانا شروع کر دیا تھا،‘‘ راجو کی بیوی، ۳۵ سالہ سویتا یادو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، جو کہ خود بھی ایک کسان ہیں۔ ’’ہمیں ابھی بھی باقی فصل کاٹنی تھی۔ ۵ اکتوبر کے بعد اچانک بھاری بارش ہونے لگی۔ ہم نے اکٹھا کرکے رکھی گئی فصل کو گھر کے اندر لانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن کچھ ہی منٹوں میں، ہمارے کھیت میں پانی بھر گیا...‘‘

اگست کی اُس دوسری بوائی سے، گریل فیملی ۳ کوئنٹل چاول حاصل کرنے میں کامیاب رہی – جب کہ پہلے وہ ایک ہی بوائی سے، تقریباً ۸-۹ کوئنٹل فصل حاصل کر لیتے تھے۔

Paddy farmers Dharma Garel (left) and his son Raju: 'The rain has not increased or decreased, it is more uneven – and the heat has increased a lot'
PHOTO • Jyoti Shinoli
Paddy farmers Dharma Garel (left) and his son Raju: 'The rain has not increased or decreased, it is more uneven – and the heat has increased a lot'
PHOTO • Jyoti Shinoli

دھان کے کسان دھرما گریل (بائیں) اور ان کے بیٹے راجو: ’بارش میں نہ تو اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی کمی آئی ہے، بلکہ یہ زیادہ تر بے ترتیب ہوتی ہے – اور گرمی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے‘

’’ایک دہائی سے ایسا ہی چل رہا ہے،‘‘ دھرما کہتے ہیں۔ ’’بارش میں نہ تو اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی کمی آئی ہے، بلکہ یہ زیادہ تر بے ترتیب ہوتی ہے – اور گرمی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔‘‘ ۲۰۱۸ میں بھی، اوسط سے کم مانسون کے سبب فیملی کو صرف چار کوئنٹل فصل حاصل ہو پائی تھی۔ ۲۰۱۷ میں، اکتوبر میں ہونے والی بے موسم کی بارش نے ان کی دھان کی فصل کو نقصان پہنچایا تھا۔

اس کے بجائے، جیسا کہ دھرما کا ماننا ہے، گرمی میں لگاتار تیزی آئی ہے، اور یہ ’’ناقابل برداشت‘‘ ہو گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ماحولیات اور گلوبل وارمنگ پر ایک انٹریکٹو پورٹل کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ ۱۹۶۰ میں، جب دھرما ۲۰ سال کے تھے، تھانے نے ۱۷۵ دن ایسے دیکھے، جس میں درجہ حرارت میں ۳۲ ڈگری سیلسیس تک کا اضافہ ہو سکتا تھا۔ آج، یہ تعداد بڑھ کر ۲۳۷ دن ہو چکی ہے، جس میں درجہ حرارت ۳۲ ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔

شہاپور تعلقہ کی سبھی آدیواسی بستوں میں، کئی دیگر کنبے دھان کی پیداوار کم ہونے کی بات کرتے ہیں۔ یہ ضلع کاتکری، ملہار کولی، ما ٹھاکر، وارلی اور دیگر آدیواسی برادریوں کا مسکن ہے – تھانے میں درج فہرست قبائل کی آبادی تقریباً ۱ اعشاریہ ۱۵ ملین ہے (مردم شماری ۲۰۱۱)، جو کل آبادی کا تقریباً ۱۴ فیصد ہے۔

’’بارش پر منحصر دھان کو مقررہ وقفہ پر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے بارش کے پانی کی مناسب تقسیم ہونی چاہیے۔ فصل چکر کی کسی بھی سطح پر پانی کی کمی سے پیداوار کم ہوجاتی ہے،‘‘ بی اے آئی ایف انسٹی ٹیوٹ فار سسٹین ایبل لائیولی ہُڈس اینڈ ڈیولپمنٹ، پونہ کے پروگرام منیجر، سومناتھ چودھری کہتے ہیں۔

آدیواسی کنبوں میں سے کئی لوگ خریف کے موسم میں زمین کے چھوٹے ٹکڑوں پر دھان اُگاتے ہیں، اور پھر چھ مہینے کے لیے اینٹ بھٹوں، گنّے کے کھیتوں اور دیگر مقامات پر کام کرنے کے لیے مہاجرت کرتے ہیں۔ لیکن اب وہ اس غیر یقینی سالانہ لے کے آدھے حصہ پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتے، جب بے ترتیب مانسون کے سبب دھان کی پیداوار لگاتار گھٹتی جا رہی ہے۔

ضلع میں خریف کے موسم کے دوران بارش پر منحصر دھان کی کھیتی ۱۳۶ ہزار ہیکٹیئر میں، اور ربیع کے موسم میں ۳ ہزار ہیکٹیئر آبپاشی والی زمین (عام طور سے کھلے کنویں اور بورویل) پر ہوتی ہے (ایسا سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ڈرائی لینڈ ایگریکلچر کے ۲۰۰۹-۱۰ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں)۔ یہاں اُگائی جانے والی دیگر عام فصلوں میں سے کچھ باجرا، دالیں اور مونگ پھلی ہیں۔

Savita Garel and Raju migrate every year to work in sufarcane fields: We don’t get water even to drink, how are we going to give life to our crops?'
PHOTO • Jyoti Shinoli

سویتا گریل اور راجو ہرسال گنّے کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے مہاجرت کرتے ہیں: ’ہمیں پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملتا، ایسےمیں ہم اپنی فصلوں کو کیسے زندگی دے پائیں گے؟‘

حالانکہ، تھانے ضلع میں دو بڑی ندیاں ہیں، اُلہاس اور ویترنا، جن میں سے ہر ایک کی کئی معاون ندیاں ہیں، اور شہاپور تعلقہ میں چار بڑے باندھ ہیں – بھاتسا، موڈک ساگر، تانسا اور اوپری ویترنا – پھر بھی یہاں کے آدیواسی گاؤوں میں کھیتی بڑے پیمانے پر بارش پر منحصر ہے۔

’’چاروں باندھ کا پانی ممبئی کو سپلائی ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو مانسون آنے سے پہلے، دسمبر سے مئی تک پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے گرمیوں کے موسم میں ٹینکر ہی پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں،‘‘ شہاپور کے سماجی کارکن اور بھاتسا آبپاشی پروجیکٹ بازآبادکاری کمیٹی کے معاون، ببن ہرن بتاتے ہیں۔

’’شہاپور میں بورویل کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ آبی محکمہ کے ذریعے کی گئی کھدائی کے علاوہ، نجی ٹھیکہ دار غیر قانوی طریقے سے ۷۰۰ میٹر سے زیادہ کھدائی کرتے ہیں۔‘‘ گراؤنڈ واٹر سروے اور ڈیولپمنٹ ایجنسی کی ممکنہ پانی کی کمی کی رپورٹ، ۲۰۱۸ سے پتا چلتا ہے کہ شہاپور سمیت تھانے کے تین تعلقوں کے ۴۱ گاؤوں میں زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی ہے۔

’’ہمیں پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملتا ہے، ایسے میں ہم اپنی فصلوں کو کیسے زندہ رکھ پائیں گے؟ بڑے کسان انتظام کر لیتے ہیں کیوں کہ وہ پیسے دیکر باندھ سے پانی حاصل کر سکتے ہیں، یا ان کے پاس کنویں اور پمپ ہیں،‘‘ راجو کہتے ہیں۔

شہاپور کی آدیواسی بستوں میں رہنے والے لوگوں کے ذریعے ہر سال نومبر سے مئی تک مہاجرت کرنے کے پیچھے ایک بڑی وجہ پانی کی کمی ہے۔ اکتوبر میں خریف کی فصل کاٹنے کے بعد، وہ مہاراشٹر اور گجرات میں اینٹ بھٹوں پر، یا ریاست کے اندر گنّے کے کھیتوں پر مزدوری کرنے چلے جاتے ہیں۔ وہ خریف کی بوائی کے وقت لوٹتے ہیں، جب ان کے پاس کچھ مہینوں تک خرچ چلانے کے لیے مشکل سے پورا پیسہ ہوتا ہے۔

راجو اور سویتا گریل بھی تقریباً ۵۰۰ کلومیٹر دور، نندُربار ضلع کے شہادے تعلقہ میں واقع پرکاشا گاؤں میں گنّے کے کھیت پر کام کرنے جاتے ہیں۔ ۲۰۱۹ میں وہ تھوڑی دیر سے، دسمبر میں نکلے تھے، دھرما اور ان کے ۱۲ سالہ بیٹے اجے کو گریل پاڑہ میں ہی چھوڑ کر۔ اس چار رکنی فیملی کے پاس جون تک کام چلانے کے لیے تین کوئنٹل چاول تھا۔ ’’ہم [پاس کے] اگھئی گاؤں کے ارہر کی کھیتی کرنے والے کسانوں سے چاول کے بدلے دال لیتے ہیں۔ اس بار، یہ ممکن نہیں ہوگا...‘‘ راجو نے خراب فصل کا ذکر کرتے ہوئے مجھے بتایا تھا۔

Many in Shahapur speak of falling paddy yields. Right: '...the rain is not trustworthy,' says Malu Wagh, with his wife Nakula (left), daughter-in-law Lata and her nieces
PHOTO • Jyoti Shinoli
Many in Shahapur speak of falling paddy yields. Right: '...the rain is not trustworthy,' says Malu Wagh, with his wife Nakula (left), daughter-in-law Lata and her nieces
PHOTO • Jyoti Shinoli

شہاپور میں بہت سے لوگ دھان کی پیداوار گھٹنے کی بات کرتے ہیں۔ دائیں: ’بارش بھروسہ مند نہیں ہے،‘ مالو واگھ کہتے ہیں، یہاں پر اپنی بیوی نکولا (بائیں)، بہو لتا اور ان کی بھتیجی کے ساتھ

وہ اور سویتا گنّے کے کھیتوں پر تقریباً سات مہینے تک مزدوری کرنے کے بعد ایک ساتھ تقریباً ۷۰ ہزار روپے کماتے ہیں۔ راجو جون سے ستمبر کے درمیان، شہاپور سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور، بھیونڈی تعلقہ میں ایک آن لائن شاپنگ ویئر ہاؤس میں لوڈر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں – عام طور پر ۵۰ دنوں کا کام، ۳۰۰ روپے یومیہ کے حساب سے۔

گریل پاڑہ سے تقریباً ۴۰ کلومیٹر دور، بیرشِنگی پاڑہ بستی میں، مالو واگھ کی فیملی بھی دھان کی کم ہوتی پیداوار سے پریشان ہے۔ پھوس کی چھت اور مٹی سے بنی ان کی جھونپڑی کے ایک کونے میں، دو کوئنٹل دھان نیم کے پتّوں کے درمیان ایک کنگی – بانس سے بنی لمبی ٹوکری جس کے اوپر گوبر سے پتائی کی گئی ہے – میں رکھا ہوا ہے، تاکہ اس میں کیڑے نہ لگیں۔ ’’یہ اب گھر کی سب سے قیمتی چیز ہے،‘‘ مالو نے مجھے پچھلے نومبر میں بتایا تھا۔ ’’ہمیں اپنی پیداوار کا استعمال احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگا کیوں کہ بارش بھروسہ مند نہیں ہے۔ یہ اپنے دل کی راجا ہے، ہماری نہیں۔ یہ ہماری بات نہیں مانتی۔‘‘

مطالعات سے بھی پتا چلتا ہے کہ یہ سچ ہے – بارش شرارتی ہو گئی ہے۔ ’’ہم نے مہاراشٹر کے ۱۰۰ سے زیادہ برسوں کے بارش کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ہے،‘‘ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے ذریعے ۲۰۱۳ میں کیے گئے ایک مطالعہ کے بنیادی مصنف، ڈاکٹر پُلک گہا ٹھاکرتا کہتے ہیں۔ Detecting changes in rainfall pattern and seasonality index vis-à-vis increasing water scarcity in Maharashtra (مہاراشٹر میں بارش کے پیٹرن اور موسمی عناصر کے اشاریے میں تبدیلی کے ساتھ پانی کی لگاتار کمی کا پتا لگانا)، اس مطالعہ میں ریاست کے سبھی ۳۵ ضلعوں میں ۱۹۰۱-۲۰۰۶ کے درمیان بارش کی ماہانہ اعدادوشمار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ’’اس تجزیہ میں ایک بات واضح ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، چھوٹے علاقے کی جغرافیائی اور زمانی نوعیت کو بھی متاثر کر رہی ہے... یہ بدلتے پیٹرن زراعت کے نقطہ نظر سے کافی اہم ہیں، خاص طور سے بارش پر منحصر زرعی علاقوں میں،‘‘ ڈاکٹر گہا ٹھاکرتا کہتے ہیں، جو دفتر برائے ماحولیاتی تحقیق و خدمات، آئی ایم ڈی، پونہ کے سائنسداں ہیں۔

اور یہ بدلتے پیٹرن زمین پر حقیقی اثر ڈال رہے ہیں۔ اس لیے جب ۵۶ سالہ مالو واگھ اور ان کی فیملی – جن کا تعلق کاتکری برادری سے ہے – اینٹ بھٹے پر کام کرنے کے لیے نومبر ۲۰۱۹ میں گجرات کے ولساڑ ضلع کے واپی شہر کے لیے روانہ ہوئے – جیسا کہ ۲۷ آدیواسی کنبوں کی اس بستی کے زیادہ تر لوگوں نے کیا – تو وہ اپنے ساتھ ۵۰ کلو چاول لیکر گئے تھے، اور اپنی بند جھونپڑی میں صرف دو کوئنٹل کے آس پاس ہی چھوڑ گئے تھے، تاکہ جب وہ لوٹیں اور مئی- جون سے اکتوبر تک بیرشنگی پاڑہ میں قیام کریں، تو یہ ان کے کام آئے۔

’’تقریباً ۵-۱۰ سال پہلے، ہم ۸-۱۰ کوئنٹل فصل حاصل کرتے تھے اور ۴-۵ کوئنٹل چاول میرے گھر میں رکھا رہتا تھا۔ جب بھی ضرورت ہوتی، ہم اس میں سے کچھ کی ادلا بدلی ارہر کی دال، نگلی [راگی]، ورائی [باجرا] اور ہربھرا [کابلی چنا] اُگانے والے کسانوں سے کر لیتے تھے،‘‘ مالو کی بیوی، ۵۰ سالہ نکولا کہتی ہیں۔ اس سے پانچ رکنی فیملی کا کام سال بھر کے لیے چل جاتا تھا۔ ’’اب پانچ سال سے زیادہ عرصے سے، ہمیں ۶-۷ کوئنٹل سے زیادہ دھان کی فصل نہیں ملی ہے۔

’’پیداوار ہر سال گھٹ رہی ہے،‘‘ مالو کہتے ہیں۔

In one corner of Malu Wagh's hut, paddy is stored amid neem leaves in a kanagi: 'That’s the most precious thing in the house now'
PHOTO • Jyoti Shinoli
In one corner of Malu Wagh's hut, paddy is stored amid neem leaves in a kanagi: 'That’s the most precious thing in the house now'
PHOTO • Jyoti Shinoli

مالو واگھ کی جھونپڑی کے ایک کونے میں، دھان کو ایک کنگی میں نیم کے پتّوں کے درمیان رکھا گیا ہے: ’یہ گھر کی سب سے قیمتی چیز ہے‘

پچھلے سال اگست میں، جب بارش تیز ہونے لگی، تو ان کی امیدیں بھی بڑھ گئی تھیں۔ لیکن اکتوبر کے ۱۱ دنوں میں ۱۰۲ ملی میٹر کی بے موسم اور بھاری بارش سے فیملی کا ایک ایکڑ کھیت پانی سے بھر گیا۔ کٹی ہوئی دھان کی فصل ڈوب گئی تھی – صرف تین کوئنٹل کو ہی بچایا جا سکا۔ ’’اس بارش کے سبب ہم نے بیج، کھاد اور بیل کے کرایے پر جو ۱۰ ہزار روپے خرچ کیے تھے، وہ سب برباد ہو گئے،‘‘ مالو کہتے ہیں۔

تھانے ضلع کے شہاپور تعلقہ کی اس بستی میں ۱۲ کاتکری اور ۱۵ ملہار کولی کنبوں میں سے زیادہ تر کو اتنے ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

’’مانسون پہلے سے ہی زیادہ تغیر پذیر ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے یہ تغیر پذیری مزید بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے کسان اپنی فصل کے سائیکل اور پسندیدہ فصل پیٹرن پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں،‘‘ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بامبے میں کلائیمیٹ اسٹڈیز انٹر ڈسپلنَری پروگرام کے کنوینر، پروفیسر پارتھ سارتھی کہتے ہیں۔ ان کے ذریعے کیے گئے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ مہاراشٹر کے ناسک اور کونکن ضلع میں بارش کی شدت والے دنوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جب کہ تھانے ضلع میں ۱۹۷۶-۷۷ کے بعد حد سے زیادہ بارش کے دنوں کی تعداد الگ الگ ہے۔

اس مطالعہ میں زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی، اور ۱۹۵۱ سے ۲۰۱۳ کے درمیان، ۶۲ سالوں کے لیے مہاراشٹر کے ۳۴ ضلعوں سے جمع کی گئی یومیہ بارش کی اعدادوشمار کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ ’’موسمیاتی تبدیلی بارش کے پیٹرن کو متاثر کرتی ہے۔ مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ بارش کے موسم کی شروعات اور مانسون کی واپسی، نمی والے اور خشک دن، اور بارش کی کل مقدار، سب کچھ بدل رہا ہے، جس سے بوائی کی تاریخ، شرح نمو اور کل پیداوار پر برا اثر پڑ رہا ہے، اور کبھی کبھی بڑے پیمانے پر فصل برباد ہو رہی ہے،‘‘ پروفیسر پارتھ سارتھی کہتے ہیں۔

بیرشنگی پاڑہ سے ۱۲۴ کلومیٹر دور، نیہرولی گاؤں کی ۶۰ سالہ اندو آگی ولے، جن کا تعلق ما ٹھاکر برادری سے ہے، وہ بھی ان بدلتے پیٹرن کی بات کرتی ہیں۔ ’’ہم روہنی نکشتر میں [۲۵ مئی سے ۷ جون تک] بیج بوتے تھے۔ پُشیہ [۲۰ جولائی سے ۲ اگست تک] کے آنے تک، ہماری فصلیں روپائی کے لیے تیار ہو جاتی تھیں۔ چترا نکشتر میں [۱۰ اکتوبر سے ۲۳ اکتوبر تک] ہم کٹائی اور چھنٹائی شروع کر دیتے تھے۔ اب ان سب [دھان کی کھیتی کے عمل] میں دیری ہو جاتی ہے۔ اب طویل عرصے سے، بارش نکشتروں کے مطابق نہیں ہو رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیوں۔‘‘

اندو بڑھتی گرمی کی بھی بات کرتی ہیں۔ ’’میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی گرمی کبھی نہیں دیکھی۔ جب میں چھوٹی تھی، تب روہنی نکشتر میں بھاری بارش شروع ہو جاتی تھی۔ یہ بارش لگاتار ہوتی تھی، جو گرمی کے بعد گرم زمین کو ٹھنڈا کر دیتی تھی۔ ہوا میں گیلی میٹی کی خوشبو پھیل جاتی تھی۔ اب وہ خوشبو غائب ہو گئی ہے...‘‘ وہ اپنے دو ایکڑ کھیت پر باڑ لگانے کے لیے کنارے پر کھدائی کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

Top row: 'For a long time now, the rainfall is not according to the nakshatras,' says Indu Agiwale. Botttom row: Kisan Hilam blames hybrid seeds for the decreasing soil fertility
PHOTO • Jyoti Shinoli

اوپر کی قطار: ’اب طویل عرصے سے، بارش نکشتروں کے مطابق نہیں ہو رہی ہے،‘ اندو آگی ولے کہتی ہیں۔ نیچے کی قطار: کسن ہیلم مٹی کی زرخیزی میں کمی کے لیے ہائبرڈ بیج کو قصوروار ٹھہراتے ہیں

یہاں کے کسان کہتے ہیں کہ بے ترتیب بارش، گھٹتی پیداوار اور بڑھتے درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ شہاپور میں مٹی کی زرخیزی بھی کم ہو رہی ہے۔ اور نیہرولی گاؤں کے ۶۸ سالہ کسن ہیلم اس کے لیے ہائبرڈ بیجوں اور کیمیاوی کھادوں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ ’’مسوری، چکندر، پوشی، ڈانگے... کس کے پاس اب یہ [روایتی] بیج ہیں؟ کسی کے بھی نہیں۔ تمام لوگ روایتی بیجوں کو چھوڑ کر اوشدھ والے [ہائبرڈ بیج] کو اپنانے لگے ہیں۔ اب کوئی بھی بیج کو محفوظ کرکے نہیں رکھتا...‘‘ وہ کہتے ہیں۔

جب ہم ملے تھے، تو وہ کانٹے دار پنجے کے ساتھ مٹی میں ہائبرڈ بیج ملا رہے تھے۔ ’’میں ان کا استعمال کرنے کے خلاف تھا۔ روایتی بیج سے پیداوار کم ہوتی ہے، لیکن وہ ماحولیات کے ساتھ تال میل بیٹھائے رکھتے ہیں۔ یہ نئے بیج اوشدھ [کھاد] کے بغیر اُگ بھی نہیں سکتے۔ یہ مٹی کی شدھّتا [زرخیزی] کوکم کر دیتے ہیں – چاہے بارش اچھی ہو یا خراب۔

’’کسان اپنے روایتی بیجوں کے ذخیرہ کو محفوظ کرنے کے بجائے بیج کمپنیوں پر منحصر ہوتے جار ہے ہیں۔ لیکن ان ہائبرڈ بیجوں کو، وقت کے ساتھ، اعلیٰ مقدار میں کھاد، حشرہ کش اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ چیزیں [اِن پُٹ] دستیاب نہیں ہیں، تو وہ گارنٹی کے ساتھ پیداوار نہیں دے سکتے۔ اس کا مطلب ہے کہ بدلتے ماحولیاتی حالات میں، ہائبرڈ بیج مستحکم نہیں ہوتے ہیں،‘‘ سسٹین ایبل لائیولی ہُڈس اینڈ ڈیولپمنٹ، پونہ میں بی اے آئی آئی ایف کے اسسٹنٹ پروگرام کوآرڈی نیٹر، سنجے پاٹل بتاتے ہیں۔ ’’اب گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے سبب وقت پر اور پیشن گوئی کے مطابق بارش نہیں ہوتی، اس لیے ایک بنیادی فصل کا ہونا بہت ضروری ہو جاتا ہے، جو بدلتے حالات کے موافق ہو سکتی ہے۔‘‘

’’ان مقامات پر استعمال ہونے روایتی چاول کے بیج، ماحولیاتی حالات میں تبدیلی کے باوجود کچھ پیداوار دینے کے قابل ہیں،‘‘ بی آئی اے ایف کے سومناتھ چودھری کہتے ہیں۔

ہائبرڈ بیجوں کو بھی عام طور پر زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اور بارش پر منحصر رہنے والے گاؤوں میں، اگر بارش بے ترتیب ہوتی ہے، تو فصلوں کو نقصان ہوتا ہے۔

دریں اثنا، رواں سال کی شروعات میں واپی میں اینٹ بھٹے پر اپنی عارضی جھونپڑی میں، مالو، نکولا، ان کے بیٹے راجیش، بہو لتا، اور ۱۰ سالہ پوتی سوویدھا، جب ہم فون پر بات کر رہے تھے، کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے کھانے میں کٹوتی کی تھی – دن میں ایک بار، بینگن، آلو یا کبھی کبھی ٹماٹر کے شوربے کے ساتھ چاول۔

Along with uneven rainfall, falling yields and rising temperatures, the fertility of the soil is also decreasing, farmers in Shahapur taluka say
PHOTO • Jyoti Shinoli
Along with uneven rainfall, falling yields and rising temperatures, the fertility of the soil is also decreasing, farmers in Shahapur taluka say
PHOTO • Jyoti Shinoli

شہاپور تعلقہ کے کسان کہتے ہیں کہ بے ترتیب بارش، کم پیداوار اور بڑھتے درجہ حرارت کے ساتھ مٹی کی زرخیزی بھی کم ہو رہی ہے

’’اینٹ بنانا آسان کام نہیں ہے۔ ہمارا پسینہ بھی مٹی میں پانی کی طرح مل جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں کام جاری رکھنے کے لیے ٹھیک سے کھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس بار، چونکہ پیداوار کم ہوئی، اس لیے ہم دن میں صرف ایک بار کھانا کھا رہے ہیں۔ ہم جون کی بوائی کے موسم سے پہلے اپنا [چاول کا] ذخیرہ ختم نہیں کر سکتے،‘‘ مالو نے کہا۔

اینٹ بنانے کے موسم کے آخر، یعنی مئی میں، وہ ہاتھ میں چار بالغوں کی مزدوری، تقریباً ۸۰-۹۰ ہزار روپے لیکر بیرشنگی پاڑہ لوٹتے ہیں – اس پیسے سے سال کے بقیہ دنوں کے لیے کھیتی کے اِن پُٹ، بجلی کے بل، دواؤں، اور راشن جیسے کہ نمک، مرچ پاؤڈر، سبزیوں وغیرہ کا خرچ چلنا چاہیے۔

شہاپور کی آدیواسی بستیوں میں مالو واگھ، دھرما گریل اور دیگر لوگ بھلے ہی ’موسمیاتی تبدیلی‘ لفظ کے بارے میں نہیں جانتے ہوں، لیکن وہ اس تبدیلی کو ضرور جانتے ہیں اور ہر دن اس کے اثرات کا سیدھا سامنا کرتے ہیں۔ وہ موسمیاتی تبدیلی کے کئی ابعاد کے بارے میں واضح طور پر بتاتے ہیں: بے ترتیب بارش اور اس کی الگ الگ تقسیم؛ گرمی میں زبردشت اضافہ؛ بورویل کی دوڑ اور آبی ذرائع، اور نتیجتاً زمین، فصل اور زراعت پر اس کا اثر؛ بیج میں تبدیلی اور پیداوار پر اس کا اثر؛ بدتر ہوتی فوڈ سکیورٹی جس کی وارننگ ماحولیاتی سائنسدانوں نے دی تھی۔

ان کے لیے یہ سب زندہ تجربہ ہے۔ ان کے تبصرے اس لیے قابل ذکر ہیں کیوں کہ اس میں تقریباً وہی باتیں کہی جا رہی ہیں، جو سائنسداں پہلے ہی کہہ چکے ہیں – لیکن بالکل مختلف زبان میں۔ اور ان بستیوں میں اہلکاروں کے ساتھ اضافی لڑائی ہے – جو کہ عام طور پر محکمہ جنگلات ہے۔

جیسا کہ مالو کہتے ہیں: ’’یہ صرف بارش نہیں ہے۔ ہمیں کئی لڑائیاں لڑنی پڑتی ہیں۔ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے ساتھ [زمین کے مالکانہ حق کے لیے]، راشن کے اہلکاروں کے ساتھ۔ پھر بارش ہمیں کیوں چھوڑے گی؟‘‘

اور، گریل پاڑہ میں اپنے کھیت پر کھڑے ہوکر ۸۰ سالہ دھرما کہتے ہیں، ’’موسم بدل گیا ہے۔ یہ بہت گرم ہو گیا ہے۔ بارش پہلے کی طرح اب وقت پر نہیں ہوتی ہے۔ اگر پرجا [عوام] پہلے کی طرح اچھی نہیں رہی، تو نیسرگ [قدرت] ویسا کیسے رہے گا جیسا کہ وہ پہلے ہوتا تھا؟ یہ بھی بدل رہا ہے...‘‘

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی ایک سینئر رپورٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ نیوز چینلوں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli