بولانگیر، اوڈیشہ کی کملا اور دیگر پہاڑیوں کو آدیواسی کے طور پر خود کو تسلیم کروانے اور اپنے حقوق پانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے


کملا پہاڑیہ، جو ایک قبائلی بیوہ اور چار بچوں کی ماں ہیں، سے ہماری پہلی ملاقات ۱۶ سال قبل ہوئی تھی۔ وہ اوڈیشہ کے بولانگیر ضلع کے دور دراز گاؤں دھوسامُنڈا میں ایک کچی جھونپڑی میں رہتی ہیں۔ اُس وقت انھوں نے کانٹا بانجی میں جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت سے اپیل کی تھی کہ وہ اُن کے دو سالہ بیٹے کَوتُک کو رہا کرانے کا حکم دیے، جسے حیدرآباد میں اینٹ بھٹہ کے ایک مالک نے زبردستی پکڑ لیا تھا۔

اس فیملی کا تعلق پہاڑیہ قبیلہ سے ہے، جو روایتی طور پر ٹوکریاں بنانے کا کام کرتے ہیں۔ وہ کام کی تلاش میں ہجرت کرکے شہر آگئے تھے، لیکن کملا حاملہ ہونے کی وجہ سے بیمار پڑ گئی، جس کی وجہ سے انھیں گاؤں واپس لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ لہٰذا بھٹّہ مالک نے ان کے بچہ کو اپنے پاس رکھ لیا، تاکہ اس نے اس فیملی کو جو پیشگی رقم ادا کی تھی، اسے واپس لینے کو یقینی بنایا جا سکے۔

عدالت نے پولس کو حکم دیا کہ وہ اس بچہ کو رہا کرائے، اور اس طرح کوتُک اپنے گھر واپس لوٹ سکا۔

اس کے بعد سے، پہاڑیوں کی زندگی میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انھیں کَمار بھی کہا جاتا ہے، جو مشرقی ریاست اوڈیشہ میں خود کو درج فہرست قبیلہ کا درجہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، جب کہ انہی کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والے جو لوگ چھتیس گڑھ میں رہتے ہیں، انھیں وہاں خصوصی طور سے غیر محفوظ قبائلی گروپ (پی وی ٹی جی) کا درجہ حاصل ہے۔ کوتُک، جو اَب ۱۸ سال کا ہو چکا ہے، کے پاس خود مہاجر مزدور بننے کے علاوہ کوئی دوسری راستہ نہیں بچا ہے۔ وہ ممبئی میں ایک کانسٹرکشن سائٹ پر کام کرتا ہے۔

’’اس نے جب ۸ویں کلاس میں اسکول چھوڑا تھا، تب سے لے کر اب تک یہ دوسرا موقع ہے، جب اس نے کام کے لیے شہرکی طرف ہجرت کی ہے،‘‘ کملا بتاتی ہیں۔ ’’میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھے، لیکن اس نے میری بات نہیں سنی۔‘‘ اس علاقے کے نوجوان لڑکے کہتے ہیں کہ کانسٹرکشن انڈسٹری میں کام کرنے کو وہ زیادہ ترجیح دیتے ہیں، کیوں کہ یہاں انھیں زیادہ آزادی ملتی ہے اور یہاں اینٹ بھٹوں میں کام کرنے کے مقابلہ کم اذیتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

کوتک، کملا کے چار بچوں میں سب سے بڑا ہے۔ ان کی تینوں بیٹیاں اسکول میں ہیں۔ چودہ سالہ سکرابتی ۹ویں کلاس میں ہے، ۱۳ سالہ چندر کانتی ۸ویں اور ۱۰ سالہ پریم لتا چوتھی کلاس میں ہے۔ چندر کانتی اور پریم لتا کستوربا گاندھی آشرم اسکولوں میں ہیں، یہ رہائشی اسکول ہیں جو بنیادی طور پر درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے بچوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ سکرابتی بھی آشرم اسکول میں تھی، لیکن اب وہ گھر پر ہی رہتی ہے اور سائیکل سے پاس کے ایک ہائی اسکول میں جاتی ہے۔

’’کملا نے کو کافی مشقت کرنی پڑی، لیکن اس نے کبھی ہار نہیں مانی،‘‘ بشنو شرما بتاتے ہیں، جو ایک مقامی وکیل، حقوق انسانی کے کارکن اور اس علاقے میں ہجرت سے متعلق امور پر سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’’انھوں نے آشرم اسکولوں میں اپنی بیٹیوں کا داخلہ کرانے کے لیے سسٹم سے لوہا لیا۔ حکام نے پہلے انھیں یہ کہتے ہوئے داخلہ دینے سے منع کردیا تھا کہ پہاڑیہ درج فہرست قبیلہ میں نہیں آتے۔‘‘



02-DSC_0686-PT-All Migrants are like Stray Dogs.jpg

کملا کے لیے سرکاری دستاویزات اور سہولیات حاصل کرنا نہایت مشکل کام تھا


کملا نے ایسی دستاویز جمع کیں، جن سے ثابت ہوا کہ چھتیس گڑھ میں رہنے والے انہی کے قبیلہ کے لوگوں کو پی وی ٹی جی کا درجہ حاصل ہے۔ انھوں نے نواپاڑہ کے کلکٹر کو ایک خط لکھنے پر مجبور کیا، جس میں ضلع کے تحصیل داروں اور بلاک ڈیولپمنٹ افسروں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ پہاڑیوں کو درج فہرست قبیلہ کو ملنے والی سہولیات عطا کریں، جس کے لیے ڈپارٹمنٹ آف ایس سی اینڈ ایس ٹی ڈیولپمنٹ، حکومتِ اوڈیشہ کے ذریعہ پاس کی گئی قرارداد کا حوالہ دیا گیا۔ ان دستاویزوں کو پڑھنے کے بعد، حکام نے آخرکار ان کی لڑکیوں کا اسکول میں خاموشی سے داخلہ کرا دیا۔


03-DSC_0672--PT-All Migrants are like Stray Dogs.jpg

کملا کے لیے سرکاری دستاویزات اور سہولیات حاصل کرنا نہایت مشکل کام تھا


’’حکومت کے ذریعہ فراہم کی جانے والی سہولیات کو حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن میں اپنی بچوں کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتی ہوں، اس لیے اگر مجھے آئندہ بھی جدوجہد کرنی پڑی تو میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گی،‘‘ ۴۰ سالہ کملا کہتی ہیں، جو خود چھٹی کلاس تک پڑھی ہوئی ہیں۔

دھوسا مُنڈا گاؤں کی آبادی مشکل سے ۵۰۰ ہے۔ یہاں پہاڑیوں کے تین یا چار گھر ہیں، باقی آبادی یادووں اور کمہاروں کی ہے۔ اسے مہاجر مزدوروں کا گاؤں کہا جاتا ہے، جہاں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو گزر بسر کے لیے کھیتی باڑی اور جنگلاتی وسائل کو جمع کرنے پر انحصار کرتے ہوں۔

کملا کے پاس کھیتی کرنے کے لیے زمین نہیں ہے؛ صرف مکان کے لیے ایک چھوٹا سا پلاٹ ہے جسے انھوں نے ۳۰۰۰ روپے میں خریدا تھا۔ پرانے مکان کے ٹوٹ جانے کے بعد اس زمین پر نیا مٹی کا مکان بنایا گیا تھا۔ ان کو نہ تو اندرا آواس یوجنا (دیہی غریبوں کے لیے مرکزی حکومت کی ہاؤسنگ اسکیم) سے کوئی فائدہ ملا ہے اور نہ ہی حکومتِ اوڈیشہ کی طرف سے خطِ افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے والے (بی پی ایل) کنبوں کے لیے چلائے جا رہے مو کوڈیا ہاؤسنگ پروجیکٹ سے کچھ فائدہ ملا ہے۔



04-DSC_0699-PT-All Migrants are like Stray Dogs.jpg

میں اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہوں، اس لیے اگر آئندہ بھی مجھے جدوجہد کرنی پڑی، تو میں کروں گی‘


’’ہم نے اپلائی کیا ہے اور کوشش کر رہے ہیں کہ مو کوڈیا اسکیم کے تحت ایک گھر مل جائے، لیکن یہ ابھی ہونا باقی ہے۔ البتہ، مجھے ۳۰۰ روپے بیوہ پنشن کے طور پر ملتے ہیں۔ ہمارے پاس بی پی ایل کارڈ نہیں ہے۔ پہلے ہمارے پاس تھا، لیکن ہمیں پتہ نہیں کیوں اب اے پی ایل (خط افلاس سے اوپر) کارڈ جاری کر دیا گیا ہے،‘‘ کملا کہتی ہیں۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ کملا کو بی پی ایل کارڈ نہیں مل سکتا۔ ان کے پاس زمین نہیں ہے، وہ قبائلی بیوہ ہیں۔ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ اپنے ہاتھوں سے بانس کی ٹوکریاں بُن کر بیچنا ہے۔ ’’بانس حاصل کرنا بھی ایک مسئلہ ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’گاؤں کے کچھ لوگوں کے پاس ان کی زمین پر بانس کے پودے ہیں، لیکن وہ ۴۰ سے ۵۰ روپے میں ایک بانس بیچتے ہیں۔‘‘

ہم نے کملا کی نند سُمترا پہاڑیہ سے بھی ملاقات کی۔ سُمترا کی فیملی بھی روایتی طور پر بیچنے کے لیے بانس کی ٹوکری بناتی ہے۔ یہ لوگ بھی کملا کی فیملی کے ساتھ حیدرآباد گئے تھے، اور کملا اور ان کی فیملی کے چلے جانے کے بعد چھ برسوں تک اینٹ بھٹّی پر کام کرتے رہے۔

اینٹ بھٹوں میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدور مانسون سے پہلے اپنے گاؤں لوٹ آتے ہیں۔ لیکن اپنے گاؤں میں مانسون کے بعد بھی کوئی کام نہ ملنے کی وجہ سے، سمترا کی فیملی نے واپس رکنے اور ٹرکوں پر ایینٹ لادنے کا فیصلہ کیا۔ ’’ہم گاؤں تب لوٹے، جب ہماری بڑی لڑکی اُربسی بالغ ہوگئی اور ہم نے سوچا کہ اب اس کی شادی کا وقت ہو چکا ہے۔‘‘

اُربسی کی شادی دو سال قبل ماکھن گاؤں کے جلدھر پہاڑیہ سے ہوئی تھی اور اب اس کا ایک سال کا ایک بچہ ہے۔ چونکہ جلدھر بھی شہر میں ایک مہاجر مزدور ہے، اس لیے وہ اب اپنی ساس کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے ساس سسر نہایت نہایت غریب ہیں اور روزانہ کی مزدوری کرکے گزارہ کرتے ہیں۔

سُمترا اور ابھی پہاڑیہ کے دو بچے ہیں، نلیدری جس کی عمر ۱۰ سال ہے، اور لِنگ راج، جو ۴ سال کا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں ہے۔ ’’اُربسی اب بھی ہمیں اپنی ناخواندگی پر کوستی ہے،‘ سُمترا تسلیم کرتی ہے۔ ’’چونکہ ہم لوگ چھ سال تک آندھرا پردیش میں ہی تھے، اس لیے ہمارے کسی بھی بچے کا داخلہ اسکول میں نہیں ہو پایا۔ لیکن ہم اپنے چھوٹے بیٹے کو ضرور پڑھائیں گے۔ ہم نلیدری کو بھی اسکول میں ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن وہ انکار کر رہی ہے اور کہتی ہے کہ اب کافی دیر ہو چکی ہے۔‘‘

جس وقت ہم بات کر رہے ہیں، سمترا کا شوہر ابھی دو چھوٹی مچھلیوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے۔ ’’گاؤں والوں نے مجھے تالاب سے مچھلیاں پکڑنے میں ان کی مدد کرنے کی وجہ سے دیا ہے،‘‘ وہ کہتا ہے۔

سُمترا اس بات سے خوش نہیں ہے کہ اُربسی کا شوہر بھی اس کے شوہر جلدھر کی طرح ہی ایک مہاجر مزدور ہے۔ لیکن وہ اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں؟ ’’سبھی مہاجر آوارہ کتوں کی طرح ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں، ’’گلیوں میں گھوم گھوم کر اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ آپ کو اس وقت تک کام کرنا ہے جب تک کہ آپ کا خون سیاہ نہ ہو جائے۔‘‘

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Purusottam Thakur
[email protected]

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur